زندہ درگور بُڑھیا۔محمد اظہار الحق

بال بکھرے ہوئے تھے۔چہرے پر خراشیں تھیں ۔ٹخنوں سے خون بہہ بہہ کرجوتوں میں جم گیا تھا۔گھٹنے زخمی تھے۔ہاتھوں کی کئی انگلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں ۔چلی تو لنگڑا رہی تھی۔سانس فوراً پھول جاتا تھا۔

مجھے دیکھا تو  رُک گئی۔ اس حال میں بھی آنکھوں سے خیرہ کُن چمک شعاؤں  کی طرح باہر آرہی تھی۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر  بات کرنا ممکن ہی نہ تھا۔طنز بھرے لہجے میں بولی

“تم نے بھی میرا ماتم ہی کرنا ہوگا

کرلو!کہیں دوسروں سے پیچھے نہ رہ جاؤ۔

میں نے اسے بٹھایا۔اور بتایا  کہ میں  اس لیے نہیں ڈھونڈ رہا تھا کہ تمھیں  موضوع سخن بنا کر کالم کا پیٹ بھروں۔میں تو تمھاری سننے آیا ہوں !سب تمھاری بات کرتے ہیں لیکن تمھاری سنتے نہیں!اپنی بات کرتے ہیں اور تمھارے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں !تم بتاؤ!میں سنوں گا کیا اس حال تک تمھیں عسکری مداخلت نے پہنچایا ہے؟

کاش ایسا ہوتا!ایسا ہوتا تو مجھے اپنے بالوں کے بکھرنے کا’دانتوں کے ٹوٹنے کا،گھٹنوں کے زخمی ہونے کا’ چہرے کے مسخ ہونے کا رنج تو نہ ہوتا۔مجھے خوشی ہوتی کہ  میں نے اپنے آپ کو ایک مقصد کے لیے’ ایک بڑے مقصد کے لیے خرچ کیا  ہے!مگر افسوس !یہ حال میرا عسکری مداخلت نے نہیں کیا ہے!”

سول بالا دستی سے یہ  ملاقات اس کے گھر میں ہو رہی تھی۔شہر کے ایک گنجان ‘پرانے محلے میں ٹوٹی ہوئی گلی کے سرے پر’ایک خستہ حال مکان کا بالائی حصہ تھا۔ صرف ایک کمرے پر مشتمل! یقین نہیں آ رہا  تھا کہ جمہوری دور میں سول بالا دستی اس عُسرت  سے زندگی کاٹ رہی ہوگی۔کمرے  کے کونے میں تیل والا چولہا اور چند برتن پڑے تھے۔بان کی چارپائی تھی۔ ادوائین ٹوٹی ہوئی!تکیے  کا غلاف میل سے کالا ہوچکا تھا۔ میں بیٹھا تو یوں لگا جیسے چارپائی کا پیٹ زمین سے جا لگے گا۔

منع کرنے کے باوجود چائے بنانے بیٹھ گئی۔کسی زمانے میں پیالیوں کے ساتھ کُنڈے لگے ہوں ،مگر اب صرف نشان باقی  تھے۔ چائے پکڑائی تو ساتھ ہی معذرت کرنے لگی کہ گُڑ کی چائے ہے۔کہنے لگی کہ’ سفید چینی خریدنے کی استطاعت نہیں !

خود وہ پھیکی چائے پی رہی تھی۔کہنے لگی’پشتوں میں کسی کو ذیابطیس نہیں تھی۔گزشتہ سات آٹھ سال اس قدر ذہنی تناؤ اور دباؤ میں گزرے کہ شوگر ہوگئی!

پھر وہ بولتی گئی اور میں دم بخود سنتا رہا۔کس قدر دردناک کہانی تھی!لب لباب اس کی داستانِ غم کا یہ تھا کہ 2008ء میں جمہوری حکومت آئی تو سول بالادستی بھی سامنے آگئی۔جوان تھی اور خوبصورت!گلے میں پانی اترتا ہوا ،دکھائی دیتا تھا!زلفیں گھنی تھیں ‘کالی گھٹا کو شرما دینے والی!چہرہ غازے کے بغیر بھی چاند جیسا!چلتی تو فوجی مداخلت بھاگ جاتی۔دنیا عش عش کرتی!

پہلی خراش اس کے چہرے پر اس وقت پڑی جب اس زمانے کے صدر نے اپنے جیل کے ایک ساتھی کو تیل اور توانائی کا وزیر بنا دیا۔ یہ آغاز تھاپھر تو صدمے پر صدمہ’چوٹ پر چوٹ!یوسف رضا گیلانی کے زمانے میں ہر طرف ملتان ہی ملتان تھا۔حج کا سکینڈل اٹھا تو بیچاری سول بالا دستی کے گھٹنوں سے خون بہنا شروع ہوگیا۔ پھر راجہ پرویز اشرف کے زمانے میں ریڑھ کی ہڈی تک متاثر ہوگئی!

مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو سول بالا دستی کے پرخچے اڑنے شروع ہوگئے۔زخمی تھی مگر اب بھی جوانی کی دلکشی باقی  تھی۔ چہرے کے نقوش میں جاذبیت اب بھی تھی۔میاں نواز شریف نے غیر منتخب ‘ریٹائرڈ بیورو کریٹ وزیراعظم آفس میں ایڈوائزر بنا کر بٹھایا تو بیچاری کی چیخیں نکل گئیں  اس پیر تسمہ پا ایڈوائزر کی واحد خوبی یہ تھی کہ  وہ میاں صاحب کی ذات برادری سے تھا۔

وزیر اعظم کے اختیارات ‘ان کی غیر حاضری میں ‘ان کی بیٹی نے سنبھالے تو سول بالا دستی نے شہر کے پُر رونق آسودہ حصے کو چھوڑا اور اس تنگ قدیم محلے میں منتقل ہوگئی۔ اب وہاں  رہتے ہوئے اُسے شرم  محسوس ہوتی تھی۔ پھر دختر نیک اختر نے میڈیا سیل کھول لیااور وزارتِ اطلاعات کو اپنی باندی بنا لیا۔اس وقت کے وزیر اعظم نے  ذاتی محلات کی چار دیواری پر قومی خزانے سے ستر کروڑ لگادیے۔ سول بالا دستی کے چہرے پر جھریاں پڑ گئیں ۔۔نواسی کے  نکاح پر قومی ائیر لائن کو یوں استعمال کیا گیا جیسے گاؤں کے  چودھری میراثیوں کو  استعمال کرتے ہیں ۔غسل خانے پر عوام کے ٹیکسوں سے اڑھائی کروڑ لگا دیے۔

پورا ایک سال  وزیراعظم نے سینٹ میں اپنی شکل نہ دکھائی۔سول بالا دستی کا پیٹ کمر سے جا لگا۔ کابینہ کو وہ گھاس ہی نہ ڈالتے تھے۔دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلٰی ہر روز اسمبلی میں جاتے مگر وزیراعظم کے بھائی’ مہینے گزر جاتے تب بھی صوبائی اسمبلی کا رُخ نہ کرتے۔

صوبائی وزیر اعلٰی نے بیٹے کو صوبے کے سیاہ و سفید کا مالک  کیا تو سول بالا دستی نے سر پیٹ لیا۔پھر فرد واحد نے چھپن کمپنیاں  بنائیں ۔ کابینہ کا دخل تھا نہ اسمبلی کا۔ سول بالا دستی کے بال  دیکھتے ہی دیکھتے سفید ہوگئے۔

کون سا ظلم تھا جو اس زمانے میں سول بالا دستی  پر نہ ہوا تھا۔غیر ملکی دوروں میں وزیراعظم صرف ایک وزیر اعلٰی  کو ساتھ لے جاتے اس لیے کہ وہ بھائی بھی تھا۔وزارت خارجہ کے امور بھی وہی چلاتا ۔ توانائی کی وزارت میں بھی اسی کا عمل دخل تھا۔ قطر جاکر وفاق کی طرف سے معاہدے کرتا رہا!

سول بالا دستی انگشت بدنداں  ہو کر وزیر اعظم  کے رنگ چالے دیکھتی رہی’خون کے آنسو پیتی رہی! وزیراعظم فائل پڑھ سکتا تھا نہ فائل پر کچھ لکھتا تھا۔عملاً’ پرنسپل سیکرٹری ہی وزیراعظم تھا۔ایک اجلاس  بھی وزیراعظم  نے ای سی سی جیسے اہم ادارے کا خود اٹنڈ نہ کیا۔حکومتی امور سے اتنی بھی دلچسپی  نہ تھی جتنی سوتیلی  ماں کو سوتیلے بچوں سے ہوتی ہے!سینکڑوں  کمیٹیاں سمدھی کے سپرد کردیں۔خود صرف بیرونی دورے کرتے۔ملک میں ہوتے تو مری چلے جاتے!حکومت میاں نواز شریف کے لیے عیاشی کے سواکچھ نہ تھی۔ ہر روز روزِ عید تھا۔ ہر شب شبِ برات تھی!ذوق اتنا پست اور عامیانہ کہ کروڑوں کی گھڑی باندھ کر خوش ہوتے جب کہ لوگ اخ تھو کرتے! خارجہ امور  پر ایک دن بھی گفتگو نہ کی!مُودی نے ماسکو سے لے کر واشنگٹن تک’ابو ظہبی سے  لے کر ریاض تک’تاشقند سے لے کر ‘تہران اور کابل تک بھارت کے نام کا غلغلہ برپا کردیا۔ مگر میاں نواز شریف کسی سے بات تک نہ کرپاتے۔بس لندن جاتے تو ریستورانوں میں کھاتے پیتے!سول بالا دستی اب ستر سال کی  ضعیف  بدصورت کالی کلوٹی بڑھیا کا روپ دھار چکی تھی۔

پانامہ کیس کا فیصلہ ہوا تو نااہل وزیراعظم نے عدالت کا فیصلہ ماننے  ہی سے انکار کردیا فوجی آمر’عدالتوں میں مداخلت کرتے تھے مگر اب جمہوری دور میں جو کچھ عدالتوں  ان کے فیصلوں اور ججو ں کے ساتھ ہوا ‘سول بالا دستی نے شرم سے سر جھکا لیا’پارٹی کے امور بیٹی نے سنبھال لیے۔آئین اور قانون کی شکل بگاڑ کر’ترامیم کے سہارے’پارٹی کی صدارت پر قبضہ ہے۔سول بالادستی کیا کرتی’صرف اور صرف ایک خاندان کو بچانے کے لیے ہر وہ حربہ آزمایا گیا جس سے آمریت بھی شرما جاتی !

اب وہ ہانپ رہی تھی۔دمہ بھی ہوگیا تھا!کہنے لگی کتنا برداشت کرتی دیکھو !میری کمر پر کتنا بوجھ  لادا گیا۔میری پیٹھ پر اس خاندان نے کجاوا رکھا اور پھر مجھ پر سواری کرنے لگ گئے۔سمدھی بھی۔بیٹی بھی ‘داماد بھی ‘بھائی بھی بھتیجا بھی!پیپلز پارٹی نے سول بالادستی کی کمر پر بہنیں  لاد دیں ۔کھوتا بھی اتنا وزن اٹھانے سے قاصر تھا۔ان جمہوری حکومتوں  نے سول بالادستی کو کم ظرف نو دولتیوں  کی طرح استعمال کیا!

پیشکش کی کہ ہسپتال داخل کرا دیتا ہوں ۔مگر اس نے انکار کردیا۔ کہنے لگی بس یہ تکلیف ضرور دوں گی کہ کسی دن کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس لے چلو!جو چار دن باقی ہیں  ‘دواؤں کی مدد سے آرام سے گزر جائیں! !زیادہ جینے کی خواہش ہی نہیں  ! اس سے پہلے پہلے کہ نا اہل شخص کی قیادت میں پوری حکومت نااہل ہوجائے ‘مرجاؤں تو بہتر ہوگا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *