دائروں کا سفر۔۔اسلم اعوان

یورپ کی طرح ہماری قومی سیاست بھی نظریات اور اخلاقی نصب العین کے جھمیلوں سے نکل کر پھر انہی نسلی،لسانی اور گروہی تعصابات کے دائروں میں سمٹ رہی ہے جہاں نفرتوں کی دھار کے سوا کوئی اور چیز کارگر ثابت نہیں ہوتی،امریکہ میں ریپبلکن لیڈر ڈونلڈ ٹرمپ نے کالے،گورے،بھارت میں بی جے پی نے ہندو،مسلم اور پاکستان میں پی ٹی آئی کی عمرانی جدلیات اس رجحان کی کلاسیکی مثالیں ہیں،جس میں عصبیتوں کو سیاسی ارتقاءکا زینہ بنایا گیا،دنیا بھر میں مروجہ، آئین و قانون پہ مبنی سیاسی نظام،سماجی انصاف اور جمہوری روایات عہد جدید میں انسانی آرزوں کی تسکین کے لئے ناکافی ثابت ہونے والی ہیں،شاید سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے غرور نے انسان کو تہذیبی شعور اور ان بنیادی اخلاقی اقدار سے بے پرواہ کر دیا،جو ہماری بقاءکی ضامن ہیں،بظاہر ایسا لگتا ہے کہ نینوا کے حمورابی سے شروع ہونا والا سماجی و سیاسی ارتقاءکا سفر رائیگاں چلا جائے گا اورانسان تہذیب و تمدن کو اجاڑ کے پھر اسی حیوانی زندگی کی طرف واپس پلٹ جائے گا جس کی تسخیر کے لئے انبیائ،صلحا اورفلسفیوں نے لازوال قربانیاں دیں۔سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی ہمیں دنیا کو تباہ کرنے کی قوت تو فراہم کرتی ہے لیکن وہ ہمیں ایسا تہذیبی شعور عطا نہیں کر سکتی جو بقاءکے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو،یہ بغداد اور دمشق جیسے پرہجوم شہروں کو ویران اور انسانی فنون کے بہترین صنم کدوں کو برباد کر سکتی ہے،یہ ایک پوری تہذیب اور اس کے حسن و حکمت کا نام و نشان مٹا سکتی ہے،سائنس ہمیں یہ تو بتائے گی کہ اس کرہ ارض کی تخریب کا کام کس قدر جلد ممکن ہے تاہم سائنس ہمیں انسانیت کی بقاءکے لئے درکار اخلاقی اقدار مہیا نہیں کر سکتی۔کیا صدیوں کی گود میں پل کے جوان ہونے والی تہذیبوں کو مٹا دینا چاہئے؟ کون سی سائنس اس سوال کا جواب دے سکتی ہے،زندگی جلب منفعت اور جنون ملکیت سے خوشگوار بنتی ہے یا تخلیق و تعمیر سے؟ کیا علم اور منفعت کی جستجو مشاہدہ حسن کی ہنگامی مستی سے فزوں تر ہے؟کیا ہمیں اپنی اخلاقی زندگی سے تمام الہیاتی عقائد کو خارج کر دینا چاہئے؟کونسی سائنس ہمیں ان مسائل کا حل بتائے گی؟زندگی کے یہ بنیادی مسائل مربوط تجربات اور اس آسمانی ہدایت کے بغیر حل نہیں ہو سکتے جس کے سامنے انسانی علم محض ہیولی اور جس کی نگاہ کامل میں جملہ علوم کو مناسب مقام اور درست تشریحی ملی۔کیاکائناتی نظام سے منحرف ہوتا ہمارا گلوبل معاشرہ پھرکسی ایسی آسمانی ہدایت کا متقاضی ہے،جو اسے فطرت سے وابستہ ہونے کے لئے مو¿ثراخلاقی جواز فراہم کرے؟ ہاں ! تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جب بھی انسانیت سلامتی کی راہوں سے بھٹکی تو اس نے اپنی مدد کے لئے فطرت کو ضرور پکارا جو بلآخر اسے آسمانی ہدایت فراہم کرکے بار بار راہ راست پہ لاتی رہی لیکن فطرت کے ساتھ زمینی انسان کی کوارڈنیشن کے وہ سلسلے تو ساڑھے چودہ سو سال سے منقطع ہیں جنہیں ہم رسالت و بنوت کے طور پہ جانتے ہیں تاہم مذہبی علماءاس خلاءکو مسیحِ معود اورظہور مہدی کے امکان سے پُر کرتے ہیں،یعنی ماضی کے پیغمبروں کی طرف سے فراہم کردہ اصولوں کی روشنی میںکوئی مسیحا یا صاحب کردار انسان فطرت سے ہمارے ربط کو دوبارہ بحال کر سکتا ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جس روز انسان نے فطرت سے ہاتھ چھڑایا اسی دن یہ زمین فناکے گھاٹ اتر جائے گی،بظاہر یہی لگتا ہے کہ انسان زیادہ دیر تک اس کائنات کے ساتھ اپنے ربط کو استوار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا اور کائناتی نظام میں کارفرما فنا کے عوامل اسے بہت جلد اپنی لپیٹ لے لیں گے۔اس امر میں اب کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہا کہ اکیسویں صدی کی برق رفتار انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سماجی زندگی میں نظریات اور نصب العین کی اہمیت کو بتدریج کم کرکے لوگوں کو انسانی حقوق کی پاسداری،سماجی و معاشی اقدار اور مساوات کے نعروں سے بیگانہ کرکے ایک بار پھر ابائی جبلتوں کے حصار میں پناہ گزیں ہونے کی طرف مائل کر دیا،ممکن ہے بعض لوگ اسے زندگی کی تفہیم کا محوری سفر سمجھتے ہوں لیکن یہی تغیر وتبدّل ایک بار پھرانسان کو مذہبی اخلاقیات کی ضرورت پہ قائل کر سکتا ہے،یوروپ و امریکہ کے دم توڑتے سیکولر معاشروں میں بھی بقاءکے تقاضے انہیں مذہب کی ضرورت اور اہمیت کی طرف موڑ رہے ہیں۔اس زمین پہ انسانی فکرکا ارتقاءخط منحنی کی طرح نظریاتی تضادات سے شروع ہوا،یہ تضادات زیادہ تر مابعدالطبعیاتی اورفلسفیانہ تھے خاصکر زندگی و موت کے فلسفہ کے علاوہ اس کائنات کی تخلیق اور انجام کے حوالے سے متنوع تصورات ہمیشہ انسانی فکر کا محور بنتے رہے۔نینوا کے حکمران حمورابی وہ پہلے بادشاہ تھے جنہوں نے مختلف قبائل کو مسخر کرکے پہلی بار ایسی ریاست قائم کی جس میں قانون کی عملداری کا تجربہ کیا گیا،ہاتھ کے بدلے ہاتھ اور سر کے بدلے سر سمیت حرمت جاں کا وہ قانون بھی حمورابی سے منسوب ہے،جس کی بعدازاں ابنیاءعلیہ سلام نے بھی توثیق کی۔سیاسی و سماجی ارتقاءکے دوسرے مرحلہ میں انسانوں نے آئینی بادشاہتوں کو دلفریب زمانہ دیکھا،تاریخ میں ہمیں سائرس اعظم اور نوشیروان عادل سمیت کئی عظیم بادشاہوں کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے لوح انسانیت پہ ناقابل فراموش نقش چھوڑے۔تاریخ کے تیسرے مرحلہ میں ہمیں یونان سمیت بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں میں جمہوری تمدن پھلتا پھولتا دیکھائی دیا،جس نے ڈھائی سو قبل مسیح میں حکمت و اخلاق کے اس لازوال فلسفہ کی آبیاری میں معاونت کی جو بلآخر جدید یوروپ کی پُرشکوہ تہذیب کو بنیادیں فراہم کر گیا۔پہلی عیسوی صدی میں روم میں ایسی پُرآشوب انبوہی سیاست ابھرکے سامنے آئی جس نے کم وبیش ہزار سال تک مغرب کو پاپائیت کے سپرد رکھا اور جس نے علم و سائنس کے دروازے بند کرکے طویل مدت تک یوروپ کو جہالت کی تاریکیوں میں ٹھوکریں کھانے پہ مجبور کر دیا۔دسویں عیسوی صدی میں اس وقت اسلام کی نورانی کرنوں نے یوروپ میں علم و آگاہی کی شمعیں روشن کیں جب یوروپ کے مکین ٹٹول ٹٹول کے جہالت کی تاریکیوں سے نکلنے کی کوشش میں مصروف تھے،مسلمانوں کے بحر علم کی بدولت یوروپ یونانی فلسفہ کی مبادیات سے واقف ہوا جس سے وہاں ایسی جاندار فکری مزاحمت نمودار ہوئی،جسے آلات تحریر اور چھاپہ خانوں کے ذریعے فروغ ملنے کی بدولت فلسفہ اور سائنس کی خوبصورت کونپلیں پھوٹنے لگیں،گلیلو اور فرانسس بیکن سے لیکر والٹیئر،روسو،نطشے ڈیڈرو،شوپن ہار اور امانومل کانٹ سمیت دانشوروں،سائنس دانوں،ادیبوں اور شاعروں کی ایسی کہکشائیں نمودار ہوئیں جس نے یوروپ کو پاپائیت کے آسیب سے نجات دلانے کے علاوہ مذہبی و سماجی آزادیوں،انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کی راہ دیکھائی،جس سے علم و ہنر اور سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہیں کھلتی گئیں۔اٹھارویں صدی تک یوروپ اپنے جدید رموز حکمرانی،جمہوری تمدن اورعلمی برتری کی بدولت پورے کرہ ارض پہ چھا چکا تھا تاہم فطری اخلاق سے عاری یوروپی تہذیب کی چکاچوند نے ریاستی مقتدرہ کے چہرے کے خدوخال تو سنوارے لیکن انکی اندرونی وحشت و بربریت کو کند کرنے میں ناکام رہی۔سائنسی و ٹیکنالوجی کے وسائل سے مسلح اس ابھرتے ہوئے یوروپ نے تیسری دنیا کے وسائل پہ قبضہ کرنے کے لئے نہایت سفاکی کا مظاہرہ کیا،آج بھی انتہائی بے رحمی کے ساتھ اپنی ہائی ٹیک اور جدید فن حکمرانی کی قوت سے ایشیائی معاشروں کو تاراج کرنے سے باز نہیں آتے۔حیرت انگیز طور پہ پچھلے پچھترسالوں سے فلسطین سے لیکر کشمیراور لیبیا سے لیکر شام،لبنان اور عراق میں عورتوں بچوں اور بوڑھوں کے جاری قتل عام کا جواز پیش کیا گیا جسے مہذیب دنیا نے بسروچشم قبول کر لیا یہ کبھی نہ تھمنے والی خون ریزی اب بھی جاری ہے لیکن انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیلاب اور تعصبات کے اندھیرے اس طرف دیکھنے کی مہلت نہیں دیتے۔اسی تناظر میں اگر ہم قومی سیاست کا بغور جائزہ لیں تو اس کا رجحان واضح طور پہ مبالغہ آمیز جوش کے ساتھ مسلکی سیاست کی طرف پھرتا نظر آتا ہے،جہاں کسی نظریاتی اصول یا معاشرتی فلاح کا سوال اٹھائے بغیر عصبیتوں کے خصوصی نظام کے پیروکار تیار کئے جا رہے ہیں تاکہ انسانی مواد کو شخصیت پرستی کے کلٹ میں مربوط کیا جا سکے،یہی لوگ انتہا پسندوں کے طور پہ ہر روز اپنی دروغ گوئیوں سے خود اپنی ہی تردید کرتے ہیں،یہ طرز سیاست دراصل انسان سے وہ تنقیدی شعور سلب لیتا ہے جو فکری ارتقاءکا زینہ بنتا ہے اگر لوگ تعصبات کی قوت کو بڑھانے کی کوشش کریں گے تو خود بھی بلیک ہول کی طرح اندر کی طرف سمٹتے جائیں گے کیونکہ آدمی نے اپنی عصبیت اور خواہشات کو ترک کرنے کی بدولت جتنی ذہنی وسعت حاصل کی اس کا محرک اپنے خیالات پہ تنقید کا رجحان تھا۔شاید جدید ٹیکنالوجی کی قوت سے لیس مغربی اشرافیہ دنیا کی تشکیل نو کے لئے ایک بار پھر انسانی معاشروں کو قرون اولی کے قبائلی تعصبات میں منقسم کرکے ری ڈیزائین کرنا چاہتی ہو،گویا،سات ہزار سال کا سرکل مکمل کرنے کے بعد انسان پھر اسی مقام پہ آ کھڑا ہوا جہاں سے اس نے سماجی انصاف،آزادی اظہار،انسانی حقوق اور جمہور کی حکمرانی کے رومانوی سفر آغازکیا تھا۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply