• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • بھارتی ریاست کرناٹک میں پھلوں کے مسلمان تاجروں کے بائیکاٹ کی کال

بھارتی ریاست کرناٹک میں پھلوں کے مسلمان تاجروں کے بائیکاٹ کی کال

بھارت میں اقلیتوں پر مسلسل حملوں کے درمیان اب خبر ہے کہ ہندو تنظیم شری رام سینا نے مسلمان پھلوں کے تاجروں کے بائیکاٹ کی کال دی ہے۔

اس سے قبل بھارتی ریاست کرناٹک میں اذان، حلال گوشت اور برقعے کے لیے مساجد کے لاؤڈ اسپیکر پر تنازعہ ہوا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

شری رام سینا کا الزام ہے کہ ‘آموں کی ہول سیل مارکیٹ میں مسلم تاجروں کا غلبہ ہے جو ہندو کسانوں کو پھل خریدنے کا انتظار کرواتے ہیں اور پھر سستے دام طے کر کے آدھی رات کو آم خریدتے ہیں۔

سری راما سینا کے سدھالنگسوامی نے کہا کہ یہ صرف کولار ضلع کی آم منڈی تک ہی محدود نہیں ہے، جو ریاست کی سب سے بڑی آم منڈی بھی ہے، بلکہ صوبے کی سبزی منڈیوں میں بھی یہی حال ہے۔ مثال کے طور پر الند، بیدر کے اضلاع میں 50 فیصد تاجر مسلمان اور 50 فیصد ہندو ہیں۔ مسلمان تاجر غریب ہندو خواتین سبزی فروشوں کو بازار سے باہر دھکیلنے کی دھمکی دیتے ہیں۔

سری راما سینا جنوری 2009 میں اس وقت سرخیوں میں آئی جب منگلورو کے ایک پب میں اس کے کارکنوں نے خواتین پر ان کے اہل خانہ کے ساتھ حملہ کیا، تب سے یہ تنظیم ویلنٹائن ڈے منانے کے خلاف سمیت کئی مسائل پر احتجاج کر رہی ہے۔ شری رام سینا کا مظاہرہ جاری ہے۔

حال ہی میں شری رام سینا نے مساجد سے اذان دینے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تنظیم پھل اور سبزی منڈیوں میں ہندوؤں کو متعارف کرانے کی مہم بھی چلا رہی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان بازاروں میں مسلم تاجروں کی تعداد زیادہ ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

شری رام سینا کے رہنما پرمود متالک نے کہا کہ حلال گوشت کے حوالے سے مہم اس لیے شروع کی گئی کہ یہ سب مسلمانوں نے حجاب تنازع سے شروع کیا، انہوں نے کہا کہ وہ حجاب کے تنازع کو لے کر عدالت گئے اور جب فیصلہ آیا تو وہ آئین کے خلاف تھا۔ قدم اٹھانے لگے۔ انہوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کی۔ ہم صرف ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply