جمہوریت یا نراجیت؟۔۔اسلم اعوان

سپریم کورٹ نے چھ دن کی سماعت کے بعد بلآخر قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی متنازع رولنگ کو آئین سے متصادم قراردیکر منسوخ اور وزیراعظم عمران خان کے اسمبلی تحلیل کرکے قبل از وقت انتخابات کرانے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا،عدالت اعظمی کے پانچ رکنی بنچ نے اپوزیشن کی طرف سے ریکوزٹ اجلاس کو دوبارہ بحال کرکے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کا حکم بھی دیا۔یہ آئینی بحران گزشتہ ہفتے اس وقت شروع ہوا جب خان صاحب نے پارلیمانی اکثریت کھو دینے کے بعد تحریک عدم اعتماد کا کھلے دل سے سامنا کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے متذکرہ تحریک کو غیر ملکی سازش کا شاخسانہ قرار دیکر مسترد کرانے کے ساتھ ہی قومی اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کرانے کا ناقوس بجایا تھا۔اسی تعطل نے 220 ملین آبادی کے حامل ملک کا رخ ایسے آئینی بحران کی طرف موڑ دیا جو کسی بڑے تصادم کو وسیلہ بن سکتا تھا تاہم اپوزیشن کی کہنہ مشق قیادت نے سپریم کورٹ سے رجوع کرکے ڈپٹی اسپیکر کے متنازعہ اقدام کی تشریح مانگی تو عدالت اعظمی نے فریقین کو سننے کے بعد گورنمنٹ کی پیش دستی کو آئین سے متصادم قرار دیکر واپس پلٹ دیا۔

بلاشبہ ہمارا ملک اس وقت اپنی تاریخ کے جس نازک ترین مرحلہ سے گزر رہا ہے اس کے محرکات کی علت و معلول نہایت واضح ہیں،یہ وہی طرز عمل ہے جسے ہم پچھلے 74 سالوں میں بار بار دہراتے رہے ہیں لیکن اب چونکہ وقت،حالات اور عالمی قوتوں کے مفادات بدل چکا ہیں اس لئے ماضی کی ایسی مہمات کے جمع شدہ تمام مضمرات بھی ہمارے تعاقب میں نکل آئے ہیں۔بادی النظری میں یہی لگتا ہے کہ جولائی دو ہزارہ اٹھارہ کے الیکشن میں زور زبردستی سے استوار کئے گئے بندوبست کا پُرشکوہ ڈھانچہ ٹھہر نہیں سکا اور اس مصنوعی نظام کا سارا ملبہ اسے بنانے والے معماروں کے سر پہ آن گرا ہے۔عمران کے لانے والوں کو امید دلائی گئی تھی کہ خان کے ذریعے عالمی مالیاتی ادارے اور مغربی طاقتیں ملکی معیشت کو سہارا دینے کے علاوہ جنگ دہشتگردی سے برباد ہونے والے بنیادی ڈھانچہ کو کھڑا کرنے میں مدد دیں گی لیکن یہ وعدے دراصل ٹریپ ثابت ہوئے کیونکہ افغانستان میں امریکی شکست کا بدلہ چکانے کی خاطر مغربی طاقتیں واحد مسلم ایٹمی ملک کو ایسے معاشی و سیاسی عدم استحکام تک پہنچانا چاہتی ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔چنانچہ مغرب کے دسیسہ کاروں کے فریب میں آ کر ارباب بست و کشاد نے ہماری نازک مملکت کو ایسے شخص کے سپردکر دیا جس کی صلاحتیں اور ذہنی استعداد مملکت کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ تھیں،فی الوقت اسی آشوب نے ہماری سکیورٹی اور سیاسی اشرافیہ کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے،اس وقت کی پوری جدلیات اسی کیفیت سے نکلنے کی مساعی کے گرد گھومتی ہے۔عدم اعتمادکے اس تازہ آزمائش میں اتارنے کے لئے نوازشریف جیسے کہنہ مشق سیاستدان کو برطانوی اشرافیہ کے ذریعے اور مولانا فضل الرحمن کو آصف علی زرداری کے ذریعے مینیج کرکے ایسے گھوڑے پہ سوار کرایا گیا جس کی باگیں ان کے ہاتھ نہیں تھیں تاہم عمران خان اپنی بقاءکی خاطر باونڈی کراس کرکے ملک کو ایسے آئینی بحران میں دھکیل دیا جس سے نکلنا دشوار ہوگیا تھا،چنانچہ اپنی افتاد طبع کے عین مطابق عمران نے ملکی سلامتی کے تقاضوں اور مملکت کے مجموعی مفادات کو پس پشت ڈال کے ایسی مہم جوئی کی راہ چن لی جس نے سیاسی و عسکری قیادت ،عدلیہ،انتظامیہ اور مقننہ کو دو راہے پہ لا کھڑا کیا لیکن عدالت اعظمی کی جانب سے آئینی اصولوں کے مطابق فیصلہ آنے کے بعد سیاسی عمل کی اس ریل کو دوبارہ پٹڑی پہ چڑھا لیا گیا جسے نامطلوب سیاسی کشمکش نے ٹریک سے اتار دیا تھا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

امر واقعہ یہ ہے کہ ہماری تقدیرکے مالک سیاست دانوں،سول و ملٹری بیوروکریسی اور صنعت کاروںکی اولادیں،مفادات اور مالی وسائل مغربی ممالک میں”محفوط“ہیں،اس لئے یوروپ اور امریکہ کا ہماری فیصلہ سازی کی جہتوں پہ اثرانداز ہونا قرین قیاس ہے،عالمی سطح پہ قوم کی نمائندگی کرنے والی کلاس کو ذاتی مفادات مغربی طاقتوں کے عزائم کے خلاف عقلی و نفسیاتی مزاحمت سے روک لیتے ہیں۔پچھلے ساڑھے تین سالوں میں عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے ہماری مملکت کو معاشی مسائل کے دلدل میں اتار کے کنٹرول کرنے کا مقصد یہی تھاکہ ایٹمی مملکت کی بقاءکو اُن عالمی مالیاتی اداروں کی منشا سے معلق رکھا جائے جنہیں مغرب کنٹرول کرتا ہے،چنانچہ موجودہ سیاسی ہلچل مملکت پہ پہلے سے منڈلاتے خطرات میں اضافہ اور ملک کے بانڈز اور کرنسی میں مزید نقصانات کو جنم دینے جیسے خطرات کو بڑھا رہی ہے۔

اس وقت آئی ایم ایف ہماری مقتدرہ کو خان کی ساری لن ترانیوں کونظر اندازکرنے پہ مجبور کرسکتی ہے بصورت دیگر عالمی مالیاتی ادارے ملک کو ڈیفالٹ کے ایسے خطرہ سے دوچار کر دیں گے،جسے پانچ سالہ کریڈٹ ڈیفالٹ سویپ سے ماپا جاتا ہے،جو پچھلے مہینے تقریباً دوگنا ہونے کے علاوہ 2013 کے بعد سب سے زیادہ گہرا ہوا ہے۔ایک ماہ کا روپیہ جمعرات کو 3.1 فیصد گرنے کے بعد جمعہ کو 0.7 فیصد مزیدگر کر 189.25 پر آگیا۔عالمی اداروں کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق،دسمبر میں ملک کے 5.625 فیصد ڈالر کے بانڈز اس سال پہلے ہی 5 فیصد کم ہو چکے ہیں۔آئی ایم ایف کے معاون”ماہرین“اقتصادیات کہتے ہیں ”مارکیٹ عدم اعتماد کے ووٹ کے باعث معقول حد تک پریشان ہے کیونکہ خان کی برطرفی سے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے اور آئی ایم ایف پروگرام کو نقصان پہنچ سکتا ہے“۔انہوں نے کہا کہ جون کے آخر تک روپیہ 200 فی ڈالر تک گرنے کا امکان ہے۔روپیہ پہلے ہی اس سال 5 فیصد سے زیادہ گر کر ریکارڈ کم ترین سطح پہ آچکا ہے۔کرنسی کی مسلسل گراوٹ نے درآمدات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے فروری میں مہنگائی کی سالانہ شرح کو 12.2 فیصد تک بڑھانے میں مدد دی۔

گزشتہ ماہ سے آئی ایم ایف کے ساتھ جس پروگرام پہ بات چیت جاری ہے اسے ستمبر تک” مکمل“کرنے کاعزم ظاہر کیا گیا۔مغربی تجزیہ کار اپنے تحقیقی نوٹس میں لکھتے ہیں کہ پاکستان اس غیریقینی سیاسی صورت حال میں آئی ایم ایف پروگرام سے کیسے رجوع کرے گا؟پاکستان بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاونٹ خسارے کی وجہ سے نچلی سطح تک اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے آشوب میں ڈوب رہا ہے۔ایونیو ایسٹ مینجمنٹ کے مطابق پاکستانی معشت جو عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتوں کا شکار ہے،کو اس وقت صرف ایسا سیاسی سیزفائر ہی مہنگائی کی چوٹ سے بچائے گا جو پاکستان کے عدم اعتماد کے ووٹ کے کریڈٹ پر اثر انداز ہو سکتا ہو،یہ دراصل عمرانی گورنمنٹ کو اپوزیشن کی سیاسی یلغار سے بچانے کی بلواسطہ تجویز تھی جسے سنا اور سمجھا بھی گیا،شاید اسی کے پیش نظر کچھ مصلحت کوش لوگ اپوزیشن سے کوئی درمیانہ راستے نکلنے کی تجاویز پہ بات چیت کرتے رہے۔ہانگ کانگ میں ایونیو ایسٹ مینجمنٹ کے فکسڈ انکم کے سربراہ کارل وونگ نے انتہائی نرم الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ”حکومت میں ممکنہ تبدیلی آئی ایم ایف کی فنڈنگ کوخطرے میں ڈال سکتی ہے“۔

علی ہذالقیاس،تین اپریل کو پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے مبینہ رجیم چینج سازش کو جواز بنا کرغیر آئینی طریقہ سے خان کے خلاف اس تحریک عدم اعتماد کومستردکیا جس میں عمران کی شکست یقینی نظر آتی تھی۔ملک کے چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ چھ روز تک کیس کی سماعت کرنے کے بعد اس نتیجہ پہ پہنچا کہ غیرآئینی عمل کی واپسی کے سوا کوئی دوسری راہ عمل موجود نہیں ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ خان کے اس اقدام پر عدالتی فیصلہ قومی سلامتی اور آئینی نظام کے مستقبل پہ گہرے اثرات مرتب کرے گا کیونکہ یہ پہلی بار ہوا تھا کہ کسی سویلین حکمراں نے آئینی حدود کو توڑ کے ملک کو ناقابل برداشت سیاسی بحران میں دھکیلا تھا۔عدم اعتماد کے ووٹ کو روکنے کے اقدام کے خلاف عدالتی فیصلہ حکومت کے مابعد فیصلوں بشمول اسمبلی کی تحلیل اور 90 دنوں کے اندر انتخابات کرانے کو بھی کالعدم کرگیا۔اس صورت حال میں پارلیمنٹ کا ایوان زیریں بحال اور خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پہ کاروائی آگے بڑھائی جائے گی،اگر خان اعتماد کا ووٹ کھو دیتے ہیں،جس کی توقع ہے تو اپوزیشن شہباز شریف کو وزیر اعظم منتخب کرکے اگست 2023 کے عام انتخابات تک اقتدار سنبھال سکتی ہے تاہم اقتدار کی منتقلی کا ہموار عمل ہی ہماری نجات کی راہیں کھول سکتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

اپوزیشن یہ بھی کہتی ہے کہ وہ قبل از وقت انتخابات چاہتی تھی لیکن غداری کے مبینہ الزامات کی تحقیق اورغیر آئینی عمل کی واپسی کے ذریعے خان کو سیاسی شکست دینے کے علاوہ انتخابی اصلاحات کے بعد ہی اگلے عام انتخابات کے شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انعقاد کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔اپوزیشن کا الزام ہے کہ 2018 کے انتخابات میں خان جیتے نہیں بلکہ جتوائے گئے۔خان کے خلاف عدالتی فیصلہ آئین کی پامالی کے جرم میں 69 سالہ عمران کے علاوہ پارٹی کے اہم ارکان کے خلاف قانونی کارروائی کا دروازہ کھول چکا ہے۔انتہائی صورت میں،یہ اگلے انتخابات سے خان کی نااہلی کا باعث بھی بن سکتا ہے،جیسا کہ 2012 اور 2017 میں دو سابق وزرائے اعظم،یوسف رضا گیلانی اور نوازشریف،کے ساتھ ہوا۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply