اخلاقی نفسیات (44) ۔ انقلاب/وہاراامباکر

رومی بدشاہ جولیس سیزر، جن کے نام پر جولائی کا مہینہ ہے، اُس روز سینٹ کے ہال میں داخل ہوئے۔ صدا لگی، سب کھڑے ہوئے۔ اس سے پہلے کہ سیزر اپنے تخت پر بیٹھے، ایک سینیٹر سمبر اپنی عرضداشت لے کر بڑھے کہ ان کے بھائی کی سزا معاف کر دی جائے۔ حسبِ توقع سیزر نے انکار کر دیا اور یہی پلان تھا۔ وہ بار بار درخواست کرتے رہے اور سیزر کا انکار جاری رہا۔ اس دوران ساٹھ دوسرے سینیٹر بھی سمبر کی حمایت میں سیزر کے گرد گھیرا ڈال چکے تھے۔ سیزر نے بحث ختم کرنے کی کوشش کی۔ سمبر نے سیزر کے شانے پر ہاتھ رکھا اور ان کا لباس کھینچ لیا۔ حیران سیزر کو کوئی اندازہ نہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ ایک دوسرے سینیٹڑ، کاسکا، نے ان کی گردن پر خنجر سے وار کیا۔ سیزر کی آنکھوں میں غصے سے زیادہ کنفیوژن تھی۔ ان سینیٹرز نے اپنے چمڑے کے قلمدان کھول لئے۔ ان کے ہاتھ میں ساٹھ قلم نہیں، ساٹھ خنجر تھے۔

شروع کی مزاحمت کے بعد سنگِ مرمر کا فرش سرخ ہونے لگا۔ تئیس وار، جن میں سے بائیس معمولی تھے لیکن دل پر کیا گیا ایک وار مہلک تھا۔ کچھ یادداشتوں کے مطابق نیچے گرنے سے پہلے انہوں نے اپنے لباس کو سنبھالا اور ان کی نظر اپنے پسندیدہ ترین شاگرد کے سرخ خنجر پر پڑی۔ اپنی قوت مجتمع کر کے انہوں نے کہا، “بروٹس، تم بھی؟” اور فرش پر گر کر ایک آخری آہ لیتے ہوئے جان دے دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جولیس سیزر کے اس واقعے میں ہم الگ اخلاقی بنیادوں کی کشمکش دیکھ سکتے ہیں۔ سیزر کی توقع اتھارٹی کی قدر کے احترام کی تھی۔ لیکن باغی سینیٹر کے لئے یہ “alpha male” اب ناقابلِ قبول تھا۔ ان کے لئے اس سے آزادی کی قدر زیادہ اہم تھی۔ سیزر کو ضرر پہنچانا اور جان کی حرمت
حیرت زدہ جولیس سیزر نے جب آخر میں بروٹس کو دیکھ کر
et tu, Brutus?
کہا تو وہ اپنے شاگرد سے وفاداری کی قدر کی اپیل تھی۔ بروٹس نے جواب دیا۔
Sic semper tyrannis
“ظالموں کے ساتھ ہمیشہ یہی”
جولیس سیزر کی آخری آہ آزادی کی قدر کے ہاتھوں اتھارٹی اور وفاداری کی قدر کو دی گئی مات کا نتیجہ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساتھ لگی تصویر میں ریاستِ ورجینیا کا جھنڈا ہے۔ ایک جھنڈے پر قتل کو دکھائے جانا پہلی نظر میں عجیب لگے لیکن اس میں بنی تصویر میں جولیس سیزر کے قتل کا علامتی جشن ہے۔ ورجینیا نے برطانیہ سے آزادی کا اعلان 1776 میں کیا اور اپنے لئے اس جھنڈے کا انتخاب کیا۔ جب تک آپ آزادی کی قدر کو نہیں سمجھتے، آپ اس جھنڈے کو نہیں سمجھ سکتے۔ مردہ بادشاہ کے سینے پر رکھے ہوئے پیر کے نیچے بروٹس کے الفاظ لکھے ہیں۔ “ظالموں کے ساتھ یہی”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑی برائیوں کے پیچھے بھی یہی اخلاقی قدر کارفرما نظر آتی ہے کیونکہ انقلابی کے لئے قتل ہمیشہ برائی نہیں۔
اس اخلاقی بنیاد کے اصل ٹرگر تو جابروں کے خلاف ہیں لیکن موجودہ ٹرگرز میں ہر وہ شے ہے جس سے یہ کسی کو محسوس ہو کہ اس کی آزادی متاثر ہو رہی ہے۔
اوکلاہوما میں ٹموتھی مک وے نے ایک عمارت میں دھماکہ کر کے 168 لوگوں کو مار دیا۔ ٹموتھی مک وے کی قمیض پر بھی یہی نعرہ لکھا تھا۔
Sic semper tyrannis
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاست میں لبرل اور کنزرویٹو، دونوں کے لئے یہ اہم قدر ہے۔ جبر سے نفرت ہر ایک میں پائی جاتی ہے۔ اس کا اظہار ایک طرح سے نہیں۔ مثال کے طور پر، کنزرویٹو کسی بھی دوسرے ملک یا ادارے کی اپنی ملک میں دخل اندازی کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ کسی بھی عالمی معاہدے کو ناپسند کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کی آزادی میں خلل ڈالتا ہے۔
جبکہ لبرل اقدار میں اپنے ملک میں اسٹیبلشمنٹ اور بالادست طبقات ناپسندیدہ ہوتے ہیں۔ یہ طاقتور سے نجات اور “خلقِ خدا کے راج” کی خواہش ہے۔ اور اسی نوٹ پر اس حصے کا اختتام فیض کی نظم پر جس کی اخلاقی بنیاد آپ پہچان سکتے ہیں

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

جو لوح ازل میں لکھا ہے

جب ظلم و ستم کے کوہ گراں

روئی کی طرح اڑ جائیں گے

ہم محکوموں کے پاؤں تلے

جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی

اور اہل حکم کے سر اوپر

جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

جب ارض خدا کے کعبے سے

سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہل صفا مردود حرم

مسند پہ بٹھائے جائیں گے

سب تاج اچھالے جائیں گے

سب تخت گرائے جائیں گے

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی ہے حاضر بھی

Advertisements
julia rana solicitors

جو منظر بھی ہے ناظر بھی!

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply