گل وچ ہور اے۔منصور ندیم

22 دن کے دھرنے کے بعد قوم کو کیا ملا، 6 لوگوں کی ہلاکت، سیکنڑوں کے زخمی ہونے ، اربوں روپے کے نقصان اور ملک کا تشدد آمیز چہرہ بیرون ملک دکھانے کے بعد اگر اب وزراء مستعفی ہونے جارہے ہیں، پورے ملک میں خوف و ہراس، ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ دو ہزار کے لگ بھگ ایک جتھہ  جب چاہے ملک کو یرغمال بنا سکتا ہے یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور طاقت ہے؟

آج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ اپنے ملک کے ادارے ہی اپنی ریاست کے خلاف کام کررہے ہیں.ریاست اور آئین سے کھیلنے کی ایک حد ہوتی ہے.آئین کے تحت کسی میجر جنرل کو ثالث بننے کا کیسے اختیار ہے؟ قوم کے ساتھ یہ تماشا کب تک چلتا ر ہے گا.یہ حکومت نے کیا معاہدہ کیا ہے کہ انہوں نے حکومت سے ہر بات منوائی‘ آج کی سماعت کے بعد میری جان کو خطرہ ہے-معاہدے میں ججز سے معافی مانگنے کی شق کیوں نہیں ہے؟ ریاست کا اربوں کا نقصان کرکے آپ ان کو معاف کردیں  گے؟ریاست کے ساتھ کب تک ایسا چلتا رہے گا؟ عدالت نے فیض آباد آپریشن کی ناکامی کی رپورٹ طلب کرلی۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے۔

جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے عدلیہ کے خلاف باتیں ہوئیں‘ دھرنے والوں نے معافی مانگی؟ حکومت کی امید تو پوری ہی نہیں ہورہی یہ حکومت نے کیسا معاہدہ کیا؟ حکومت معافی مانگ رہی ہے. انہوں نے کہا کہ حکومت سے ہر بات منوائی گئی ، وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال تھی میرے بارے میں کہا گیا کہ جو اسے مارے گا اس کو انعام ملے گا جو کیا ملک کے مفاد میں کیا۔ عدالت نے بیرسٹر ظفر اللہ کی سربراہی میں نئی کمیٹی تشکیل دیدی۔ عدالت نے فیض آباد آپریشن کی ناکامی کی رپورٹ طلب کرلی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ مظاہرین کے پاس آنسو گیس کے شیل کہاں سے آئے؟

احسن اقبال نے کہا کہ ملک بڑے سکیورٹی چیلنج کی طرف جارہا تھا کسی شاہراہ کو بند کرنا دہشت گردی کا عمل ہے احسن اقبال نے کہا کہ قومی قیادت نے معاہدے میں کردار ادا کیا۔ جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ آج کی سماعت کے بعد میں بھی خطرے میں ہوں گا۔ ریاست اور آئین سے کھیلنے کی ایک حد ہوتی ہے ریاست کا اربوں کا نقصان کرکے حکومت ان جتھہ برداروں کو معاف کردے گی۔ معاہدے میں ججز سے معافی مانگنے کی شق کیوں نہیں؟ احسن اقبال نے کہا کہ دھرنے والوں نے مطاہرے ختم کرنے کے لئے لکھ کرد یا ہے ۔ معاہدہ بہ وساطت میجر جنرل فیض کیسے طے پایا؟ آئین کے تحت میجر جنرل کو ثالث بننے کا کیسے اختیار ہے؟

حکومت نے بے رحمی کے ساتھ اسلام آباد انتظامیہ کو ذلیل کروایا کوئی کور نہیں تھا۔ سیکشن فور کے تحت انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال میں فوج بلانے کا اختیار ہے سیکشن 5کے تحت فوج انتظامیہ کا حکم ماننے کی پابند ہے۔ ہمیں نہیں پتہ راجہ ظفر الحق کے گھر کون کس کو لے کر گیا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ریاست کو تباہ کررہے ہیں۔ احسن اقبال صاحب سیکشن فور اور فائیو پڑھیں۔اپنے ملک کے ادارے ہی اپنی ریاست کے خلاف کام کررہے ہیں.جسٹس شوکت عزیز کے مزید سوالات یہ تھے؟

آپریشن ردالفساد کدھر گیا ؟

کیا یہاں کسی کو فساد نظر نہیں آرہا ؟

قوم کے ساتھ یہ تماشا کب تک چلتا رہے گا۔

ان باتوں کے بعد اب میری زندگی کی کوئی ضمانت نہیں.مار دیا جاؤں گا یا لاپتہ کردیا جاؤ ں گا؟

یہ تو چیف جسٹس شوکت عزیز کی عدالتی کاروائی تھی ، لیکن اس دھرنے اور دھرنے کا حالیہ انجام میرے ذہن میں بہت سارے سوالات پیدا کر رہا ہے؟

‏ سوال نمر ۱۔ اب تک عاشقانِ رسول ﷺ صرف پنجاب سے ہی سامنے آئے ہیں اور عاشقان رسول ﷺ کے مظاہرے بھی صرف پنجاب کے شہروں میں ہی ہو رہے۔ صرف کراچی میں کچھ ہل جل ہوئی ہے۔
‏کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے باسی عشق رسول ﷺ سے محروم ہیں ؟

سوال نمبر ۲۔ رٹ آف دی اسٹیٹ سب سے اہمیت کی حامل ہوتی ہے.کسی بھی گروپ یا گروہ خواہ وہ کسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہو اس کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ رٹ آف اسٹیٹ کو چیلنج کرے.پاکستانی معاشرے کی گروہی تقسیم تو اس چیز کی کسی صورت اجازت نہیں دیتی ہے.اس سب کے باوجود اس معاملہ سے درست انداز میں نہیں نپٹا گیا.کچھ خادم حسین رضوی صاب کا سخت موقف جو درست تھا یا غلط لیکن اس کا طریقہ کار بلا شبہ درست نہیں ، بھی ہے تو دوسری جانب ن لیگ کی عاقبت نااندیشی یہ دونوں چیزیں آئندہ دنوں میں کیا رنگ لاتی ہیں؟

سوال نمبر ۳- ایک جمہوری معاشرے میں مختلف فکر ہائے کے لوگ بستے ہیں ، اور اس طرح کی بڑھتی ہوئی شدت پسندی میں بھی روز بروز اضافہ ہورہاہے۔ اب اگر پاکستانی میں کوئی ایک مکتبہ فخر کے مسلمان اپنی تشریحاتی اسلام اور حضرت محمدؐ سے دعوی محبت کو دوسرے پاکستانیوں کے عقائد یا دوسرے مکاتب فکر کے مقابلے میں بہتر ثابت کریں گے۔ اور اس محبت کی عام عوام سے اندھی تقلید کروائی جائے گی ۔ اور پاکستان کے طول و عرض میں بسنے والے ان سادہ لوح مسلمانوں کو کبھی تو جہاد اور کبھی اسلام کی سربلندی اور کبھی کبھی توہین کا “ڈراوا” دے کر استعمال کیا جاتا ہے۔ ماضی کی چند دہائیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ ان اندھی عقیدتوں پر سینکڑوں پاکستانی نوجوان اپنی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اب ایک بار پھر فیض آباد دھرنے سے ان محبتوں کے ثبوت مانگے گئے ہیں ؟ ماضی کی طرح کبھی افغان جہاد اور کبھی جہاد کشمیر کی طرح ، کیا مستقبل قریب میں ہمیں ایک بار پھر اپنے جوانوں کے خون کی قربانی دینی ہوگی ؟

سوال نمبر ۴- عسکری قیادت سے جب آپریشن کا تقاضہ کیا گیا تو ان کا جواب یہ آیا کہ اپنے لوگوں کے خلاف آپریشن نہیں کرسکتے تو کیا کالعدم مذہبی تنظیموں اور لسانی تنظیموں کے افراد اپنے نہیں تھے؟ وہ ہزاروں لاپتہ لوگ اپنے نہیں تھے؟ کیا بلوچستان کے لوگ اپنے نہیں ہیں؟

سوال نمبر ۵۔ مولوی خادم رضوی نے اپنی گالیوں کا ثبوت خدا کی ذات میں سے برآمد فرما لیا ہے ۔ کیا رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی جانی دشمن کافر کو بھی  گالی دے کر مخاطب کیا  تھا؟ یہ گالیاں تو مرزا قادیانی کی وراثت تھی  جو خادم حسین نے پائی ہے – کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے کسی مبلغ کو گالیاں سکھا کر تبلیغ کرنے بھیجا تھا؟ کیا اللہ نے موسی اور ہارون  علیہما السلام کو گالیاں سکھا کر فرعون کی طرف بھیجا تھا؟ ” مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس کو قتل کرنا کفر ہے ” کس ہستی کا فرمان ہے؟ کیا ایسے لوگوں کو ہم مستقبل میں منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بٹھا سکتے ہیں؟

سوال نمبر ۶- آرمی کون سے فنڈ سے مظاہرین میں پیسے بانٹ رہی ہے؟ اور انہیں یہ اختیار کس نے دیا ہے، اور اس پیسے کا آڈٹ کس مد میں ہوگا؟

سوال نمبر۷۔ آئین میں ترمیم کے حوالے سے جن وزراء کا نام آیااور گزشتہ دنوں میں جس طرح چند وزراءکے گھروں پر حملہ کیا گیا ، کیا اب مستقبل میں وہ وزراء پاکستان میں آزادانہ گھوم پھر سکیں گے؟

سوال نمبر ۸۔ ایک ناجائز دھرنے میں چند ہزار افراد کے جتھے کے مقابلے میں فوج کا ثالث بننا ،کیا مکنہ طور پر دھرنے کے اصل کرداروں کو واضح نہیں کرتا ؟

سوال نمبر ۹۔ اس ساری صورتحال میں اپوزیشن پارٹیوں کا کردار اتنا شرمناک کیوں رہا، انہوں نے دھرنے والوں کی بابت کوئی بیان نہیں دیا لیکن حکومت پر مسلسل نااہلی اور بد انتظامی کی تنقید جاری رکھی گئی ، یہ سب کیا ایک جمہوری اپوزیشن کا کردار ہے؟

سوال نمبر ۱۰- حکومت کا اداروں پر کتنا کنٹرول ہے، حکومت اور حکومتی اراکین پاکستان کے ساتھ کتنا سنجیدہ ہیں؟ کیا وہ واقعی پاکستان کی باگ ڈور سنبھالنے کے اہل ہیں؟

میرے پاس تو ان تمام سوالات کے کوئی جوابات نہیں ہیں سوائے  اس کے کہ دراصل اس تمام دھرنے کے معاملات کچھ اور تھے وہ نہیں جو ہمیں نظر آتے رہے ، بقول خادم رضوی اپنی ہر تقریر میں کہتے رہے کہ ، ” گل وچ ہور اے” ۔ تو آپ یقین کیجئے اس دھرنے کے مقاصد بھی کچھ اور ہی تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *