• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • داعش کی فکری شکست بہت ضروری ہے(آخری قسط)۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

داعش کی فکری شکست بہت ضروری ہے(آخری قسط)۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

جیسا کہ یہ بات طے ہے کہ عام اور سطحی مذہبی رحجان والوں کو جہاد،خلافت یا صحابہ و دیگر قابل تعظیم ہستیوں کے نام پر ورغلانا  بہت آسان ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ ایسا ہی ہو رہا ہے اور بالکل ہمارے سامنے ہو رہا ہے۔مولوی صوفی محمد نے سوات میں نفاذ شریعت محمدی کے نام پر فساد مچایا، طالبان نے الگ سے اسلام کے نام پر مسلمانوں کا خون بہایا اور ابھی تک بہا رہے ہیں۔کئی دیگر تنظیمیں جو کالعدم قرار دی جا چکی ہیں ان کا ہدف بھی عام اور بے گناہ مسلمان ہی ہیں۔اس بات کا تجزیہ کرنا اشد ضروری ہے کہ کوئی نوجوان کیونکر خود کش حملہ آور بنتا ہے یا کیونکر مذہب کے نام پر قتل و غارت گری اور دہشت گردی کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ہمارے سماج میں تو اس کی چند ایک معلوم وجوھات ہیں جن میں سے ایک افغانستان میں القاعدہ کا ظہور اور نام نہاد طالبانی اسلامی ہے۔یہ مگر ایک وجہ قرار دی جا سکتی ہے ،مکمل تجزیہ نہیں۔ اس کے لیے وقت اور شدت پسندانہ تنظیموں کا عمیق و دقتِ نظر مطالعہ درکار ہے۔
داعش جس نے چند سال قبل پنی نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تھا، اس کو افرادی قوت بہت تیزی سے دستیاب ہوئی، اس کے پاس اسلحہ اور جنگی سازوسامان بھی وافر مقدار میں رہا جبکہ بالخصوص شام و عراق میں اس دہشت گرد تنظیم نے تباہ کاریوں اور بربریت کی تکلیف دہ مثالیں قائم کیں۔ معصوم بچوں کو زندہ جلا دیا گیا، عورتوں کا جنسی و جانی استحصال کیاگیا،سر بازار عورتوں کو فروخت کیا گیا، حتیٰ کہ ایزدی قبیلے جنھیں یزیدی قبیلہ بھی کہا جا رہا ہے، کی عورتوں کو جبری کنیزیں بنایا گیا۔داعش کے حق میں واعظ ہوئے اور فتوےبھی جاری ہوئے۔مقبول مگر متنازع اور اسلام کے نام پر بد نما فتویٰ”جہاد النکاح” کا جاری ہوا۔اس فتوے کا پہلا شکار تیونس کی سینکڑوں لڑکیاں بنیں۔تیونس کے وزیر داخلہ نے کابینہ کے ایک اجلاس میں اعتراف بھی کیا تھا کہ تیونسی لڑکیاں جہاد النکاح کے لیے داعشی درندوں کے پاس گئی ہیں۔ ان میں سے کچھ لڑکیوں کے میڈیا پر انٹرویو بھی نشر ہوئے۔جس میں پتا چلا کہ ایک ایک لڑکی نے ایک ایک ہفتہ میں درجن درجن نام نہاد” مجاہدین”سے جہاد النکاح کیے۔اللہ اکبر۔
یہ وہی داعش ہے جس کے جنگجوئوں نے شام و عراق میں انبیاعلیہ السلام، اصحاب الرسولؐ اور بزرگان دین کے مزارات کوبے دردی سے نشانہ بنایا اور لاشوں کو قبروں سے نکال کر ان کا مثلہ کیا۔جہاد النکاح کے فتوے میں اس قدر کشش تھی کہ یورپ سے بھی مر د و زن کھنچے چلے آئے۔اپنی تمام تر وحشتوں اور خباثتوں کے باوجود داعش کو شام و عراق میں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔بے شک داعش کی تخلیق میں ترکی، سعودی عرب،اور قطر نے اپنا بھر پور حصہ ڈالا ،مگر اس حصہ داری میں امریکہ ہمیشہ کی طرح عربوں کا سرپرست رہا۔بعد ازاں ترکی کے اپنے شہروں میں جب دھماکے ہوئے تو اس نے داعش کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا۔شام میں بشار الاسد کی مخالف قوتوں کے مقابل شامی فوج کو روس اور ایران کی کھلی حمایت حاصل رہی۔داعش کی آشکار شکست کو دیکھتے ہوئے اس کے سرپرستوں اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے کل مہروں نے داعش کے مفروروں کا رخ افغانستان کی طرف کر دیا۔
افغان سر زمین اپنے مزاج اور موجودہ حالات کے باعث داعش کے لیے بہترین انتخاب ہے۔جہاں کئی دہشت گرد گروہ پہلے سے موجود ہیں،جو اپنے فکری اتحاد کی  بنا پر  داعش کی کمان  میں لڑنے کو تیار رہیں گے۔امریکہ کو یہی امید ہے۔اسی لیے وہ افغانستان میں داعش کی سر پرستی بھی کر رہا ہے اور داعش کے خاتمے کے نام پر افغانستان میں مزید قیام کرنے کا جواز بھی تلاش کر لیا ہے۔افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے گذشتہ دنوں کہا کہ” امریکہ افغانستان میں داعش کو اسلحہ فراہم کرکے اس کی مدد کر رہا ہے جبکہ دہشت گرد تنظیم داعش افغانستان میں امریکی فوجی اڈے بھی استعمال کر رہی ہے اور امریکی اڈوں سے غیر فوجی رنگ کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے داعش کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ سابق افغان صدر نے برطانوی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا  تھا کہ امریکی انٹیلی جنس کی موجودگی میں ہی داعش کا افغانستان میں وجود ہوا۔ ٹرمپ حکومت کو ہمارے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ حامد کرزئی نے کہا پہلے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے ارکان زیادہ تھے لیکن اب داعش سے تعلق رکھنے والے افراد سب سے زیادہ ہیں۔ اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے کہ انتہا پسندی کو کیسے قابو کیا جا سکتا ہے۔ سابق افغان صدر کا کہنا تھا ہمیں حق پہنچتا ہے کہ ہم امریکہ سے سوال پوچھیں کہ امریکی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی کڑی نگرانی اور موجودگی کے باوجود داعش نے کس طرح افغانستان میں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ حامد کرزئی نے  مزیدکہا کہ امریکہ کو اس کا جواب لازمی دینا چاہئے کیوں کہ اس کا جواب افغانستان نہیں بلکہ امریکہ کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا انہیں شک سے بھی زیادہ یقین ہے کہ داعش کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسلحہ پہنچایا جاتا ہے اور یہ صرف ملک کے ایک حصے میں نہیں بلکہ کئی حصوں میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ داعش کو اسلحہ کی فراہمی کی خبریں افغان شہری ہی نہیں بلکہ حکومت میں موجود افراد اور دیہات میں رہنے والے لوگ بھی دے رہے ہیں۔ ملک بھر سے ایسی اطلاعات مل رہی ہیں داعش کو امریکی مدد حاصل ہے”۔
بے شک امریکی کی مدد کے بغیر داعش کا افغانستان میں جڑیں پکڑنا ممکن نہ تھا۔عراق و شام کے کچھ حصوں پر تو داعش نے کنٹرول حاصل کر لیا تھا، وہاں اسے شکست ہوئی اور اس کے دہشت گرد بھاگ رہے ہیں۔سوال مگر یہ ہے کہ افغانستان میں آ کر داعش کیا کرے گی؟ جبکہ اسے پاک فوج جیسی ایک مضبوط اور پیشہ ور قوت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔پاکستان کے عوام بھی کسی صورت انتہا پسندانہ گروہوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔محدودے چند اسلامی نظام ،شریعت اور خلافت کے شائق افراد فکری مغالطے میں ہیں کہ عالمی خلافت کی نام نہاد جدوجہد میں وہ شریک ہونے والے ہیں۔ہاں البتہ افغانستان میں داعش کا اڈہ بنانے کا مقصد ،روس،چین، ایران و پاکستان کو مسلسل مصروف رکھنا ہے۔یہی استعماری مقاصد ہیں۔ القاعدہ کے بعد داعش کا ظہور ہوا،اور دونوں تنظیموں نے عالمی برادری کو اپنی وحشتوں سے متوجہ کیا۔دونوں کی مرکزیت بکھر چکی ہے۔البتہ شام و عراق میں داعش کی بربریت کے نشان عشروں موجود رہیں گے اور عراق و شام کے معاشروں کو سنبھلنے میں بہت وقت لگے گا۔ممکن ہے تب تک داعش کے بجائے کوئی نیا فکری مغالطہ “جنت کی تلاش میں “کلمہ پڑھنے والوں کے گلے کاٹنے کو نکل کھڑا ہو۔ان مغالطوں کی عسکری شکست کے ساتھ ساتھ ان کی بنیاد،یعنی فکری شکست کا انتظام بہت ضروری ہے۔عہد حاضر کے عدل پسندوں کی یہ اولین ذمہ داری ہے اور اسی میں انسانیت کی بقا بھی ہے اور اسلامی تعلیمات کا حسن بھی۔. (ختم شد)

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *