• صفحہ اول
  • /
  • گوشہ ہند
  • /
  • سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں اور ان کا توڑ ۔ڈاکٹر احید حسن/قسط1

سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں اور ان کا توڑ ۔ڈاکٹر احید حسن/قسط1

SHOPPING

 13 دسمبر 1493ء میں استنبول میں ڈیوڈ بن سیموئیل ابن نہمیاس نے پہلی بار پرنٹنگ پریس قائم کیا اور عربی میں موجود ایک یہودی کتاب Turim عبرانی زبان میں شائع کی۔اگر یہ اتنا بڑا کفر اور حرام تھا تو اس وقت کی سلطنت عثمانیہ اور مولوی طبقہ یہ پرنٹنگ پریس کھولنے ہی نہ دیتے جب کہ اس کی مخالفت کی کوئی دلیل ہمیں نہیں ملتی۔کچھ لوگوں کے مطابق یہ پرنٹنگ پریس 1503ء یا 1504ء میں کھلا تھا۔1519-1523ء کے درمیان سلطنت عثمانیہ کے ایک صوبے اور موجودہ بوسنیا ہرزیگوینا میں چرچ آف سینٹ جارج نے کتابیں پرنٹ کرنا شروع کی لیکن یہاں بھی ہمیں اس وقت کی سلطنت عثمانیہ یا مذہبی طبقے کی طرف سے اس کی مخالفت کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔1567ء میں قسطنطنیہ یعنی استنبول میں ایک آرمینیائی باشندے نے آرمینیائی گرائمر کی ایک کتاب پرنٹ کی لیکن یہاں بھی ہمیں اس وقت کی سلطنت عثمانیہ یا مذہبی طبقے کی طرف سے مخالفت کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔

1584ء میں سلطنت عثمانیہ کے صوبے لبنان میں پرنٹنگ پریس شروع کیا لیکن یہاں بھی ہمیں اس وقت کی سلطنت عثمانیہ یا مذہبی طبقے کی طرف سے مخالفت کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔1610ء میں لبنان میں ایک اور پرنٹنگ پریس لگایا گیا۔1734ء میں لبنان میں عربی پرنٹنگ کے لیے پہلا پریس قائم کیا گیا۔1729ء میں عربی پرنٹنگ کے لیے استنبول میں پہلا پرنٹنگ پریس قائم کیا۔کہا جاتا ہے کہ خطاطوں اور علماء نے اس کی مخالفت کی لیکن اس کی کوئی مستند دلیل نہیں۔یہ 1742ء تک چلا جب روسی ترک جنگوں کے بعد یہ بند ہوا۔سوال یہ ہے کہ اگر پرنٹنگ پریس اتنا بڑا ہی گناہ تھا تو 1493ء سے ہی سلطنت عثمانیہ میں پرنٹنگ پریس کیوں کھلنا شروع ہوئے۔یہاں تک کے  کئی  مورخین کے مطابق یورپ سے بھی بہت پہلے عرب پرنٹنگ کے کام سے واقف تھے اور اس پہ کئ تحقیقات جیسا کہ Enigmatic charms: medieval Arabic block printed amulets in American and European libraries and museums / by Karl R. Schaefer. Leiden; Boston: Brill, 2006 شائع ہوچکی ہیں۔

1700ء کے بعد لبنان میں عبداللہ بن زخریا زاخر عربی کتابوں کی پرنٹنگ کے لیے پرنٹنگ پریس شروع کر چکے تھے اور 1819ء میں مصر کے حکمران محمد علی پاشا پرنٹنگ پریس قائم کرکے مصر میں یورپ کی جدید سائنس کے عربی زبان میں ترجمے اور پرنٹنگ کا کام شروع کر چکے تھے۔ اعتراض کرنے والے کہتے ہیں کہ پرنٹنگ پریس پہ اسلامی حکومت یعنی خلافت عثمانیہ نے اس لیے پابندی عائد کی کیونکہ ان کے نزدیک قرآن کا ایک خراد یعنی مشین سے گزر کر پبلش ہونا قرآن کی توہین تھی اور اس لیے عرب 18 ویں صدی تک پرنٹنگ پریس حاصل نہ کر سکے۔اس پہ مجھے دو اعتراض ہیں۔پہلا اعتراض پیش کرتا ہوں۔ اعتراض کرنے والے کہتے ہیں کہ عربی کی پبلشنگ کے لیے پرنٹنگ پریس مولویوں اور سلطنت عثمانیہ کی زبردست مخالفت کی وجہ سے 1483ء سے 1729ء تک خلافت عثمانیہ میں جگہ نہیں پا سکا اور پرنٹنگ کی سزا موت تھی۔اعتراض کرنے والوں کے پاس اس کے دو حوالہ جات ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

Suraiya Faroqhi, Subjects of the Sultan: culture and daily life in the Ottoman Empire, pp, 134-136, I.B.Tauris, 2005, ISBN 1-85043-760-2, ISBN 978-1-85043-760-4;The Encyclopaedia of Islam: Fascicules 111-112 : Masrah Mawlid, Clifford Edmund BosworthWatson 1968, p. 435; Clogg 1979, p. 67اعتراض کرنے والوں کے اپنے لنک کے پہلے پیراگراف کا حوالہ یہ ہے article by Muhsin Mahdi, From the manuscript age to the age of printed books, in The Book in the Islamic World, ed. G.N.Atiyeh, State University of New York Press (1995), pp.1-16. اب اس حوالے نے کس کے حوالے سے یہ بات کی۔اس کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی تاکہ اس مستند ہونے یا اس کی بات کی سند پہ مزید تحقیق اور بات ہوتی۔ خود ان تین حوالوں نے یہ بات ترکی کی کس تاریخی کتاب سے اخذ کی۔اس کا کوئی جواب ان حوالہ جات نے فراہم نہیں کیا۔ دوسری طرف ان کا اپنا لنک کہہ  رہا ہے کہ the true cause was, that great numbers of themselves earned a considerable income by transcribing those books, which would be at once destroyed, if suffered to be printed.’ یعنی پرنٹنگ پریس پہ پابندی اگر سچ مان بھی لی جائے تو اس کی وجہ کسی مولوی کا فتوی نہیں بلکہ وہ لوگ تھے جو کتابیں لکھنے کا کاروبار کرتے تھے اور پرنٹنگ پریس سے ان کا سارا کاروبار تباہ ہوجاتا۔

اب یہ لنک خود ہی کسی مولوی کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دے رہا بلکہ اس کی وجہ معاشرے کے دوسرے طبقے کو قرار دے رہا ہے۔بذات خود یہ بات بھی تاریخی طور پہ غلط ہے کہ خطاط اس میں رکاوٹ تھے۔ یہ اور بات ہے کہ خطاطی کے معاشرے میں فروغ کی وجہ سے  پرنٹنگ پریس تاخیر سے مقبولیت حاصل کر سکا لیکن کسی بھی مستند تاریخی حوالہ سے یہ ثابت نہیں کہ اس میں خطاط شریک تھے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سلطنت عثمانیہ اور مولوی طبقہ کہتا تھا کہ قرآن کی پرنٹنگ قرآن کی توہین ہے اور پھر عثمانی بادشاہ بایزید دوم نے سلطنت عثمانیہ میں پرنٹنگ پریس پہ پابندی لگا دی اور پرنٹنگ کی سزا موت تھی۔ویکی پیڈیا کے مطابق سلطنت عثمانیہ میں سب سے پہلے پرنٹ شدہ قرآن 1537/38ء میں اٹلی کے شہر وینس میں پرنٹ ہوا۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ اگر سلطنت عثمانیہ کی طرف سے عربی کی کتابوں اور قرآن کی پرنٹنگ پہ پابندی تھی تو پھر اسی سلطنت میں وینس میں پرنٹ شدہ قرآن کیسے آرہے تھے۔اس کا مطلب ہے کہ پابندی کی بات ہی جھوٹ ہے۔ یہ کون سی پابندی تھی جس میں دوسرے ممالک سے پرنٹ شدہ قرآن آرہے تھے اور اپنے ملک میں پرنٹنگ پریس پہ پابندی تھی۔دوسرے ممالک سے اس عرصے میں پرنٹ شدہ قرآن کا سلطنت عثمانیہ میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ پرنٹنگ کو قرآن کی توہین کا فتوی دے کر پرنٹنگ پہ پابندی کی بات ہی جھوٹ ہے۔اگر یہ بات سچ ہے تو کیا دوسرے ممالک سے آنے والے پرنٹ شدہ قرآن کے نسخے قرآن کی توہین نہیں تھے؟اس کا مطلب ہے کہ یہ بات ہی جھوٹ ہے۔ اور اگر پرنٹنگ پریس مکمل طور پہ ہی گناہ اور کفر کا کام تھا تو خلافت عثمانیہ کے تحت خود اس کے دارالحکومت قسطنطنیہ یعنی استنبول میں یہودیوں کے کئی  پرنٹنگ پریس کیسے کام کر رہے تھے جن میں سے کئی 1498ء میں یعنی خود بایزید دوم کی حکمرانی میں قائم ہوئے جس کے بارے میں الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے مولویوں کے کہنے پہ پرنٹنگ پریس کو حرام قرار دے کر اس پہ پابندی لگادی تھی اور پرنٹنگ کی سزا موت تھی۔

اگر یہ بات سچ ہے تو پھر خود استنبول یعنی سلطنت کے دارالحکومت میں کیسے یہودیوں کے پرنٹنگ پریس اور سلطنت کے حصے مشرق وسطی میں عیسائیوں کے پرنٹنگ پریس کام کر رہے تھے جن کو پوپ جولیس نے 1503ء سے 1512،ء کے درمیان متعارف کرایا تھا؟ اگر پرنٹنگ پہ واقعی پابندی تھی تو خود سلطنت کے دارالحکومت اور اس کے دیگر صوبوں جیسا کہ مشرق وسطی میں پرنٹنگ پریس کیسے چل رہے تھے؟ اس کا مطلب ہے کہ پابندی کی بات ہی جھوٹ ہے۔ اگر واقعی مولوی لوگ پرنٹنگ پریس پہ قرآن کی پرنٹنگ کے خلاف تھے تو وہی مولوی وینس سے پرنٹ شدہ قرآن کے نسخے کیوں منگوا رہے تھے۔اعتراض کرنے والے اس بات کا کیا جواب دیں گے۔ یہ عین ممکن ہے کہ محدود ٹیکنالوجی اور اس کے ماہر افراد کی کمی کی وجہ سے نسخے باہر سے منگوائے  جائیں لیکن باہر سے منگوانا ظاہر کر رہا ہے کہ پابندی اور توہین کی بات جھوٹ ہے۔اگر پرنٹنگ کی سزا موت تھی تو پرنٹ شدہ قرآن منگوانے کی سزا موت کیوں نہیں تھی۔خود اعتراض کرنے والوں کے اپنے حوالہ جات میں تضاد ہے۔ اس وقت بھی پوری اسلامی دنیا میں جگہ جگہ پرنٹنگ پریس لگے ہوئے ہیں۔

تو پھر آج کیا مسئلہ ہے مسلمانوں کو ؟ آپ کے بیانئے کی روح سے اگر پرنٹنگ پریس نہ لگانا مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کا سبب تھا تو پھر تو آج مسلمانوں کو چاند پر پہنچ جانا چاہیے تھا، تو اب کس نے روکا ہے ؟ یہی تو میرا سوال ہے ؟ وہ چین اور جاپان جو 1948 تک ہم مسلمانوں سے بھی  ابتر تھے اگر وہ 50 سال میں پوری اسلامی دنیا سے آگے نکل سکتے ہیں تو پھر مسلمانوں کو کیا مسئلہ ہے ؟ اب تو پرنٹنگ پریس بھی گلی گلی موجود ہیں….کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ مولوی لوگ مدرسے میں دین پڑھاتے ہیں ا س لۓ  دنیاوی تعلیم میں ہم پیچھے رہ گئے, اور ہمارے یہاں سائنسدان بھی پیدا نہیں ہو رہے, جب ان سے پوچھا جاۓ کہ مولوی نے کب کہا کہ دنیاوی تعلیم حرام ہے؟یاجو بچے مدرسے میں نہیں پڑھ رہے انھیں کیوں اعلی دنیاوی تعلیم نہیں دلاتے اور سائنسدان کیوں نہیں بناتے؟ تو ان کے پاس جواب نہیں ہوتا.(یہ پیراگراف ایک دوست کے تبصرے سے اخذ کیا گیا ہے)۔

عملی وجوہات بھی کردار ادا کرتی ہیں.1550ء میں پرتگالی پہلی برصغیر میں پہلی بار پرنٹنگ پریس لائے اور اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں پرتگالیوں اور عیسائی مشنریوں کی طرف سے پرنٹ شدہ کتابوں کی اشاعت کے باوجود یہاں کی کسی مسلم حکومت یا مولوی نے یہ نہیں کہا کہ یہ کفر اور حرام ہے۔ ,انگریزی ایسٹ انڈیا کمپنی، مثال کے طور پر، 1675 میں سورت میں ایک پرنٹر لایا گیا ، لیکن کمپنی کی طرف سے ہندوستانی اسکرپٹ یعنی طرز تحریر اور زبانوں میں کسی میں قسم کا مواد نہیں پرنٹ کیا گیا نہیں تھا، لہذا یہ کام ناکام رہا۔ 1516 فیز مراکش میں یہودی پناہ گزین ربی جو لزبن یعنی پرتگال میں میں پرنٹر کے لئے کام کر چکے تھے،پرنٹر مراکش میں لائے لیکن تاریخ میں اس بات کا کوئی ریکارڈ نہیں کہ وہاں کی مسلم حکومت نے اس کی مخالفت کی ہو۔ 1798ء میں قاہرہ یعنی مصر میں نپولین پرنٹنگ پریس لایا۔اگرچہ بعد میں سلطان محمد علی پاشا نے نپولین کو مصر سے نکال باہر کیا لیکن اس کے لائے ہوئے پرنٹنگ پریس کو وہاں کی مسلم حکومت کی طرف سے خوشی سے اپنایا گیا جس کے بعد مصر میں پرنٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور نہ ہی مراکش یا مصر کے مولوی طبقے نے یہ کہا کہ پرنٹنگ حرام اور کفر ہے۔

اگر سلطنت عثمانیہ اور عرب ممالک میں میں پرنٹنگ پریس کے تاخیر سے شروع ہونے کی وجہ مسلم حکومت یا مولوی طبقے کی طرف سے مخالفت تھی تو خود ان مسلم ممالک میں بھی پرنٹنگ پریس بہت تاخیر سے شروع کیوں ہوا جہاں سلطنت عثمانیہ کی حکومت نہیں تھی۔مراکش میں سپین سے آنے والے پناہ گزین یہودی 1513ء میں ہی پرنٹنگ پریس لا چکے تھے لیکن پھر بھی اس علاقے میں عربی پرنٹنگ تاخیر سے شروع کیوں ہوئی جب کہ اس علاقے کی مسلم حکومت یا مولوی طبقے کی طرف سے اس کی مخالفت کی کوئی دلیل نہیں اور نہ ہی مراکش کبھی سلطنت عثمانیہ کے ماتحت رہا۔انڈونیشیا جیسے مسلم ملک میں پرنٹنگ پریس 1818ء میں یعنی بہت دیر سے شروع ہوا جب کہ یہ علاقہ سلطنت عثمانیہ کے ماتحت نہیں تھا اور نہ ہی اس کی مسلم حکومت یا مولوی طبقے کی طرف سے تاریخ میں اس کی مخالفت کی کوئی دلیل ہمیں تاریخ میں ملتی ہے۔جب کہ خود منیلا یعنی فلپائن جیسے ملک میں جو اس وقت سپین کے زیر اہتمام تھا،پرنٹنگ پریس 1590ء میں یعنی یورپ کی نسبت بہت تاخیر سے آیا۔

اس کا مطلب ہے کہ پورے مشرق میں ہی پرنٹنگ پریس یورپ کی نسبت بہت تاخیر سے شروع ہوا۔صرف مسلم دنیا میں اس کے تاخیر سے شروع ہونے کو مذہبی طبقے اور مولویوں یا مسلم حکومت کی طرف سے مخالفت سے منسلک کرنا بالکل غلط ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مستند تاریخی ثبوت ہے۔ ایران میں پہلا پرنٹنگ پریس 1636ء میں اصفہان میں قائم ہوا جب کہ تہران میں 1820ء میں یعنی سلطنت عثمانیہ کے بھی تین سو سال بعد۔جب کہ ایران سلطنت عثمانیہ کے ماتحت نہیں تھا بلکہ الٹا شیعہ ایران کی سنی سلطنت عثمانیہ سے سخت مخالفت تھی۔پھر یہاں تو کوئی حکومت کی مخالفت نہیں تھی اور نہ ہی کسی مولوی کی تو پھر یہاں پرنٹنگ پریس اپنی ایجاد کے بعد اتنی تاخیر یعنی ساڑھے تین سو سال بعد کیوں شروع ہوا۔اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اسلامی ممالک سمیت پورے غیر مسلم ایشیا،افریقہ میں پرنٹنگ پریس تاخیر سے شروع ہونے کی وجہ کسی مولوی کی مخالفت نہیں بلکہ عمومی طور پر پورے ایشیا کا سائنسی جمود تھا جو اسلامی اور غیر اسلامی پورے مشرق پہ برابر جاری تھا۔ اگر سلطنت عثمانیہ میں عربی کتابوں اور قرآن کی پرنٹنگ کے راستے میں سلطنت عثمانیہ کی حکومت اور مولوی طبقے کی مخالفت تھی تو پھر ان مسلم ممالک میں بھی عربی پرنٹنگ اور قرآن کی پرنٹنگ کیوں صدیوں بعد شروع ہوئی جو نہ تو سلطنت عثمانیہ کے ماتحت تھے اور نہ ہی کسی مولوی کی مخالفت تھی وہاں اور نہ ہی ان ممالک کے حوالے سے ہمیں اس بات کی کوئی دلیل ملتی ہے۔

اس کا واضح مطلب ہے کہ سلطنت عثمانیہ اور اس کے مولوی طبقے پہ لگایا جانے والا یہ الزام مکمل طور پہ جھوٹ اور بہتان ہے اور کچھ نہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سلطنت عثمانیہ میں سلطان سلیم نے پرنٹنگ پریس کا احیا کرنے کی کوشش کی لیکن اسے اپنی ینی چری فوج کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جب کہ اس بات کا کوئی مستند ثبوت یہ کہنے والوں کی طرف سے فراہم نہیں کیا گیا۔چیمبرز ایڈنبرگ جرنل( 1848ء) کے صفحہ 44 کے تحت یہ دعوی کیا گیا ہے کہ 1483ء میں سلطان بایزید دوم نے ترکوں کی طرف سے پرنٹ شدہ کتابوں کے استعمال پہ پابندی لگا دی اور اس کی سزا موت مقرر کی اور یہ پابندی 1720ء تک جاری رہی۔دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی عیسوی میں یورپی غلبے کے دور میں مسلم تواریخ کو بہت بری طرح سے مسخ کیا گیا اور اپنے اس الزام کا 1848ء کے چیمبرز ایڈنبرگ جرنل نے کوئی حوالہ پیش نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں سلطنت عثمانیہ پہ عائد کیے جانے والے اس الزام کا کسی غیر جانبدار حوالے سے کوئی مستند تاریخی ثبوت ملا ہے۔

اس کے لیے ہم نے اس عنوان پہ لکھنے والی تیس سے زائد ویب سائٹس اور حوالوں کا مطالعہ کیا لیکن ہمیں ایسی کوئی بات نہیں ملی۔جان پال گوبریل کی ایک تحقیق کے مطابق اس کہانی کا کوئی مستند تاریخی حوالہ موجود نہیں۔ اس کے دو حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں۔1585ء کا ایک حوالہ Nicolas de Nicolay, The navigations, peregrinations and voyages, made into Turkie by Nicholas Nicholay Daulphinois, Lord of Arfeuile. conteining sundry singularities which the author hath there seene and observed;devided into foure books, with threescore figures, naturally set forth as well of men as women, according to the diversitie of nations., T. Washington trans. (London, 1585). p.130 یہ لکھتا ہے …Maranes [Marranos] of late banished and driven out of Spaine & Portugale, who to the great detriment and damage of the Christianitie, have taught the Turkes diverse inventions, craftes and engines of warre, as to make artillerie, harquebuses, gunnepouder, shot, and other munitions: they have also there set up printing, not before seene in those countries, by the which in faire characters they put in light divers bookes in divers languages, as Greek, Latin, Italian, Spanish, and the Hebrewe toungue, being to them natural, but are not permitted to print the Turkie or Arabian tongue.’

اس حوالے کے مطابق عیسائیوں کے ظلم کی وجہ سے سپین سے نکالے جانے والے میرانو یعنی کوئی ہَسپانوی یہودی جِس نے قُرُونِ وُسطیٰ کے اواخَر میں ہَسپانوی عدالَتِ احتساب کے دَباو کے تحت بَرسَرِ عام رومَن کیتھولِک مَذہَب اِختیار کَر لیا ہو لیکن خُفیہ طَور پر اپنے یہودی مَذہَب پَر قائم رہا،کو سلطنت عثمانیہ میں ترکوں کے لئے اسلحہ بارود اور توپ خانے کے حوالے سے کام کرنے کی اجازت تھی اور لاطینی،سپینی اور عبرانی میں کتابیں پرنٹ کرنے کی اجازت تھی لیکن انہیں ترکی اور عربی زبان میں کوئی چیز پرنٹ۔ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کا ایک اور سب سے قدیم تاریخی حوالہ The Life and Letters of Ogier Ghiselin de Busbecq By Ogier Ghislain de Busbecq, tr. Charles Thornton Forster, Francis Henry Blackburne Daniell. Published by C. K. Paul, 1881. Volume 1 ہے جس کے صفحہ 44 پہ یہ تحریر موجود ہے۔ No nation in the world has shown greater readiness than the Turks to avail themselves of the useful inventions of foreigners, as is proved by their employment of cannons and mortars, and many other things invented by Christians. They cannot, however, be induced as yet to use printing, or to establish public clocks, because they think that the Scriptures, that is, their sacred books – would no longer be scriptures if they were printed, and that, if public clocks were introduced, the authority of their muezzins and their ancient rites would be thereby impaired 1560ء

SHOPPING

جاری ہے

SHOPPING

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *