امریکہ جنگ سے کیوں بچنا چاہتا ہے؟۔۔اسلم اعوان

روسی فوج کی پیشقدمی کے باوجود یوکرین کی تسخیر کا مشن خاص قسم کی اسٹریٹیجک تاخیرمیں ڈھلتا دیکھائی دیتا ہے،اب تک کی اطلاعات کے مطابق فریقین کے مابین بات چیت کے باوجود روسی فورسیسز دارالحکومت کیف سے 16کلو میٹر کے فاصلہ پہ رکی ہوئی ہیں،روسی فضائیہ نے پولینڈ کی سرحد کے قریب خفیہ ٹرینگ کیمپ کو تباہ کرنے کا دعوی بھی کیا،ایسا لگتا ہے کہ روس کی سیکورٹی اشرافیہ،امریکہ اور نیٹو کے فوجی ردعمل کی منتظر ہے لیکن پراسرار طور پہ اب یوکرینی صدر زیلنسکی نے بھی نیٹو سے زمینی اور فضائی مدد مانگنے کی التجائیں بند کر دیں ہیں۔ادھر جوبائیڈن انتظامیہ براہ راست کسی بڑی جنگ میں الجھنے سے بچنے کی خاطر نئی حکمت عملی کی متلاشی ہیں،مغربی تجزیہ کار اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ یوکرین کی جنگ نے نائین الیون کے بعد امریکی خارجہ پالیسی پہ جامع نظرثانی کا ایسا احساس پیدا کیا،جس نے امریکہ کے عالمی مشن کو نئے رجحانات دیکر اتحادیوں اور مخالفین کے ساتھ یکساں اسٹریٹجک حساب کتاب رکھنے کی راہ دکھائی۔اگرچہ مغربی میڈیا یوکرین پہ روسی یلغار کو امریکہ کے لئے یورپ کے ساتھ مضبوط روابط اورایشیائی اتحادیوں سے تعلقات مزید گہرے کرنے کے علاوہ چین،ایران اورشمالی کوریا جیسے حریفوں سے تنازعات کی ازسر نو صف بندی کا موقعہ قرار دے رہا ہے لیکن حالات کا بہاو امریکی ارادوں کے برعکس ہے۔یوروپ محض یوکرین کے تحفظ کے لئے روس کے خلاف بڑی جنگ لڑنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا،اس سوچ کی جھلک یوروپی یونین پارلیمنٹ کی خاتون ممبر کلیئرڈیلی کے اس جذباتی خطاب میں نمایاں نظر آئی جس میں کلیئر ڈیلی نے نہایت بیباکی کے ساتھ سفید فاموں کی ساکھ سے نقاب سرکایا۔سعودی عرب اور یو اے ای نے صدر بائیڈن کی درخواست کے باوجود یوکرین کے بحران میں فریق بننے سے انکارکر دیا،پاکستان،حتی کہ بھارت جیسے اتحادی نے بھی روس کے خلاف پوزیشن لینے سے انکار کرکے واشنگٹن کی قائدانہ حیثیت کو گزند پہچائی۔افغانستان سے مایوس کن امریکی انخلا کے چند مہینوں بعد روس کے ساتھ نئی الجھن بدترین مصائب اور اندرونی خلفشارکے ہمراہ آئی جس نے امریکہ کو اپنی طاقت کی حدود متعین اور خارجہ پالیسی کے اصولوں بدلنے پہ مجبور کردیا۔اوباما انتظامیہ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر بنجمن جے روڈس کہتے ہیں”یوںمحسوس ہوتا ہے، ہم یقینی طور پر نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں،نائن الیون کے بعد کی جنگ دہشت گردی کے عواقب و زوال ہمارے پیچھے ہیں، ہمیں یہ بھی معلوم نہیںآگے کیا ہو گا“۔تاہم اس کے باوجود حالیہ ہفتوں میں امریکی حکام 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد گونجنے والے عظیم اعلانات کی جگالی کرتے سنائی دیئے،جمعہ کو صدربائیڈن نے کہا”آزاد دنیا اکٹھی ہو رہی ہے“ یہ جملہ جارج ڈبلیو بش کی اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کس طرح ”پوری آزاد دنیا“ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اکھٹی ہوئی تھی لیکن یہ مایوس کن پکار امریکہ کے لئے چین کے صدر شی جن پنگ کو مسٹر پوٹن سے دور کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی فرسودہ ترغیب کے سوا کچھ نہیں،یہ کھوکھلی مساعی ممکنہ طور پر روس کے خلاف مغربی پابندیوں کو کچلنے پہ آمادہ مسٹر ژی کی سفارتی اور اقتصادی لائف لائنز پہ اثرانداز نہیں ہو پائے گی۔اسرائیلی لابی کو خدشہ ہے،یورپ پر دوبارہ توجہ مرکوز ہونے سے لامحالہ ایشیا سے امریکی توجہ ہٹ جائے گی،شاید اس لئے گزشتہ شب عراق میں امریکی کونسل خانہ پہ راکٹ داغ کے امریکی مقتدرہ کی توجہ ایشا کی طرف مبذول کرائی گئی۔ پوری دنیا کی طرح اسرائیلی گورنمنٹ بھی اپنی توجہ مشرقی یورپ پر مرکوز کئے بیٹھی ہے کینونکہ یہ جنگ یوروپ کو ایسے عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے جس میں اسرائیل کی بقاءکے اسباب گم ہو جائیں گے،اس کے علاوہ ویانا میں ایران کے اس جوہری پروگرام پر بات چیت کا مرحلہ بھی سر پہ آن پہنچا ہے جو اسرائیل کی سلامتی کے لئے یوکرین کے تحفظ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔جس طرح یوروپی اشرافیہ اس وقت یوکرینی صدر ولادیمیرزیلنسکی کے روس کے ساتھ تنازعہ کوبڑھانے کی وضاحت تلاش کرنے میں مصروف ہے،اسی طرح اسرائیل کا قومی میڈیا بھی اس وقت روس اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کا توضیح کا طلبگار ہے۔افغانستان اور عراق میں امریکی جنگوں کے اختتام کے ساتھ دنیا کے لئے امریکہ کا نقطہ نظر پہلے ہی سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہا تھا،جنگوں سے اکتائے ہوئے امریکیوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیرون ملک فوجی مہمات کو کم کرنے کی تجاویز کا خیرمقدم کیا،جنہوں نے نیٹو کی مطابقت پر سوال اٹھائے اور اتحاد سے دستبرداری کے لئے چھیڑ چھاڑ کی تھی تاہم مسٹر جو بائیڈن نے چین سے مقابلہ کرنے کے نام پر نیٹو اتحاد کو دوبارہ منظم کرنے کی ٹھانی اور روسی حملے نے اسکے مشن کو ڈرامائی طور پر بڑھوا دیا۔کچھ قابل ذکر استثنی کے ساتھ،پچھلے چند ماہ میں یوکرین ایشو بارے مغرب میں رائے اور تبصرے قطعی صورت اختیار کر چکے ہیں،یعنی کسی متبادل نقطہ نظر کو دیکھے بغیر پورے یقین کے ساتھ اس رائے کو قبول کر لیا گیا کہ یہ سب روسی صدر پوتن کی غلطی ہے گویا روس کی بیان کردہ شکایات کی کوئی قانونی یا منطقی بنیادیں نہیں چنانچہ اس ذہنی کیفیت میں واحد قابل فہم ردعمل یہی بنتا ہے کہ روس کسی رعایت کا مستحق نہیں اورنیٹو کو یوکرین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے لیکن جب روس نے حملہ کیا تو امریکہ اور نیٹو کی طرف سے بیان کردہ عزم کی سطح اور اتحاد کی طرف سے اختیار کردہ سفارتی پوزیشن کے درمیان حیران کن تفاوت سامنے آیا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے واضح کیا،واشنگٹن یوکرین کی حمایت میں لڑنے کے لئے فوج نہیں بھیجے گا اور کوئی اہم یورپی ملک خود بھی ایسا کرنے کی تجویز نہیں دے رہا۔اگر کچھ ہوا ہے تو امریکہ نے امریکی فوجیوں کو واپس بلا کر اور سفارت کاروں کو بھی یوکرین سے منتقل کرکے الٹا پیغام بھیجا۔چند سفارتی ہتھکنڈوں کے علاوہ امریکی خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ میں کوئی بھی یوکرین کے لئے جنگ لڑنے کو تیار نہیں،یہ اس امر کا اعتراف ہے کہ یوکرین کی جنگ میں امریکہ کاکوئی مفاد نہیں۔
اس کے برعکس، روس نے روز اول ہی سے واضح کر دیا،وہ اپنے بنیادی مقصد کے حصول کے لئے طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا،اس کا مقصد یوکرین کو آج اور مستقبل میں نیٹو میں شمولیت سے روکنا ہے۔روس 2014 میں بھی اسی مقصد کی خاطر لڑا تھا۔اگرچہ 2014 کی طرح اب بھی ڈونباس پہ روسی فوجوں کا قبضہ مغرب کے نقطہ نظر سے غیر قانونی،غیر اخلاقی اور ناقابل دفاع ہے لیکن اس کے باوجود ایسا ہو چکا ہے۔اس وقت ایک بڑی زمینی جنگ مغرب کو للکار رہی ہے لیکن یوروپ کا عزم مضمحل ہے یعنی جس تنازعہ کو روس اہم سمجھ کر لڑنے مرنے کو تیار ہے، وہ یوروپ کے لئے اتنی اہمیت نہیں رکھتا کہ وہ اسے لڑنے کے قابل سمجھے،بلاشبہ فوجی صلاحیتوں میں امریکہ اور نیٹو مجموعی طور پر روس سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں لیکن دونوں کے عزم میں یہی واضح فرق فتح و شکست کا فیصلہ کرے گا۔یوکرین قریب ہونے کی وجہ سے روس کی فضائی اور زمینی افواج کے لئے خطرہ بن سکتا ہے،یہ خطرہ یوکرین کی مستقبل کی جغرافیائی سیاسی صف بندی پہ منحصر ہے،یوروپ اب بھی مصرہے کہ یوکرین کو نیٹومیں شامل ہونے کا حق ہے جب بھی معیار پر پورا اترا،اسے رکنیت مل جائے گی،اگرچہ کوئی بھی یہ توقع نہیں رکھتا کہ یوکرین مستقبل قریب میں نیٹو کا رکن بن جائے گا،ایک نقطہ جو مغرب خدشات دور کرنے کی امید پہ ماسکو کو سمجھاتا رہا کہ ہم اس تجریدی اصول سے ہٹنے کو تیار نہیں،یعنی ”کھلے دروازے“ کی پالیسی پوزیشن،جو نیٹو نے کچھ سال پہلے اختیار کی تھی،حالانکہ یہ کوئی اٹل کائناتی قانون نہیں جسے تبدیل نہ کیا جا سکے،نیٹو یوکرین اور جارجیا کو اتحاد میں لینے کے لئے 2008 کے اعلان کو منسوخ کرکے جنگ کو ٹال سکتا تھا۔ناقابل فہم امر یہ ہے کہ مغربی رہنما یہ کیسے سوچتے ہیں کہ وہ روس کو اس بنیادی مسئلہ پر کچھ دیئے بغیربحران کو ٹال سکتے ہیں۔یہ سوچنا حماقت ہو گی کہ پیوٹن یوکرین میں میزائل ڈیفنس ریڈارز یا دیگر ہتھیاروں کی تنصیب کے بدلے معمولی رعایتوں پہ مطمئن ہو جائیں گے۔جب مخالف کو میدان میں فوجی برتری حاصل ہو اور وہ اپنے مدمقابل سے زیادہ نتائج کی پرواہ کرتا ہو،تو تنازعہ کو حل کی خاطر آپ کوکچھ ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتی ہے۔ایسے مواقع پر صحیح یا غلط نہیں بلکہ تباہی سے بچنے کا سوال پیش نظر رہتا ہے۔ ”اسٹریٹجک ہمدردی“کسی مخالف کی بالادستی قبول کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اسے سمجھنے کا پیمانہ ہے تاکہ آپ مناسب جواب دے سکیں۔بہرحال،نیٹو کی توسیع بارے یوروپ و امریکہ کے عزائم کچھ بھی ہوں، اس بات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ روسی رہنما شروع سے ہی اسے وجودی خطرہ سمجھتے تھے اور بار بار اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے۔امریکی سیکیورٹی اشرافیہ خود تو دور دراز ممالک میں سیکورٹی کے معمولی مسائل کو وجودی خطرات کے طور پہ دیکھتے ہوئے سب کچھ کرگزرنے کو جائز سمجھتی ہے لیکن وہ دوسروں کوحقیقی وجودی خطرات سے نمٹنے کی کھلے دل سے اجازت نہیں دیتی۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply