صحافتی اخلاقیات بمقابلہ کاروباری مفادات

ابھی کچھ مہینے قبل کی ہی بات ہے جب جنگ کی ویب سائٹ اور جیوکے اکثر نیوز بلیٹن عامر لیاقت کو :سب کے ہر دلعزیزاینکر اور نامور مذہبی سکالر جناب ڈاکٹر عامر لیاقت حسین: کہہ کر متعارف کروایا کرتے تھے، بس :دامت برکاتھم: پکارنے کی کسر باقی تھی ۔۔۔ اور یہ عامر لیاقت وہی ہیں جنہوں نے انکشاف فرمایا تھا کہ حامد میر صاحب قاتلانہ حملے کے بعد پاکستان زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے، جسے کل تک موصوف میرے دوست، میرے بھائی کہہ کر بلایا کرتے تھے، آج کل اسی حامد میر کا اپنے پروگرام میں :رل گئے بابا: کہہ کر تمسخر اڑایا کرتے تھے!
کمرشل ازم نے پروفیشنل ازم کو کافی پیچھے دھکیل دیا ہے، اور اخلاقی انحطاط کا عالم یہ ہے کہ نئے کاروباری مفادات کے حصول کے لئے پرانے تعلقات تو ایک طرف، خود اپنی پیشہ ورانہ ساکھ کا بھی پاس رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ آج جس عامر لیاقت سے جیو اور اس کے ہمنوا برأت کا اعلان کرکے اس کے زوال کا خیر مقدم کر رہے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان کا اس شخص سے کبھی تعلق ہی نہ رہا ہو جبکہ اس ذہنی بیمار شخص کو شہرت کی بلندیوں پر لے جا کر فتنہ بنانے والا اور کوئی نہیں، جیو ہی ہے جس نے ایک غیر مستند، نیم خواندہ شخص کو اپنے مفادات کی خاطر :مذہبی سکالر: بنا ڈالا ۔ دوسری طرف خود عامر لیاقت کا طرز عمل بھی کچھ کم نہیں۔ موصوف جیو پر نیلے پیلے چینل کی پھبتی ایسے کستے تھے کہ گویا انہوں نے تو کبھی اس ادارے کی سیڑھیوں پر بھی قدم نہ رکھا ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسی ادارے کے ذریعے انہوں نے ایک عشرے سے زائد عرصہ رزق حاصل کیا۔ عامر لیاقت کو ڈاکٹر عامر لیاقت جیو نے ہی بنایا تھا۔ جب تک وہاں نے کروڑوں اینٹھ رہے تھے توان کی نظر میں میر شکیل الرحمٰن سے بڑھ کر محب وطن کوئی نہیں تھا، جب تنخواہ کا چیک ڈی ایچ اے فیز ۸ (بول کا مرکز وہاں ہے) سے آنے لگا توملک دشمنی کا سب سے پہلا تمغہ ہی جیو کو عنایت فرما دیا۔
موجودہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کی کوئی اخلاقیات نہیں اور یہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں۔ پی بی اے والے جو بڑھ چڑھ کر عامر لیاقت پر پابندی کا خیر مقدم کررہی ہے اور نفرت انگیز تقاریر کی مذمت، کل کو اپنے موقف سے رجوع کرنے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کریں گے اگرعامر لیاقت واپس نیلے پیلے چینل کا رخ کر لے، اور آزادیِ اظہار رائے کی آڑ میں اس پر سے پابندی ہٹوانے کی جدوجہد کے سرخیل خود میر شکیل الرحمٰن ہوں گے۔ دوسری طرف خود عامر لیاقت بھی شعیب شیخ کو دنیا کا سب سے بڑا کرمنل ماسٹر مائنڈ ثابت کرنے میں ذرا نہیں ہچکچائے گا اگر نیلے پیلے چینل پر اس کی سابقہ تنخواہ بحال ہو جائے۔ جس سال جیو کا آی ایس آئی سے تنازع چل رہا تھا اور جیو کو کیبل آپریٹرز کی جانب سے مشکلات کا سامنا تھا، اس نے اپنا بوریا بستر اٹھا کر اپنی رمضان دکان ایکسپریس پر لے جانے میں ذرا تاخیر نہیں کی تھی اور پھر وہاں ناکامی کے بعد دوبارہ جیو کا رخ کرنے میں بھی اسے ذرا عار نہیں آئی۔ وہی جیو، جس کو یہ اپنی شہرہ آفاق آف ائیر گفتگو کے منظر عام پر آنے کے بعد اے آر وائی پر بیٹھ کر قادیانی نواز ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیا کرتا تھا۔
دراصل کسی کو بھی نفرت انگیز تقاریر اور کفر و غداری کے فتووں سے مسئلہ نہیں، یہ تو ہمارے تقریباً ہر چینل پر روز کا تماشہ ہے۔ وگرنہ جب یہی عامر لیاقت اے آر وائی سے جیو کو غدار کہتا تھا تو اس وقت جیو کو کیوں اس پر پابندی کا خیال نہ آیا؟ یہ محض دو گروہوں کے مفادات کی لڑائی ہے جس میں ایک جانب پی بی اے ہے جس کا سرٖغنہ جیو بنا ہوا ہے جبکہ دوسری جانب شعیب شیخ ہے جس کو نادیدہ قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ مسئلہ اگر اصولوں اور صحافتی اخلاقیات کا ہوتا تو آج پاکستانی میڈیا میں بغیر تحقیق و ثبوت لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کا رواج نہ ہوتا، جسے خود ان لوگوں نے پروان چڑھایا ہے جو آج صحافتی اخلاقیات کے چیمپیئن بن رہے ہیں!

محمد احسن سمیع
محمد احسن سمیع
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر۔۔۔۔یارو راحلؔ کی کہانی اور ہے! https://facebook.com/dayaarerahil

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *