روس یوکرین مذاکرات۔۔اسلم اعوان

روس اور یوکرین کے مابین ترکی کے شہر استنبول میں جاری مذاکرات پر بدستور بے یقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں اس لئے بات چیت کے مثبت نتائج کی توقع دن بدن کم ہوتی جائے گی،کم و بیش تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی بات چیت بارے بہت کم لیک کیا گیا،ان مذاکرات کے کچھ اہم نکات اس وقت واضح ہوئے جب یوکرائنی وفد کے ارکان نے متوقع تکمیل سے ایک گھنٹہ قبل باہر نکل کے بتایا کہ انہوں نے یوکرین کی سلامتی کی ضمانتوں کے عوض روس کو تجویز دی کہ غیر جانبدار حیثیت کا حامل ایسا بین الاقوامی طریقہ کار جس میں ضامن ممالک مستقبل میں یوکرین کے تحفظ کا طریقہ کار متعین کریں،بدلے میں کیف روسی مطالبہ کی تکمیل کی خاطر نیٹو میں شمولیت کی ارادہ سے دستبردار ہوجائے گا۔

اگرچہ یوکرین کی طرف سے یہ کوئی نیا عہد نہیں تھا لیکن اسے پہلی بار نہایت وضاحت سے بیان کیا گیا۔مگر یورپ میں اس وقت جنگ سے بھی زیادہ مہیب مسئلہ فریقین کے مابین پائی جانے والی بداعتمادی کی وہ خلیج ہے جو دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔یوکرین پہ حملہ کے وقت اور اس سے بہت پہلے صدر پوتن نہایت واشگاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ وہ محض وعدوں پہ نہیں بلکہ نیٹو میں یوکرین کی عدم شمولیت کی ٹھوس قانونی ضمانتوں کے بغیر جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے لیکن امریکہ سمیت نیٹو ممالک ایسی قانونی ضمانتوں کی فراہمی سے ہچکچاتے رہے جو روسی جارحیت کی راہ روک سکتی تھیں، اب میدان جنگ میں بالادستی حاصل کر لینے کے بعد روسی سکیورٹی اشرافیہ کی توجہ کا محور جنگ بندی کے کسی بھی معاہدہ تک پہنچنے سے قبل زیلنسکی رجیم کی تبدیلی بن گیا،اس لئے یوکرین میں ولادیمیر زیلنسکی حکومت کی موجودگی میں جنگ بندی معاہدہ کا امکان بعید ازقیاس نظر آتا ہے۔لیکن اس کے باوجود نیٹو ممالک فی الحال،روس کے بنیادی تحفظات کی خاطر ٹھوس ضمانتیں مہیا کئے بغیر جنگ بندی کی راہیں تلاش کرنے میں سرگرداں ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یوروپ اگر کسی بڑی جنگ کی تباہ کاریوں سے بچنا چاہتا ہے تو اسے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کے سوچ سے دستبردای کے علاوہ زیلنسکی گورنمنٹ کی قربانی دینا پڑے گی بصورت دیگر یہ تنازع  پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ زیلنسکی نے شمالی یوکرین میں فوجی سرگرمیوں کوکم کرنے کے روسی دعوے  کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ”یوکرینی اتنے سادہ لوح نہیں“خالی خولی زبانی یقین دہانیوں پہ اپنی جغرافیائی حدود کے لئے جاری دفاعی مزاحمت ترک نہیں کریں گے“۔

زیلنسکی نے رواں ہفتہ کے اوائل میں ویڈیو خطاب میں بھی کہا تھا کہ ”یوکرینیوں نے جارحیت کے ان دو ماہ کے علاوہ ڈونباس میں گزشتہ آٹھ سالوں کی جنگ کے دوران،پہلے ہی یہ تہیہ کر لیا تھا کہ روسی قیادت کی فقط زبانی یقین دہانیوں پہ نہیں بلکہ صرف ٹھوس اقدامات پر بھروسہ کیا جائے گا۔ادھر روسی نائب وزیر دفاع الیگزینڈر فومین نے منگل کو استنبول میں میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ماسکو نے باہمی اعتماد کو بڑھانے،مستقبل کے مذاکرات کے لئے سازگار فضا ہموار کرنے اور یوکرین کے ساتھ امن معاہدے جیسے حتمی مقصد تک پہنچنے کی خاطر ہی کیف اور چرنیہیو کی سمت فوجی پیشقدمی روکی ہوئی ہے لیکن یوکرینی صدر کہتے ہیں کہ تازہ ترین بات چیت سے کچھ ”مثبت“اشارے ضرور ملے تاہم یہ روسی گولوں کی گھن گرج کو ختم نہیں کر سکے بلکہ حقیقت یہی ہے کہ میزائل اور فضائی حملے بند نہیں ہوئے،اب بھی ہماری سرزمین پہ دشمن کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی ہے اور دیگر شہروں پہ بمباری کے علاوہ ماریوپول کی تباہی انہی دلخراش حقائق کا زندہ اظہار ہے۔

میڈیا کے مطابق یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے منگل کی رات تازہ ترین انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایاکہ روسی فوجیوں کی کیف اور چرنیہیو کی سرزمین سے انخلاءکی بازگشت محض انفرادی اکائیوں کی گردش ہے،اس کا مقصد یوکرینی فوجی کمانڈکو گمراہ کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ یوکرین کے شکوک و شبہات کی یہ گونج دراصل مغربی رہنماوں اور سفارت کاروں کی اس متعین سوچ کا عکس دیکھائی دیتی ہے جس میں انہوں نے یوکرین کے بعض علاقوں سے روس کے جزوی انخلاءپہ گہرے شکوک کا اظہارکرکے ایسے اقدامات کو زمینی دھچکے سے تعبیر کرتے ہوئے روایتی جنگی چالوں سے مماثل قرار دینے میں تاخیر نہیں کی۔واشنگٹن نے بھی کہا کہ ہم ان تجاویز میں سے کچھ نہیں پڑھتے جب تک یہ نہ دیکھ لیں کہ برسرزمین عملاً کیا ہونے جا رہا ہے۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ انہیں ایسی کوئی چیز دیکھائی نہیں دی جس سے یہ ظاہر ہو کہ مذاکرات تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں،انہوں نے خدشہ ظاہر کیاکہ روس کے پیچھے ہٹنے کے اشارے ماسکو کی طرف سے”لوگوں کو دھوکہ دینے اور توجہ ہٹانے“ کی کوشش ہو سکتی ہے۔

مراکش کے دورہ کے دوران گفتگوکرتے ہوئے بلنکن نے کہا”روس کیا کہتا ہے اور کیا کرتا ہے،ہم مؤخر الذکر پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے ترجمان نے بھی یہی کہا کہ برطانیہ نے کیف کے ارد گرد روسی بمباری میں”کچھ کمی“کے آثار ضرور دیکھے لیکن ہم پیوٹن حکومت کے فیصلوں کو ان کے الفاظ سے نہیں اعمال سے جانچیں گے اور ہم یوکرین کی سرزمین سے روسی افواج کے مکمل انخلاءسے کچھ کم نہیں دیکھنا چاہتے“۔برطانیہ کی وزارت دفاع (ایم او ڈی) نے اپنی تازہ کاری میں کہا کہ”یہ تقریباً یقینی ہے کہ روسی حملہ کیف کے محاصرہ جیسے ہدف کے حصول میں ناکام رہا“۔

برطانیہ کے دفاعی اتاشی مک سمیتھ نے اسی خیال کا اعادہ کیا کہ “کیف کے ارد گرد جنگی سرگرمیوں میں کمی بارے روسی بیانات اور ان علاقوں سے کچھ روسی یونٹوں کے انخلاءکی اطلاع ملنے سے روس کی اس کمزوری کی نشاندہی ہوئی کہ اس نے خطہ میں پہل کاری کھو دی ہے۔انہوں نے مزید کہا اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ روس شمال سے جنگی طاقت کو مشرق میں ڈونیٹسک اور لوہانسک کے علاقوں میں جاری مہمات کی طرف موڑنے کی کوشش کرے گا،مغربی حکام روسی وعدوں بارے اس لئے محتاط ہیں کہ انہیں مذاکرات میں پوٹن اور ان کے ساتھیوں کی سنجیدگی نظر نہیں آتی،اس انگیجمنٹ کو وہ وقت کے لئے کھیلنے کی حکمت عملی کی مشق سمجھتے ہیں۔پینٹاگون کے پریس سیکرٹری جان کربی نے کریملن کے دعوؤں پر ”خود کو بے وقوف بنانے“کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دنوں کیف سے دور کچھ روسی یونٹوں کی مووومنٹ ہمیں صاف دیکھائی دی،جسے ہم واپسی کی نہیں بلکہ پوزیشن بدلنے کی حرکت سے تعبیر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہم سب کو یوکرین کے دیگر علاقوں پہ بڑے حملوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔یوکرین نے استنبول میں روسی مذاکرات کاروں کو امن کے لئے جو فریم ورک پیش کیا اس میں نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز کے انتظامات میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، ترکی، چین اور پولینڈ پہ مشتمل تیسرے فریق کے ذریعے اپنی سلامتی کی ضمانت مانگی گئی۔یوکرین نے یہ بھی کہا کہ وہ کریمیا کی حیثیت کے بارے میں 15 سالہ مشاورتی مدت کی تجویز قبول کرنے پر راضی ہیں، جسے روس نے 2014 میں ضم کرلیا تھا،تاہم دونوں ممالک نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اس وقت بھی فوجوں کو استعمال نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا مگربعدازاں یہ سمجھوتہ برقرار نہ رہ سکا۔ترک وزیر خارجہ پُرامید ہیںکہ فریقین ہر لمحہ مسلہ کے حل کے قریب آ رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ استنبول مذاکرات اگلے مرحلہ میں روسی اور یوکرائنی وزرائے خارجہ کے مابین ملاقات کا وسیلہ بن سکتے ہیں۔لیکن تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ کریملن کی جانب سے ان مطالبات کو آسانی سے تسلیم کیے جانے کا کوئی امکان نہیں وہ بہت زیادہ پرامید ہونے کے بارے میں نہایت محتاط ہیں۔یوکرین کی طرف سے پیش کردہ تجاویز پہ روسی ردعمل ابھی سامنے نہیں آیا،ماہرین کہتے ہیں کہ کیف کی تجاویز پیوٹن کے لئے ناقابل قبول نظر آتی ہیں،جس نے اپنے ذہن میں کریمیا کا سوال بہت پہلے ہی طے کر لیا تھا اس لئے روس کی فوجی واپسی صرف ایک عارضی اسٹریٹجک قدم تو ہو سکتا ہے مسئلہ کا پائیدار حل نہیں ہو گا۔

یوکرین کے سینئر صدارتی مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے کیف کی جانب سے پیش کردہ غیرجانبدار ضمانتیوں کی تجویز کو اپنی سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کا مؤثر وسیلہ قرار دیا،جس میں دنیا کی سرکردہ فوجیں ضامن بن کر مخصوص قانونی ذمہ داریاں سنبھالیں گی اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں مداخلت کا حق رکھتی ہوں گی۔پوڈولیاک نے کہا کہ کریمیا کے بارے میں تجویز بھی”انقلابی“ تھی، نہ صرف اس لئے کہ اس کا مطلب مذاکرات کے ایجنڈے میں کریمیا کے موضوع کی واپسی تھی بلکہ اس لئے بھی کہ یہ ہمیں کریمیا کی موجودہ قانونی تشریحات کو محفوظ رکھنے کی اجازت دے گا، کیونکہ کریمیا یقیناً ہمارے لیے اب بھی یوکرین کا حصہ ہے۔زیلنسکی نے ڈنمارک کی پارلیمنٹ سے خطاب میں روسی بمباری اور بندرگاہی شہر ماریوپول کے محاصرے کے دوران کم و بیش 5,000 افراد کی مبینہ ہلاکت کو انسانیت کے خلاف جرائم سے تعبیر کیا۔روس کی وزارت خارجہ نے منگل کی رات ٹیلی گرام پوسٹ میں کہا کہ پوتن نے ایمانوئل میکرون کو فون کال میں کہا تھا کہ ماریوپول میں موجود”یوکرائنی قوم پرست عسکریت پسندوں“کو وہاں کے انسانی بحران کو حل کرنے کے لئے ہتھیار ڈال دینا چاہیے۔یوکرین پر ماسکو کے حملوں میں، جو 24 فروری کو شروع ہوئے تھے۔

Advertisements
julia rana solicitors

ایک اندازے کے مطابق 20,000 افراد ہلاک، 10 ملین سے زیادہ بے گھر اور 3.8 ملین کے لگ بھگ شہری ملک سے نقل مکانی کرگئے۔یوکرائنی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کی زیادہ تر امید کر رہے ہیں کیونکہ وہ روس کے ساتھ ذاتی طور پر مذاکرات کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں جو منگل کو استنبول میں شروع ہونے والے ہیں۔یوکرائنی میڈیا کے مطابق،یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیٹرو کولیبا نے بتایاکہ ان کا ملک فوری طور پر”انسانی ہمدردی“کے مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے لڑائی کو روکنے کی کوشش کرے گا،انہوں نے کہا یوکرینی عوام، زمین یا خودمختاری کی تجارت نہیں کریں گے،اسی لئے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حال ہی میں مشرق میں طویل متنازع علاقے پر مذاکرات کے لیے کھلے پن اور نیٹو میں شامل ہونے کے ارادے سے دستبردار ہونے کا اشارہ دیا لیکن کریملن کے حکام نے یوکرین پہ مذاکرات کا ڈرامہ رچانے کا الزام عائد کرکے جنگ بندی کی طرف کسی پیش رفت کی امیدوں کو کم کر دیا۔

  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply