ایک درد کہانی

ایک درد کہانی.
تحریر.: نعیم الدین جمالی.
گاؤں کی شام بھی بڑی عجیب سنھری، لطف سے بھرپور ہوتی ہے،ایک ایسی ہی شام سے میں لطف اندوز ہورہا تھا، پرندوں کے غول در غول چہچہاتے اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے، کوؤں کی کائیں کائیں گاوں والوں کو شام کا پیغام دے رہی تھیں ، گاؤن کے جانوروں کے گلوں میں بندھی گھنٹیاں گاؤں والوں کو اپنی واپسی کی نوید سنارہی تھیں، ہر قسم کے جانوروں کی بھانت بھانت کی آوازیں، چرواہوں گے گنگناتے نغمے، ڈھلتا سورج، ڈھلتی شام کی خاموشی، برتنوں کی جنجھناتی آوازیں، دودھ دوھنے کی شرّ شرّ کی عجیب سی آوازیں… اوربرستے بادل ایسے ہی کسی عجیب منظر میں اپنے محلے کی ایک تنگ گلی سے گزر رہا تھا، بارش کی وجہ سےپوری گلی کیچڑ زدہ تھی، میں کہیں پائنچے ٹخنوں سے اوپر کھینچتے پانی میں شڑاپ شڑاپ تو کہیں کیچڑ پر ڈگمگ کرتی اینٹوں کی پگڈنڈی پر اس طرح سنبھل سنبھل کر چل رہا تھا جیسے ماہر شخص رسی پر آنکہیں بند کر کرکے چلتا ہے، کیچڑ گند، اورگوبر کی بدبو کے بھبکے اٹھ رہے تھے، بھوں بھیں کرتی مکھیاں میرے سر پر ڈرون کی طرح اڑ رہیں تھیں، گلی کےدائیں طرف کھجور کی چھالوں سے بنی ایک جھگی سے کسی کی غصہ دار آواز آئی کہ “میں نے پاروکی شادی کریم سے نہیں کرنی نہیں کرنی ”
یہ آواز سن کر میں ہک دک رہ گیا،
پارو اور کریم دونوں ہی میرے قریبی عزیز تھے،
پارو کے والدین غربت اور پسماندگی کی زندگی گذار کرسفر آخرت کو کوچ کر چکے تھے، پارو اب اپنے تیں بھائیوں کے ساتھ ایک غریب خانے میں زندگی کی سانسیں لے رہی تھی، غربت، افلاس، پسماندگی، ایسی عجیب شے ہے اپنے پرائے سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، پارو اور اس کے بھائی بھی ایسی صورتحال کے شکار تھے، دو بھائیوں کی خدا خدا کرکے شادی ہوگئی تھی،اب صرف پارو اور اس کا چھوٹا بھائی پنہل رہ گئے تھے، پنہل اپنی بد اخلاقی سے پورے گاؤن میں مشہور تھا،لڑائی، جھگڑے، چوری چکاری، اور نشہ کرنا اس کی عادت ثانیہ بن چکی تھی، “کام کا نہ کاج کا، بس دشمن اناج کا ” کا صحیح مصداق تھا، اس کی ان عادتوں کی وجہ اسے کوئی رشتہ دینے کو تیار نہ تھا، پارو کے بار بار اچھے اچھے گھرانوں کے رشتے آتے پنہل ہمیشہ یہ کہتا اس نے میرے ساتھ گالم گلوچ کی، میری فلاں کے ساتھ بچپن کی دشمنی ہے، فلاں نے ابو جان کو برا بھلا کہا ، وہ ہمارا خاندانی دشمن ہے، نیز طرح طرح کے بہانے بنا کر پارو کے رشتے ٹکھرا دیتا، لوگوں نے بھیترا سمجھایا لیکن وہ اپنی ضد اور انا پر قائم رہا.
کریم گاوں کا ایک نیک شریف، خوش اخلاق اور خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، دیگر رشتوں کی طرح پنہل نے یہ رشتہ بھی ٹھکرا دیا.
سال، مہینے، مہینے دن، دن گھڑی بن کر گذرنےلگے، پنہل کی قسمت رنگ لائی اس کو ایک رشتہ پسند آیا، غریب، غریب کا ہی سہارا بنتا ہے، ایک غریب گھرانے میں پنہل کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی، اب شادی کو پانچ سال کا عرصہ بیت چکا ہے، پنہل ایک بیٹے اور تین بیٹیوں کا باپ ہے، پنہل کو شادی کے بعد غربت کا احساس ہوا، کچھ کمانے کی فکر ہوئی، بال بچوں اور گھر والی اخراجات کی وجہ سے پنہل نے پارو کی کفالت سے ہاتھ کھینچ لیا، پارو اکیلی تنہا رہ گئی،دکھ درد بھی جب تنہا، اکیلا، بلا شرکت غیرے ہو تو وہ انسان کو جیتے جی مار دیتا ہے، یہی کچھ اب پارو کے ساتھ ہو رہا تھا، پارو اب پچاس کے پیٹے میں داخل ہوچکی ہے، محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتی ہے، تن کو ڈھانکنے اور ستر پوشی کے لیے لوگوں کے گھروں کے برتن مانجھتی ہے دو پیسے جمع ہو جائیں تو اس کا عید یا کسی خوشی پر نیا جوڑا ہوجاتا ہے ، اب محنت کے لیے بھی گھر سے باہر نکلے تو گلی محلے والوں کے طنز طعنے اسے زندہ درگور کردیتے ہیں، روز کے زخموں نے اسے گھائل کردیا ہے، سارے بھائی اپنے بال بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گذار رہے ہیں، پارو نے پوری زندگی انہیں پالا پوسا، کھلایا، پلایا، آج اسکے دکھ درد کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں، اس نے بھائیوں کے لیے قربانی دی، اپنے ہاتھ بھی پیلے نہ کیے، اب وہ روز مرتی، روز جیتی ہے، ہر کسی کو اپنا دکھڑا سنا کر اپنے غم کو ہلکا کرتی ہے، کوئی بھائی اپنا پرایا اس کا سہارا بننے کو تیار نہیں.
پرسوں وہ ہمارے گھر آئی ، والدہ کو اپنی درد کہانی سنا رہی تھی، آنسو اس کی جھریوں سے ریکھ ریکھ بہہ رہے تھے، وہ منظر دیکھ کر کل سے میرا چین وسکون چھن چکا ہے، میں سوچوں کے سمندر میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہوں، اس واقعے کے بعد جب اپنے علاقے، گاؤں شہر، اور بستی میں نظر دوڑائی تو پارو جیسی ہزار لڑکیاں دِکھیں، جو اپنے بے غیرت بھائیوں کی غیرت کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں، جو خود تو اپنی زندگیوں میں مگن اور خوشحال موج مستیوں میں ہیں، وہاں ان کی بہنیں، بیٹیاں روز مرمر کر جی رہی ہیں.
وہ غلط قدم اٹھائیں تو بھی کاروکاری کر کے ماری جائیں، وہ اپنی مرضی سے شادی کریں تو قوم، قبیلے کے رسم وراج کے مخالف، جرگے قائم کرکے ان کو زندہ جلا دیا جائے،
قصور وار صنف نازک نے ہم خود ہیں، ہمارا معاشرہ،سماج ہے، قبائلی رسم ورواج ہیں، جھیز جیسی لعنت کا نتیجہ ہے.
دین سے دوری ہے، خدا اور رسول کے احکامات کے ساتھ بغاوت ہے.
اسلام نے اس نکاح کو فضیلت والا کہا ہے جس کا خرچہ بلکل کم ہو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کا سادگی والا نکاح ہمارے معاشرے کے لیے بھترین طریقہ ہے.
ہم نے نکاح کو مشکل سے مشکل تر بنادیا.
آو ! معاشرے کی اس ظلم کو اکھاڑ پھنکیں، بہن بیٹیوں کے حقوق کی پاسداری کریں،ان کو اپنی غیرت کی بھینٹ نہ چڑھائیں. اسلامی طریقے سے وقت پر ان کے نکاح اور شادی کا بندوبست کریں.ورنہ قصور وار وہ نہین ہم اور آپ ہیں.

Avatar
نعیم الدین
لکھنے پڑہنے والا ایک ادنی طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *