آئین قومی وحدت کا محورہے؟۔۔اسلم اعوان

قومی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے جس قسم کی ذہنی تفریق کی فضا مہیا کی،اس کا مدوا کسی ادارے یا کسی ایک جماعت کے بس کا روگ نہیں،اس مقصد کو پانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کی لیڈر شپ کو سرجوڑ کے بیٹھنے کے علاوہ ادیبوں،شاعروں اور دانشوروں کی مربوط مساعی بروکار لانا پڑے گی،موجودہ حالات میں ایسا مثالی اتفاق رائے اگرچہ دشوار ہو گا لیکن ناممکن نہیں،اگر قومی قیادت اپنے جماعتی تعصبات اور سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کے صرف قومی بقاءکے مرکزی نقطہ پہ متفق ہو جائے تو ہم اپنے انحطاط کے مظاہر پہ قابو پا سکتے ہیں،زندگی کے کھیل میں کچھ ایسے قوانین ضرور ہونے چاہئیں جنہیں وہ بھی تسلیم کریں جو ان کی خلاف وردی کرتے ہیں۔

بلاشبہ ایک مضبوط حکومت ہی ہمیں معاشی نظم و ضبط اور سماجی امن فراہم کر سکتی ہے بصورت دیگر ٹکراؤ کا عمل ہجوم کے ذہنی انتشار میں اضافہ کرے گا۔گویا سیاسی نظم و ضبط ضرور ہونا چاہیے خواہ وہ ابتری کے قریب ہی کیوں نہ ہو جیسے نشاة ثانیہ کے وقت فلورنس میں تھا،انسانوں کو یہ احساس ملنا چاہیے کہ انہیں قدم قدم پہ موت اورچیک پوسٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔لاریب،ہم مزید تقسیم کے متحمل نہیں،جو قوم پہلے ہی شعیہ سنی، دیوبندی بریلوی،پنجابی پٹھان،بلوچی سندھی اورمتنوع لسانی و علاقائی تعصبات میں بٹی ہو،اسے سیاسی پولرآئزیشن کے ذریعے تصادم کی دہلیز تک پہنچانا کہاں کی دانشمندی ہے؟

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

متحارب سیاسی قوتوں نے کشیدگی کو جزئیات تک پہنچا کر ہر ادارے اور ہرلیڈر کو دلدل میں کھینچ لیا،قومی وحدت کے لئے آئینی اداروں پہ وسیع قومی اتفاق رائے اور لیڈر شپ کی ساکھ کا مضبوط ہونا سب کے مفاد میں تھا لیکن ہم سب نفرتوں اور تضادات کی ایسی دلدل میں پھنس گئے جس دلدل سے ہمیں نکالنے والا کوئی نہیں بچا۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ ایسے عہد پُرآشوب میں بھی ہر ادارہ دائرہ اختیار سے تجاوز،ہرپارٹی سیاسی مفادات کی اسیر اور ہر لیڈر اپنے کلٹ کو زیادہ مضبوط بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے،اندرونی خلفشار اور بیرونی خطرات سے دوچار قوم کا اس مرحلہ پہ ردعمل وہی ہے جو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے دوچار قوم کا بنتا تھا،اسی رسہ کشی میں کوئی ایسا ادارہ یا لیڈر باقی نہیں بچا جسے سواد اعظم کا اعتماد حاصل ہو بلکہ ہمارا وہ کلاسیکی معاشرہ جو باہمی ایثار اور اخوت اسلامی کی سنہری اقدار کا حامل تھا،گلوبلآئزیشن کی لہر میں بہہ کر اپنی فطری اساس گنوا بیٹھا،ہم مغربی جمہوریت،مقامی تہذیب و ثقافت اور عالمی تمدن کے مظاہر میں تقسیم ہو رہے ہیں،گویا انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ہمارے ذہنی،نفسیاتی اور سماجی فیبرک کو بری طرح متاثر کیا۔

تاہم فی الوقت ہمارے لئے امید کی کرن فوجی قیادت کی طرف سے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ غیرمشروط وابستگی کا عزم ہے،جس نے انارکی کی طرف بڑھتے سماجی ڈھانچہ کو مضبوطی سے تھام لیا،دوسرا کہنہ مشق سیاسی قیادت بھی اپنے جماعتی مفادات اورسیاسی تنازعات کو بالائے طاق رکھ کے ایک قسم کی قومی حکومت بنانے پہ متفق ہو گئی،پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کو اکثریت کی حمایت حاصل ہے،اگرموجودہ حکمراں اشرافیہ سیاسی نظام اور انتخابی اصلاحات کے علاوہ بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے موثر اقدامات اٹھائے تو ہمارے لئے تعمیر ملت کا وہ مرحلہ بھی آسان ہو جائے گا،جس کے حصول کی تمنا پورے معاشرے کی آواز ہے۔

بلاشبہ قوم کی تعمیر ایک معیاری تصور ہے لیکن مملکت کے حصول کے بعد قومی وجود کی استواری دشوار ہوتی ہے،ماضی قریب کے جدید ترین تصور قومیت میں جغرافیائی حدود،ثقافتی و لسانی یکسانیت اور مشترکہ معاشی مفاد کو قومیت کے عناصر ترکیبی مانا گیا لیکن وقت،حالات اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے قومی ریاستوں کے اس قدیم نظریہ میں بھی دراڑیں ڈال دیں،جس کی مثال ہمیں مشرق وسطی کی قومی ریاستوں کے گہرے جمود میں ملتی ہے،اس وقت غیر فعال یا غیر مستحکم یا ناکام ریاستوں اور بدحال معیشتوں میں قومیت کا مروجہ تصور ثانوی حیثت اختیار گیا،صرف معاشی ضروریات ،ریاستی انفراسٹرکچر،ادارہ جاتی نظم یا سول سوسائٹی ہی جدید انسان کے مسائل کے حل میں غیر موثر ثابت نہیں ہوئی بلکہ کیمونزم کے بعد سرمایا دارانہ سیاسی نظام بھی خواب تکمیل کی تعبیر لانے میں ناکام ہو گیا۔

عام طور پر یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ سیاسی استحکام میں اضافہ قوموں کی تعمیر میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے لیکن اب یہ ضروری ہو گیا کہ قومی تعمیر کے نظریات کے ارتقاءاور اس سے منسلک دوسرے عوامل پر نظر ڈالی جائے جو بظاہر اس مقصد میں شمار نہیں ہوتے۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ قوموں کی تعمیر انقلابی کے بجائے ارتقائی عمل ہے،جس کو زیادہ وقت درکار ہوتا ہے بلکہ یہ ایسا سماجی عمل ہے جسے باہر سے نہیں،صرف اندر سے مینج کیا جا سکتا۔اطالوی شہری ریاستوں کا ایک قوم کے طور پہ ارتقائی ،جرمن شہر ریاستوں کا پہلے زولورین یونین جو بعد میں قومی شکل اختیار گیا،فرانس میں متعدد زبانوں اور ثقافتی گروہوں کا بتدریج فرانسیسی قومیت میں ڈھلنا،اس پیش رفت کی مثالیں ہیں۔داخلی طور پہ متحارب ریاستوں میں سے چین کی ترقی جسے لمبا وقت لگا اور جس کے نتیجہ میں نہ صرف سیاسی قیادت بلکہ زرعی اور پھر صنعتی انقلابات کے ساتھ مواصلات، ثقافت اور بہت سے دوسرے عوامل کی بھی افزائش ہوئی۔امریکہ جہاں متنوع مآخذ والی پہلی 13نوآبادیاں نئی قومی ریاست کی تخلیق کے لئے متفق ہوئیں، انہیں بھی 1865 میں خانہ جنگی اور ٹوٹ پھوٹ کے امکانات کا سامنا کرنا پڑا،انہیں سیاہ اور سفید، شمال اور جنوب،مشرق اور مغرب میں توازن لانے کے لئے مزید 100 سال لگے تاہم پھر بھی یہ اپنی نوعیت کی پہلی ریاست تھی جس میں تمام لوگ یکساں رنگ و نسل اور مشترکہ زبان و ثقافت کے حامل نہیں تھے،اس نئے تصور قومیت کے تحت ایک قوم کی تخلیق دوسری قوموں کی لاش پہ کی گئی،امریکی قوم کی تعمیر کی خاطر وہاں کی پرانی نسلی اکائیوں اور قومیتوں کو مٹانا پڑا یا پھر انہیں بہت ہی پسماندہ کر دیا گیا۔آج بھی کرہ اراض کی بہت سی اقوام تعمیر نو کے عمل سے گزر رہی ہیں،جہاں سیف گورننس کے لئے سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور سیاسی بنیادیں دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہیں،یہ نئی اقوام بھی پہلی قوموں کے طرح ثقافتی شناخت چاہتی ہیں تاکہ اپنی نوزائیدہ ریاستوں کو جدید ابلاغی آلات سے بیرونی مداخلت کے ذریعے توڑنے کے چیلنج سے نمٹا جا سکے،جیسے پاکستان کو قومی تشخص کی استواری میں پانچویں پشت کی ابلاغی یلغار کا سامنا ہے۔

تاہم ماہرین،مملکتوں کو ادارہ جاتی بنیادوں سے آراستہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ ان کی معاشی،سماجی اور ثقافتی مقاصد کے حصول کے لئے خود حکومتی طاقت کو موثر طریقے سے قائم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو۔عہد جدید میں قوم کی تعمیر کے ماڈل کے چار بنیادی عناصر کی نشاندہی کی گئی،پہلی حقیقی خود حکمرانی،وسائل مختص کرنے،پراجیکٹ کی فنڈنگ اور ترقیاتی حکمت عملی کے بارے میں فیصلہ سازی کا حق۔دوسری موثر حکومتی اداروں کی تشکیل غیر سیاسی تنازعات کے حل کا طریقہ کار اور بدعنوانی سے چھٹکارا حاصل کرنے کا میکنزم۔تیسری سماجی و ثقافتی روایات یعنی سرکاری اداروں کو شہریوں کی نظر میں قانونی حیثیت دینا اور چوتھی،اسٹریٹجک بقاءکے لئے طویل مدتی منصوبہ بندی کرنا۔

ماضی قریب میں دم توڑتی ریاستوں کی تحلیل کی وجہ یہ بھی تھی کہ یکساں شناخت کے حامل کچھ طبقات کو یورپی استعمار نے منقسم کیا اورکچھ دوسرے جو متضاد ثقافتیں رکھتے تھے انہیں بزور قوت نئی ریاستوں میں یکجاہ کر دیا گیا۔خاص طور پر پہلی،دوسری جنگ عظیم کے بعد افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں نئی سیاسی سرحدوں نے جدید ریاستوں کی تشکیل میں قومی شناخت پر بہت کم توجہ دی،اس طرح محض حکومتی آلات سے جغرافیائی حدود میں قومیت بنانے کا تصور بیکار ثابت ہوا۔یوروپ میں قوم سازی تاریخی طور پر ریاستی تعمیر سے پہلے کی تھی جبکہ نوآبادیاتی ریاستوں میں ریاست کی تخلیق قومی تعمیر سے پہلے رکھی گئی۔جدید قومی تعمیر اور پائیدار جمہوریت میں منتقلی کے لئے مسلح قوت کا استعمال بھی کیا گیا،جیسے جرمنی، جاپان، صومالیہ، ہیٹی، بوسنیا، کوسوو، اور افغانستان جہاں جمہوریت کو لانے کی خاطر امریکی فوجی قوت کا استعمال کیا گیا۔قوم سازی کی یہ تعریف ان سے کافی مختلف ہے جو قوم کی تعمیر کو اندرونی طبقات کے سماجی تال میل میں دیکھتے ہیں۔کیا قوم سازی کو باہر سے مسلط کیا جا سکتا ہے؟

قوم کی تعمیر کے تصور کو سمجھنے کے لیے ماضی میں جھانکنا ازحد ضروری ہے۔قومیت کے ابتدائی تصورات میں لوگوں کے ایک گروہ یا نسل کو قوم کے طور پر پہچاناگیا جو تاریخ، روایات اور ثقافت، بعض اوقات مذہب اور عام طور پر زبان کے اشتراک سے پیدا ہوئیں۔جیسے برطانیہ،انگلش،آئرش،سکاٹش اور ویلش جیسی چار اکائیوں پہ مشتمل ہے،کسی قوم کے لوگ عام طور پر جو مشترکہ قومی شناخت رکھتے ہیں،قوم تشکیل کا مقصد اسی مشترکہ شناخت کا دوام ہے۔ شہری سماج، جس کی بنیاد مشترکہ تہذیبی شناخت،سیاسی نظریات اور سرکاری اداروں کے ساتھ وفاداری پہ رکھی ہو اسے شہریتی قومیت کہتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

تاہم اس عہد میں لفظ قوم اکثر ریاست کے مترادف استعمال ہوا،جیسا کہ اقوام متحدہ میں ہے یعنی ایک ریاست زیادہ مناسب طریقے سے حکومتی آلہ ہے جس کے ذریعے وہ قوم خود پر حکمرانی کرتی ہے۔مغربی ماہرین کہتے ہیں کہ ریاست انسانی برادری ہے جو کسی مخصوص علاقہ میں جسمانی طاقت کے جائز استعمال کی اجارہ داری رکھتی ہے۔یعنی خطہ ریاست کی خصوصیات میں اساسی اہمیت رکھتا ہے۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply