انعام رانا۔۔سیّد مہدی بخاری

“یہ وہ شخص ہے کہ شاید ہی کوئی ہو جو نہ جانتا ہو کہ انعام رانا کون ہے۔ لیکن اس کو مجھ سے بہتر شاید ہی کوئی جان پایا ہو۔

خد و خال میں وہی مماثلت جو آؤٹ آف فوکس تصویر میں ہوتی ہے کہ جب تک بار بار نہ دیکھو اچھا نہیں لگتا۔ دیکھنے میں اس کا کچھ بھی اپنا نہیں لگتا۔ سر کسی بزرگ کا، نظر کی سیاہ عینک کسی نابینا کی، نقوش بڑے بھائی والے اور دل دوست والا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

آپ اسے خوبصورت کہہ سکتے ہیں نہ عام صورت۔ پاس بیٹھا ہو تو کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ جو کچھ کہنا ہوتا ہے اسی کو کہنا ہوتا ہے۔ سیاہ چشمہ لگاتا ہے۔ کہتے ہیں عینک آنکھ کا لباس ہے اس لیے جب وہ خواتین میں بیٹھتا ہے تو سب سے پہلے اپنی عینک اتار لیتا ہے۔

رنگ ایسا کہ گوروں میں کھڑا ہو تو گورا نہیں لگتا اور کالوں میں کھڑا ہو تو کالا نہیں لگتا۔ میرے خیال سے اس کی رنگت کسی بھی رنگ پر نہیں پڑی پھر بھی آپ نے کوئی نام دینا ہی ہو تو کسمیلا کہہ سکتے ہیں۔ لکھاری کا قلم زبان کی طرح چلتا ہے جبکہ اس کی زبان قلم کی طرح چلتی ہے یعنی فل سٹاپ اور کومے لگاتی ہوئی۔

اس کی شخصیت ایسی ہے کہ اگر آپ اسے ساتھ لے کر جا رہے ہوں تو دیکھنے والا سمجھے گا کہ یہ آپ کو لے کر جا رہا ہے۔ کئی لوگ اس کے کالموں پر مرتے ہیں۔ خاص کر تب جب یہ کسی کی موت پر لکھے۔ ایسا ڈوب کر لکھتا ہے جیسے خود وفات پا گیا ہے۔

شخصیت ایسی کہ جو اسے نہیں ملا ہوا وہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ اسے ملا ہوا ہے کیونکہ وہ بھی اس کے بارے اتنا ہی جانتا ہے جتنا اس کو ملنے والے۔ دیکھنے میں لگتا ہے کہ بزرگ لڑکوں میں بیٹھا ہے مگر سننے میں لگتا ہے کہ لڑکا بزرگوں میں بیٹھا ہے۔

مزاج میں ایسا تنوع کہ کبھی کبھی آپ پورا ہفتہ اسے ملیں تو یہ ایک بات نہ کرے گا اور کبھی ایک بات ایسی کر دے گا کہ آپ پورا ہفتہ اسے نہیں ملیں گے۔ دوستوں کے معاملات میں مع لات آ جاتا ہے۔ مشورہ مانگو تو فوری مشورہ دے دیتا ہے، کوئی اور مدد مانگو تو بھی مشورہ ہی دیتا ہے۔

مخالف کی بات مان لیتا ہے بشرطیکہ وہ صنف مخالف ہو۔ یہ ہر کام بڑی محنت سے کرتا ہے۔ اس نے جتنے بھی کاروبار شروع کئے ان میں بہت محنت کی۔ ناکام تک ہونے کے لئے جتنی محنت کرتا ہے اس سے کم محنت میں یہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ مزاج ایسا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسے ہمیشہ یس کہنے والے لوگ اچھے لگتے ہیں۔ جب یہ نو کہے تو اسے نو کہنے والے لوگ بھی اچھے لگتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ایک شخص کو بڑی فکر تھی کہ بچہ بڑا ہو کر کیا بنے گا۔ اس نے ماہر نفسیات سے رابطہ کیا تو ماہر نفسیات نے کہا یہ کونسی بڑی بات ہے۔ تم ایک کمرے میں سیب کتاب اور نوٹ رکھ دو۔ اگر بچے نے سیب اٹھا لیا تو زراعت کے شعبے میں جائے گا۔

اگر کتاب اٹھا لی تو لکھنے پڑھنے میں اور اگر نوٹ اٹھا لیا تو تجارت کی جانب مائل ہو گا۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا۔ بچے نے کمرے میں جا کر نوٹ اٹھا کر جیب میں ڈالا اور کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے سیب کھانے لگا۔ بندہ حیرت کے مارے ماہر نفسیات کے پاس پہنچا اور اسے ماجرا سنایا۔

ماہر نفسیات نے جواب دیا” اس میں زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں، بچہ وکیل بنے گا”رانا دیر سے بے تکلف ہوتا ہے اور جب ہو جائے تو پھر دیر تک رہتا ہے۔ دوست اس کے پاس بیٹھ کر بڑی بڑی پریشانیوں کو بھول جاتے ہیں کہ اس کی موجودگی میں وہ پریشانیاں چھوٹی چھوٹی لگنے لگتی ہیں۔

دوستی یوں کرتا ہے جیسے قبائلی علاقوں میں لوگ دشمنی کرتے ہیں یعنی پکی اور عمر بھر کی۔ کھانے کا اس قدر شوقین ہے کہ ہر وہ چیز جو اچھی لگے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگتا ہے۔ دروغ بر گردن راوی اسے یہ کچھ کرتا دیکھ کر ایک برطانوی لڑکی نے شادی کی پیشکش کر دی تھی جو رانا نے قبول فرما لی۔

دوران گفتگو لفظ بھی کھاتا رہتا ہے۔ یہ سگریٹ، وعدہ، دوستی اور کھانا کبھی ادھورا نہیں چھوڑتا۔ ادیب المزاج ایسا کہ بندہ ضائع کر دیتا ہے لیکن منہ آیا فقرہ ضائع نہیں کرتا۔ اچھا فقرہ ادا کرنے کے بعد اس کے چہرے پر خوشی کی وہی لہر ہوتی ہے جو عورت کے چہرے پر نر بچہ جنم دینے کے بعد ہوتی ہے۔

چونکہ رانا ہے اس لئے معاشرے میں مرد کی برتری کا قائل ہے۔ وہ تو عورت کو بھی ایسے دیکھتا ہے جیسے سوچ رہا ہو کہ مرد ہوتی تو کیسی ہوتی۔ مذہبی گھرانے کا چشم و چراغ ہے۔ کبھی کبھی اپنے رانا ابا و اجداد کا ذکر یوں کرتا ہے جیسے وہ سب مسجد میں ہی پیدا ہوئے۔

تنہائی میں عبادت کرتا ہے۔ ویسے بھی جس صحبت میں یہ اٹھتا بیٹھا ہے اس کا تنہا ہونا عبادت کرنا ہی ہے۔ اپنی تعریف سے گھبراتا ہے لیکن تنقید سے نہیں ڈرتا کیونکہ یہ کام تو تنقید کرنے والے کا ہے۔ اس کی تعریف کر دو تو اسے ساری عمر یاد رہے گی اور اگر مخالفت کر دو تو آپ کو ساری عمر یاد رہے گا۔

اس کے کسی دوست سے دوستی کی ایک لفظی تعریف پوچھو تو وہ کہے گا “رانا”۔ اس کے کسی دشمن سے دشمنی کی یک لفظی تعریف پوچھو تو وہ بھی “رانا” ہی کہے گا۔ یہ برا دوست ہے اس لئے دوستوں کو ان کی برائیوں سمیت دوست مانتا ہے اور یہ ایسا اچھا دشمن ہے کہ اس کا کوئی ذاتی دشمن بھی نہیں۔

اس میں بڑے آدمیوں والی خوبیاں ہیں۔ بڑے آدمی لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کرتے ہیں۔ یہ بھی اپنے پاس کسی کو سونے نہیں دیتا۔ ایسے فلک شگاف خراٹے لیتا ہے۔ رانا حساب کے سوال کی مانند ہے۔ اگر صحیح ہے تو پھر پورے سو نمبر اور اگر آپ کے ساتھ صحیح نہیں تو پھر آپ کا صفر۔

کہتے ہیں کہ وہ کالم کار زندہ رہتے ہیں جن کے قارئین انہیں ڈھونڈیں اور رانا اس لئے زندہ ہے کہ اس کے قاری اسے ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اس کے ہاں طنز کے کانٹے کی چبھن بھی ہے مگر وہ چبھن نہیں جو کانٹا چبھتے وقت ہوتی ہے بلکہ وہ جو کانٹا نکالتے وقت ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ جو برا نہ دیکھے، برا نہ سوچے، برا نہ سنے وہ اچھا کالم کار نہیں بن سکتا۔ بیشک انعام رانا اچھا کالم نگار ہے۔ “

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply