واجب القتل کون؟۔۔۔روبینہ فیصل

مولوی صاحب!!کیا اسلام صرف نماز، روزہ، داڑھی اور عبا و عمامہ کا نام ہے؟ کیا اسلام جنت میں حوریں، شہد، اور دودھ کی نہروں کا لالچ یا دوزخ کی دہکتی آگ کا ڈراوا ہے؟ اور روح کی صفائی کا کوئی تعلق نہیں؟روح کی صفائی کے ساتھ دینِ اسلام، دنیا بھی ہے،کیونکہ اسلام آیا ہی جاہل بدؤ کو ضابطہ ء حیات سکھانے تھا،ورنہ خدا کی عبادت تو کسی نہ کسی طرح ہوہی رہی تھی۔کیا آپ جانتے ہیں کہ اسلام  نام  ہےصرف “تکمیل ِ اخلا ق “کا؟  آپ ارکان ِ مذہب کی جتنی مر ضی پابندی کر لیں، اگر آپ انسانوں کی عزت نہیں کر تے، منافق، دھوکے بازاورجھوٹے ہیں، اور اپنی ذاتی یاخاندانی یا حکومتی خوشی کی خاطر، انسانوں کی کم علمی یا معصومیت سے کھیل رہے ہیں، تو آپ مسلمان ہی کیا انسان بھی نہیں۔
جس پاک ہستی کا نام لے کر کلمہ حق کے دعوے کرتے، شہادتوں کے مقام متعین کر تے اور لوگوں کو توہین رسالت کے نام پر واجب القتل قرار دیتے ہیں،اس پاک ہستی کو آپ جانتے بھی ہیں کہ وہ کون تھی؟ جانتے بھی ہیں کہ تاریک غار ِ حرا کی الہامی کیفیت میں ڈوبے رہنے کے بعد جس روشنی کے ساتھ آپ ﷺ باہر آئے تھے وہ روشنی کیا تھی؟ جانتے ہیں وہ “صراط ِ مستقیم “جس کی آپﷺ تبلیغ کر تے تھے وہ کیا تھا؟ وہ انسان کے اندورنی سکون اور باہر کی دنیا میں امن پھیلانے کا ایک تواز ن تھا۔غار ِ حرا کی تاریکی میں وہ پو ری دنیا کے لئے رحمت کی روشنی ہاتھ میں تھامے نکلے تھے۔ رحمت۔۔۔۔۔۔زحمت نہیں۔
مولوی صاحب کیا آپ جانتے ہیں تو ہین ِ رسا لت کیا ہے اور کو ن کر رہا ہے؟ آپ۔۔۔۔۔سب سے بڑی توہین ِ رسالت، توہین خدا اور توہین ِ مذہب آپ کر رہے ہیں۔ہاں!!کسی ذات کی اس سے بڑی تو ہین کیا ہو گی کہ، اس کے پیغام کا مقصد تباہ اور معنی الٹ دئے جائیں۔ وہ لوگوں کو درگزر کر نے کی ہدایت کر تے رہے آپ انسانوں کو نفرتوں کی بھٹی میں جھونک رہے ہیں، پیارے پیغمبر ﷺاپنی زبان سے دشمنوں کے لئے بھی بد کلامی نہ کر نے کا درس دیتے تھے اور آپ ان کا نام لے کے ننگی گالیاں دیتے ہیں۔اسلام، صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ سب انسانوں کا مذہب ہے،آپ اسے نفرتوں کی قینچی بنا کر چھوٹے چھوٹے فرقوں کے دائروں میں کا ٹ رہے ہیں۔  آپ جدید دور میں لوگوں کو جہل و تاریکی کی طرف لے کر جا رہے ہیں، جو مذہب ِ اسلام کی تعلیمات کے  بر عکس ہے،آپ خدا اور اس کے رسول کی نہیں، اپنے نفس کے بُت کی پرستش کر تے ہیں۔آپ فتوی دینے کی فیکٹریوں کے مالک ہیں۔
یاد رکھنے کی بات ہے کہ یہ وہی مولوی ہے جس نے 1857کی جنگ ِ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمان کو مسجد میں دھکیل دیا تھا، اور انگریز حکومت کو خوش کر نے کے لئے یہ فرمان جاری کیا تھا کہ حاکم ِ وقت کی اطاعت فرض ہے،لہٰذا کوئی بغاوت کا نہ سوچے۔منبروں سے مسلمانوں کو انگریزی زبان سے دور رہنے کے احکاما ت جاری کئے جاتے تھے اور اسی وقت رام موہن رائے ہندوؤں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کر رہا تھا، سرسید احمد خان نے جب مسلمانوں کی یہ کم عقلی دیکھی تو انہیں انگریزی اور سائنس کی طرف دھکیلا تو انہی مولویوں نے انہیں “کافر “کہا۔ اگر آج دنیا میں ہم تھوڑا بہت سر اٹھا کر جینے کے قابل ہیں تو اسی سر سید کی وجہ سے ،ورنہ مولوی نے توہمیں اس قابل بھی نہیں چھوڑنا تھا کہ اپنے حصے کی سانس بھی لے پاتے۔
یہ کہتے ہیں کافروں کی بنائی کھیلوں اور ایجادوں سے دور رہو۔آپ توانسانیت کوعلم یا ضابطہ حیات کے نام پر ایک حرف دینے کے بھی قابل نہیں ہیں۔جس جِن کا نام “مولوی “ہے اور وہ بوتل سے باہر نکلا آیا ہے اور بقول احمد بشیر کے دندناتا پھرتا ہے، بنیادی طور پر تو وہ جن بھی کسی مسلمان نے نہیں ایک ہندو نے بوتل سے باہر نکالا تھا۔ یاد کر یں تحریک ِ خلافت میں گاندھی صاحب کا متحرک کر دار اور محمد علی جناح کی حکمت ِ عملی۔۔۔پاکستان، قائد اعظم نے اسلام کی کسی تجربہ گاہ کے طور پر نہیں بنا یا تھا، اگر کانگریس الیکشن میں اکثریت ملنے کے بعد اپنے مذہبی تعصب اور تنگ نظری کا مظاہرہ نہ کرتی، تو قائد اعظم کے ذہن میں تو کسی اسلامی نظریہ کا دور دور تک خیال تک نہ تھا۔ وہ تو صو بوں کی خود مختاری کی سیاسی اور قانونی لڑائی لڑنے میں مصروف تھے۔ انہیں تو یہ مولوی “کافر ِ اعظم “کہتے تھے اور آج انتہائی بے شرمی سے انہی کے بنائے ملک میں بیٹھ کراسلام اسلام کے نعرے لگا رہے ہیں۔
اس عظیم انسان نے تو ملک بناتے ہی صرف معاشی انصاف اور مساوات کی بات کی،جو اسلام کا پہلا سبق ہے، انسانوں کو فرقوں اور مذاہب کی بنیاد پر کاٹا پیٹا نہیں۔۔پہلا وزیر ِ خارجہ کون تھا؟ ایک قادیانی۔۔پہلا وزیر قانون کون تھا؟ ایک ہندو۔۔ترقی کے راستے پر پاکستان اور پاکستانیوں کو لے جانے کے لئے فرقوں اور مذاہب کو نہیں بلکہ قابلیت کو دیکھا۔۔۔۔۔کہاں ہے قائد کا پاکستان؟
یہ تو متعصب ہندؤ کا ملک لگ رہا ہے جہاں ذات پات کی بنیاد پر لوگوں کے درجات طے ہو رہے ہیں۔
یہاں توگاندھی کا بوتل سے نکالا ہوا مذہب کا جن دندناتا پھر رہا ہے۔قدرت اللہ شہاب کے ہاتھ،اڑیسہ کے چیف منسٹر ہری کشن مہتاب کے پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے کانگریس کا ایک انتہائی خفیہ سرکلر ہاتھ لگا،جس میں کانگریس کو ہدایت کی گئی تھی کہ چونکہ تقسیم ہند کا فیصلہ ہو چکا ہے اس لئے مسلمان افسروں کو کلیدی عہدوں سے ہٹا دیا جائے اور تھانوں کا چارج ہندوؤں کو دیا جائے اور پولیس کی مسلمان نفری کو غیر مسلح کر دیا جائے۔شہاب کو جھٹکا لگا،ان کی سرکاری تربیت ان کا راستہ نہ روک سکی اور انہوں نے دلی جا کر یہ دستاویز قائد اعظم کے حوالے کر دی۔قائد اعظم نے انہیں ڈانٹا کہ تُونے اپنے فرائض سے غفلت بھرتی ہے،تمھیں سرکاری راز افشا نہیں کر نا چاہیئے تھا۔۔۔۔ یہ آپ کے پاکستان کو بنانے والے کی اعلی ٰکرداری تھی مگر خانہِ مولوی خراب ،کہ اسی کی بدولت آج اپنے مالکوں کو قتل کر نے والوں کو شہادت کے درجے پر بٹھایا جا رہا ہے۔
پوری انسانیت کو فلاح اور امن کا راستہ بتانے والا مذہب،جس کی تکمیل پیارے محمد ﷺ کی ذات مبارک پر ہو ئی تھی۔اس کے نام پر کھلی درندگی، غلیظ زبان اور انسانوں کا قتل اور بے حرمتی؟میرا رب تو غنی اور معاف کر نے والا ہے، وہ ایسی تنگ دلی اور نفرت کو کیسے قبول کرے گا؟ میرا رب تو پاکیزہ اور طاہر ہے،وہ ایسی کثافت اور گندگی کی اجازت کیسے دے سکتا ہے جو ہم پنڈی دھرنے میں دیکھ رہے ہیں؟
مولوی صاحب!!آپ جیسوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ آپ تو ہٹلر کی وہ نازی فوج ہیں جنہوں نے جرمن قوم کو تباہ کر دیا تھا، آپ لوگ لنکا کے وہ راجہ راون ہیں، جس کے ہزاروں ہاتھ تھے، ایک ہاتھ گھائل ہو تا تو دوسرا لڑنے لگ جا تا۔آپ لوگ چنگیز خان، ہلاکو، سکندر تو ہو سکتے ہیں،جنہوں نے ذاتی سکون کے لئے مستقل مزاجی سے فتوحات کیں مگر عفو و درگزر سے کام لینے والے، دنیا میں توازن اور محبت کا پیغام پھیلانے والے رحمت اللعالمین کی پاک ذات سے آپ جیسوں کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔کیا ہو سکتا ہے؟
بلا شبہ رسول ِ پاک ﷺ کاعہد مبارک ہے، مگر صرف اس لئے نہیں کہ نمازیں 40 سے 5 ہو گئی تھیں یا شادیاں لا محدود سے 4 تک محدود ہو گئی تھیں، یا وضو کر نے کا طریقہ، اور نماز روزے کے آداب مکمل ہو گئے تھے، نہیں بلکہ انسانیت کا سبق محمد ﷺ کی ذات پر مکمل ہو ا تھا۔ اور ان ﷺکی ذات ِ مبارک تو پاکیزگی اور سچائی کا نمونہ تو تھی ہی ان کا تعلق ایسے قبیلے سے تھا جو اپنی فصاحت و بلاغت اور پاکیزگی زبان سے بہت شہرت رکھتا تھا۔ اس لئے عرب جیسی جاہل،تشدد پسند قوم جسے سمجھانا پتھر میں جونک لگانے کے مترادف تھا، ایسے لوگوں کے لئے آپﷺ کا ظہور ہو ا تھا اور ایسے فطری مذہب کی ضرورت محسوس ہو ئی تھی۔
آپ امن و آشتی پھیلانے والے اسلام کے پیرو کار نہیں بلکہ مولوی صاحب آپ چودہ سو سال پہلے پیدا ہو نے والے بدو دماغ، نفس پرست، عورتوں کی بے عزتی کر نے والے  ہیں اور آپ،اس کامل مذہب کی، اس کے پیغمبر کی، اس کے خدا کی تو ہین کر رہے ہیں،اگر پورے پاکستان میں کو ئی واجب القتل ہے تو وہ صرف اور صرفسماج کو انتہا پسندی کے راستے پہ ڈالنے والے ہیں۔۔۔کیونکہ آپ سے زیادہ توہین ِ رسالت آج تک کسی نے نہیں کی۔
مجھے ہمدرد سمجھا رہے ہیں مولویوں کے چھتے میں ہاتھ نہ ڈالو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر
کوئی کچھ بھی کہے،کہے مجھے کیا
بات جو میرے دل میں ہے، میں اگر
آج اپنی زبان پہ لا نہ سکا
کل،میرے بعد، تیری منڈلی پہ جب
آگ برسے گی۔۔کون بولے گا!(مجید امجد)۔

 

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *