تیونس کا روایتی رمضان و دسترخوان ۔۔منصور ندیم

تونس اصلی نام ہے ،انگریزی میں Tunisia اور فرانس کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے اکثر اسے اردو میں انگریزی و فرانسیسی لفظ کے زیر اثر ادائیگی میں تیونس ہی کہا جاتا ہے، تو میں بھی تیونس ہی لکھ رہا ہوں، یہ شمالی افریقہ میں بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ملک ہے۔ تیونس اُن ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، جو کوہ اطلس کے گردو نواح میں واقع ہیں۔ اس کی سرحدیں مغرب میں الجزائر اور جنوب مشرق میں لیبیا سے ملتی ہیں۔ ملک کا تقریباً چالیس (۴۰ ٪ ) فی صد حصہ صحرائے اعظم پر مشتمل ہے جبکہ زیادہ تر باقی ماندہ علاقہ زرخیز زمینوں اور اس کے علاوہ تقریباً (۱۳۰۰) تیرہ سو کلومیٹر طویل ساحلی علاقوں پر مشتمل ہے۔ تیونس کی آبادی میں (۹۸ ٪) عرب و بربر ہیں، (۱ ٪) یورپی اور (۱ ٪) آبادی یہودی و دیگر پر مشتمل ہے,

تاریخی اعتبار سے قبل از اسلام تیونس کی ابتداء بربر قبائل سے ہوئی ٹھی، قبل مسیح یونان پھر رومن کئی تہذیبوں کے زیر تسلط رہا، ساتویں صدی عیسوی میں عرب مسلمانوں نے اس خطے کو بھی فتح کرلیا تھا اور یہاں پر قیروان کی بنیاد رکھی۔ یہ علاقہ خلافت امویہ کے دور میں مشہور جرنیل عقبہ بن نافع نے فتح کیا تھا، تب سے یہاں اسلامی تہذیب کا آغاز ہوا تھا، تیونس میں بھی رمضان کا مہینہ تمام ہی مسلمان ملکوں جیسا ہی ہے تیونس کے لوگ رمضان کے رسم و رواج کا اہتمام کرتے ہیں، رمضان کا مہینہ تیونس کے خاندانوں کے ہاں رمضان مبارک کی پرانی روایتوں اور رسم و رواج کے احیاء کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ افطار دسترخوان پر اہل خانہ کا اجتماع اہل تیونس کی بڑی پرانی روایت ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

تیونس میں پہلا روزہ گھر پر افطار کرنے کی روایت ہے۔ اگلے روزے سے افطار ضیافت کے سلسلے شروع ہوجاتے ہیں۔ رمضان کے باقی ماندہ تمام ایام خاندان کے کسی نہ کسی رشتہ دار کے یہاں روزہ افطار کیا جاتا ہے۔ تیونس میں انواع و اقسام کے سوپ رمضان دستر خوان کی خاص پہچان ہیں۔ ان میں سے ایک سوپ لسان العصفورہ کہلاتا ہے۔ جس میں مرغی کے سینے کے ٹکڑے جو ہڈی سے خالی ہوتے ہیں اور ایک سبزی سے تیار ہوتا ہے۔اس کے علاوہ پسندیدہ ترین سبزیوں کا سوپ اور دلیے سوپ ہوتا ہے۔ جو کھجوروں اور پانی کے ساتھ تیونسی افطار دسترخوان کا لازمی جز ہوتا ہے۔ تیونس کے مشہور پکوانوں میں الکسکسی بھی ہے۔ یہ جو کے آٹے یا مکئی کے آٹے سے تیار کیا جاتا ہے۔ دانوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس میں گوشت اور سبزیاں شامل ہوتی ہیں جبکہ اس کے ہمراہ ٹماٹر کے ساتھ انڈے کی ڈش بھی رکھی جاتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

رمضان المبارک میں دیگر اسلامی ممالک کی طرح مسجدیں تراویح کے بعد تک کھلی رہتی ہیں۔ غریبوں، ناداروں اور بغیر فیملی والوں کے افطار کا انتظام پڑوسیوں کی ذمہ داری سمجھیں جاتی ہے۔ تیونس میں افطاری کی تیاری کی اشیاء کے لئے افطار کا سامان مغرب سے پہلے خریدنے کا رواج ہے، کیونکہ تازہ دودھ اور (لبن) لسی تیونس میں بہت شوق سے استعمال کی جاتی یے۔ تیونس میں بھی رمضان کا ایک اہم جز مٹھائیوں کا لازمی رواج ہے۔ کئی مقامی طرز کے میٹھے پکوان اور ہمہ اقسام کی مٹھائیاں ہوتی ہیں۔ بیشتر مٹھائیاں قہوے کے ساتھ سحری میں کھائی جاتی ہیں۔ تیونس میں بھی رمضان المبارک کی اکثر رسمیں وہی ہیں جو عرب اور مسلم دنیا کے بیشتر ملکوں میں پائی جاتی ہیں جیسے “المساحراتی” وقت سحور ڈھول یا گیت گا کر جگانا، اور رات میں بازار لگنا وغیرہ۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply