ولاتفرقو۔۔۔سانول عباسی

سوشل میڈیا پہ روز نئی سے نئی باتیں دیکھنے کو ملتی ہیں جو کسی نہ کسی رنگ میں فرقہ پرستی، منافرت و عصبیت کو ہوا دینے کے لئے ہوتی ہیں اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ کج بحثی و چرب زبانی اتنی ہو رہی ہوتی ہے ان پوسٹوں پہ کہ اللہ کی پناہ۔۔پانچ پانچ سو کمنٹس ہزاروں کی تعداد میں لائکس اور صاحب لوگ کتابیں پیٹھ پہ لادے ایسی باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے شجرے اس طرح کھنگال رہے ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ! اور مزے کی بات یہ کہ یہ سب پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں جو تفرقہ بازی والی پوسٹ بھی باقاعدہ تحقیق کے بعد لگاتے ہیں اور نہ جانے کہاں کہاں سے کیا کیا حوالہ جات لے آتےہیں کہ وہ صاحب جن کے مقولات سے حوالہ جات اخذ کئے جاتے ہیں انگشت بدنداں ہوں گے کہ ارے واہ! میری بات کے یہ مطالب بھی ہو سکتے تھے اور وہ سر پیٹتے ہوں گے کہ ہمیں شقِ صدر کیوں نہیں ہوا ہم کیوں محروم رہے۔

مجھے اس وقت شدید دکھ و تکلیف ہوتی ہے جب ہم  اپنی بے ہودگی کو دینی انداز میں پیش کر رہے ہوتے ہیں اور اس کو فداک امی و ابی کہہ کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں یعنی دوسرے لفظوں میں ہم آج کی صورتحال و بگاڑ کی ساری زمہ داری ان کے پاکیزہ دامنوں پہ ڈال دیتے ہیں ۔یعنی یہ جو شر کا اتنا تناور درخت نظر آتا ہے جس کے پھل پھول تو کُجا جس کی چھاؤں میں بھی فتنہ و عصبیت پلتی ہے یہ پودا نعوذ بااللہ ثم نعوذ بااللہ ان پاکیزہ و برگزیدہ ہستیوں کا لگایا ہوا ہے اور ہمیں ذرا بھی شرم نہیں آتی کہیں بیانیہ میں کوئی لکنت نہیں آتی بلکہ ممبر پہ منہ پھاڑ کے چیخ چیخ کے اعلان کرتے رہتے ہیں کہ ہماری اس بےحیائی کا یہ ثبوت ہے۔

ارے اللہ کے بندو کبھی سوچا ہے ہم نے اسلام کو شجرِ ممنوعہ بنا دیا ہے۔ ہم اسلام کی خدمت نہیں کر رہے بلکہ ہم نے اسلام کو انتہائی بدنام کیا ہوا ہےدنیا میں جو اسلام کے خلاف نفرت و عصبیت میں اضافہ ہو رہا ہے اس کی فقط وجہ ہم جیسے تفرقہ بازی، نفرت و عصبیت میں ڈوبے ہوئے بت پرستانہ روش کا شکار نام نہاد مسلمان ہیں جن کو معلوم ہی نہیں کہ اسلام کیا ہے انہیں اسلام سے کوئی غرض نہیں بلکہ دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ۔خالص مسلم ہونے کو گناہ کبیرہ تصور کرتے ہیں جن کا مقصد حیات فقط یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے معبد اور اپنے بتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اس کے لئے یہ کسی حد تک جانے کے لئے بھی تیار رہتے ہیں۔

اسلام کو جب کبھی غیر مسلموں پہ پیش کرتے ہیں کہ اسلام خالص انسانی فطرت پہ مبنی دین ہے اور انسان کی فلاح و کامیابی کا واحد یہی راستہ ہے تو سب سے پہلے وہ معنی خیز انداز میں اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہیں پھر ایک طنزیہ ہنسی سے منہ چڑانے لگتے ہیں اور اسی مسکراہٹ میں لہرا کے پوچھتے ہیں کون سا اسلام؟ پہلے ایک پیٹنٹ اسلام رجسٹرڈ تو کرا لو، تو سر شرم سے ڈوب جاتا ہے کہ جس اسلام کا ان سے پرچار کیا جا رہا ہے وہ تو فقط کتابوں کی زینت بن کے رہ گیا ہے اور کتابیں بھی وہ جن کو ہمارے نام نہاد مفکروں و علماؤں نےان کی اجازت کے بغیر کھولنا ہاتھ لگانا بھی گناہ کبیرہ بنا دیا ہے۔

دنیا اندھی نہیں ہے بلکہ ہم اندھے ہیں کہ طوفان رخ دیکھتے ہوئے بھی آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں ۔مسلمانو سوچو! پہچانو اپنے آپ کو ،ہم کوئی عام نہیں، خاص ہیں، ہم ذمہ دار ہیں، بہترین امت کا تاج ہے ہمارے سر پہ، کوئی بھی بات کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اپنے مقام و مرتبہ کو دیکھو اپنے رتبے کو محسوس کرو۔ وہ بات کرو جو واقعی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات ہو۔ ایک امت بنو گروہی خیالات سے نکلو اور وحدانیت کے رستے پہ چلو، اللہ کو دین اسلام بہت عزیز ہے اس لئے کہ یہی اس کے شاہکار کی فلاح و کامیابی کا راستہ ہے وگرنہ جتنا اعلی ٰمقام ہے اتنی ہی سنگین سزا بھی ہے جس کا مظاہرہ شب و روز ضلالت و رسوائی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ باقی رہ گیا آخرت کا معاملہ تو اللہ رب العزت رحمت فرمائے درگزر فرمائے۔آمین ثم آمین

 

سانول عباسی
سانول عباسی
تعارف بس اتنا ہی کہ اک عام انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *