سیاسی بحران کا اختتام؟۔۔اسلم اعوان

پانچ سالوں پہ محیط طویل کشمکش کے بعد بلآخر ملکی مقتدرہ اور سیاسی قوتیں اس بحران پہ قابو پانے میں کامیاب ہو گئیں جسکی ابتداءپانامہ کیس کے ذریعے میاں نوازشریف کو وزرات اعظمی سے ہٹانے اور بعدازاں منی لانڈرنگ کے الزام میں اسے بیٹی سمیت جیل بھیجنے کے علاوہ2018 کے متنازع  انتخابات کے ذریعے عمران خان کو برسراقتدار لانے سے ہوئی تھی،جس کے بعد پہلے ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت جے یو آئی نے لانگ مارچ اور دھرنا دیکر اسلام آباد کا گھیراؤکیا،اس کوشش کومناسب طریقوں سے نمٹا کے مملکت کو مذہبی عناصر سے براہ راست تصادم سے تو بچا لیا گیا لیکن سیاسی تناؤ بتدریج بڑھتا رہا،مقبول لیڈر شپ نے عوامی جلسوں میں فوجی قیادت کو ہدف تنقید بنا کر سیاسی کشمکش کا رخ پہلی بارطاقت کے مراکز کی طرف موڑ دیا، یہ سب کچھ عین اس وقت پیش آیا،جب امریکی فورسز افغانستان سے انخلاءکے مراحل عبور کر رہی تھیں،چنانچہ اگر پیپلزپارٹی کی قیادت پی ڈی ایم چھوڑ کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو بریک نہ لگاتی تو ریاستی اداروں اور عوام میں تصادم کے خطرات دوچند ہوجاتے۔

لیکن وزیراعظم عمران خان اگر اپوزیشن کو انگیج کرکے مفاہمت کی راہیں نکالتے تو شاید قومی سیاست کی پولرآئزیشن اس قدر انتہائی حد تک پہنچتی نہ مقتدرہ خاص و عام کی تنقیدکا ہدف بنتی مگر افسوس کہ عمران خان نے وزارت اعظمی کا منصب پا لینے کے باوجود قومی سیاست میں استحکام لانے کی بجائے ٹکراوکی پالیسی جاری رکھ کے قوم کو منقسم رکھنے میں مفاد تلاش کیا اور بلآخر نفرتوں کی اسی آگ میں خود بھی جل گئے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ہماری قومی تاریخ میں خان اگرچہ عدم اعتماد کے ذریعے معذول ہونے والے پہلے وزیر اعظم بن کے سامنے آئے لیکن اس کشمکش کا ایک مثبت پہلو یہ بھی تھا کہ اپوزیشن نے زور زبردستی سے مسلط کی گئی حکومت کو آئینی طریقہ سے نکال کر سیاسی استحکام کا حصول یقینی بنا لیا،اگر اپوزیشن بھی عمران کو ہٹانے کے لئے غیرآئینی اور فسطائی ہتھکنڈے استعمال کرتی جن کا سہارا خان نے لیا تھا تو فساد مزید بڑھ جاتا،بلاشبہ فطرت بھی انسانوں سے، برائی کو بھلائی کے ذریعے رفع کرنے کی متقاضی ہے،امید ہے جائز آئینی عمل کے ذریعے متحرک ہونے والی یہ پیش رفت بہت جلد ہمارے اجتماعی دکھوں کا مدوا کر لے گی۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عمران خان اپنی افتاد طبع کی بدولت مقتدرہ اور پارلیمنٹ میں اپنے اتحادیوںکی حمایت کھو بیٹھے تھے لیکن اس کے زوال کی بنیادی وجہ اقتصادی پالیسیوں کی ناکامی تھی تاہم خان ایک جائز آئینی عمل کے ذریعے معزولی کے باوجود اسے اپنے خلاف امریکی مقتدرہ کی سازش کا شاخسانہ قرار دیکر عدم اعتماد کا حصہ بننے والے ممبران پارلیمنٹ کو غدار کہنے پہ مُصر ہیں،چنانچہ بعض تجزیہ کار نہایت باریک بینی کے ساتھ خان کے سازشی بیانیہ کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات،سول ملٹری توازن اور مجموعی طور پر ملک کے مستقبل پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے میں مشغول ہیں۔

سابق وزیر اعظم عمران خان نے سامراج اور امریکہ مخالف جذبات کو جس گھٹیا انداز میں گھسیٹ کر قومی سلامتی کا مسئلہ بنا کے اپنے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کو روکنے کی کوشش کی اسی نے انہیں ذہنی انتشار کی ایسی حد تک پہنچا دیا جو ہمیشہ اسے ذمہ دارانہ مناصب تک پہنچنے سے روکتی رہے گی۔خان کا دائیں بازو کی فرسودہ قوم پرستی کا برانڈ جن سازشی نظریات کو ہوا دے گا،ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو سمیت تیسری دنیا کے کئی زعماءایسے نعروں کو آزما چکے،جس کے نتائج ملک و قوم اور جمہوریت کے لئے کبھی خوشگوارنہیں نکلے۔ پی ٹی آئی کا آزاد خارجہ پالیسی کا سلوگن اعلیٰ  شہری طبقات اور اس نوجوان ووٹروں کے لبوں پہ رقصاں دکھائی دیتا ہے جنہیں آج بھی اپنا روشن مستقبل مغرب کی فلاحی ریاستوں میں نظر آتا ہے تاہم خان کی اس جسارت نے ہماری ریاستی مقتدرہ کو مشکل میں ضرور ڈال دیا جو امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں توازن کی خواہ تھی،ممکن ہے امریکی پالیسی ساز بھی ان الزامات کو مایوس کن سیاسی چالوں کے طور پر دیکھتے ہوں لیکن وہاں ان تضادات کو ہماری مملکت کے خلاف استعمال کرنے کی حکمت عملی بھی تیار ہو رہی ہو گی جس کے آثار ہمیں مغربی میڈیا میں پاکستان کے سیاسی بحران کو خاص رنگ دیکر پیش کرنے میں دکھائی دیتے ہیں۔

عمران خان نے فروری کے آخر میں ماسکو کا اعلیٰ سطحی دورہ کیا جس کی منصوبہ بندی روس کے یوکرین پر حملہ سے قبل کی گئی تھی تاکہ روسی توانائی کے ذخائر سے استفادہ کیا جا سکے۔لیکن اپنے خلاف اعتماد کی تحریک کی تیاریاں دیکھ کے خان کو اسی حساس دورہ کے استحصال کی سوجھی اگرچہ اس وقت روسی فوجیں مشرقی یوکرین میں داخل ہو چکی تھیں لیکن خان نے بظاہر واشنگٹن کی مخالفت میں اس سفر پہ اصرار کرکے ملک کومشکل میں ڈالنا ضروری سمجھا۔اسلام آباد ڈائیلاگ میں یوکرین کے بارے میں جنرل باجوہ کے بیانات کا مقصد واضح طور پر روس کے لئے دروازے کھلے رکھنے کے باوجود امریکہ کو انگیج رکھنا تھا لیکن خان اس معاملہ کو کوئی اور رنگ دینے کی لائن پہ چل نکلے،ہمیں امید ہے کہ نئے وزیر اعظم شہباز شریف ممکنہ طور پر روس سے رابطوں جیسے پیچیدہ معاملات میں الجھنے کی بجائے ان کانٹے دار مسائل کو فوج کے سپرد رکھیں گے۔افغانستان سے امریکی انخلاءکے بعد، امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ناگزیر سطح پہ توجاری رہے۔ لیکن پچھلے دو سالوں سے اس میں اعلیٰ سطحی انگیجمنٹ معدوم رہی۔

خان کے مسلسل الزامات اور تحریک عدم اعتماد میں امریکہ پہ ملوث ہونے کا الزام دھرنے والے پی ٹی آئی کے جاری احتجاج سے پاک امریکہ تعلقات مزید متاثر ہوں گے تاہم اب خان کے جانے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے پاس تعلقات کی بحالی کا موقع  موجود ہے،خاص طور پر آرمی چیف باجوہ اور وزیر اعظم شہباز شریف کی امریکہ اور چین دونوں کے ساتھ حقیقت پسندانہ اقتصادی لین دین پہ مبنی تعلقات کو برقرار رکھنے میں دلچسپی اچھی پیش رفت ثابت ہو گی۔عام خیال یہی ہے کہ اسلام آباد میں جائز آئین عمل کے ذریعے خان کی برطرفی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی غیرجانبداری  سے ممکن ہوئی جنہوں نے آئی ایس آئی کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان غیر جانبدار رہنے کا حکم دیا،خان کی طرف سے اس غیرجانبداری پہ سخت تنقید کی گئی جسے ان کے سیاسی مخالفین نے فوج کو سیاسی امور میں گھسیٹنے کی بھونڈی کوشش سے تعبیر کیا،مقتدرہ کی طرف سے مدد نہ ملنے کے بعد مایوسی کے عالم میں خان نے امریکہ کی طرف سے اپنی حکومت کی تبدیلی کے سازشی بیانیہ کا سہارا لیکر عدم اعتماد کے ووٹ کو روکنے کی کوشش میں سینئر فوجی قیادت کو مزید ناراض کردیا،فوج کے ترجمان نے خان کے ان دونوں فیصلوں سے خود کو الگ کر لیا۔

اسٹیبلشمنٹ کے خان کی حمایت سے پیچھے ہٹنے کی کئی  وجوہات ہوں گی جن میں پہلی فوج کی خان کے طرز حکمرانی بارے میں فکر مندی تھی،جیسے 2018 میں خان کے فوج کے نامزد کردہ سیاسی رہنما ہونے کے تاثر کے باعث فوج کی ساکھ اور موقف کو نقصان پہنچایا تھا،دوسرا ابتداءہی میںباجوہ اور خان کے درمیان خارجہ پالیسی پر اختلافات پیدا ہوئے،جن میں بھارت اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کوہینڈل کرنا زیادہ اہم تھا،شاید،جنرل باجوہ امریکہ اور روایتی حریف بھارت کے ساتھ تعلقات میں توازن چاہتے تھے تاکہ اسٹریٹجک چیلنجز اور معاشی پریشانیوں سے بچا جا سکے۔تاہم اس وقت شہباز شریف کی زیرقیادت نئی حکومت میں دو عوامل سول ملٹری ڈائنامکس کے لئے بہت اہم ہیں،پہلا نئی حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ سال کے آخر میں باجوہ کی جگہ آرمی چیف کون بنے گا،پاکستان میں فوجی تبدیلیاں ہمیشہ نازک رہیں،خاص طور پر اس بار کچھ زیادہ حساس ہوں گی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

یہ قابل فہم ہے کہ نئی حکومت باجوہ کی مدت میں ایک سال کی توسیع پہ اکتفا کر لے تاکہ اعتماد کے ووٹ کی طرح اگلے عام انتخابات میں بھی غیرجانبداری کی یقینی ضمانت مل سکے لیکن باجوہ کے لیے ایک اور توسیع لینا فوج کی اعلیٰ کمانڈ کو پریشان کر سکتی ہے،خاص طور پر وہ جرنیل جو اگلے چیف کے طور پر قطار میں ہیں، زیادہ امکان متفقہ آرمی چیف کی تقرری کا ہے تاہم دونوں صورتوں میں یہ تقرری پاکستان کے اندرونی استحکام اور باقی دنیا کے ساتھ تعلقات کی تدوین میں اہمیت کی حامل ہوگی۔میرے خیال میں ہماری حقیقی قومی آزادی افغانستان سے امریکی فورسیسز کے انخلاءکے بعد ممکن ہوئی،اگست 1947 میں ہمیں مملکت تو مل گئی لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران ہی برصغیر پہ امریکہ غلبہ نے نوزائیدہ مملکت کو ہر وقت پابا جولاں رکھا لیکن ستّر کی دہائی میں سقوط ڈھاکہ سمیت ابھرنے والے کئی واقعات کی بدولت ہماری فوجی و سیاسی لیڈرشپ نے بتدریج امریکی تسلط کے خلاف خاموش مزاحمت کی ابتداءکی جس کی قیمت ہم نے بھٹو کی پھانسی اور درجن بھر جرنیلوں سمیت آرمی چیف ضیا الحق کی موت کی صورت میں ادا کی تھی لیکن ذولفقار علی بھٹو سے لیکر بے نظیر اورنوازشریف تک اور جنرل ضیاالحق سے لیکر جنرل باجوہ تک ہماری قومی و عسکری قیادت نے بلآخر امریکہ کے خونی پنجوں سے مملکت کو نجات دلانے میں کامیابی پا لی ہے چنانچہ اس وقت ہماری مقتدرہ کی یونیٹی آف کمانڈ ہی امریکی انتقام کا حتمی ہدف بن گئی ہے۔ یہی وجہ ہے جو یہ ہماری سیاسی تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ کسی وزیر اعظم کو خارجی عوامل کے بجائے عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ہٹایا گیا۔سیاسی بحران کا آئینی حل اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی ساختہ”نظریہ ضرورت“ کے تحت بغاوتوں کا زمانہ ہمیشہ کے لئے لد چکا ہے۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply