تخلیق کاروں کے مسائل/تحریر-اسلم اعوان

اقتدار کی راہداریوں سے نکلتے ہی عمران خان نے مخالفین کے ساتھ سیاسی جنگ کو شعلہ فگار بنا کے کسی حد تک اپنے جذبات کی تسکین تو حاصل کر لی ہو گی لیکن یہی کشمکش خود اسے اور ان کے پیروکاروں کو بہت جلد تھکن اور بیزاری کے احساس میں مبتلا کر دے گی،بلاشبہ سیاسی جدلیات طویل اور صبرآزما جدوجہد کی متقاضی ہوتی ہیں،اِسے غصہ اور نفرت کے جذبات سے نہیں بلکہ تحمل اور دانائی کی صفات سے سمبھالنا پڑتا ہے،خان صاحب اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے مخالفین کی سیاسی چالوں کا بغور جائزہ لینے کے بعد اپنی سیاسی قوت کو ایک نقطہ پہ مجتمع کرکے اس کا درست تخمینہ لگاتے تو انہیں موجودہ منظرنامہ بہت مختلف نظر آتا،اب بھی جنگ کے شعلے بھڑکانے کی بجائے وہ اگر خاموش مزاحمت کی آگ کو آہستہ آہستہ سلگنے کا موقعہ دیں تو لمبی لڑائی لڑ سکتے ہیں بصورت دیگر یہ اجلت اُس مقصد کو بھی غتربود کر دے گی جس کے لئے لوگ قربانیاں دینے پہ کمربستہ ہیں مگر افسوس کہ خان صاحب نے غصہ میں بپھرے ہوئے سپاہی کی طرح بغیر کسی موثر منصوبہ بندی کے محفوظ آئینی و قانونی مورچے چھوڑ کر خود کو دشمنوں کے نشانہ پہ لا کھڑا کیا،انہوں نے بلاسوچے سمجھے سطحی قسم کے پرتشدد ردعمل کے الاو¿ بھڑکا کر اپنے حامیوں کو خطرات اور رہی سہی سیاسی استعداد کو بھی داو پہ لگا دیا،ان کے دو رفقائ،شیخ رشید اور فواد چوہدری،ہمہ وقت اپنی زہر افشانی سے سیاسی فضا میں اشتعال بڑھانے پہ مامور ہیں،خاص طور پہ مسجد نبویﷺ کے بے مقصد احتجاج نے انہیں حالات کے رحم و کرم کے حوالے کر دیا۔ایک اچھا جرنیل ہی ہمیشہ اپنی مرضی کے وقت اور اپنی پسند کے میدان میں جنگ لڑتا ہے لیکن عمران خان نہ تو جنگی مہارت رکھتے ہیں نہ وہ خود کو قابو میں رکھنے والے پختہ کار سیاستدان ثابت ہوئے،انہوں نے آئینی اور قانونی اصولوںکا مقابلہ غیرآئینی حربوں اور جذباتی ردعمل سے کرکے خود کو ناکام سیاستدان ثابت کرنے میں تاخیر نہیں کی،حیران کن امر یہ ہے کہ ابھی تک وہ سمبھل نہیں رہے،ہر روز پہلی غلطی کے تلافی کے لئے وہ دوسری غلطی کرکے اپنے حامیوں کو کنفیوژ اور مخالفین کو مضبوط بنانے میں مشغول دیکھائی دیتے ہیں۔ایوان اقتدار سے رخصتی کے وقت انہوں نے اپنے لئے جن طریقوں کو چنا وہ باوقار نہیں تھے خاصکر پنجاب میں آئینی بحران پیدا کرنے کے لئے جس طرح کی ٹامک ٹوئیاں ماری گئیں وہ بھی کسی قومی لیڈر کے شایان شان تھیں نہ ان سے کو ئی نفع ملا بلکہ اسی بچگانہ تعلّی سے نواز لیگ سمیت ان کے مخالفین نے خوب فائدہ اٹھایا۔بیشک ذرا سی کسرنفسی اور تھوڑی سی دیانت ہمیں اس بات کا یقین دلانے کے لئے کافی تھی کہ زندگی اور کائنات کا تنوّع اور بوقلیمونی ہمارے محدود اذہان کے احاطہ سے باہر ہے۔ستم بالائے ستم یہ کہ رجیم چینج سازش کے مبینہ محرک امریکہ کی بجائے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی تنقید کا ہدف عدلیہ اور دفاعی اداروں کی طرف مڑ گیا یہ مہلک طرز عمل ہے جس سے مملکت کی سلامتی اور قومی وحدت میں دراڑیں پڑیں گی،سیاست کا مقصد افراد کو ریاست کی صورت میں منظم کرنا ہوتا ہے لیکن جب آپ نفرت اور غصہ کے عالم میں سوسائٹی کو منقسم کریں گے تو سیاست انارکی اور طوائف الملوکی پیدا کرنے والی مشین بن جائے گی۔خان صاحب کے نامطلوب تعلقات نے بھی انہیں کمزور کیا،خاص کر فرح خان گوگی نامی خاتون،نیب جس کے خلاف آمدن سے زاید آثاجات کے الزام میں انکوائری کر رہی ہے،کی صفائی دینے کی کوشش میں سابق وزیراعظم نے خود کوجوابدہی کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا،وہ اگر خاموش رہتے تو زیادہ بہتر ہوتا،ہرمعاشرہ میں ایسے کردار اپنی بقاءکے وسائل خود تلاش کر لیتے ہیں،مصرکے بازاروںسے لیکر یونان، روم اور ہندوستان کے پُرشکو درباروں میں بھی انہی ناقابل تسخیر کرداروں کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔عمران خان کوئی اچھی حس مزاح بھی نہیں رکھتے ورنہ فرح کی باتیں تو ذومعنی جملوں یا پھردلکش اشعار میں بھی نمٹائی جا سکتی تھیں لیکن اب وہ مزاج کے قیدی کی طرح صحافیوں کے سوالات کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں،گویا وہ اس نفسیاتی جنگ کا پہلا مرحلہ ہار بیٹھے،یہ طرز عمل انہیں بہت جلد اکتاہٹ اور مایوسی کے قعر مذلت کی طرف دھکیل دے گا۔لگتا ہے،خان کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں بچا وہ اب اپنی بیڈ گورننس کی ذمہ داری کا بوجھ خود لینے کی بجائے اسے رجیم چینج کے نعروں کے پیچھے چھپانے یا پر اس روایتی اسٹبلشمنٹ کے کندھوں پر ڈالنے کی کوشاں ہیں جنہیں مینیج کرنا ہی ہماری قومی سیاست کا خوبصورت آرٹ تھا،اس فن کو آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن بہتر جانتے ہیں تاہم پھر بھی یہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں کہ اسے دو اور دو چار کی طرح محض الزامات کی دھند میں چھپا لیا جائے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ یہاں سیاسی جماعتوں کے عروج و زوال کے عوامل میں مقتدرہ کو بھی ایک مضبوط عنصر کے طورپہ کارفرما دیکھا گیا لیکن سیاسی عمل جب اپنے کلائمکس پہ پہنچتا ہے تو مقتدر قوتیں انہیں مکمل طور پہ کنٹرول کرنے پہ قادر نہیں رہتیں،عمران خان کی طرح ،ذولفقار علی بھٹو سے لیکر نوازشریف تک کو پیدا کرنے والی مقتدرہ تھی لیکن ایک خاص مرحلہ پہ پہنچ کے یہ سب اس کے دبیز سایہ سے باہر نکل گئے۔اسٹبلشمنٹ نے ہمیشہ عوامی قوت کو شہری و دیہی کے علاوہ متوسط اور نچلے طبقات اوراب تارکین وطن کی شناخت میں منقسم رکھا لیکن یہی پیش دستی خود عسکری برادری کوبھی افقی اور عمودی طور پر تقسیم کرنے کا وسیلہ بنی ہے۔ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ طلسماتی قوتیں جنہوں نے دوہزار اٹھارہ میں عمران خان کو اقتدار تک پہنچایا،وہ پرانے سیاسی کرداروںکا مقابلہ کرنے کے لئے متبادل اور کرشماتی رہنما کے خیال کی اصل خالق نہیں تھیں،وہ ایک ایسے تصور کو عملی جامہ پہنانے والے تھے جو جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل پاشا سے منسوب کیا جاتا ہے۔جرنیل خود پاک دامن نہ ہونے کے باوجود،ہمیشہ ایماندار سیاستدان یا مثالی کردار کے حامل کسی ایسے مسیحاکے متلاشی رہتے ہیں جو مملکت کا نظم و نسق نسبتاً موثر انداز میں چلائے جب کہ وہ خود ریاست کی اسٹریٹجک سمت کا تعین
کرتے رہیں تاہم مقتدرہ کی پارلیمانی سیاست اور منتخب سیاستدانوں سے مخاصمت کی تاریخ کافی پرانی ہے،اس کے ڈانڈے پہلا مارشل لاءلگانے والے جنرل ایوب خان کے سیاسی تجربات سے جا ملتے ہیں،جسکی آرکیٹیٹ،دراصل،اس وقت کی امریکی مقتدر تھی۔تاریخی طور پر جرنیلوں نے روایتی نوابوں،وڈیروں اور جاگیرداروںکے ساتھ شراکت اقتدار کی انگریزی روایت کو قائم رکھا لیکن درحقیقت ان کی خواہش یہ تھی کہ کوئی ایسا شخص ہو جو زیادہ جدید اور ان جیسا نظر آئے،اسی اصول پر عمران خان کو دیوتا بنایا گیا،جس نے نطشے کے سپرمین کی طرح تمام چھوٹے دیوتاوں کو نگلنے کی ٹھان لی،مقتدرہ شاید اب خان کے ساتھ مثالیت کے اس خیال کو بھی چھوڑنا چاہتی ہے جو انہیں سرد جنگ میں ودیت کیا گیا تھا مگر بہت سے لوگوں کو اب ایسے رومانس سے الگ کرنا دشوار ہو گا،خاصکر مغربی قوتیں جو مثالیت ڈاکٹرئن کی سب سے بڑی بینافشری ثابت ہوئیں،لاریب عالمی دباو کو اب آئینی بالادستی بیانیہ کے بغیر سمبھالا نہیں جا سکتا ۔ارسطو نے کہا تھا”سیاست انسان تخلیق نہیں کرتی بلکہ جسے لوگ اسے میسر آتے ہیں انہی سے کام لیتی ہے“ پھر بھی ہم پچھتر سال تک سیاست کے لئے من مرضی کے کرداروں کی تخلیق کے بیہودہ عمل میں سرگرداں رہے۔پی ٹی آئی رہنما کی اقتدار سے علیحدگی نے اس شہری متوسط طبقے میں بھی تقسیم بڑھا دی جس میں فوج سب سے بڑے حصہ کی نمائندگی کرتی ہےدرحقیقت،یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایک ایسی حکومت سے چھٹکارا حاصل کیا گیا جو مہنگی ثابت ہوئی یا جو فوج کو ادارہ جاتی نظم کو چیلنج کر رہی تھی بلکہ تاریخی طور پر بھی مقتدرہ نے ہمیشہ اپنے بنائے ہوئے لیڈروں کو خود مسخر کیا۔اس کی دوسری بہترین مثال نواز شریف ہیںجنہیں ضیاءالحق نے 1980 کی دہائی میں پیپلز پارٹی کو چیلنج کرنے کے لئے بنایا لیکن پھر کئی بار اسے سیاست سے آوٹ کرنے کی کوشش کی گئی۔ہاں،عمران کا معاملہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ سب سے پہلے ماضی کی کہانیوں کے مقابلے میں عمران خان کے خلاف اب تک کرپشن کے الزامات میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔لوگوں کے خیال میں،خاص طور پر وہ لوگ،جو خان کی کہانی پر یقین کرنا چاہتے ہیں، 142ملین ڈالرجو اس نے کم سے کم قیمت ادا کرنے کے بعد 52 سرکاری تحائف بیچ کر حاصل کئے یا پھر وہ 50 لاکھ ڈالر جو اس نے اپنے سرکاری اور نجی گھروں کے درمیان ہیلی کاپٹر کی سواری پر خرچ کیے، وہ اس کرپشن کے مقابلے میں کچھ نہیں جو پانامہ پیپرز میں ملوث افراد یا پھر سابق صدر آصف علی زرداری سے منسوب کی جاتی تھی،اب بھی ایسا لگتا ہے کہ فوج خان کو پوری طرح بے نقاب کرنے سے خود کو روک رہی ہے یا پھر وہ بہت زیادہ وقت لے رہے ہیں۔دوسرے یہ کہ خان صاحب ‘Dim the ٰIm’ کی وضاحت سے بھی زیادہ چالاک واقع ہوئے ،جس کا مطلب اسے سادہ لوح یا مدھم عقل کاحامل بتانا تھا۔پچھلے ڈیڑھ سال میں،جب وہ زیادہ سے زیادہ گورننس کے چیلنجیز کا سامنا کر رہے تھے تو عمران خان نے مسلسل اس افسانے کی حوصلہ افزائی کی کہ ان کا ناقص انتظام یا تو نااہل ٹیم کی وجہ سے ہے یا پھر انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور یہی بعد کی وضاحت اسے مقتدرہ سے ٹکراو کی طرف لے آئی۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply