• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • جرمنی میں مہنگائی نے 41 سال کا ریکارڈ توڑ دیا، کہرام مچ گیا

جرمنی میں مہنگائی نے 41 سال کا ریکارڈ توڑ دیا، کہرام مچ گیا

جرمنی میں تین دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد خوراک اور ایندھن جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف یورپی مرکزی بینک کے تئیں عام لوگوں کا غصہ بڑھ رہا ہے بلکہ بچت پر اصرار کرنے والے بھی خوف زدہ دکھائی دے رہے ہیں۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق جرمنی میں مہنگائی کی شرح میں 7 فیصد اضافے نے اس ملک میں کھلبلی مچا دی ہے۔ روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف خصوصی فوجی آپریشن شروع کرنے کے بعد امریکا سمیت یورپی ممالک نے ماسکو پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ روس کے خلاف مغربی ممالک کے اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ اقتصادی شعبوں بالخصوص تیل اور گیس کے شعبے پر روس کی بڑھتی ہوئی پابندیوں سے مغربی ممالک اور توانائی کی عالمی منڈی کی اقتصادی حالت میں اضافہ ہو گا اور وہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو جائیں گے۔ دریں اثنا، وفاقی ادارہ شماریات نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں گزشتہ ماہ مہنگائی کی شرح 7.3 فیصد بتائی ہے۔ مہنگائی کی شرح میں سب سے زیادہ اضافہ 1981 میں خلیج فارس کی جنگ اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے دونوں جرمنیوں کے دوبارہ اتحاد سے پہلے ریکارڈ کیا گیا تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors
FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

احتجاج
قابل ذکر ہے کہ اس وقت نہ صرف جرمنی بلکہ پورے یورپ میں بجلی، خوراک اور کرایہ جیسی چیزوں کی قیمتوں میں اندھا دھند اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپ میں مہنگائی ہر سال پانچ سے پانچ فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ جرمن معیشت پر ایک رپورٹ میں اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2021 کے دوران زندگی گزارنے کی لاگت میں صرف 3.1 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ توانائی کی اونچی قیمتوں کے علاوہ سپلائی چین میں رکاوٹ تھی جو کہ کورونا وبا کے بعد روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے ساتھ ساتھ اس ملک میں طویل ویلیو ایڈڈ ٹیکس پر دی گئی چھوٹ کے خاتمے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ اس میں اس کا بھی ہاتھ ہے۔ یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی نے 1993 کے بعد اتنی افراط زر کبھی نہیں دیکھی تھی۔ جس میں جرمنی کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے اخبار ‘بلڈ’ نے اس کا الزام یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) پر لگایا ہے۔ اخبار کے مطابق بینک قیمتیں مستحکم رکھنے میں ناکام رہا اور اس کی ‘سستے پیسے کی پالیسی’ نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ آسان الفاظ میں، سستی کرنسی کی پالیسی میں، رقم یا کسی چیز کو بڑھا کر مہنگائی کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply