• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • یوکرین کے فوجیوں نے یرغمال روسی فوجیوں کو کیسے قتل کیا؟

یوکرین کے فوجیوں نے یرغمال روسی فوجیوں کو کیسے قتل کیا؟

سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یوکرائنی فوجیوں کا ایک گروپ یرغمال روسی فوجیوں کو مار مار کر ہلاک کر رہا ہے جبکہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ ان تصاویر کی درستگی کی تصدیق کرنے والے میڈیا میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز بھی شامل ہے اور ان تصاویر میں یوکرینی فوجیوں کو دارالحکومت کیف کے مغرب میں واقع ایک گاؤں میں یرغمال بنائے گئے روسی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ان تصاویر میں یوکرین کے ایک فوجی کی آواز سنی جا سکتی ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ وہ روسی فوجی ابھی زندہ ہے، ان ڈاکوؤں کی فلم بنائیں، وہ ابھی سانس لے رہا ہے۔ ادھر یوکرین کے ایک اور فوجی کا کہنا ہے کہ روسی فوجی ابھی زندہ ہے، اس کے بعد یوکرین کے ایک فوجی نے یرغمال بنائے گئے روسی فوجی پر دو بار فائرنگ کی، لیکن یوکرائنی فوجی اس پر بس نہیں ہوا اور جب گولی لگنے کے بعد روسی فوجی کا جسم جھول گیا۔ ، یوکرائنی فوجی نے دوبارہ اس پر دو بار گولی چلائی۔

اسی طرح ان تصاویر میں تین دیگر روسی فوجیوں کی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں جنہیں یرغمال بنا کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان تصاویر میں یوکرین کے ایک اور فوجی کی آواز سنائی دے رہی ہے کہ یہ تمام روسی فوجی انسان بھی نہیں ہیں۔ یہ ویڈیو یوکرین کے شہر بوچا سے 10 کلومیٹر شمال میں واقع ایک گاؤں میں بنائی گئی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

حالیہ دنوں میں بوچا شہر میں ہلاک ہونے والے 410 افراد کی تصاویر سامنے آئی ہیں اور روسی فوجیوں کو ان ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جب کہ روس نے اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزام نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ پہلے سے بنائے گئے ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں۔ .

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply