عمران کے ناقدین کی عقل دشمنی(1)۔۔ثاقب ملک

عمران خان سے مایوس ہو کر ان پر شدید تنقید کرنے والوں میں، گزرے دنوں میں چند نمایاں کالم نگاروں کا نام اوپر نظر آتا ہے. ان میں خورشید ندیم کا اسٹیٹس الگ ہے کیونکہ وہ عمران خان کے اولین” مایوسین ” کے درجہ پر فائز ہیں. اسکے بعد درجہ بدرجہ رؤف کلاسرا، عامر خاکوانی، اظہار الحق اور آصف محمود کا نام آتا ہے.

مخالفت یا حمایت ان کا حق ہے. میرا مقصد صرف چند تضادات کو نمایاں کرنا اور ان صاحبان کے استدلال کی تفہیم ہے. یہی غلط انداز فہم و دلیل پراپیگنڈا کے طور پر آگے پھیلایا جاتا ہے. میں باری باری ان سب کے اعتراضات پر بات کرنا چاہوں گا.

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

شعوری تعصبات میں ایک جانا پہچانا Cognitive bias جو کہ سیاسی اور مذہبی سطح پر لوگوں میں نمایاں پایا جاتا ہے اسے Availbilty Casacade کہتے ہیں جس میں سوچنے والا اپنے خیالات کی reinforcement کرکے اپنے نظریات کی درستگی کا ایک چین ری ایکشن پیدا کرتا رہتا ہے. مذکورہ تمام کالم نگاروں میں یہ علل بالعموم اور خورشید ندیم میں بالخصوص پایا جاتا ہے. موصوف کسی ایک Phrase کو اٹھائیں گے اپنی مرضی کی وضاحت کرکے اس پر مخصوص اور منتخب شدہ دلائل اکٹھے کرکے پیش کرینگے اور اپنا من چاہا نتیجہ برآمد کر لیں گے. جہاں دلیل نہ ملے یا مقدمہ کمزور ہونے کا خدشہ ہو وہاں ‘ یہ بات تو سب کے علم میں ہے، اس بات میں کوئی دو رائے نہیں وغیرہ وغیرہ اس قسم کے جملے استعمال کرکے قارئین کو چکمہ دینگے.

خورشید ندیم صاحب کا عمران مخالفت کا سب سے بڑا استدلال پچھلے پانچ چھ برس سے یہی رہا ہے کہ عمران نے اشرافیہ کے سب سے بڑے مرکز سے ہاتھ ملا کر اپنے لئے اقتدار کی راہ ہموار کی. دیگر ضمنی وجوہات وہ الگ بیان فرماتے ہیں.

رؤف کلاسرا، عامر خاکوانی ،اظہار الحق اور آصف محمود عمران خان کی مبینہ ناقص پرفارمنس اور اپنے منشور سے ہٹ جانے پر مخالف ہوئے. تقریباً سب نے ہی اپنی غلطی بلکہ عامر خاکوانی کے بقول جرم پر اپنے قارئین سے معافی طلب کی. یاد رہے یہ تمام صاحبان عمران خان کے شدید ترین حمایتی تھے.

ان تمام کالم نگاروں کی چند نمایاں شخصی اوصاف اور محاسن زبان زد عام ہیں جو کہ درج ذیل ہیں
1. مالی کرپشن کے الزامات سے پاک
2. سیلف میڈ شخصیات
3. نواز، زرداری، فضل الرحمن اور دیگر پرانی جماعتوں کی شدید مخالفت ( خورشید ندیم اس میں استثناء ہیں)

یہ بات یاد رہے کہ یہ مضمون کسی طور پر عمران خان کو ولی اللہ ثابت کرنے کے لئے نہیں لکھا جا رہا نہ ہی اسکا مقصد مذکورہ کالم نگاروں کو شیطان ثابت کرنا ہے. صرف موقف پر نقد کرنا اور اسکی Pornographic fallacies کو نمایاں کرنا ہے.

خورشید ندیم صاحب کا یہ دعویٰ جو کہ بادی النظر درست دکھائی دیتا ہے کہ عمران خان نے فوجی آشیرباد سے حکومت حاصل کی اس لئے وہ ان کے مخالف ہوئے، بہت کمزور اس وجہ سے ہے کہ اگلے ہی لمحے وہ سیاسی عصبیت کے ڈھکوسلے تلے نواز شریف، زرداری کی ماضی میں فوجی سرپرستی میں اقتدار لینے اور آج کی تاریخ میں ایک بار پھر اپنی تاریخ دہرانے پر کبیدہ خاطر نہیں ہوتے بلکہ ” سیاسی عصبیت” نامی چادر تلے ان کا گند ڈھانپ کر رکھ دیتے ہیں.

پہلا سوال تو یہ ہے کہ جو کام نواز شریف زرداری کریں تو وہ قابل دست اندازی نہیں لیکن وہی کام مبینہ طور پر اگر عمران خان کریں تو وہ قابلِ گرفت کیوں؟ حالانکہ سول بالادستی کے دعوے دار تو میاں نواز شریف اور زرداری رہے ہیں. مگر ساری تنقید کا زور صرف اور صرفِ عمران پر کیوں؟ ہر 10 میں سے 7 یا 8 کالم عمران کی تنقید پر مبنی کیوں؟ اگر اسکی دلیل یہ ہے کہ عمران اخلاقی طور پر بلند معیارات کا دعوے دار ہے تو آپ یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ عمران دیگر سیاسی جماعتوں سے برتر اخلاقی اصولوں پر کھڑا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ساتھ ہی آپ یہ بھی فرما دیتے ہیں اور عمران خان اور دیگر پارٹیوں کی پالیسیوں اور حکمت عملیوں میں صفر فرق ہے. اگر فرق نہیں ہے تو سب شور شرابہ عمران کے خلاف اور میاں نواز شریف صاحب اور انکے برادر درجنوں اندھیری ملاقاتوں کے باوجود سول سپرمیسی کے مامے چاچے کیوں؟ اسکو ڈھٹائی اور تعصب کے علاوہ کیا نام دیا جائے؟

آگے چلتے ہیں.

جہاں تک سیاسی عصبیت کا معاملہ ہے تو اسکو صاف الفاظ میں ناجائز مفادات کا گروہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا. یہ ہماری سیاسی اور مزید سیاسی ہر قسم کی اشرافیہ کا معاملہ ہے. سیاسی عصبیت پاکستان میں ایک Ponzi Scheme ہے جہاں پہلے آنے والے ہمیشہ سب سے زیادہ فائدے میں رہتے ہیں اور وہ جس کو اس اسکیم میں نہ شامل کریں وہ outsider بن کر رہ جاتا ہے. یقیناً نواز شریف کی ابتداء بھٹو مخالفت کی عصبیت سے ہوئی مگر یہ کتابی مخالفت اقتدار حاصل کرنے تک محدود تھی. جیسے ہی بھٹو خاندان اور شریف فیملی اقتدار سے باہر ہوئی اور انکا مشترکہ دشمن مشرف ٹھہرا تو عصبیت میثاق جمہوریت میں ڈھل گئی اور پھر اگلے مرحلے میں اقتدار کی باریاں لگائی گئیں. اسکے عمل کو بندر بانٹ اور جمہوریت سے ننگا کھلواڑ تو کہا جا سکتا ہے اسے مقتدرہ ادارے کو سیاست سے باہر کرنے یا جمہوریت کا تسلسل قرار دینے واسطے بے حد فراخ دلی درکار ہے جو مجھ میں تو کم از کم نہیں.

اسی طرح کی سیاسی عصبیت پیپلزپارٹی کی ہے. بینظیر بھٹو نے آتے ساتھ ہی فوج سے کمپرومائز کرکے اقتدار حاصل کیا اور موت سے قبل بھی ڈیل کے لئے سرگرم تھیں. انکا سوشلزم بھی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ دفن ہوگیا. بس سرکاری نوکریوں کی نیلامی ہی عوام دوستی کہلائی. یعنی پیپلزپارٹی اور بھٹو خاندان کی اصلی عصبیت بھی دم توڑ چکی ہے یا کہیں لاڑکانہ کے آس پاس تک محدود ہے.

یہ تو سیاسی عصبیت کی مختصر کہانی تھی.

اب عمران خان کی مقبولیت کو خورشید ندیم صاحب populism اور political cult کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں. خورشید ندیم صاحب کا ایک خاص طریقہ واردات کہنا چاہئے جس میں وہ چند مغربی terms کو استعمال کرتے ہیں انکو پاکستان کے سیاسی ماحول پر فٹ کرتے ہیں، اس میں سے کسی نہ کسی طرح نواز شریف کی حمایت اور عمران خان کی مخالفت کا نکتہ ڈھونڈ نکالتے ہیں. یہ پچھلے پانچ سات برس کی کہانی ہے.

کلٹ میں سوال و جواب اور شک کی گنجائش نہیں ہوتی. جیسے Larouche movement جو ستر اسی کی دہائی میں امریکہ میں کافی معروف اور با اثر رہی. امام خمینی کا کلٹ تو ابھی حالیہ تاریخ ہے جہاں خدا، قرآن اور خمینی کے نعرے لگے. الطاف حسین کو بھی اسی کھاتے میں ڈالا جا سکتا ہے. عمران کا کہا کونسا حرف آخر ہے؟ خود تحریک انصاف والے شدید تنقید کرتے رہتے ہیں.

اگر سیاسی عصبیت کسی بھی پارٹی یا رہنما کی اس وقت موجود ہے اور تازہ دم ہے تو عمران خان اور تحریک انصاف کی ہے. عمران کی سیاسی عصبیت تین بنیادی نکات پر مبنی ہے.
1. پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن کے لیڈران آپس میں ملے ہوئے ہیں، کرپٹ ہیں اور پچھلے 35 برس کی تنزلی کے ذمہ دار ہیں.
2. پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی
3. نچلے طبقے کا تحفظ

آج 25 برس بعد بھی عمران خان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی ملی بھگت اور مخالفت پر قائم ہے. آزاد خارجہ پالیسی کی پاداش میں اسکی حکومت گئی اور نچلے طبقے کے تحفظ کے لئے اس نے اپنے دور اقتدار میں صحت کارڈ، رہائش اور بھوک کے خاتمے پروگرام شروع کئے. عمران کا ہر حمایتی ان تین نکات پر متفق ہے.

کیا نواز شریف اور زرداری کے حمایتی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ پیپلز پارٹی سوشلسٹ پارٹی ہے، فوج سے کمپرومائز نہیں کرتی اور اپنے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کی امت مسلمہ کے لیڈر بننے کے لئے کوشاں ہے؟ آج لوگ یہ باتیں سن کر ہنس ہی سکتے ہیں. یہی معاملہ مسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف کا ہے. کیا نواز شریف بھٹو کے نیشنلزم، پیپلزپارٹی کی مخالفت، اور فوج کے سیاسی عمل میں مداخلت کے مخالف ہیں؟ آج کی تاریخ اس مفروضہ کو بھی درشتگی سے مسترد کرتی ہے.

محترم خورشید ندیم کا اگلا نکتہ ہیجان و بدتمیزی ہوتا ہے. انکا مقدمہ ہے کہ عمران خان نے ہیجان اور بدتمیزی کی سیاست کی شروعات کیں. اس ایشو پر وہ ماضی کو اکثر گول کر جاتے ہیں یا ذکر بھی کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ وہ تو چند مستثنیات تھیں. عمران خان نے بد زبانی کو عادت ثانیہ بنا دیا.

اول تو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ہلکا پھلکا سینہ بہ سینہ علم بھی خورشید ندیم صاحب کے دعوے کو اڑا کر رکھ دیتا ہے. چلیں تاریخ   کا تو سب کو علم ہی ہوگا. بھٹو، مسلم لیگ ن، شیخ رشید، جماعت اسلامی، وغیرہ وغیرہ. سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان نے کسی بھی لیڈر کو سر عام گالی دی؟ کیا اس امر کا کوئی ثبوت ہے؟ کیا اوئے کہنا گالی ہے؟ کیا عمران خان نے کسی کو یہودی ایجنٹ کہا؟ کیا عمران خان نے نواز شریف یا زرداری یا فضل الرحمان کی اہلیہ یا اہل و عیال کو یہودی کہا، غیر مسلم کہا، اپنے دور اقتدار میں فضل الرحمان یا نواز شریف یا زرداری یا کسی اپنے مخالف کی اہلیہ پر جھوٹا پرچہ درج کروایا؟

کیا عمران خان نے کبھی شہباز شریف کی لاتعداد ازواج کا ذکر کیا؟ کیا عمران خان نے کبھی نواز شریف کے گانے سنانے، امریکن سفیر کو دوستی کا کہنے اور دیگر نجی ملاقاتوں کا اپنے جلسوں میں ذکر کیا؟ کیا شیخ رشید جو کہ 25 برس نواز شریف کے ساتھ رہے انکے بتائے درجنوں واقعات میں سے کسی واقعے کو سرعام شئیر کیا؟ کیا عمران خان نے مریم نواز شریف کے لئے کبھی بھی ہلکے الفاظ، قابلِ گرفت الفاظ کا استعمال کیا؟ کیا زرداری کی امریکن خاتون سے مبینہ شادی انکے خاندان کے اخراجات اٹھانے کا تذکرہ کسی نے عمران کے منہ سے سنا؟ ایسے بے شمار سوالات کا جواب نفی میں ہے. مجھے ان تمام نسبتاً نجی واقعات اور کچھ unproven باتوں کے ذکر پر خود بھی شرمندگی ہے مگر مجبوراً یہ حوالے دینے پڑے.

ڈیزل، مسٹر ٹین پرسنٹ جیسے ناموں کے خالق وہی لوگ ہیں جن کی مداح سرائی میں کالم نگار صاحب انکی شائستگی کے دلائل دیتے نہیں تھکتے. یوں بھی ڈیزل کرپشن کی بنیاد پر رکھا گیا نام ہے. ایک طرف تو آپ کہتے ہیں کہ حکومت کچھ نہ کرے سماج کرپشن کے خلاف اور کرپٹ کو Isolate کرے جب سماج انہیں برا بھلا کہتا ہے تو آپ سیاسی عصبیت، مقتدرہ کی مداخلت، شائستگی کی چابک لیکر آ جاتے ہیں.

حقیقت یہ ہے کہ عمران کو ان سب الزامات کا، بد تہذیبی اور گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑا. مسلم لیگ کے کسی اندرونی اجلاس میں شرکت کرنے والوں کو علم ہے کہ عمران کو ننگی گالیاں دی جاتی ہیں. اسی قسم کی شائستگی پر مبنی حرکات بینظیر بھٹو، نصرت بھٹو کے خلاف بھی کی گئیں. بد تہذیبی، گالم گلوچ اور جھوٹے الزامات کی ماں اگر کسی جماعت کو کہا جا سکتا ہے تو وہ مسلم لیگ ن ہے. ہاں نواز شریف کے منہ سے میں نے کبھی گالم گلوچ یا گھٹیا الفاظ نہیں سنے اس لئے میرے میں خورشید ندیم جیسی جرات نہیں کہ نواز شریف کو ہیجان یا بد تہذیبی کا باپ کہہ سکوں. ہاں نواز شریف نے یقیناً ان گھٹیا حرکات سے چشم پوشی کی بلکہ کئی حوالوں سے تو حوصلہ افزائی کی مگر اپنا دامن بچائے رکھا.

اگلا الزام پاپولزم ہے. یعنی عمران نے چند آسان حل پیش کرکے عوام کو اپنے پیچھے لگایا. یہ اتنا معصومانہ بلکہ احمقانہ استدلال ہے کہ ہنسی آتی ہے. کون سا سیاست دان ہے جو پاپولر نہ ہونا چاہئے گا؟ کیا سیاست دان کا کام ہے کہ وہ پیچیدہ نصاب اپنے جلسوں میں پڑھائے؟ ایک اچھے سیاست دان یا رہنما کا تو یہ بنیادی کام ہے کہ عام طبقے کو مشکل مسائل کے آسان حل بتائے. انہیں سیاسی، سماجی معاملات میں شریک کرے. اس سے اگلا مرحلہ نسبتاً پیچیدہ پالیسز کا ہوتا ہے اور بعد میں تربیت کا مرحلہ آتا ہے.

اس نکتے میں وہ نفیس انداز میں جمہور کے فیصلے کو کم تر بھی سمجھتے دکھائی دیتے ہیں. یعنی عام لوگ کیوں کہ لاعلم ہے اس لئے وہ لیڈر کے پیچھے چل پڑتا ہے. تو کیا عام لوگوں کو جمہوریت سے اور فیصلہ سازی سے الگ کر دیا جائے؟

اگلے حملے میں وہ عمران کے حمایتوں کو سیاسی فرقہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں. یعنی عمران حمایتی عقل و فہم اور دلائل پر نہیں بلکہ اندھا دھند عمران کے مقلد ہیں. خورشید ندیم صاحب جو ہر وقت جمہوریت کی گردان فرماتے ہیں مگر عمران خان کے ڈیڑھ دو کروڑ ووٹرز کو عمران کے مریدین قرار دینے پر بضد ہیں. پوچھا جائے کہ باقی جماعتوں کے ووٹرز بھی اسی ملک کے ہیں یا وہ مغرب اور امریکہ سے سیاسی نصاب ازبر کرکے ووٹ ڈالتے ہیں؟ کیا پیمانہ ہے جو عمران خان کے حمایتیوں کو تو سرے سے عقل و فہم سے مبرا سمجھتا ہے مگر سرعام ووٹ خرید کر الیکشن جیتنے والوں کے ووٹرز کو عقل سلیم کے اعلیٰ درجوں پر لا بٹھاتا ہے؟

میری بدگمانی یہ ہے کہ خورشید ندیم صاحب چونکہ تحریک انصاف کے بانی اراکین میں شامل تھے اور بعد ازاں عمران خان نے ان کے معاملے میں سردمہری دکھائی، پارٹی میں وہ آگے نہ بڑھ سکے، یا انکے خیالات و نظریات کے مطابق عمران خان نہ چل سکے تو محترم نے انکی مخالفت کا بیڑہ اٹھا لیا. یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے. تمام تر گواہیوں کے مطابق خورشید ندیم اعلیٰ مراتب کے معاملہ فہم، ذہین، ایک قابلِ عزت پرسنالٹی ہیں. ایسے شخص کا تحریک انصاف سے کسی بھی وجہ سے الگ ہونا عمران خان کا ہی نقصان تھا اور رہے گا. مگر میرے لئے یہ بات سمجھنا ممکن نہیں کہ وہ عمران مخالفت میں انکے شدید مخالفین کی کوتاہیوں، حماقتوں، جرائم اور منافقتوں کا کیوں دفاع کرتے رہتے ہیں؟ کیا ذاتی پرخاش انکے ذہن پر حاوی ہے؟

رؤف کلاسرا، عامر خاکوانی ،اظہار الحق اور آصف محمود کے اعتراضات ایک سے ہیں اس لئے ان سب کو اکٹھا ہی ڈیل کیا جائے.

کلاسرا صاحب کی سب سے بڑی صفت انکی حساسیت ہے اور یہی انکی کمزوری بھی ہے. دراصل وہ ناول نگار یا کہانی کار ہیں. اسکی جھلک انکے کئی قسط بہ قسط کالموں کی سیریز سے ملتی ہے. حساس ذہن جب ایک تاثر بنا لے اور پھر جب اس امیج کو دھچکا لگے تو اس پہلے والے تاثر کے خلاف ایک ری ایکشن پیدا ہوتا ہے جو وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے. میں انکا کوئی psychoanalysis نہیں کر رہا ہوں، فقط انکے قاری ہونے کے ناطے اپنے تاثرات شئیر کر رہا ہوں.

کلاسرا صاحب اکثر اس پہلو کی طرف اشارہ کرتے تھے اور کرتے ہیں کہ عمران خان نے اقتدار کے لئے جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا اسکو پہلے پنجاب حکومت میں شامل کیا پھر وزارت اعلی کا امیدوار بنا دیا تاکہ اپنا اقتدار بچ سکے. اقتدار کے لئے کرپشن کے مبینہ اسکینڈلز پر آنکھیں بند کئے رکھیں.

کلاسرا صاحب جس بات کو منافقت اور دوغلا پن ثابت کرنا چاہ رہے ہیں وہ موقف طعنہ زنی کے لئے تو شاید موزوں ہے دلائل کی کسوٹی پر صفر ہے.

عمران کے لئے تو پیغمبرانہ صفات کی توقعات کی جائیں اور میدان میں موجود دیگر کھلاڑیوں کو کھلی چھٹی دی جائے کہ وہ گیم کے اپنے رولز بناتے پھریں. فنانشل حلقوں میں مشہور و معروف گیم تھیوری میں اسے Zero-sum کہتے ہیں. سیاست میں دو یا زائد فریق ہوتے ہیں. باقی فریقین دوران مقابلہ کبھی ریفری کو ملا لیں کبھی مخالفین کے کھلاڑیوں کو ورغلا لیں یا میچ کی کوریج والوں کو Manipulate کریں مگر دوسرا فریق جواب میں ردعمل نہ دے تو یا تو ایسا فریق صریحاً احمق ہے یا جان بوجھ کر شکست قبول کرنے پر آمادہ ہے. اگر ایسے حالات میں مخالفین کا کوئی پرانا مستعفی شدہ کھلاڑی از خود جوائن کرنا چاہے تو اسکی شمولیت کو کیوں رد کیا جائے؟

اخلاقی سطح پر یقیناً ماضی اور مستقبل کے بیانات کا تقابل ہوتا رہتا ہے. اول تو عمران خان اس وقت گیم میں موجود ہی نہ تھے. گیم میں آنے کے بعد انہیں آٹے دال کے بھاؤ کا علم ہوا ہوگا. لیکن اس حد تک اس تنقید میں دم ہے کہ عمران خان کو ماضی کے بیانات اور عملی تضادات کی وضاحت ضرور کرنی چاہئے تھی. نیز سوال تو پرویز الٰہی سے بھی بنتا ہے کہ جس شخص نے آپ کو پنجاب کا ڈاکو کہا اس کی قیادت آپ نے کیوں قبول کی؟ مگر مجال ہے اس قسم کا کوئی سوال کلاسرا صاحب اٹھائیں.

Advertisements
julia rana solicitors london

کلاسرا صاحب کا دوسرا ایشو یہ ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ساس جیسا رویہ اختیار کر لیتے ہیں اور پھر بارہا اسکی تکرار کرتے ہیں. عمران سے پہلی ملاقات میں ہی ایم ایم روڈ بنوانے کی فرمائش کر دی جس کو عمران نے اپنے بجائے این ایچ اے کا کام قرار دیا. اس پر کلاسرا صاحب ناراض ہوئے اور ہر ہفتے دو ہفتے بعد اس بات کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں. تو کیا عمران صحافیوں کی فرمائش پر چلے تو ٹھیک ورنہ وہ ناکارہ ٹھہرا؟

  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

ثاقب ملک
رائٹر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply