• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جنوبی ایشیا پہ امریکی گرفت کمزور ہو گئی؟۔۔اسلم اعوان

جنوبی ایشیا پہ امریکی گرفت کمزور ہو گئی؟۔۔اسلم اعوان

افغانستان سے فوجی انخلاءکے بعد عمران خان کی حکومت کا خاتمہ بھی جنوبی ایشیا میں امریکی اثرات کو کم کرنے کا ذریعہ بنے گا ؟ بادی النظری میں لبرلرل ماڈریٹ اور مغرب سے مضبوط رشتہ داریوں میں بندھے ہونے کی وجہ سے خان یور پ کے لئے جنوبی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کا موثر وسیلہ بن سکتے تھے،وہ خود بھی ہمیشہ مغرب کو اپنی کرشماتی شخصیت سے متاثر کرنے کے خواہشمند رہے،2019میں جب سابق وزیراعظم عمران خان نے پہلے دورہ امریکہ کے دوران صدر ٹرمپ سے قربت حاصل کی تو اسے انہوں نے ورلڈکپ جیتنے سے تشبہہ دیتے ہوئے اپنی اہم سفارتی کامیابی سے تعبیر کیا اگرچہ اُس تعلق کی اساس دوطرفہ مفاد پہ رکھی تھی جن میں یہاں چینی سرمایا کاری کی حوصلہ شکنی اورکشمیر ایشوکو تحلیل کرنے کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جہمور کی حاکمیت کی بجائے استبدادی طرزحکمرانی کی حوصلہ افزائی کی پالیسی دونوں کوسوٹ کرتی تھی کیونکہ عمران خان خود بھی فطرتاً اسی فلسفہ سیاست کے قائل نکلے ہیں جس میں وہ پبلک مینڈیٹ کے جھنجھٹ اور پارلیمنٹ کو جوابدہ ہونے کی بجائے سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان اور چینی صدر ژی کی طرح مطلق العنانی پہ مبنی طرز حکمرانی ہی کو پالیسیسز کے تسلسل اور معاشی ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں۔

ممکن ہے خان کی یہ سوچ اپنے سیاسی عزائم پہ پردہ ڈالنے کا معقول لباس ہو کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ خان بھی ذولفقارعلی بھٹو کی طرح فل،کمپلیٹ اور ٹوٹل اختیارات چاہتے تھے تاکہ معاشرے میں گہری جڑیں رکھنے والی منجمد سماجی اقدار،مذہبی انتہا پسندی اور اقلیتوں بارے پائی جانے والی عدم برداشت کو باآسانی ریگولیٹ کرکے مغربی طرز کی ایسی سماجی و سیاسی آزادیوں کی راہ ہموار کرسکیں جنہیں وہ خود بھی پسند کرتے ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

امریکہ بھی،جس نے سرد جنگ اور بعدازاں افغان جہاد کے دوران سوشلسٹ نظریات کی رہ روکنے کے لئے مذہبی انتہا پسندی سے خوب فائدہ اٹھایا،اب یہاں مغربی طرز کی ایسی سول سوسائٹی برپا کرنے کا متمنی ہے جس میں مذہبی اقدار اور مشرقی روایات کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں بچے گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے بیس سالوں کے دوران پاکستان اورامریکہ کے مابین پیدا ہونے والی خلیج بتدریج بڑھ رہی ہے،اسی خلاءکو پُر کرنے کے لئے امریکی انتظامیہ خان کی حکومت کو بہترین موقعہ سمجھتی تھی،چنانچہ یور پ و امریکہ انتہائی محتاط انداز سے عمران خان کو دوبارہ زیادہ قوت کے ساتھ برسراقتدار لانے کا خواہش مند نظر آتے ہیں۔

یہ عین ممکن ہے کہ قبل از وقت اقتدار سے ہٹانے کی سکیم انہیں قومی سیاست کے مقبول مزاحمتی کردار کے طور پہ آگے بڑھانے کی منصوبہ بندی کا حصہ ہو،اس لئے مغربی میڈیا اور خاص کرسوشل میڈیا میں عمران خان کو مقتدرہ اور مغرب مخالف لیڈر کے طور پہ ابھارا جا رہا ہے،جیسے دوہزار آٹھ سے اٹھارہ تک کے دس سالوں کے دوران ڈرون حملوں کے خلاف خان کی مہم اور سلالہ چیک پوسٹ پہ امریکی حملہ کے خلاف خان کی طرف سے تورخم بارڈر پہ امریکی سپلائی لائن بند کرنے کی جسارت کو بھی مغربی میڈیا میں سراہا گیا تھا۔

2018 میں خان کو اقتدار تک پہنچانے والوں میں سے بہت سوں کو امید تھی کہ شاید وہ مغرب اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کو کم کرکے اس روایتی تعلق کو دوبارہ جوڑ دیں گے جس کی جڑیں پونے تین سو سالوں کی وابستگی میں پیوست ہیں۔ابتداءمیں انہیں مقتدرہ اور عدلیہ کی مکمل حمایت حاصل رہی لیکن ان پونے چار سال میں خان اس مملکت کو مغربی دنیا کے قریب لانے کی بجائے سخت ترین معاشی زوال کا شکار بنا بیٹھے۔اشیائے خوردونوش سمیت شہریوں کی بقاءکے لئے درکار بنیادی اشیاءکی ریکارڈ مہنگائی بلندیوں کو چھونے لگی، بے روزگاری بڑھ گئی، قرضے اور مالیاتی خسارے میں اضافہ ہوتا گیا،اس پہ مستزاد ان کی بڑھتی ہوئی متنازع  خارجہ پالیسی نے ریاستی مقتدرہ کے ساتھ ان کے تعلقات کو زہر آلود کرنے میں مدد کرکے کار مملکت کو بھی مفلوج بنا دیا۔

ہماری ریاستی مقتدرہ چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات میں توازن کو قومی سلامتی کے لئے اہم تصور کرتی ہے، وہ جانتے ہیں کہ چین ہمارے سب سے بڑے حریف بھارت کے خلاف پاکستان کا طویل المدتی حلیف ہونے کے علاوہ بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر میں چینی سرمایہ کاری پاکستانی معیشت کے مستقبل کے لئے نہایت اہم ہے تاہم وہ امریکہ اور یوروپ کی برآمدی منڈیاں کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کرتے لیکن عمران خان کسی اور سمت جاتے نظر آئے۔حالیہ ہفتوں میں اس نے اپنے ووٹروں کی امریکہ مخالف جذبات سے سرشارکرکے اپنی مقبولیت کو بڑھانے کی خاطر امریکی قیادت پہ سازش کا الزام لگایا،خان اور ان کے حامیوں کے مطابق شہباز شریف امپورٹڈ وزیراعظم ہیں حالانکہ شہباز شریف تجربہ کار سیاست دان اورتین بار پنجاب جیسے بڑے صوبہ کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، اس کا بنیادی کام ایسے وقت میں ملک کو معاشی استحکام کی طرف لے جانا ہوگا جب عالمی معیشت کے لیے وسیع تر خطرات رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں لیکن یہ نئی حکومت امریکہ اور چین دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے جیسے مشکل کام پر سخت محنت کرکے خارجہ پالیسی کو”پرانے پاکستان“ ماڈل کی طرف لوٹائے گی۔

امر واقعہ یہ ہے کہ جولائی 2019 میں،جب خان نے ٹرمپ سے ملاقات کی تو امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرکے بظاہر بھارت کے اس اصرار کو مسترد کر دیا کہ کشمیر دو طرفہ تنازعہ ہے،اگرچہ عملاً اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا، ٹرمپ کی پیشکش دل کو دلاسا دینے والی آپٹکس کے سوا کچھ نہ تھی چنانچہ امریکہ میں انتظامیہ کی تبدیلی کے ساتھ ہی پاکستان بارے واشنگٹن کے رویہ میں نہایت معنی خیز تبدیلیاں رونما ہوئیں،جس کے بعد خان نے بھی مغرب سے دور ہونے کا تاثر پیدا کرنے کے لئے چین اور روس کے قریب ہونا شروع کر دیا بظاہر یہی لگتا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی چال تھی جس کا مقصد خان کو مغرب مخالف لیڈر کے طور پہ ابھارنا مقصود تھا کیونکہ پچھلے سال سے کئی مواقع پر خان نے امریکہ پر تنقید شروع کر دی، جس کی شدت میں ہر خطاب کے ساتھ پراسرار اضافہ ہوتا دکھائی دیا۔

گزشتہ سال جون میں،خان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ امریکہ کو افغانستان میں سرحد پار انسداد دہشت گردی کے مشن کے لئے پاکستان میں افواج تعینات کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،ہفتے بعد جب ان کی حکومت نے قومی اسمبلی میں مالیاتی بجٹ پیش کیا تو خان نے ایک بار پھر امریکہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی بنا تو انہیں ناگوار محسوس ہوا جسے اس نے تاریخ کا سیاہ ترین دور قرار دیا تھا حالانکہ صورت حال اس کے برعکس تھی انہوں نے جنرل مشرف کے فیصلوں کی برملا حمایت کی اور اسے صدر بنانے کے لئے کرائے گئے متنازعہ ریفرنڈم میں نمایاں کردار ادا کرنے میں بھی حجاب محسوس نہ کی ۔

اگست میں افغانستان سے امریکی انخلاءکے دوران، جب افغان طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالا تو،خان نے اسے غلامی کی بیڑیاں توڑنے سے تعبیر کیا تھا۔ایک ماہ بعد، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں،خان نے امریکہ پر کھل کے تنقید کی کہ افغانستان میں ناکامیوں کا الزام پاکستان پر دھرنے کے بجائے انہیں پاکستان کی حمایت کو سراہانہ چاہیے۔لیکن اب نئی حکومت کے مشیرخزانہ مفتاح اسماعیل امریکہ کے ساتھ تعلقات کی استواری میں صرف اس لئے سنجیدہ نہیں کہ انہیں امریکہ و یورپی یونین کی برآمدی منڈیوں کی اشد ضرورت ہے بلکہ اس لئے بھی کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے علاوہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے امریکہ پوری دنیا پہ اثر ڈالنے کی پوزیشن رکھتا ہے،یعنی یہ دراصل مغرب کی آتش غضب کو ٹھنڈا رکھنے کی موہوم سی کوشش ہو گی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطی تک رسائی کے لئے موثر جغرافیائی وسیلہ ہے اس لئے کسی ایک جماعت یا لیڈر کی وجہ سے اس کی اہمیت کم نہیں ہو گی البتہ اس کشمکش سے پیدا ہونے والا سیاسی عدم استحکام مضمرات کا حامل ہو گا۔بہرحال نئی حکومت کی امریکہ کے ساتھ انگیجمنٹ یہ واضح کرے گی کہ خراب تعلقات صرف خان کی وجہ سے تھے یا ریاستی سطح پر پائی جانے والی سردمہری اس تنازعہ کا اصل محرک تھی۔پاکستان اور ریاستہائے متحدہ کے درمیان نئے تعلقات کار کی ابتداء”ورلڈ کپ“طرز کی فتح کے دعوؤں سے ہوئی لیکن یہ کھیل عمران خان کے جانے کے ساتھ ختم ہو گیا،خان نے پاکستان اور پوری دنیا میں چین کے مثبت کردار کی تشہیر کی لیکن عملاً وہ 60 بلین ڈالر کا چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) منصوبہ،جو پڑوسیوں کو باہم مربوط رکھنے کا ذریعہ تھا، کو بند کر بیٹھا،جسے دراصل پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پی پی پی اور نواز لیگ نے استوار کیا تھا اور حسن اتفاق سے اب وہی دونوںجماعتیں نئی حکومت میں شریک اقتداربھی ہیں۔تین بار کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے صوبہ پنجاب کے وزیراعلی کی حیثیت سے بھی چین سے براہ راست معاہدے کئے،ان کی ساکھ بھی بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کو اٹھانے کے لئے گرانقدر سمجھی جاتی ہے،وفاق میں انکی حکومت بیجنگ کے لئے خوشگوار پیغام ہو گی۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply