جنریشن گیپ اور ہمارے مسائل۔۔راؤ قربان حیدر

دو نسلوں کے درمیان فکری نظریات، اقدار ، روایات اور طرزِ عمل کے اختلاف یا غیر ہم آہنگی کو ’’جنریشن گیپ‘‘ یعنی ایک نسل سے دوسری نسل کا فرق کہتے ہیں۔

دو نسلوں کے درمیان سوچ کا فرق خطرناک حد تک بڑھ گیا۔انسان کی سوچ سے اسکے انفرادی نظریات اور رویے جنم لیتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ بسنے والے مختلف افراد کی سوچ، معاشرتی  نظریات ، اخلاقی اقدار، پسند ناپسند، کھانے پینے اور لباس پہننے کے انداز اور رجحانات قدرے مشترک ہوتے ہیں۔ یہ مخصوص نظریات، رویے، رجحانات، پسند ناپسند، نسل درنسل منتقل ہوتے رہتے ہیں اور اس معاشرتی انتقال کے درمیان تبدیل بھی ہوتے رہتے ہیں۔ بعض بیرونی اور اندرونی محرکات بھی ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔آج سے 20 یا 25 سال قبل پاکستان میں مخلوط نظامِ تعلیم کو معیوب سمجھا جاتا تھا اوریہ نظام صرف یونیورسٹی لیول پر یا چند کالجز میں رائج تھا۔دو دہائیاں قبل جب پرائیویٹ تعلیمی اداروں، کالجز اوریونیورسٹیز کورجسٹریشن اور الحاق ملا تو مخلوط نظامِ تعلیم عام ہو گیا۔اس عرصہ کے دوران جن نوجوانوں نے مخلوط تعلیم حاصل کی ہے وہ اس مخلوط نظامِ تعلیم کو برا نہیں سمجھتے اور چاہتے ہیں کہ یہی نظامِ تعلیم رائج رہے اور انکی آئندہ آنے والی نسلیں بھی اس نظام سے مستفید ہوں جبکہ ان کے بزرگ جو مخلوط نظامِ تعلیم سے نہیں پڑھے وہ اس نظام کی برائیاں گنواتے نہیں تھکتے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

جنریشن گیپ ایک عالمی مسئلہ ہے اور نئی اور پرانی نسل کے درمیان اختلاف، بحث و تکرار اور بہت سی جگہوں پر لڑائی کی اہم وجہ ہے۔نسلوں کے فرق کا معاشرتی نظریہ یعنی جنریشن گیپ تھیوری سب سے پہلے 1960 کی دہائی میں سامنے آئی جب اس دہائی کی نوجوان نسل (جسے بعد میں Baby Boomers کے نام سے جاناگیا) نے اپنے والدین کے تمام معاشرتی نظریات، اقدار، سیاسی نظام کے خلاف بولنا شروع کر دیا۔پھر اس کے بعد جنریشن X اور جنریشن Z کا دور آیا۔ ان میں سے ہر جنریشن کے اپنے مخصوص رجحانات اور نظریات تھے۔ پاکستان میں بھی یہ مسئلہ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔ جنریشن گیپ ایک نسل سے دوسری نسل کے درمیان کم جبکہ ایک نسل سے تیسری نسل کے درمیان زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی بچوں اور باپ کے درمیان نظریاتی اختلاف کم جبکہ بچوں اور ان کے دادا دادی یا نانا نانی کے درمیان زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ان خاندانوں میں جہاں والدین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اختلاف کم پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں جنریشن گیپ کے مسائل زیادہ تر ان خاندانوں میں پائے جاتے ہیں جن کے بچے جدید تعلیم کے زیرِ اثر روشن خیال ہوگئے ہیں اوراپنا لائف سٹائل والدین سے مختلف اپنا چکے ہیں۔ جنریشن گیپ کے مسائل کو مختلف وجوہات کی بنا پر تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
جیسا کہ
ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل

نظریات کا پروان چڑھنا سراسر ماحول کے زیراثر ہوتا ہے۔ٹیکنالوجیکل ڈیویلپمنٹ جنریشن گیپ کی ایک اہم وجہ ہے۔پاکستان میں جن موضوعات پر والدین اور بچوں میں نظریاتی اختلاف بڑھتا جارہا ہے ان میں سب سے اہم مسئلہ سوشل میڈیا اور اس کا بے تحاشا استعمال ہے۔والدین سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے گمراہ ہو رہے ہیں۔جبکہ نوجوان نسل کی تمام تر دلچسپیاں اور مفادات (یہاں یہ لفظ غور طلب ہے) سوشل میڈیا سمیت انٹر نیٹ سے جڑے دیگر فورمز سے وابستہ ہیں ۔سوشل میڈیا کے یہ مجاہد کھانے پینے کے بغیر تو چند دن گزار سکتے ہیں لیکن سمارٹ موبائل فون کے بغیران کا گزارا نہیں ہو سکتا۔فیس بک، وٹس ایپ، ٹوئٹر، سنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور اس طرح کی ہزاروں اپلیکیشنز ہیں جو اکیسیویں صدی کے نوجوانوں کی محبوبائیں ہیں۔ایسی صورتِ حال میں کون غلط ہے اور کون صحیح یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

بزرگوں کے احترام کا فقدان
آج کی نوجوان نسل والدین کے شرعی اور انسانی تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر نظر آتی ہے پرانی نسل سے وابستہ لوگ ہمیشہ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ نئی نسل کے ساتھ کیا غلطی ہوئی ہے ۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے زمانے میں ، نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے ساتھ بہتر سلوک ، زیادہ فرمانبردار اور بڑوں کا زیادہ احترام تھا۔ دوسری طرف ، نوجوان ، محسوس کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی رہنمائی کے لئے بڑی عمر کی نسل پر زیادہ دباؤ ڈالنے کے بجائے خود ہی سیکھنے کے قابل ہیں۔

سیاسی ونظریاتی اختلاف
نوجوان نسل اور پرانی نسل کے درمیان سیاسی و مذہبی نظریات پر اختلاف بڑھ گیا ہے۔زمانۂ قدیم سے ہی دیکھا گیا ہے کہ ہر آنے والی نسل سیاست کے معاملہ میں اپنے آباؤ اجداد سے کم بنیاد پرست اور شدت پسند ہوتی ہے۔ لیکن دورِ حاضر میں جس رفتار سے ٹیکنالوجی میں جدت آئی ہے اس نے والدین اور بچوں کے درمیان مذہبی و سیاسی عقائد کا خلا وسیع کر دیا ہے۔جس سے گھروں کے بزرگ اور والدین شدید پریشان ہیں۔نئی نسل لبرل ہے، اور اخلاقی اقدار زوال پذیر ہیں۔مذہب کے ساتھ ساتھ سیاسی موضوعات بھی گھر اور گھر سے باہر بزرگوں اور نوجوانوں میں بحث و تکرار کا باعث بن رہے ہیں۔

دیگر موضوعات
اس کے علاوہ بہت سے موضوعات ہیں جن پر ایک نسل سے دوسری نسل میں اختلاف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ گھر میں ماحول کیسا ہونا چاہیے؟ کپڑے کیسے ہونے چاہیے؟ کھانا کیسا پکنا چاہیے؟ کونسا فرنیچر ہونا چاہیے، کونسی ضروریاتِ زندگی اور الیکٹرانکس ہونی چاہئیں؟ میوزک کیسا چلنا چاہیے؟ گھر میں موویز کونسی دیکھی جائیں؟بچوں کو کونسی فیلڈ میں جانا چاہیے؟ کونسا مضمون پڑھنا چاہیے؟ کونسا کھیل کھیلنا چاہیے؟ کیسے دوست بنانے چاہئیں؟ گھر میں آنا جانا کس کا ہو؟ رشتہ داروں کے ساتھ برتاؤ کیسا ہو وغیرہ وغیرہ یہ سارے موضوعات ہیں جن پر والدین اور بچوں میں نظریاتی اختلاف ہو سکتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنریشن گیپ کے مسائل کا حل کیا ہونا چاہیے؟
یہ وہ اہم نکتہ ہے جس پر والدین اور بچوں کو فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر مسئلہ کا حل ہو سکتا ہے بلکہ یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہر مسئلے کے کئہ حل ہوسکتے ہیں بشرطیکہ فریقین حل کرنا چاہیں۔ والدین کو اس بات پر اعتراض نہیں ہوتا کہ بچے اپنے فیصلے خود کریں بلکہ یہ خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کے بچے کم علمی، ناتجربہ کاری اور جذبات کی رو میں بہہ کوئی غلط فیصلہ نہ کر بیٹھیں۔کوئی کوتاہی ان سے سرزد نہ ہو جائے۔ اختلاف کی وجہ دونوں طرف سے غلط فہمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد ہوتا ہے۔ جنریشن گیپ سے پیدا ہونے والے نظریاتی اختلاف کو درج ذیل چند اقدامات سے کم کیا جا سکتا ہے
*نسلوں کے درمیان کمیونی کیشن یا بات چیت کو فروغ دیا جائے۔جدت کے بابت ایجوکیٹ کیا جائے
*آپ بزرگوں سے اختلاف کریں لیکن انکا احترام ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے۔
*باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
*فریقین کو اپنی حدود و قیود کا تعین کرنا چاہیے۔پرائیویسی کو سمجھیں۔
*دوستانہ ماحول باہمی تفریح کے ماحول کو فروغ دیا جائے۔
*دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے نظریات قبول کرنے / برداشت کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply