بریٹن وڈ سے پیٹرو ڈالر تک کا سفر 2

ڈالر یا پیٹرو ڈالر کی دوسری سٹیج افغان جنگ کے بعد آئی ،سوویت یونین کا انہدام ہوچکا تھا اور یہ سرمایہ داری کی تاریخ کا بہت اہم واقع تھا۔ جس طرح کارل مارکس نے اپنی تھیوری میں سرمائے اور محنت کی کشمکش میں محنت کی حتمی فتح کی پیشین گوئی کی تھی اسی طرز پہ دنیا کے تجارتی نظام کے خون یعنی ڈالر کو کنٹرول کرنے والوں نے سمجھا کہ بات الٹ گئی ہے اور سرمایہ داری کی حتمی فتح ہوگئی ہے۔ جس کی جھلک فوکویاما کے تاریخ کے اختتام کے فلسفہ سے ملتی ہے۔ اور سمجھا گیا کہ سرمایہ اب آزاد ہے مکمل طور پہ آزاد!
اس نے نیو لبرل تھیوری کو جنم دیا۔ کلاسیکی سرمایہ داری ریاست کو ضروری برائی سمجھتی تھی لیکن اس سے مکمل طور پہ انکاری نہ تھی لیکن نیو لبرل تھیوری ریاست کا انکار کرکے ریاست کو اپنا دشمن سمجھ رہی تھی۔
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ دیگر ملکوں کے برعکس اینگلو سیکسن یا انگریزی بولنے والے ملکوں کے معاشی نظام میں نوٹ چھاپنے والا بینک حکومتی ملکیت میں نہیں ہوتا جس طرح پاکستان یا دیگر ملکوں کے بینک نوٹ پہ حکومتی گارنٹی ہوتی ہے کہ حامل ہذا کو مطالبہ پہ ادا کرے گا۔ ڈالر پہ حکومتی گارنٹی کا کوئی وعدہ نہیں۔ امریکن فیڈرل ریزرو بینک خود اپنا ذمہ دار ہے۔ اس پہ امریکی حکومت کا کنٹرول صرف اتنا ہے کہ بینک کا چیئرمین نامزد کرسکتا ہے موجود باڈی میں سے لیکن باڈی سے باہر سے نہیں لا سکتا۔ دراصل امریکہ کے پرائیویٹ بینکوں کا ا یک کنسورشیم ہے جو فیڈرل بینک کا مالک اور تشکیل کنندہ ہے۔ البتہ جو اضافی فائدہ اس کنسورشیم کو ہے وہ یہ کہ انہیں کم یا زیادہ نوٹ چھاپنے کے لئے امریکی حکومت کی اجازت کی ضرورت نہیں۔
۱۹۹۵ ایک تاریخ ساز سال تھا جب بل کلنٹن نے ڈبلیو ٹی او کی وکالت شروع کی اور ساری دنیا اس پہ دستخط کرتی گئی۔ تب یہ کہا گیا اس ضخیم دستاویز کی درست طور پہ شائد ہی کسی کو سمجھ آئی ہو لیکن سب نے دستخط کئے۔ شائد چین اسے درست طور پہ اور مکمل طور پہ سمجھ گیا۔ سابقہ روس نے بھی بخوشی دستخط کئے۔
اس کے بعد دنیا ایک نئے عہد میں داخل ہوئی تھی، حکومتی سرمایہ کاری اور ریاست اب عالمی پرائیویٹ سرمایہ کے رحم و کرم پہ تھی۔ اگلا موڑ نئی افغان جنگ سے ملا۔ اب امریکی ریاست جنگ پہ بے پناہ خرچ کررہی تھی سات ٹریلینز ڈالر کا خرچہ تھا لیکن نہ تو امریکہ نے کوئی نئے ٹیکس لگائے اس خرچہ کو پورا کرنے کے لئے اور نہ ہی کوئی غیر معمولی قرضہ جات لئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس جنگ کے دوران معیشت بھی کسی گراوٹ کا شکار نہ ہوئی جیسا کہ ہر جگہ جنگ زدہ ملک میں ہوجاتا ہے۔ بلکہ معیشت بھی زوروں پہ رہی تو کیا راز تھا اس میں؟
یہاں ڈالر کو چھاپ کے اس کا افراط زر دنیا پہ تقسیم کرکے یہ جنگیں لڑی گئیں۔ لیکن امریکی ریاست کا اس میں قصور نہ تھا اور نہ وہ اس کی ذمہ دار تھی۔ ایک گٹھ جوڑ موجود تھا امریکی اسلحہ ساز پرائیویٹ فرموں، بینکوں، بش جیسے کرپٹ کٹھ پتلی سیاستدانوں، اور میڈیا کا جو علمی سطح پہ نیولبرل تھیوری پھیلا رہا تھا اور جارج سوروس جیسے کرنسی کی سٹہ بازی کرنے والے سرمایہ دار اس کے پروپیگنڈہ میں مصروف تھے۔ یہ عالمی سطح پہ سرمایہ کاری کرنے والا گٹھ جوڑ تھا جو حکومتوں سے بے نیاز تھا اور ریاستوں یا ریاستی اداروں کو منہدم کرنے میں مصروف تھا۔
دنیا اس سے بے نیاز ہوکے ڈالر کمانے میں مصروف تھی۔ لیکن خود امریکہ کی معیشت کا دم پھولنا شروع ہوگیا اس افراط زر پہ جب ضرورت سے زیادہ ڈالر چھپا تو افراط زر کے بحران نے خود بینکوں کو ہی لپیٹ میں لے لیا۔ بینک اس عارضی مصنوعی معیشت پہ مسلسل سٹہ بازی کرتے رہے تاآنکہ صارف کی قوت خرید جواب دے گئی اور اس مصنوعی معیشت کا تاش کے پتوں کا گھر بکھرنا شروع ہوا یہ ۲۰۰۸ کا معاشی بحران تھا جس سے مغربی دنیا اب بھی سنبھلی نہیں۔
امریکی قرضہ کا بحران اتنا بڑا تھا کہ یکدم بہت ڈالر چھاپنے سے خود ڈالر ہی مشکوک ہوجاتا تو اس نے چین سے بہت بھاری قرضہ لیا۔ یہ ۲۰۰۹ کی بات ہے جب اگلا تاریخی فیصلہ ہوا اور چین نے قرضہ دینے کے لئے فیڈرل ریزرو بینک کی ضمانت قبول کرنے سے انکار کردیا اور امریکی ریاست کی ضمانت مانگی۔ موڈیز کی لسٹ میں دیکھا جائے تو اس وقت امریکہ کی معیشت کا گراف یقیناً پاکستان کو پہنچ رہا تھا لیکن ان باتوں پہ خاموشی ہوتی ہے۔ امریکہ سب کچھ کھو چکا تھا اس کی معیشت، اس کی صنعت اور اس کا کاروبار ،امریکی ریاست کے پاس صرف ٹیکنالوجی اور فوجی طاقت تھی، وہی کچھ جو سوویت یونین کے پاس بکھرنے سے قبل تھا۔ لیکن چین کا بھی اپنا مسئلہ تھا چین کے پاس امریکہ سے کہیں زیادہ ڈالر کا ڈھیر موجود تھا۔ چین اگر چاہتا تو ڈالر کوبیک جنبش کاغذ کا ٹکڑا قرار دے کے مسترد کردیتا لیکن یہ اتنا آسان نہ تھا۔ اس میں امریکی ریاست تو زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا ہوجاتی لیکن چین کا اپنا نقصان بھی تھا۔ ادھر مغرب میں روس نئے سرے سے انگڑائی لے رہا تھا۔
یہ ۲۰۰۹ تھا اس کے بعد دنیا میں ڈالر کس طرح ہے اور آگے کیا؟
یہ انشااللہ اگلی قسط میں جون یا جولائی تک

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *