دامن خالی!ہاتھ بھی خالی۔محمد اظہار الحق

SHOPPING
SALE OFFER
SHOPPING

فیض آباد دھرنا کس کے لیے چیلنج تھا؟

وفاقی حکومت کے لیے

وفاقی حکومت کس کی تھی؟

مسلم لیگ نون کی!

مسلم لیگ نون کا سربراہ کون ہے؟

میاں محمد نواز شریف قائداعظم ثانی!

پارٹی میں ان کا نائب کون ہے؟

عملی اعتبار سے ان کی  دختر نیک اختر مریم صفدر!

جنہوں نے حال ہی میں نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اگلے انتخابات میں  وزیراعظم کا الیکشن لڑیں گی اور یہ کہ “جو لوگ میرے ارد گرد ہیں’ بتاتے ہیں کہ ایک خاص  رول میرے لیے مخصوص ہے”دھرنا مسلم لیگ نون کی وفاقی  حکومت کے لیے چیلنج بنا تو یہ دونوں باپ بیٹی کہاں تھے؟

یہ دونوں پیش منظر سے غائب ہوگئے!انہوں نے صورتِ حال سنبھالنے کی کوشش نہیں کی۔ کوئی بیان  سامنے آیا نہ ردِ عمل !مذاکرات کی کوشش کی  نہ اپنی پارٹی  کی حکومت کی کوئی مدد کی!

دونوں باپ بیٹی کا ‘دھرنے سے پہلے ‘تقریباً ہر روز کوئی نہ کوئی بیان میڈیا پر جلی حروف اور بلند آواز  میں ضرور  دکھائی اور سنائی دیتا تھا۔ دھرنے کے دوران دونوں  مہر بلب رہے!

اس خاموشی ‘ اس  تغافل ‘ اس بے نیازی ‘اس عدم دلچسپی کی ممکنہ وجوہات کیا ہیں ؟

اس کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں  !اول یہ چاہتے ہیں کہ دھرنے کی وجہ سے بدامنی پیدا ہو۔قتل و غارت گری ہو!عوام بدحال ہوں۔ ملک میں انارکی پھیلے۔ حکومت ناکام ہوجائے۔ ریاست انتشار کے دہانے پر پہنچ جائے۔ فوج کو مجبوراً امن قائم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا پڑے۔ پھر یہ صورتِ حال شریف خاندان کے لیے یوں ہو جیسے اللہ دے اور بندہ لے۔ شوق شہادت تکمیل تک پہنچے۔ میاں صاحب اور ان کی دختر”فوجی آمریت” کے خلاف پرچم لے کر نکلیں اور فاتح بن کر لوٹیں ! دوم:دھرنے کی پشت پر یہی ہوں !اگر ایسا تھا تو یہ کس منہ سے دھرنا ختم کرنے لیے کوئی کردار ادا کرتے۔

سوم!یہ دھرنے کی پشت پر نہیں تھے نہ ہی اپنی پارٹی کی حکومت کا خاتمہ چاہتے تھے ۔ مگر ان میں اتنی قابلیت ‘اتنی لیاقت ‘اتنی ذہنی سکت ہی نہ تھی کہ حالات کو نارمل کرنے کے لیے کوئی کردار ادا کرتے!انہوںنے عملی اعتبار سے پارٹی کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا کیوں کہ ان کے پاس  کہنے کو کچھ نہیں تھا سوائے اس کے کہ ہم نے سڑکیں بنائیں اور سوائے یہ پوچھنے کے کہ کیوں نکالا!ہم سمجھتے ہیں کہ تیسری وجہ ہی زیادہ امکانی لگتی ہے!کیوں کہ جو شخص وزارتِ اعظمٰی کے چار سالوں کے دوران کوئی سنجیدہ اجلاس  اٹنڈ نہ کرسکا ‘ کوئی فائل پڑھ سکا ہو نہ کسی فائل پر کچھ لکھ سکا ہو’ خارجہ امور پر یا ملک کے اندرونی مسائل پر پانچ منٹ مربوط اور قابلِ فہم  گفتگو کرنے کے قابل نہ ہو’ وہ اتنا ادراک اور شعور کہاں سے لاتا کہ دھرنے والوں سے مذاکرات کرتا یا مذاکرات کی نگرانی کرتا

دھرنے والے کہاں سے آئے تھے؟

لاہور سے!

کہاں سے گزرے تھے؟

جی ٹی روڈ سے

لاہور اور جی ٹی روڈ پر کس کی حکومت ہے؟

شہباز شریف کی!

شہباز شریف کس پارٹی سے ہیں ؟

مسلم لیگ نون سے؟

تو پھر انہوں نے دھرنے والوں کو وفاقی دارالحکومت پہنچنے سے پہلے کسی مقام پر روکا کیوں نہیں ؟

اس کی ممکنہ وجوہ بھی وہی ہیں جو اوپر  بیان کی جا چکی ہیں ! ایک اضافی وجہ ‘جو چوتھی وجہ ہوسکتی ہے’ یہ ہے کہ وہ اپنے یعنی پنجاب حکومت کے سر سے یہ بلا اتارنا چاہتے تھے تاکہ کسی مرحلے پرکوئی ذمہ داری ان پر نہ آن  پڑے!

صرف باپ بیٹی کی نااہلی کے نکتہ نظر سے مسئلے کو  دیکھنا  تنگ نظری ہوگا!یہ دھرنا ملک کو صدیوں  پیچھے لے گیا ہے!اس نے ثابت کردیا ہے کہ کوئی شخص بھی دو اڑھائی ہزار افراد لے آئے’کسی شہ رگ جیسی شاہراہ پر قابض ہوجائے تو رہاست کو بے بس اور حکومت کو مفلوج کرسکتا ہے!حکومت’ عدالتیں ‘کچھ بھی نہیں کرسکتیں!

اس دھرنے نے پارلیمنٹ کی بے وقعتی پر مہر تصدیق  ثبت کردی ہے۔ ان اکیس دنوں میں  پارلیمنٹ کے کسی ایوان نے صورتِ حال پر بحث کی نہ حل تلاش کیا  نہ کوئی ذمہ داری اٹھائی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ منتخب نمائندے آگے بڑھتے ،دھرنے والوں  سے بات چیت کرتے اور  عوام کی نمائندگی کا حق ادا کرتے ! ڈاکٹر  فضل چوہدری دارالحکومت کے عوامی نمائندے ہیں پانامہ کیس کے دوران یہ پیش منظر  پر مسلسل چھائے رہے۔ دوسرے عوامی نمائندے دارالحکومت سے اسد عمر تھے۔ راولپنڈی سے عوامی نمائندے شیخ رشید تھے جو ٹیلی ویژن کے پردہء سیمیں  پر اینکروں سے زیادہ نظر آتے ہیں  !حنیف عباسی اس وقت اسمبلی میں نہیں مگر راولپنڈی کی مسلم لیگ نون کی قیادت ان کے ہاتھ میں ہے۔آپ اندازہ لگائیے’جڑواں شہروں کے لاکھوں باشندے دھرنے  کے اکیس دنوں  کے دوران  سُولی پر  لٹکے رہے۔ اذیت کی آخری انتہا سے دوچار رہے۔ ایمبولینسیں  رکتی رہٰیں ،مریض  راستوں  میں دم توڑتے رہے۔ طلبہ درس گاہوں اور امتحان گاہوں میں پہنچنے سے قاصر رہے ۔تاجروں  کو کروڑوں اربوں کا نقصان ہوا۔ دونوں شہروں  کے درمیان آمدورفت  کا سلسلہ منقطع رہا۔ مسافر بسوں کے اڈوں  ‘ریلوے اسٹیشنوں  اور ائیرپورٹوں  تک نہ پہنچ پائے ۔ مگر ان عوامی نمائندوں میں سے کوئی آگے نہ بڑھا۔ کیا اسد عمر اور کیا  ڈاکٹر فضل چوہدری ‘کیا شیخ رشید اور کیا حنیف عباسی !کسی نے دھرنے والوں کی آکر منت نہ کی کہ آپ کے مطالبات جائز ہوں گے مگر عوام کو سزا نہ دیجیے! ہزار طریقے ہوسکتے تھے ۔ جگہ تبدیل کرنے کے لیے بدلے میں ‘اسد عمر اور شیخ  رشید’دھرنے کا  حصہ بننے پر آمادہ ہوجاتے’حنیفف عباسی اپنی حکومت پر دباؤ ڈالتے مگر افسوس! صد افسوس! ان میں سے کسی نے بھی عوامی نمائندگی کا حق ادا کیا نہ عوام کو اذیت سے رہائی دینے کے لیے ایک انچ اپنی جگہ سے ہلے ۔

اور عمران خان؟عمران خان اپنےآپ کو متبادل قیادت کے لیے پیش کرتے ہیں!مسلم لیگ نون  کی دشمنی بالائے طاق رکھتے ہوئے’عمران خان ذرا بلند سطح پر سوچتے اور عوام کو اس یرغمالی کیفیت  سے نکالنے  کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ۔ وہ دھرنے والوں کےسامنے کھڑے ہوکر تائید کرتے’تالیف ِ قلب کرتے’مگر ساتھ ہی منت سماجت کرتے کہ عوام کی آمد ورفت مسدود نہ کیجئے۔اگر عمران  خان کوئی مثبت کردار ادا کرتے اور کامیابی سے ہمکنار  ہوجاتے تو ان کا قد اور بلند ہوجاتا ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوجاتا  مگر وہ بظاہر الگ تھلگ رہے گویا غیر جانبدار تھے۔ مگر ایسی غیر جانبداری کا کیا فائدہ جو عوام کےدکھ درد سے بے نیاز ہو!

بلاتبصرہ۔ اتوار کے دن ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال راولپنڈی سے جو دو پولیس اہلکار غائب ہوگئے تھے ‘وہ پیر کے دن فیض آباد  کے قریب  ‘سڑک کے کنارے پڑے ملے۔جسموں پر تشدد کے نشانات تھے۔ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور بدن پر خراشیں تھیں !انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں  وہ داخل کرلیے گئے۔ ڈاکٹروں  کے بیان کی رُو سے ‘انہیں اندرونی زخم  بھی آئے ہیں ۔ایک کی بائیں  کہنی ٹوٹ  چکی تھی۔ دونوں  کو لاٹھیوں اور پلاسٹک چڑھی تاروں  سے پیٹا گیا  تھا۔ ڈی ایس پی سٹی سرکل نے بتایا کہ دونوں سرکاری اہلکاروں کو اغوا کے بعد فیصل آباد کے قریب خیمے میں رکھا گیا اور بے رحمی سے مارا پیٹا گیا۔

ان دونوں  کو ہسپتال سے اٹھایا گیا تھا۔ہسپتال  یہ دونوں اہلکار کیوں آئے تھے؟یہ بھی دلچسپ کہانی ہے۔ ہنگاموں کے درمیان جوافراد ہلاک ہوگئے تھے ‘یہ اہلکار ان کی لاشیں  پوسٹ مارٹم کے لیے لائے تھے ۔ساتھ ہی احتجاجی بھی پہنچ گئے ۔کوئی رپورٹ تھی یا  فارم’احتجاجی کہتے تھے اس پر یوں لکھو ‘پولیس والے ان کی بات مان نہیں رہے تھے۔ ہجوم نے پہلے ایک کو مارنا  شروع کیا’ گھسیٹ کر اسے باہر لائے ‘گاڑی میں ڈالا اور لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد واپس آکر دوسرے کو بھی مارتے ہوئے لے گئے۔تیسرا پولیس اہلکار کسی طرح بچ نکلا۔

پس نوشت نمبر(1) میڈیا نے خبر دی ہے کہ عالم بالا میں صدر جنرل ضیاء الحق شاداں و فرحاں  ہیں اور  سراپا تبسم ہیں ! بار بار اپنے آپ سے کہتے پائے گئے کہ یہ ہے وہ پاکستان جو میں چاہتا  تھا۔ اگرچہ یہ دن میری زندگی میں  نہ آسکےتاہم اطمینان یہ ہے کہ بنیاد اس کی میں نے ہی رکھی تھی۔

SHOPPING

پس نوشت نمبر(2)پاکستانی پاسپورٹ  پر ایک کالم مذہب کا بھی ہے کہ پاسپورٹ کا حامل کس مذہب کا پیروکار ہے۔کیا ایسا کالم دنیا کے کسی اور ملک یا ممالک کے پاسپورٹوں  پر بھی پایا جاتا ہے؟قارئین سے التماس ہے کہ رہنمائی کریں ۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *