دل اور دماغ۔۔ضیغم قدیر

ہم سوچتے تو دماغ سے ہیں۔ مگر ایسا محسوس کیوں ہوتا ہے کہ دل، دماغ سے ایسا کروا رہا ہے؟ یہ سوال تھوڑا الٹ ہے۔ دراصل، انسان دماغ سے سوچتا ہے لیکن ہر سوچ کا اثر دل پہ پڑتا ہے۔ کیسے؟

فرض کریں آپ کسی دباؤ یا پریشانی کا شکار ہیں یا کسی سے پیار محسوس کرتے ہیں تو اس دباؤ، پریشانی یا پیار کے بعد کچھ ہارمونز جنہیں ہم سٹریس ہارمون کہتے ہیں وہ ریلیز ہوتے ہیں۔ ان ہارمونز میں کارٹی سول، ایڈرنالین اور ایپی نیفرین وغیرہ شامل ہیں۔ جب یہ ریلیز ہوتے ہیں تو یہ ہمارے جسم کو کسی بھی قسم کے خطرے کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہمارے جسم کو اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں جس کو دیکھ کر ہمارا دماغ الرٹ ہوا تھا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

یہ تیاری کیسے ہوتی ہے؟ یہ تیاری، سب سے پہلے، دل کے دھڑکنے کی رفتار بڑھا کر اور ہاضمے کی رفتار کم کر کے ہوتی ہے۔ ایمرجنسی کی حالت میں یہ ہارمون ہمارے دل کی رفتار بڑھاتے ہیں جس کی وجہ سے فشار خون بڑھتا ہے اور ہم اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ زیادہ بلڈ پریشر ہمارے مسلز کو کسی بھی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرتا ہے۔ جبکہ ہاضمے کی کم رفتار دل کو دوسرے مسلز تک خون پہنچانے میں مدد دیتی ہے۔

یہی وہ وجہ ہے کہ جب ہم کسی سے نفرت کرتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا دل ہمیں نفرت پہ مجبور کر رہا ہے۔ یا ہمارا دل غصہ دلا رہا ہے۔ جبکہ درحقیقت یہ سب دماغ کرواتا ہے۔ دل فقط دھڑکنے کی رفتار بدلتا ہے اور یہ دماغ کے احکامات کا نتیجہ ہے۔ یہ سب ہی دماغ کے اختیار میں ہے کہ ہم کیا ری ایکشن دیں گے؟

Advertisements
julia rana solicitors

مگر چونکہ دل تیز دھڑک کر ہمیں ایسا محسوس کراتا ہے تو اس لئے ہمیں یہ لگتا ہے کہ یہ سب دل کنٹرول کر رہا ہے جبکہ درحقیقت ایسا سب دماغ کرتا ہے دل تو بس اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply