سروں کے تاج

SHOPPING

دعوت وتبلیغ نبیوں والا کام ہےاور جو اس تحریک سے منسلک ہیں ان میں سے اکثریت کے اخلاص وللہیت میں شک اپنےعقب کو راکٹ سے اڑانے کے مترادف سمجھتا ہوں لیکن اگر کچھ کج فہم اس تحریک سے انسلاک اپنے مالی مفادات کا الّو سیدھا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو اس میں تبلیغ کا کوئی قصور نہیں ہے جیسے جمہوریت کو اپنے مقاصد کے لیے غلط استعمال کرنا۔
میری جان پہچان والوں میں ایک صاحب ہیں،جب بھی ملتے ہیں انتہائی ملنساری وخندہ پیشانی سے اور باتیں ایسی نرم مانو روئی کے گالے اڑرہے ہوں دل کرتا ہے وہ بولتے رہیں اور سامع بس سنتا رہے اور دل دردِامت سے ایسا پگھل گیا ہے گر چھونے کے لیے ہاتھ بڑھا لیں تو کرچی کرچی ہوجائے ۔ابھی ابھی بیرون ملک سات ماہ لگا کر آئے ہیں اور روزانہ والوں میں شامل ہیں مگر یہ بات خوش آئند ہے کہ انہوں نے ابھی تک مجھے کبھی دعوت نہیں دی۔ ہاں چیریاں(مکھن) بہت لگاتے ہیں اور علماء کو سروں کے تاج کہہ کر تھکتے نہیں ۔دل کرتا ہے ان کے ساتھ وقت لگایا جائے تو بہت نفع بخش ہوگا۔
میرے پاس ایک دوست آئے جو کسی اسکول میں پڑھاتے ہیں اور اسکول والے بہ نسبت مدارس کے کچھ بہتر مشاہرہ دیتے ہیں بشرطیکہ اسکول چلانے والا کسی مدرسے کا فارغ نہ ہو،ہوا یوں کہ میرا ٹیچر دوست درماندگی کے آثار چہرے پر لٹکائے آیا اور شرماتے ہوئے کہا یار کچھ پیسے دے دو زوجہ کو ہسپتال لے کر جانا ہے اور اگلے مہینے کی بارہ کو تنخواہ ملتے ہی لوٹا دوں گا۔ میں نے پیسے دے دیے اور وہ چلا گیا۔ جب ہسپتال کے پھیروں سے فارغ ہوا تو تھوڑی دیر کے لیے ہماری بیٹھک ہوئی جس میں دنیا جہان کی باتوں کے بعد اس کے ٹیچنگ کےبابت پوچھا کہ کہاں اور کس کے پاس کتنے میں کررہا ہے ؟تو وہ کہنے لگا آپ تو جانتے ہیں استاد علاء کے پاس (اسی تبلیغی کردار کا فرضی نام)
اچھا!!! تو وہ صاحب اسکول چلاتے ہیں! ماشاء اللہ، میں نے تحیر سے پوچھا، کہا ایک نہیں کئی ایک. "ہیں"؟ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا،
اور پھر وہ گھر کا بھیدی جیسے جیسے تفاصیل طشت از بام کرتا جا رہا تھا میں افسردگی واندوہ کے سمندر میں ڈوبتا چلا گیا کہ ان جیسے شخص سے ایسا ناممکن نہ سہی بعید ضرورتھا آپ بھی سنیں ۔
"مجھے تو اتنا عرصہ نہیں ہوا لیکن جو پرانے اساتذہ ہیں ان کے بقول استاد علاء ماہانہ بیس پچیس لاکھ کماتے ہیں ۔میں نے فوراً پوچھا کہ بھئ جتنا بھی کمائے آپ کو اعتراض کا حق نہیں پہنچتا! کہنے لگے " بات تو سن لیں پوری، سمندر دور ہے ابھی"!
ۤ"اساتذہ میں سے کسی کو بھی یہ اعتراض نہیں کہ زیادہ کیوں کما رہے ہیں بلکہ اس لیے نالاں ہیں کہ جب اللہ انہیں ان بچوں اور ٹیچروں کی وساطت سے دے رہا ہے تو وہ ان پر خرچ کیوں نہیں کرتے؟ بچوں کے لیے کسی قسم کی کوئی سہولیات تو درکنار الٹا پانی جو بنیادی ضرورت ہے اس کا خاطر خواہ انتظام نہیں، نوکری جانے کے خوف سے کوئی ہمت بھی نہیں کرتا"، وہ ذرا سانس لینے رکے تو میں نے کہا
"لیکن آپ تو عالم دین ہیں اور تبلیغ والے تو علماء کو سروں کاتاج کہتے ہیں لھذا آپ کو توکوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اچھا معاملہ کرتے ہونگے آپ سے"
بولے، "مجھے لگتا ہے جو کچھ ان کے رویوں سے میں سمجھا ہوں اس میں میں اکیلا نہیں ہوں اور بھی بہت سارے لوگ اس کی گواہی دینگے کہ تبلیغی جن علماء کو سروں کے تاج سمجھتے ہیں وہ صرف وہی علماء ہیں جو ان کے ساتھ بالفعل وباضابطہ منسلک ہوں ان کے ساتھ جڑے ہوئے ہوں بس, اور جو عالم تبلیغی جماعت سے منسلک نہیں وہ انہیں وقعت ہی دینے کو تیار نہیں ان کے اکرام مسلم سے در اصل اکرام مسلم الذی ھو تبلیغی مراد ہوتا ہے ہمارے ہاں ہر ماہ کے آخر میں میٹنگ ہوتی ہے جسے مشورہ کا بھلا سا نام دیا جاتا ہے کیونکہ میں نے نوٹ کیا کہ مشورے میں تمام سینئر اور پرانے اساتذہ بالکل خاموش رہتے تھے بعد میں جب میں ان سے پوچھتا کہ آپ مشورے کے وقت بات کیوں نہیں رکھتے تو ان کا جواب ہوتا، یہ لوگ خدا کو دھوکہ دینے کے لیے اسے مشورے کا نام دیتے ہیں سنتے سب کی ہیں لیکن کرتے وہی ہیں جو ان کے لیے مزید "پیداگیری" کا باعث ہو اور ہماری تو عمر ہوگئ یہاں.،
میرا ان سے مالک وماتحت والا معاملہ ہے جبھی ہمت نہیں ہوتی کہ مبادا انہیں برا نہ لگے اور مجھے نتیجتاً کچھ ناپسندیدہ چیز دیکھنی پڑ جائے آپ کی ان سے یاد اللہ وصاحب سلامت ہے تو میرا نام لیے بغیر ان سے بات کیجیے کیا پتہ اساتذہ کے حق میں بھلا ہوجائے
میں نے حامی بھری اور کوئی ہفتہ دس دن ہی میں ان سے ملاقات ہوگئ تو میں نے استاد علاء سے پوچھا کہ مجھے ابھی پتہ چلا کہ میرا فلاں دوست آپ کے اسکول میں پڑھا رہا وہ نہایت قابل ذہین اور بھرپور محنت کیا کرتا تھا لیکن اصل تو آپ جانتے ہوں گے کہ ابھی ان کی کیسی کارکردگی ہے؟ کہنے لگے ہاں وہ ذہین ہیں ماشاءاللہ، ماہانہ ٹیسٹز میں ان کی کارکردگی اطمینان بخش ہے بچوں کے ساتھ محنت کرتے ہیں اور اچھی بات یہ جب سے وہ آئے ہیں صبح اسمبلی میں پانچ دس منٹ کی پریزینٹیشن دیتے ہیں اور بچے بڑے غور سے سنتے ہیں انہیں، فری پیریڈ میں کبھی ایک کلاس کے بچے آکر کہتے ہیں سر ہمارے کلاس میں آ کرلیکچر دیں کبھی دوسری کلاس والے ۔
میں نے کہا استاد علاء صاحب چونکہ وہ میرا دوست ہے تو کبھی ضرورت کے وقت آکرپیسے قرض مانگتے ہیں آپ تو نا صرف ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں بلکہ خوش بھی ہیں اور ان کی تنخواہ معمولی سی ہے لھذا گر تنخواہ دو چار ہزار بڑھا دیں تو ان کے لیے آسانی ہوجائے گی بلکہ مزید جان مارے گا بچوں کے ساتھ ۔اس کے جواب میں انہوں نے جو اعذار سامنے رکھے ان سے مضمون بہت طویل ہوجائے گا لہذا مختصر عرض کردوں کہ مجھے لگا دنیا جہاں کا معذور پرنسپل اس وقت میرے سامنے بیٹھا ہے اور میں کچھ تلخ بھی ہوا ان کے ساتھ کہ اتنی مال کی محبت اچھی نہیں ہوتی اور پھر آپ لوگ تو علماء کو سروں کے تاج کہتے ہیں اور ان کو ان کا جائز حق بھی دینے کو تیار نہیں کہ سب سے کم ترین یافت اسلامیات کے ٹیچر کی ہے منہ سے سروں کے تاج کہہ کر تھکتے نہیں اور عملاََ اپنے اسی قول کی درگت بناتے ہیں بلکہ اپنے مالی تحفظات کے لیے علاقے کے پرائیویٹ اسکولز والوں نے بورڈ آف گورنرز بھی بنا دیا ہے۔
یہاں بات سامنے رکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ کوئی اور بھائی اپنے ماتحتوں سے لا شعوری طور پر ایسا سلوک تو روا نہیں رکھے ہوئے؟ یا کوئی اور بھائی اس جیسے حالات سے تو نہیں گزر رہا؟ کیونکہ مروجہ نوکرز بھی وما ملکت یمینک کے ذیل ہی میں آتے ہیں ۔
اللہ ہمیں ہر معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

SHOPPING

Avatar
معراج دوحہ
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *