لاعلمی کا بھوت اور کونسلنگ کی ضرورت۔۔تنویر سجیل

عام طور پرلوگوں کا کسی بھی قسم کی کونسلنگ لینے کے حوالے سے رویہ آج بھی قدامت پسندی، تنگ نظری اورغیر دانشمندانہ  ہی ہے جیسا کہ ساٹھ کی دہائی میں کسی کو یہ باور کروانا ہو کہ لوگ چاند پر پہنچ گئے ہیں اور اب ان کا اگلا ہدف خلائی ہوٹل بنانا اور خلائی سفر کو کمرشل کرنا ہے جس کے لیے سائنس ان کو راہ دکھا رہی ہے اور وہ جیسے جیسے علمی ترقی کی طرف جا رہے ہیں ویسے ویسے ان کے شعور اور وسعت نظر کا دامن وسیع تر ہوتا جا رہا ہے اور وہ باتیں جن کا خواب بھی دیکھنا آسان نہ تھا آج ان کی تکمیل کا دور چل رہا ہے۔

مگر یہ انسانی عقل بھی کیسا دھوکہ دیتی ہے کہ اکثر آنکھوں دیکھی حقیقت کو جھٹلا دینے سے بھی گریز نہیں کرتی اور تو اور اگر کوئی علم، آگاہی کی طرف متوجہ کرے بھی تو اس کو بھی خبطی اور پاگل قرار دے کر اپنے بے قرار دل کو قرار دلانے کی ناکام کوشش بھی عمدہ طریقے سے کر لیتی ہے۔

خیر بات ہو رہی تھی کونسلنگ اور اس کے حوالے سے رویوں کی بے رخی اور بے رحمی کی تو ہم مدعا پر بات کو آگے بڑھانے کے حوالے سے تھوڑا آگاہی کی طرف جاتے ہیں کہ آخر آج کل کونسلنگ اور کپل کونسلنگ کی ضرورت کیوں ہے اور کن لوگوں کو ہے تو اس بارے بہت سے سروے اور تحقیقات یکساں قسم کی معلومات فراہم کرتے ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کونسلنگ کی ضرورت صرف ان لوگوں کو ہے جو ذہنی بیمار یا پاگل ہیں جبکہ کپل کونسلنگ کے حوالے سے بھی کچھ ایسے ہی اندھے نظریات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ کپل کونسلنگ کی ضرورت ہی کیا ہے اور اگر ہے بھی تو ہم کیوں اپنے مسائل گھر سے باہر کسی کو بتائیں تو ایسی سوچ صرف ان لوگوں کی ہو سکتی ہے جن کو کونسلنگ اور کپل کونسلنگ کا کوئی علم اور تجربہ بالکل بھی نہ ہو اور وہ اپنی فرض کی گئی باتوں سے خود تو گمراہ ہوتے ہی ہیں دوسروں کو بھی اپنی باتوں کے بہکاوے میں لے آتے ہیں اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی اکثریت تعلیم یافتہ افراد کی ہے جن کو لگتا ہے کونسلنگ سے کوئی فائدہ نہیں اور ان کی مثال وہی ہے کہ خود تو کبھی لاہور دیکھا نہیں اور لوگوں کو بھی بتاتے پھرتے ہیں کہ لاہور نہ ہی جانا ادھر دیکھنے لائق کچھ نہیں ہے۔

موجودہ ترقی یافتہ دور میں جبکہ علم و ہنر اب اپنے کمال کو پہنچ رہا ہے تو ایسے میں لوگوں کے اندر ایک عجب قسم کی کم علمی اور جہالت بھی اپنا مقام بلند کیے جارہی ہے ایسا لگتا ہے کہ علم کی فروانی کے ساتھ ساتھ عقل کی کمی کا کام برابر کی سطح پر چل رہا ہے جس پر سوشل میڈیائی دانش کا الگ سے اثر ہے کہ ادھر کسی نے ایک غیر تحقیق شدہ بات کہی ادھر سب نے اس کو عقل کے استعمال کئے بغیر قبول کر لیا اور اس کو دوسروں تک پہنچا کر ثواب دارین کی سعادت سے خود کو محروم نہ ہونے دیا۔

اب ذرا حقیقت پسندی سے مشاہدہ کریں اور جائزہ لیں تو بہت سے حقائق آنکھوں کے سامنے ناچنے لگیں گے کہ آج کے دور میں ایک تین سال کے بچے سے لے کر ستر سال کے بوڑھے ہوتے فرد کو کتنے سٹریس روز مل رہے ہیں، روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی باتیں کیسے ان کے اندر پریشر کو بڑھا رہی ہیں اور ان کے ہیجان انگیز ردعمل کس حد تک عام سی صورتحال کو جذباتی یرغمال بنا لیتے ہیں۔

مگر یہ سب تو سب کو نظر آ رہا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ان کی خود کی سوچ اور نظریات ان کے مناسب حل کے لیے ان کو پہلی رکاوٹ پیش کر رہے ہوتے ہیں اور اگر وہ حوصلہ کر بھی لیں اور کسی پروفیشنل کے پاس جائیں بھی تو گھر کے افراد سے لیکر معاشرہ ان کو ایسی ایسی احمقانہ باتوں سے ڈرانے لگ جاتے ہیں کہ وہ اس بات میں ہی عافیت سمجھتے ہیں کہ کسی پروفیشنل کی رہنمائی نہ ہی لی جائے مگر پھر مسائل اپنی جگہ ویسے ہی نہیں رہتے بلکہ ان کا اثر روز برورز بڑھتا جاتا ہے اور زندگی جینے میں رکاوٹ بنتا جاتا ہے۔

کونسلنگ اور کپل کونسلنگ ترقی یافتہ دنیا کی کوئی نئی اختراع نہیں ہے اگر تھوڑا حقیقت پسندانہ غور کریں تو کونسلنگ یا مشاورت کا کام ازل سے انسانی ضرورت رہا ہے جس کو پہلے وقتوں میں خاندان کے بزرگ اور بڑے انجام دیتے تھے کیونکہ ان کے پاس وسیع تجربہ ہوتا تھا اور ان کی رہنمائی ہر صورت میں بہترین ہوتی تھی۔

ایسے ہی نوبیاہتا جوڑے کو بھی نئی زندگی کے اس سفر کو بہتر انداز میں گزارنے کے لیے گھر کی خواتین اور بڑے ان کی ہر معاملے میں رہنمائی کیا کرتے تھے چونکہ ترقی کی دوڑ میں دوڑتے دوڑتے آج ہم ایسے دور میں داخل ہو گئے ہیں جس میں وہ اول وقتوں کی دانش اور فہم کا زمانہ ہی ہاتھ سے نکل گیا اور ہر کام اور ہنر کے لیے خاص قسم کے لوگوں کی تعلیم و تربیت کر کے تمام معاملات ان کے حوالے کر دیے جو اس تعلیم کے سند یافتہ ہوں اور ان کا شعبہ مخصوص کر کے ان سے وہی خدمات لئے جانے کے تصور کو عملی شکل دے دی گئی ہے۔

تو یہی وجہ ہے کہ کونسلنگ اور کپل کونسلنگ کو ترقی یافتہ دور کی نئی شکل سمجھ کر لوگ اس بات سے گریزاں ہیں کہ ان کو مشاورت کی ضرورت تو ہے مگر وہ ان پروفیشنل سے نہیں لینا چاہتے جس کی وجہ بھی کچھ ایسے نظریات ہیں جن کی تشکیل میں علم اور آگاہی کی کمی اور اس کے ساتھ ساتھ انا پسندی کی ضد ہے کہ ان کو ایسے پروفیشنلز کی ضرورت نہیں ہے جبکہ یہ صرف حقیقت سے فرار ہے جو زندگی کو مشکل بنا دیتا ہے۔

کیونکہ آج اگر آپ ایک نظر ذات کی تشنگی، سماجی افرا تفری، جذباتی بےہنگمی، اداسی، تنہائی اور پریشانی کے بڑھتے نادیدہ ہاتھوں، کپلز میں عدم برداشت و عدم مطابقت، فیملی پولیٹکس کے ہتھکنڈوں، سسرالی جارحیت، کپلز کی بلیک میلنگ، آئے روز کے معمولی جھگڑوں اور طلاق و خلع کے بڑھتے گراف پر ڈالیں تو   آپ کو یقین ہو جا ئےگا کہ کونسلنگ اور کپل کونسلنگ کن امراض کے علاج کے لیے ضروری ہے۔

اب اگر کچھ مزید مثبت انداز سے سوچیں تو آپ کو اس بات کو ماننے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہو گی کہ کونسلنگ یا کپل کونسلنگ صرف بے رنگ رویوں، جذباتی بھدے پن اور دوسروں کے عمل کے نتیجے میں پیدا شدہ مسائل پر ہی مشاورت اور رہنمائی نہیں فراہم کرتی بلکہ یہ تو ایسے معاملات پر بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے جن کا تعلق لائف میں کوالٹی لانے، خود کو مزید بہتر بنانے، ازدواجی خوشیوں کو بڑھانے، پرسکون انداز میں جینے اور زندگی کو تمام رنگوں سے رنگین کرنے سے متعلق ہوتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

تو سوال صرف یہی ہے کہ اگر آپ کسی بھی وجہ سے کونسلنگ یا کپل کونسلنگ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور خود کے نظریات، دوسروں کی سوچ اور زمانے کے خوف سے مشاورت یا رہنمائی لینے کو رد کر رہے ہیں یا غیر ضروری سمجھ رہے ہیں تو سمجھ لیں آپ بھی اسی لاعلمی کا شکار ہو جائیں گے جس کے آگے زندگی کی خوشی کی گلی بند ہو جاتی ہے البتہ یہ ضرور کیجئے کہ اپنی کونسلنگ کی ضرورت کو ماہر نفسیات سے بات کر کے سمجھ لیجئے گا ویسے بھی آج اگر دنیا جہاں کی ہر شے گھر پر بیٹھے حاصل کر رہے ہیں تو کونسلنگ اور کپل کونسلنگ بھی آپ کو صرف ایک کال پر مل سکتی ہے۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply