تہذیب و ثقافت کی بوقلیمونی(2)۔۔اسلم اعوان

اگر ہم تہذیب کے سلبی پہلو پہ نظر ڈالیں تو اس وقت جدید تہذیب کا وسعت پذیر ارتقاءاس کرہ ارض کی کئی گداز ثقافتوں کو نگل چکا ہے خاصکر یوروپ میں مادی خوشحالی اور سائنس و ٹیکنالوجی کے باعث آسائشوں کی فراوانی نے شخصی اخلاقیات، روحانی زندگی اور خاندانی نظام کی بساط لپیٹ کے مغرب کے متمدن معاشروں کو زندگی کے فطری دھارے سے جدا کر دیا۔بلاشبہ جن معاشروں میں خاندانی نظام مٹ جائے وہاں حسب و نسب سے وابستہ نجابت بے معنی اور انسانی رشتے انس و محبت کی بجائے محض باہمی احتیاج پہ استوار ہو جاتے ہیں،اس لئے ان میں خونی رشتوں اور خاندانی وابستگیوں پہ فخر و انسباط کا سوال باقی نہیں رہتا۔روشن چہرے والی مغربی تہذیب کا یہی وہ کربناک بوجھ ہے جس کے مضمرات کی تاویل سے مغربی مفکرین ہچکچاتے ہیں تاہم وہ دوبارہ اُس قدیم ثقافتی ورثہ اور نظراندازہ کردہ خاندانی نظام کی بحالی کے علاوہ روحانی آسودگی کے متلاشی دیکھائی دیتے ہیں،جنہیں انیسویں، بیسویں صدی کے صنعتی انقلاب کے دوران نہایت عجلت میں ترک کر دیا گیا تھا،چنانچہ اکیسیویں صدی کے آغاز پہ کانگریس کے اسپیکر ) (Newt Gingrichنیوٹ گینگرچ نے جب ایک تقریب میں انتہائی دلگیر لہجہ میں کہا کہ ہم اپنی نوخیز نسلوں کی عصمتوں کی تقدیس اور مربوط خاندانی نظام کی بحالی کی طرف پلٹنا چاہتے ہیں تو یہی آرزو دراصل مغربی تہذیب کے اُس قریب آتے دردناک انجام کی چیخ تھی جسے حساس دل و دماغ کا حامل ایک نفیس انسان دیکھ رہا تھا لیکن وہ بے قابو شخصی آزادی اور آسائیشوں کے نشہ میں سرشار سماج کو اپنی پکار کی طرف متوجہ کرنے میں ناکام رہا۔پُرشکوہ تہذیب کے اسی منفی رجحان نے وہاں کی سفیدفام نسلوں کو بقاءکے مسائل سے بھی دوچار کیا اور صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے اسی خوف نے جارج ہٹنگٹن کو تہذیبوں کی جنگ کی راہ دیکھائی جو بجائے خود تہذیبی شعور سے نسبت معکوس رکھتی تھی۔

اگر ہم صرف پانچ دہائیوں پیچھے پلٹ کے دیکھیں تو نہایت تیزی کے ساتھ ہماری خاندانی اور سماجی زندگی پہ مغربی تہذیب کی لبریز الم یاسیت پنجہ زن ہوتی دکھائی دے گی،ہمارے تسلیم و رضا کے حامل معاشرے سرعت کے ساتھ صبر وقناعت جیسی ملکوتی صفات سے دستبردار ہو کے مغربی طرز کی پُرتعش مگر خودغرضانہ زندگی کے حصول کی طرف لپکے تو یہاں بھی پُرہجوم تنہائی کو فروغ ملنے کے علاوہ خودکشی کا رجحان بڑھنے لگا،خاندانی رشتے اور سماجی تعلقات بتدریج کمزرو ہونے لگے جن کا عکس ہمیں ٹی وی کے ڈراموں اور فلموں کی سیمی سکرینوں پہ نظر آیا اور اس سے بھی بڑھ کر جنگ دہشتگردی کے تقاضوں نے جب ثقافتی عوامل اور سماجی اجتماعات پہ حملوں کے ذریعے صدیوں کی گود میں پلنے والے ہمارے میلوں ٹھیلوں،شادی بیاہ کی تقریبات،مذہبی مناجات اور خانقاہوں کے عرس جیسے ثقافتی مظاہرکو ہدف بنایا تو سوسائٹی سسک کے رہ گئی،مستزاد یہ کہ ریاستی مقتدرہ نے معاشرے کو ریگولیٹ کرنے کی بجائے بلاسوچے سمجھے سخت ترین حفاظتی اقدامات کی آڑ لیکر ان گداز رسموں کا گلہ گھونٹ کے ایسا معاشرتی خلا پیدا کیا جسے ہماری نوجوان نسل نے نفرتوں اور تشدد کی جدلیات سے پُرکرنے کی کوشش کی،قدم قدم پہ بنی چیک پوسٹوں نے شہریوں کی نفسیات پہ تباہ کن اثرات مرتب کئے خاصکر قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں ابھرنے والی مرکز گریز تحریکوں کو خام مواد انہی چیک پوسٹوں پہ روا رکھے جانے والے سلوک نے فراہم کیا،صوبائی حدود پہ قائم ناکوں نے ذہنی تفریق کا دائرہ وسیع کیا جس سے ریجنل نیشنل ازم تقویت پاتا رہا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

تاہم اس سب کے باوجود مشرقی معاشروں کے ذہنی جمود کی بدولت اب بھی یہاںخاندانی نظام مضبوط اور حسب و نسب سے جڑی عصبیتیں اسقدر گہری ہیں کہ انہیں ذاتوں اور برادریوں کے بندھن میں منظم رکھنا آسان ہو گا،شاید اسی سماجی ربط کی بدولت ابھی علم و فن ،صحافت و سیاست اور کاروبار میں موروثیت فطری حیثیت کی حامل ہے،جسے سماجی نظام سے جدا کرنا ممکن نہیں اور یہی ثقافتی قدریں آج بھی ہمارے مسائل کی پیچیدگیوں پہ حاوی ہیں۔مگر افسوس کے سیاست میں مغرب کی اندھی تقلید کے قائل بعض عاقبت نا اندیش صحت مند موروثیت پہ مبنی اِنہی فطری سیاسی،تجارتی اور ثقافتی وابستگیوںکو طعنہ زنی کا کوڑا بنانے لگے،جس نے ہمارے خاندانی نظام کے تسلسل اور حسب و نسب سے جڑی روایات کومربوط رکھا ہوا ہے۔مغربی سماج میں حسب و نسب کا افتخار اور کاروبار و سیاست میں عدم موروثیت تہذیب کا کوئی صحت مند حصول نہیں تھا بلکہ یہی کارپوریٹ کلچرخاندانی نظام کے خاتمہ سے پیدا ہونے والے خلاءکو پُر کرنے کی ادھوری مساعی تھی جو بے نتیجہ رہی،ثقافتی عوامل سے عاری تہذیب کے اسی بوجھ نے سفید فام نسلوں کے مٹ جانے کے اسباب مہیا کئے۔

مغربی سیاسی مفکرین تہذیب کے ماخذ اور معانی کا جو خاکہ پیش کرتے ہیں،اس میں انسانی جبلتوں کو عقلی ہدایت کے تابع لانے کی کوئی سکیم شامل نہیں ہوتی کیونکہ اس کام کے لئے انہیں لامحالہ مذہب سے وابستگی کی تجدید کرنا پڑے گی لیکن مغربی اشرافیہ نے طے کر لیا ہے کہ تہذیب و تمدن کا ارتقاءمذہبی ثقافت کے اثرات سے آزاد ہونا چاہئے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ لازمی طور پر تہذیب و ترقی کی اساس اور مذہبی نظریات کے درمیان قدرتی تعلق کو دانستہ نظرانداز کر دیتے ہیں۔مغربی فلاسفہ کے انہی تصورات کی جزیات کو اگر کھولیں تو ان کے جو افسردہ کن پہلو سامنے آئیں گے،ان میں تہذیب کے نام پر کئے جانے والے جرائم بہت نمایاں ہیں،جس میں تہذیب کی ترویج کی آڑ میں کمزور اقوام کی فتح کرکے نوآبادیاتی نظام قائم کرنا شامل ہے،اسی رجحان نے شاید تہذیب اور جنگ کو لازم ملزوم بنا کر فطرت کے ساتھ انسانی بقاءکے رشتہ کوکمزور کیا۔اس تصورکی ابتداءہمیں پہلی بار سکندر مقدونی کی مہمات میں نظر آئی،جس نے عالم انسانیت کو یونانی فن و تہذیب سے منور کرنے کی خواہش کی تکمیل کی خاطر دنیا کی تسخیر کا فیصلہ کرلیا لیکن جب وہ ہندوستان پہنچا تو یہاں کی پُرشکوہ تہذیب،دیومالائی فن و ادب اورخاموش دانش نے اسے مسحور کر لیا،پورس کے دانشوروں کے وفد نے سکندر اعظم سے ملاقات کرکے ان سے پوچھا کہ آپ جنگ کیوں چاہتے ہیں؟

ہم آپ کو بغیر جنگ کے ملک سمیت دولت اور فن بھی بخش سکتے ہیں توسکندر کی فلسفہ زدہ قوم کے جرنیلوں نے لڑنے سے انکار کر دیا،انہوں نے سکندر سے کہا آپ نے ہمیں بتایا غیر مہذب اور وحشی دنیا کو ہم یونانی علم و فن اور تہذیب کے نور سے منورکریں گے لیکن یہاں تو علم و فن اور تہذیب و ثقافت ہماری حدود علم سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے،ہسٹری آف سویلائزیشن کے مصنف ول ڈیورانٹ نے لکھا ہے کہ سکندر نے اپنے جنرلوں کا انحراف دیکھ کے فوج کو جذباتی خطاب کرتے ہوئے کہا”جاو مقدونیہ کے لوگوں کو کہہ دو کہ ہم اپنے بادشاہ کو دشمنوں میں تنہا چھوڑ آئے ہیں،اسی مایوسی کے عالم میں سکندر نے دس دن تک خود کو خیمے میں بند رکھا“۔اگرچہ یونانی فوج نے سکندر کی اطاعت ترک نہ کی لیکن وہ حوصلہ ہار بیٹھی تھی۔

علی ہذالقیاس،اسی طرح نئی تہذیب کے تصور کا موجودہ استدلال بھی مغرب میں ایک شعوری طور پر مذہب تبدیل کرنے والی صلیبی جنگ کے نام پر،جو اہل علم نے لڑی تھی،کھڑا ہوا اور جس کا ظاہری مقصد جنگلی ثقافتوں کے آثار کو ختم کرنا تھا،یہ بھی جو دراصل سکندر کے ناکام تصورات کی جگالی تھی۔اس استدلال کو جانچنا زیادہ مشکل نہیں،اسے اگر ایک قدر کے طور پر لیا جائے تو تہذیب سیاسی اور اخلاقی معمول کی تشکیل کرتی ہے، یہ وہ معیار ہے جس کے ذریعے بربریت یا غیر تہذیب کو پرکھا اور اس کی مذمت کی جاتی ہے اور یہی دلیل مغربی اہل دانش دیتے ہیں کہ تہذیب ریاستی، سماجی، سیاسی، ثقافتی، جمالیاتی اور یہاں تک کہ اخلاقی اور جسمانی وجود بھی رکھتی ہے، جسے تمام بنی نوع انسان کے لئے بہترین کیفیت ذہنی قرار دینے کے باوجود اسی تصور پر یہ مہلک دعویٰ بھی قائم کیا گیا کہ تہذیب کو صرف مہذب ہی جان سکتے ہیں کہ مہذب ہونا کیا ہے۔ اس بے بنیاد دعوے اور اس کے نام پر کئے گئے فیصلوں سے تہذیب کے بوجھ کا وہ تصور پیدا ہوا،جس نے مغرب والوں کو رجعت قہقہری پہ آمادہ کیا بلکہ یہی اصول دراصل مغربی تہذیب کے نامطلوبہ پہلو ؤں اور منفی نتائج پہ دلالت کرتا ہے۔

یہ دلیل کہ صرف مہذب ہی جانتے ہیں کہ مہذب ہونے کا کیا مطلب ہے،نہایت مہمل اور غیرمنطقی ہے،بظاہر تہذیب کا یہی مفہوم خود شناسی کی نشاندہی کرتا ہے لیکن انسانی شعور اپنی سرگرمی کی نوعیت کو سمجھنے میں انصاف نہیں کر سکتا،خاص طور پر یہ اس لمحے کی نشاندہی کرتا ہے جب مغربی تہذیب اپنے مظاہر کی عکاسی سے آگاہی کا دعوی کرتی ہے، وہ خود کو دوسروں کے درمیان منفرد تہذیب شعور کا حامل دیکھتی ہے۔یہ تہذیب کے مساوی ادراک کا معاملہ نہیں کیونکہ مغربی تہذیب کا یہی تصور ان تمام چیزوں کا خلاصہ پیش کرتا ہے جس میں پچھلی دو یا تین صدیوں کا مغربی معاشرہ اپنے آپ کو پہلے کے معاشروں یا زیادہ قدیم معاصر معاشروں سے برتر مانتا ہے۔تہذیب کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے،مغربی معاشرہ یہ بتانے کی کوشش کرتا ہیں کہ ان کا کردار کتنا خاص ہے،انہیں کس چیز پر فخر ہے؟ اس کی ٹیکنالوجی کی سطح، اس کے آداب کی نوعیت، اس کے سائنسی علم کی ترقی یا اس کے نقطہ نظر کی ترقی؟۔لیکن دنیا کے لئے اس کی حقیقت کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ تہذیب کے حامی کس طرح صلیبی جنگوں کے ذریعے رخ انسانیت کو خون آلود کرتے رہے،ان کا مخمصہ نہ صرف دوسری تہذیبوں کی قدر اور کامیابیوں سے انکار پہ محمول تھا بلکہ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ مغربی تہذیب کے حامل تقریباً ناقابل واپسی زوال کا شکار ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

اس نقطہ نظر سے ”بگ سی“ تہذیب میں ان کی شراکت کو زیادہ تر ماضی تک محدود دیکھایا گیا،جس کا مزید مطلب یہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی قیمتی چیز بازیافت کرنی ہے تو وہ زیادہ مہذب استاد کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتی۔اس طرح کی سوچ دراصل برخود غلط ہونے کی کلاسیکی مثال ہے،جیسے، فرڈینینڈ شلر کا فکری مغالطہ، جس میں اس نے کہا تھا کہ “ہندوستان کے لوگ تاریخ کی بہت کم پرواہ کرتے ہیں اس لئے انہیں واقعات مرتب کرنے کی پریشانی نہیں ہوتی۔کچھ اسی طرح کے ناہموار اکاؤنٹس جیمز مل نے بھی تیار کیا،جسے 1817 میں دی ہسٹری آف برٹش انڈیا کے نام سے شائع کیا گیا،حقیقت میں کبھی ہندوستان کا دورہ نہ کرنے کے باوجود جیمزمل کی تاریخ نے یورپی قارئین کو ہندوستانی تہذیب کی بنیادی طور پر غلط تصویر پیش کی تھی۔اس طرح کی سوچ کی بنیاد رکھنے والے جوازوں میں سے ایک وسیع پیمانے پر اپنایا گیا یہ نظریہ بھی تھا کہ معقول حد تک پیچیدہ سماجی سیاسی تنظیم اور مروجہ معیارات کے مطابق خود حکومت کی صلاحیت تہذیب کی مرکزی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن ہندوستان میں سماجی مظاہر اور مذہبی اقدار غیرریاستی ماحول کی پیدوار تھی جسے سادھوں اور ولیوں نے رسومات کے حرکیات میں پروآن چڑھایا تھا۔ اصل میں ہر وقت آمادی جنگ مغربی لوگ خود کو طویل عرصے سے تہذیب کی تخلیق یا اس کی صلاحیت کی علامت سمجھتے رہے لیکن تہذیب کی رفتار ومعنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ بہ تسلسل اورمتواتر تشدد اور من مانی کاروائیوں کا دائرہ تنگ تر اور صلح و امن کے خط میں توسیع ہوتی رہے ۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply