• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ڈیجیٹل میڈیا اور بدلتے سماجی حقائق۔۔اسلم اعوان

ڈیجیٹل میڈیا اور بدلتے سماجی حقائق۔۔اسلم اعوان

نئی حکومت نے پی ٹی آئی گورنمنٹ کے قائم کردہ اس ڈیجیٹل میڈیا ونگ (DMW) کو بند کر دیا جس کے ذریعے سیاسی مخالفین خاص کر تنقید کرنے والے صحافیوں کی ٹرولنگ کی جاتی تھی،ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے متنازع  ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے خاتمہ کو احسن اقدام قرار دیا،ایچ آر سی پی نے کہا کہ ڈیجٹل میڈیا ونگ کے ذریعے گورنمنٹ اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی کے علاوہ ریاستی وسائل پہ پارٹی ایجنڈے کو پروان چڑھانے میں مصروف تھی،ڈی ایم ڈبلیو 2018 میں پی ٹی آئی کے برسر اقتدار آنے کے فوری بعد قائم کیا گیا تھا،منگل کو وزیر اطلاعات و نشریات کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں مریم اورنگزیب نے کہا، پی ٹی آئی کا قائم کردہ سوشل میڈیا ونگ، پارٹی کارکنوں پر مشتمل تھا جو اپوزیشن اور قومی اداروں کو نشانہ بنا رہا تھا،کو ختم کر دیا گیا،انہوں نے کہا کہ اس کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ وزارات اطلات و نشریات میں سائبر ونگ پہلے سے موجود تھا،بلاشبہ وزارت کے پہلے سے موجود سائبر ونگ کو مضبوط کرنا اچھی پیش رفت ہو گی کیونکہ اس طرح سے حکومتیں بدلنے کے باوجود ادارے برقرار رہنے کے علاوہ بیوروکریسی کبھی کسی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں ملوث نہیں ہوگی،ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد نے کہا کہ سائبر ونگ کو بدلتے ہوئے رجحانات کے ساتھ مزید اختراعی اور بیرون ملک پاکستان کا اچھا امیج بنانے کے لئے وزارت خارجہ کے ساتھ ہم آہنگ رہنا چاہیے۔اس امر میں اب کوئی شبہ نہیں رہاکہ ڈیجیٹل میڈیا نے نہایت تیزی کے ساتھ ابلاغ کے بنیادی اصولوں اور خیر وشر میں تفریق کرنے والی اقدار کو کنفیوژ کرکے فطرت انسانی کو پوسٹ ٹروتھ عہد (بعد از سچ)کی جدلیات تک پہنچا دیا جہاں ہر سچائی اور ہر حقیقت ریلیٹیو ہو کر اپنی مستقل تفہیم کھو دیتی ہے،چنانچہ اب انسان کی ان کلاسیکی سماجی اقدار اور تہذیبی شعور کو نئی اصلاحات کا سامنا کرنا پڑے گا،جس نے سماجی نظام کی تدوین اور شخصی اخلاقیات کے اصول مدون کئے،اگرچہ ابھی اس امر کا فیصلہ ہونا باقی ہے کہ انسانی زندگی کے نظام کو استوار کرنے والے اصول بدل رہے ہیں یا پھر ذہن انسانی میں ایسی تبدیلیاں آئی ہیں کہ وہ نفس انسانی میں متلاطم ان سارے احساسات کو اگل دینے کی منزل تک پہنچ گیا ہے جو فطرت سے انحراف کے متقاضی تھے،جس طرح کارل مارکس نے کہا تھا کہ انسان کے وجود کے اندرجبلت نام کی کوئی چیز نہیں بلکہ یہ سب عادتیں اسے ورثہ میں یا پھر اپنے خارجی ماحول سے حاصل ہوتی ہیں،اسی طرح اب جدید سائنس کی فلاسفی بھی ڈیجٹل میڈیا کے ذریعے بنیادی جبلتوں اور فطرت انسانی کی خارج سے قطع و برید کے تجربات میں الجھی ہوئی ہے،بظاہر یہی لگتا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے معلومات کے تبادلہ اور برق رفتار روابط نے انسانی فطرت کو تبدیل کرکے مابعد الطبعات پہ اس کے یقین کو جھنجھوڑ دیا ہے،سوشل میڈیا کے ابلاغ سے دنیا بھر میں انسانی سماج کی ہیت اورسوچنے کے انداز متاثر ہوئے،اس لئے عہد جدید میں انسانیات پہ تحقیق کرنے والے ماہرین انسانی فطرت پر ڈیجیٹل میڈیا کی بصری ٹیکنالوجی کے مضمرات کی چھان بین میں مصروف ہیں لیکن فی الحال ماہرین زندگی کے متعدد شعبوں کی تکنیکی مہارتوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش میں سرگرداں ہیں تاکہ اس نئے ڈیجیٹل تمدن کو واضح شکل دی جا سکے، خاص طور پر بصری مواد کے پروڈیوسرز،محققین اور صارفین کے درمیان باہمی تال میل اورکلچرومکس اور نیٹ ورک کے تجزیے کے بہتر استعمال کو سمجھنے کی کوشش جاری ہے جس کے ذریعے اس عہد میں معلومات کا اشتراک اور باہم رسانی ممکن بنائی گئی،صارفین کے علم،رویوں اور طرز عمل پر بصری میڈیا کے قریبی اثرات کے تجرباتی مطالعات کی کسی نظریہ پر مبنی تشخیص کے ساتھ جوڑنا کہ کس طرح ہیومین آن اسکرین بالآخر انسانی فطرت کے تعمل کو متاثر کرتی ہے ایک اہم کام ہو گا لیکن مشکل یہ ہے کہ ڈیجیٹل بصری میڈیا کی پیداوار، پھیلاؤ، کھپت اور مشغولیت اتنی تیزی سے بدلتی ہے کہ جہاں تحقیق کے لئے نت نئے مواقع ملتے ہیں وہاں کئی فوری چیلنجز بھی ابھر کے سامنے آ جاتے ہیں یعنی ایک کراس ڈسپلنری جائزہ جو سب سے قیمتی اگلے مراحل کو نمایاں اور اسکرین پر فطرت کی نمائندگی اور اثرات کے بارے میں مزید تحقیق کی ترغیب دیتا ہے۔سوشل میڈیا ایک شہری کو باخبر رکھنے کے باوجود اس کی ذہنی افزائش میں رکاوٹ بھی بنتا ہے،یہ انسانی سوچ کو گہرائی تک جانے کی مہلت نہیں دیتا بلکہ تیزی سے ابھرتی لہریں ہر آن انسانی سوچ کو مضطرب اور سطح کے اوپر رکھتی ہیں،یہ انسان کے اندر چھپی ہوئی خواہشوں کو بے نقاب کرنے کے علاوہ انسان ذہن کو چوس کر اس کی زرخیزی اور افزائش کو بنجر بنا دیتا ہے،اس میں متنوع خیالات کی تشکیل اور فکر کے نئے شگوفے نہیں کھلنے دیتا بلکہ فرد کا ذہن خود سوچنے کی بجائے سوشل میڈیا کے مجموعی وظائف کی تکرارمیں پھنس جاتا ہے۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ مجموعی طور پہ سوشل میڈیا جنگ کو مشکل اور ریاست کو کمزور کرکے اس سٹیٹ لیس سوسائٹی کی راہ ہموار بنائے گا،جسے کارل مارکس کا یوٹوپیا کہا جاتا ہے۔انفرادی طور پرڈیجیٹل میڈیا شہریوں کی سیاسی زندگی کا لازمی حصہ بن گیا لیکن یہی ابلاغ فرسودہ سیاسی کلچر کی توڑپھوڑ کا سبب بھی ہے،دنیا بھر میں لوگوں کی بڑی تعداد معلومات کے لیے ڈیجیٹل میڈیا ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتی ہے بلکہ مواصلاتی کلچر میں مجموعی طور پر اب ڈیجیٹل میڈیا نے مرکزی پوزیشن حاصل کر لی۔یہ اہم پلیٹ فارم ہے جسے لوگ ایک دوسرے کو سہارا دینے، باہمی عریانی اور زک پہنچانے کے باوجودایسی معلومات کے تبادلہ اور متحرک پیغامات کا وسیلہ بناتے ہیں جو سماجی و سیاسی عوامل کو زیادہ پیچیدہ بنانے کی سہولت فراہم کرکے تشویشناک بناتا ہے کیونکہ اس میں غلط معلومات کے پھیلاؤ  کا حجم بہت زیادہ ہے۔پچھلی تین دہائیوں سے ماہرین تعلیم نے دریافت کیا ہے کہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا نے یا تو اس کی ترقی میں کردار ادا کیا یا اس میں گہری رکاوٹیں ڈالیں لیکن اس سب کے باوجود ڈیجیٹل میڈیا فرد کی سیاسی و سماجی زندگی کا جزو لاینفک بن گیا کیونکہ دنیا بھر میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد معلومات کے تبادلہ اور نجی و سماجی مواصلات کے لیے ڈیجیٹل میڈیا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہی ہے۔گویا اجتماعی طور پر ڈیجیٹل میڈیا نے اہم پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر لی،جسے لوگ ہم خیال افراد کے مابین ربط اور اپنے گروہ کو متحرک کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں تاہم اس متحرک پیغامات کی تقسیم کے دوران ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے غلط معلومات کا پھیلاؤ، معلومات کی تقسیم کے مضمرات کو جانچنے میں ناکامی اور حد سے بڑھتی ہوئی سیاسی پولرائزیشن مہلک ثابت ہوئی ہے۔آج کے سیاسی ابلاغ میں سب سے زیادہ اہم وہ نظریاتی مسائل ہیں جو تیزی کے ساتھ ملتبس ہوتے جا رہے ہیں،متحرک اور سیاسی طرز عمل،انٹرنیٹ اور سیاسی سرگرمی پر حالیہ مطالعہ نے سیاسی شرکت کی متنوع شکلوں کو تشکیل دینے اور دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سماجی احتجاج کو متحرک کرنے میں ڈیجیٹل میڈیا کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا جیسے کہ ٹویٹر اور فیس بک علمی و جذباتی رویے سے متعلق رابطوں کے لئے ایک اہم وسیلہ ہیں جو لوگوں کو باہمی تعاون کے ساتھ نیٹ ورک بنانے کے قابل بھی بناتے ہیں،مثال کے طور پر، ڈیجیٹل میڈیا لوگوں کو خبریں فراہم کرتا ہے،سائنسی،سیاسی اور سماجی معلومات کو متحرک کرتا ہے اور انہیں بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ اپنے جذبات اور رائے کا تبادلہ کرنے کی سہولت دیتا ہے،انہیں عوامی سرگرمیوں میں مشغول ہونے کی ترغیب دیتا ہے حتی کہ میدان جنگ میں کھڑے سپاہی کو بھی اپنے گھر والوں اور سماج کے ساتھ منسلک رکھتا ہے،اس کے علاوہ، ڈیجیٹل میڈیا مواد کو وقت، رقم اور جسمانی محنت کی زیادہ مقدار خرچ کیے بغیر تیزی سے اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے،جو ڈیجیٹل میڈیا کے صارفین کو آن لائن مختلف سرگرمیوں کے ذریعے اپنے مواصلاتی اہداف کو آسانی سے حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔اسی طرح سوشل میڈیا آمریت کے جبر سے بچنے، شخصی آزادیوں کے تحفظ اور عوام کو زیادہ طاقتور بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔یہ دیکھتے ہوئے کہ ڈیجیٹل میڈیا نے تیزی سے مختلف افعال اور استطاعت کو مربوط کیا، اس لئے ضروری ہے کہ ان مختلف طریقوں پر نظرثانی کی جائے تاکہ سیاسی و سماجی مصروفیت کے نئے اصول تلاش کئے جا سکیں۔شہری طرز عمل پہ یہ تحقیق کرنا بھی بہت اہم ہے کہ ڈیجیٹل نیٹ ورک میڈیا کے ذریعے برقرار رہنے والے سیاسی مواصلات کے یہ نئے طریقے، غیر ترمیم شدہ عوامی دائرے کے دور کو کیسے کھول سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ غلط معلومات اور جعلی خبریں کی جو گونج خاص طور پر ریاستہائے متحدہ میں 2016 کے صدارتی انتخابات کے بعد ابھری تھی اسی نے وہاں کے مربوط جمہوری تمدن کو ہلا کے رکھ دیا۔ڈیجیٹل میڈیا ٹیکنالوجیز کی ترقی اور معلومات کی تقسیم نے غلط معلومات یا جعلی خبروں کے ذریعے سب سے پہلے امریکی قومی وحدت میں دراڑیں ڈال دیں،اب بھی وہاں مختلف لوگوں کے لئے جعلی خبروں کی تعریف کی ٹائپولوجی فراہم کرنے کے لئے حقائق اور فریب کی سطح کا استعمال کیا جا رہا ہے،جس میں معلومات کی اقسام، جیسے منفی اشتہارات، پروپیگنڈا، ہیرا پھیری، من گھڑت،خبروں کا طنز اور خبروں کی پیروڈی شامل ہیں لیکن اس کے باوجود موجودہ دور میں جعلی خبروں اور غلط معلومات سے متعلق بہت سے سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔

  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply