• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مسلم دنیا فلسطینیوں کو بُھلا کی ہے(1)۔۔اسلم اعوان

مسلم دنیا فلسطینیوں کو بُھلا کی ہے(1)۔۔اسلم اعوان

11 مئی کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں الجزیرہ کی رپورٹر شیرین ابو اکلیح کو اسرائیلی فورسز نے گولی مار کے اس وقت شہیدکر دیا،جب وہ پریس کے نشان والی حفاظتی واسکٹ پہنے دیگر صحافیوں کے ہمراہ مظاہرے کی کوریج میں مصروف تھی،فائرنگ کے اس واقعہ میں فلسطینی صحافی علی السمودی کو بھی پیٹھ میں گولی لگی،انکی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔51 سالہ فلسطین نژاد امریکی ابو اکلیح کی موت اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے صحافیوں کی طویل فہرست میں تازہ اضافہ ہے،فلسطینی وزارت اطلاعات کے مطابق 2000 سے اب تک اسرائیلی فوج کے ہاتھوں کم و بیش 45 صحافی مارے جا چکے ہیں۔پچھلے سال مئی 2021 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں میں مقامی وائس آف الاقصیٰ ریڈیو اسٹیشن کے براڈکاسٹر یوسف ابو حسین کو اسرائیلی فضائیہ نے گھر کے اندرنشانہ بنایا۔اِسی سال 10 سے 21 مئی تک جاری رہنے والی 11 روزہ بمباری میں کم از کم 260 مظلوم فلسطینی شہید کر دیئے گئے۔مسلسل حملوں کے وسط میں 15 مئی کو اسرائیلی فضائیہ نے الجزیرہ اور دیگر میڈیا تنظیموں کے دفاتر کی عمارتیں بھی تباہ کر دیں لیکن انسانی حقوق کی تنظمیں اور مہذب دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں صحافیوں کے قتل کا سلسلہ ابھی تک رکا نہیں۔اپریل 2018 میں اسرائیلی فوج نے صرف سات دنوں میں دو فلسطینی صحافیوں کوگولی مار کر شہیدکیا،24 سالہ نوجوان احمد ابو حسین کو جبیلہ کے قریب غزہ کی سرحد پر مظاہرے کی کوریج کے دوران 13 اپریل کو پیٹ میں گولی مار کے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔اس سے چند روز قبل7 اپریل کو غزہ میں قائم عین میڈیا ایجنسی کے فوٹوگرافر یاسر مرتضیٰ بھی ناگہاں اسرائیلی فورسز کی گولی لگنے سے شہید ہوئے۔ 30 سالہ مرتضیٰ کو غزہ کے جنوب میں خزاعہ کے احتجاجی مظاہرے کی کوریج کے دوران ”پریس“کے نشان والی نیلی فلک جیکٹ پہننے کے باوجود پیٹ کے نچلے حصہ میں گولی ماری گئی۔2014 فلسطینی صحافیوں کے لئے سب سے مہلک سال تھا،اسرائیلی  فورسز نے 8 جولائی سے 26 اگست 2014 کے درمیان غزہ پر درجنوں تباہ کن حملے کئے جن میں کم و بیش 2,100 معصوم شہری شہید اور 11,000 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔یہ سال فلسطین میں صحافیوں کے لئے بھی نحس ثابت ہوا،فلسطینی وزارت اطلاعات کے مطابق 2014 میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں کم از کم 17 صحافی مارے گئے۔عالمی برادری کی طرف سے اسرائیل کے احتساب سے گریز کے باعث صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف اسرائیلی فوجی حملوں میں اضافہ ہوتا گیا،شیرین ابو اکلیح کا قتل انسانی برادری کی سرد مہری اور احتساب کی کمی پر ایک بار پھر روشنی ڈال گیا۔حسب روایت اسرائیل نے فلسطینی حکام کے ساتھ ابو اکلیح کے قتل کی مشترکہ تحقیقات کرانے کی پیشکش کی جسے فلسطینی حکام نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ اس طرح کی تحقیقات اسرائیل کے داغ دھونے کی  مشق کے سوا کچھ نہیں ہوتیں۔بدھ کو الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے،ہیومن رائٹس واچ فلسطین کے ڈائریکٹر عمر شاکر نے بتایا کہ ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اسرائیل پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ جب اسرائیلی حکام کے جارحانہ اقدامات کی بات آتی ہے تو عالمی برادری اس قسم کی زیادتیوں کے لئے کسی موثرجوابدہی کا نہیں سوچتی۔یورپی یونین، امریکہ، اور اقوام متحدہ کے علاوہ دیگر حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے ابو اکلیح کے قتل کی مکمل، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ تو کیا لیکن ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے کہ عملاً یہ بات خالی خولی بیان بازی سے آگے نہیں بڑھے گی۔شیرین ابو اکلیح مشرق وسطیٰ کی انتہائی قابل احترام صحافی تھیں جس کی غیر متزلزل کوریج کے لاکھوں ناظرین معترف تھے،اس لئے شیریں ابو اکلیح کی موت کی خبر پوری دنیا میں گونج اٹھی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اسرائیل نے جمعرات کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں نئے آبادکاروں کے لئے 4,000 سے زیادہ گھروں کی تعمیر کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے شہری آبادیوں پہ مہلک حملے کے ذریعے عورتوں،بچوں اور بوڑھوں کا بے دریغ قتل عام کرکے مقامی لوگوں کو نقل مکانی پہ مجبور کیا، فوج کی جانب سے کئی علاقوں میں اصل مکینوں کے مکانات مسمار کرکے سیکڑوں فلسطینیوں کو اپنے ابائی گھروں سے بے دخل کر دیا گیا۔یہ اُس خطہ میں اسرائیل کی ظالمانہ پالیسیوں کی چونکا دینے والی مثالیں ہیں جس پر اُس نے تقریباً 55 سالوں سے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔انسانی حقوق کے تین بڑے گروپوں سمیت ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پالیسیاں مقامی فلسطینیوں کی نسل کشی کی بدترین مثال ہیں لیکن ان الزامات کو اسرائیل نے اپنی قانونی حیثیت پر حملہ کہہ کر مسترد کردیا۔اینٹی سیٹلمنٹ واچ ڈاگ گروپ،پیس ناؤ،کی بستیوں کی ماہر ہیگیٹ آفران نے کہا کہ فوجی منصوبہ بندی کے ادارے نے جمعرات کو ہونے والی میٹنگ میں 4,427 ہاؤسنگ یونٹس کے تعمیر کی منظوری دی لیکن اسرائیلی حکام نے ہیگیٹ کے تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یہ نئے آباد کاروں کے لئے تعمیراتی منصوبوں کی سب سے بڑی پیشرفت تھی۔وائٹ ہاؤس بظاہر تو نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی مخالفت اور اسے فلسطینیوں کے ساتھ کسی بھی حتمی امن معاہدے کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر دیکھتا ہے لیکن عملاً ایسی جارحیت کو روکنے سے ہمیشہ گریزاں رہا۔اگرچہ زیادہ تر بین الاقوامی برادری نئی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی سمجھتی ہے لیکن اسرائیل کو ان کی تعمیر اور توسیع کو روکنے کے لئے کسی قسم کی ترغیب نہیں دیتی۔وزیر اعظم نفتالی بینیٹ، جو کسی زمانے میں یہودی آباد کاروں کی مرکزی تنظیم کے متعصب رہنما تھے،وہ امریکہ کے دو ریاستی فارمولہ کے ناقد اور اب بھی فلسطین کو ریاست کا درجہ دینے کے مخالف ہیں۔اس سے پہلے بھی اسرائیل نے اپنے مہربان مربّی امریکہ کی سرزنش کو پس پشت ڈالتے ہوئے اکتوبر میں یہودی آبادکاروں کے لئے تقریباً 3,000 گھروں کی تعمیر کی منظوری دی تھی،جس کا ایک حصہ اسرائیل کی جانب سے ان زمینوں پر تعمیرات جاری رکھنے کی وجہ سے ہے جو مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے درکار ہیں۔مسلمان ریاستوں نے فلسطینیوں کو فراموش کرنے کی وجہ سے فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل سے ٹوٹ گئے،بدھ کے روز، اسرائیلی فوجیوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد مغربی کنارے میں کم از کم 18 عمارتوں اور بنیادی سہولیات کے شہری ڈھانچے کو مسمار کر دیا جس کے تحت کم و بیش 1,000 فلسطینیوں کو ان علاقوں سے باہر نکال دیا جائے گا،جسے اسرائیل نے 1980 کی دہائی کے اوائل میں فائرنگ زون کے طور پر نامزد کیا تھا۔صہیونی حقوق گروپ B’Tselem نے کہا کہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون کے جنوب میں شاداب پہاڑیوں کے دیہاتوں میں 12 رہائشی عمارتیں مسمار کی گئی ہیں لیکن مسافریٹا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ 1967 کی جنگ میں اسرائیل کی طرف سے مغربی کنارے پر قبضہ کرنے سے بہت پہلے، کئی دہائیوں سے اس خطہ کے مستقل مکین ہیں،بھیڑ،بکریوں کی گلہ بانی اورصحرائی زراعت پر ان کی زندگیوں کا انحصار ہے لیکن اسرائیلی سپریم کورٹ نے فوج کے حق میں فیصلہ دیکر اُسے،نادار مسلم دیہاتیوں پر ظلم کرنے کا لائسنس عطا کر دیا،فوج نے اس علاقے کو تربیتی زون قرار دینے کے بعد یہاں کے رہائشی ڈھانچہ کو مسمار کر دیا تاہم اسرائیلی فوج نے ان انہداموں پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔اسرائیل نے مغربی کنارے میں 130 سے زائد بستیاں تعمیر کی ہیں جہاں آج تقریباً 500,000 یہودی آباد کاروں کے گھر ہیں،جن کے پاس مستقل اسرائیلی شہریت بھی موجود ہے،انہی علاقوں میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی کھلے عام اسرائیلی فوجی حکمرانی کے تحت بیکسی کی زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر محدود خود مختاری کا حق تو رکھتی ہے

Advertisements
julia rana solicitors

تاہم”سلامتی“کے معاملات میں وہ اسرائیلی ریاست کے تابع ہے۔فلسطینی چاہتے ہیں کہ مغربی کنارہ مشرقی یروشلم اور غزہ کے علاوہ ان علاقوں کو مستقبل کی ریاست کا اہم حصہ بنائیں،جو اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں ان سے چھین لئے تھے۔اسرائیل نے مشرقی یروشلم کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہ کرنے کے اقدام کو منیج کرکے 2007 میں فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کی انتخابات میں کامیابی پا کراقتدار تک رسائی کو جواز بنا کر مصر کے تعاون سے غزہ کی طویل ناکہ بندی کے ذریعے فلسطینیوں کی سیاسی،سماجی اور اقتصادی زندگی کو مفلوج کر رکھا ہے،مغربی دنیا ٹھنڈے پیٹوں مبینہ عسکریت کو اسرائیل کے انسانیت سوز جرائم کے جواز کے طور پہ قبول کر لیتی ہے،حالانکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر میں تسلیم کیا گیا کہ جب کسی قوم کے لئے جائز آئینی و قانونی طریقوں سے اپنا حق پانے کی راہیں مسدود کر دی جائیں تو مجبور لوگ عزت سے جینے کا حق پانے کی خاطر ہتھیار اٹھا سکتے ہیں لیکن مغربی دنیا یوکرینی عیسائیوں کی مسلح مزاحمت اور فلسطینی مسلمانوں کے لئے الگ الگ معیارات رکھتی ہے۔فلسطینی مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بستیوں کی توسیع کو مستقبل کے کسی بھی امن معاہدے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اسی زمین کو اپنی آزاد ریاست بنانا چاہتے ہیں۔(جاری)

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply