بحران قومی سیاست کا تزکیہ کرے گا؟۔۔اسلم اعوان

ملکی سیاست میں جاری کشمکش ایسے گداز مرحلہ میں داخل ہو گئی،جہاں سے اسی جدلیات کو ریگولیٹ کرنے کے بہترین مواقع بھی نکل سکتے ہیں،ذرا غورکیجئے اگر پی ڈی ایم لانگ مارچ کی صورت میں بپھرے ہوئے ہجوم کو لیکر حکومت گرانے نکل پڑتی تو یہ قومی بقاءکے تقاضوں سے متصادم ایسا ناگوارعمل ہوتا جو مملکت کو کبھی نہ تھمنے والی شورش کی آگ میں جھونک کے اجاڑ بھی سکتا تھا لیکن اب عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے گورنمنٹ کی تبدیلی کی راہیں نکال کے ہمارے ارباب بست و کشاد نے کسی حد تک اس ممکنہ تصادم کو ٹال دیا،جو ہماری داخلی و خارجی پالیسی کی نزاکتوں کو تہہ و بالا کر دیتا۔

لاریب،ایک جائز آئینی عمل کوبغیر کسی رکاوٹ کے آزمانے کے بعد بھی اگر اپوزیشن عمران خان کو منصب وزارت سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوئی تو پھر اس کے پاس لانگ مارچ کا اخلاقی جواز بھی ختم ہو جائے گا،چنانچہ اس آزمائش سے بچ نکلنے کے بعد حکومت بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی آئینی مدت پوری کر لے گی۔اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اپوزیشن کو اپنے اس آئینی حق کو پانے کے لئے چومکھی لڑائی لڑ کر طاقتوروںکو غیر جانبدار بنانا پڑا لیکن بہرحال،یہی وہ درست راہ عمل تھی جو ہمیں قومی وحدت تک پہنچانے والی سیاسی اصلاحات تک پہنچا سکتی تھی اور اگر سیاسی قوتیں اپنے جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کے عوام کے حق حاکمیت کی خاطر سوچیں تو آج بھی یہاں اقتدار کے ایوانوں پہ اُن طبقات کی مستقل اجارہ داری ختم کی جا سکتی ہے جنہیں عالمی مقتدرہ باآسانی مینج کر لیتی ہے بلکہ موجودہ پیش دستی کا بنیادی محرک بھی یہی بنا کہ پہلی بار دو بڑی سیاسی جماعتوں نے حصول اقتدار کی بجائے تقسیم اختیارات کے فارمولہ میں اصلاحات کو ترجیح اول بنا لیا تو طاقت کے مراکز میں کچھ ہلچل مچ گئی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

بیشک،اس وقت ہائبرڈ رجیم کی معاشی اور سیاسی ناکامیوں کے ردعمل میں پیدا ہونے والے اضطراب کے باعث تمام ادارے دباو میں ہیں۔غیرمختتم بدامنی، عدم تحفظ ،سماجی ناانصافیوں،آفسر شاہی کی بدعنوانیوں اور ناقابل برداشت مہنگائی کی تلخیوں نے سماج کے دل و دماغ میں جس قسم کے طوفان برپا کر رکھے ہیں انہیں زیادہ دیر تک کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہو گا اگر موجودہ بحران کو مزید دوام دیا گیا تو عوامی ضبط کے بند ٹوٹ سکتے ہیں، اس لئے قومی سیاست میں کارفرما مقبول سیاستدانوں کو راہ عمل فراہم کی گئی تاکہ آئینی طریقہ کار کے مطابق رجیم چینج کی رسم پوری کرکے عوام کے اند ر پائے جانے والی مایوسی اور اُس غصہ کو ٹھنڈا کیا جا سکے،بلاشبہ وہ اجتماعی محرکات جن پہ ہمارا سیاسی نظام ٹھہرا ہے،انسان کی اُن انفرادی جبلتوں سے کہیں زیادہ کمزور ہیں،جو حصول دولت،پیکار اور جذبہ سے متعلق ہیں۔

علی ہذالقیاس اس وقت ہم اپنی تاریخ کے ایسے مرحلہ سے گزر رہے ہیں،جہاں سوشل میڈیا ٹیکنالوجی نے خبر پہ مرکزی دھارے کے اُس پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اجارہ داری ختم کر دی،جسے قابو میں رکھنا ریاست کے لئے آسان تھا،سوشل میڈیا کے ذریعے اب ہر شہری نہایت آسانی کے ساتھ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بے نقاب کرنے کے علاوہ پوری دنیا کو اپنی تکلیفوں، دکھوں اور محرومیوں کے احساس میں شامل کر لیتا ہے، یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس نے سرکار کے علاوہ سیاسی جماعتوں کو بھی رائے عامہ کی طرف کان دھرنے پہ مجبور کر دیا۔

امر واقعہ یہ ہے کہ جمہوریت کے متلاشی مشرقی مملک میں بالمعموم سیاسی جماعتیں اپنی تمام تر توانائیاں الیکشن جیتنے کے لئے وقف رکھتی ہیں تاکہ وہ اس مہمل سے اقتدار تک رسائی پا سکیں جس میں ان کی حیثیت محض علامتی ہوتی ہے اور جہاں طاقت کے مراکز ہمیشہ سیاستکاروں کے اسی حریصانہ روش کو اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لئے بروکار لاتے ہیں،چنانچہ اسی نامطلوب جوڑ توڑ میں اقربا پروری،بدعنوانی اور شخصیت پرستی کے ایسے فرقے پروآن چڑھے جن کے یکساں مفادات انہیں فیصلہ سازی کے عمل پہ اپنی اجارہ داری قائم رکھنے میں بیباک بناتے گئے۔

اسی ماحول میں جب ذولفقار علی بھٹو نے سیاسی مساوات کے نعروں کی گونج میں کہا تھا کہ عوام کے تمام مسائل تب حل ہوں گے جب سرمائے اور محنت کے تعلق میں پائے جانے والے تضادات کو دور کر لیا جائے گا،اپنے اس نظریہ کو عملی جامہ پہنانے اور ریاست کے کنٹرول کا مقابلہ کرنے کے لئے مسٹر بھٹو نے پیپلزپارٹی جیسی عوامی قوت کی حامل جماعت بنائی جس نے اپنے عہد کے سیاسی تمدن کی چولیں ہلا ڈالیں،تاہم پاور سرکل میں داخل ہونے کے بعد زیڈ اے بھٹو بھی عوام کی بجائے ریاستی مقتدرہ کو حقیقی تبدیلی کا آلہ کار اور طاقت کا سرچشمہ سمجھنے لگے،یوں عوامی حاکمیت کے حصول کا یہ عظیم موقعہ ہم گنوا بیٹھے۔اب پچاس سال بعد ہماری سیاسی قیادت پہ عقدہ کھلا کہ صرف وہی عوامی تحریکیں ہی سماج میں کسی حقیقی سیاسی تبدیلی کا محرک بن سکتی ہیں جو انتخابی پلیٹ فارم سے آگے بڑھ کر مزاحمتی جدوجہد کے ذریعے استبدادی جمود کو توڑ کے حقیقیاً عام لوگوں کو بااختیار بنانے کو اپنا نصب العین بنا لیں،اسی رجحان کی ایک موہوم سی جھلک ہمیں میاں نوازشریف اورمولانا فضل الرحمن کی مزاحمتی جدوجہد میں نظر آئی،جنہوں نے سیاسی کارکنوں کو صرف یہ نہیں سکھایا کہ اقتدار کیسے حاصل کیا جاتا ہے بلکہ یہ بھی بتایاکہ عوام طاقتور کیسے بنتے ہیں۔

اگرچہ سیاسی اصلاحات نظریاتی طور پر تمام ممالک کی سیاسی زندگی میں بار بار زیر بحث آنے والا موضوع رہا لیکن یوروپ میں نشاة ثانیہ اور اصلاح کی تحریکوں کے بعد اس نظریہ کے ارتقا کو منجمد اور اس پیچیدہ فلسفہ کی توضیح کے لئے سماجی سائنسدانوں کوکھلی فضا میں اظہار خیال کی اجازت نہیں دی گئی،چنانچہ بدقسمتی سے لوگ ایک حد تک ان طریقوں سے اکتانے لگے جنہیں فی الحال سیاست اور سیاسی عمل تصور کیا جاتا ہے،جیسے سیاسی جماعتیں، انتخابی عمل اور عوامی نمائندگی جنہیں روایتی طور پر ہم ”سیاست کرنے“کے جائز طریقے کے طور پر دیکھتے آئے ہیں تاہم اب یہی معروف سیاسی قدریں بحران کا شکار بن کے آبادی کے بڑے حصے میں اپنی ساکھ کھو رہی ہیں،اس لئے نوجوانوں کی بڑی تعداد پرتشدد جدوجہد  کی طرف بڑھتی دیکھائی دیتی ہے،یعنی لوگ یہ محسوس نہیں کرتے کہ وہ اس عمل کا حصہ ہیں جو سیاسی نمائندگی کا تعین کرتا ہے،کیونکہ انتخابی عمل کے نتائج رائے دھندگان کی مساعی کے برعکس نکلتے ہیں۔

گویا سیاست اب مقتدر اشرافیہ کا خصوصی حلقہ بن چکی ہے اور اس کا دار و مدار عوامی رائے پہ نہیں بلکہ ریاستی اداروں کے اندر چلی جانے والی چالوں پر منحصر ہے۔معاملات کو مزید الجھانے کے لئے ہر گورنمنٹ عالمی بحرانوں پر انہی اجارہ داروں کے مفادات کے تقاضوں کے مطابق رد عمل ظاہر کرکے عوامی امنگوں اور اجتماعی مفادات کو پس پشت ڈال دیتی ہے،یہ ایسا عمل ہے جس سے مروجہ سیاسی نظام کی آئینی حیثیت اور اخلاقی ساکھ کو مزید نقصان پہنچتا ہے۔ان حالات میں عام لوگوں کے لئے سیاست کرنے کے نت نئے امکانات کیسے متصور ہوسکتے ہیں؟اور نئے جمہوری ادارے کیسے بنائے جا سکتے ہیں؟

یہ سوالات عوامی تنظیموں اور نچلی سطح کی تحریکوں کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں لیکن ان کا جواب دینے کی فکر کہیں بھی پائی نہیں جاتی کیونکہ زیادہ تر سیاسی جماعتیں صرف الیکشن لڑنے کو اپنا نصب العین بنا چکی ہیں۔مثال کے طور پہ پاکستان میںسیاسی اصلاحات کئی سالوں سے پارلیمانی ایجنڈے پر پڑی ہیں لیکن یہ ہمیشہ انتخابی یا جماعتی مفادات سے مشروط رہیں یا پھر بدعنوانی کے کسی بڑے اسکینڈل کے جواب میں وقتی طور پہ بحث کے لئے منظر عام پر لائی گئیں۔چنانچہ انتخابی مباحثہ کی خصوصیت کے پیش نظر تمام تبدیلیاں طویل مدتی حکمت عملی کے بجائے قلیل مدتی انتخابات کے مسائل پر توجہ مرکوز رکھتی ہیں،یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر آبادی کا خیال ہے کہ سیاسی اصلاحات صرف انتخابی نظام کی اصلاحات سے متعلق ہیں حالانکہ اس کا دائرہ عمل اجتماعی زندگی کی جزیات تک محیط ہوتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہرچند کہ سیاسی اصلاحات کا سوال علمی مباحثوں اور میڈیا میں کبھی کبھار نمایاں ہوتا رہتا ہے لیکن علمی دائروں میں یہ مطالعہ یا تحقیق کے لئے ایک موضوع سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا،جب کہ میڈیا میں اسے یا تو سیاست کی تمام برائیوں کا ممکنہ حل سمجھا جاتا ہے یا اسے جمہوریت کے خلاف طنزیہ انداز میں پیش کرکے غیر اہم بنا دیا جاتا ہے۔ تاہم دونوں صورتوں میں اسے ریاست کے ذریعے حکمرانی کی خاطر وسائل و اقتدار پر اشرافیہ کا تسلط برقرار رکھنے یا بیوروکریسی کی انتظامی گرفت کو زیادہ مضبوط بنانے کے لئے محض اثر ڈالنے والے بیانیہ کا رنگ دیا گیا۔لیکن عوام کی اکثریت کے مفادات کا دفاع کرنے والی نچلی سطح کی ان تحریکوں میں سیاسی اصلاحات کو وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے جو لازمی طور پر سیاسی نظام، سیاسی ثقافت، معاشرے اور ریاست میں تبدیلیوں کو فروغ دینے کے لئے کام کرنا چاہتی ہیں۔قصہ کوتاہ،سیاسی اصلاحات کو فیصلہ سازی کے عمل کی اصلاحات سمجھنا ہو گا،جس کے ذریعے ہم طاقت اور اس کے استعمال کے طریقوں کی اصلاح ممکن بناسکتے ہیں۔تمام جمہوری اداروں کو بھی ایسی حقیقی سیاسی اصلاحات کی طرف رہنمائی کرنی چاہیے جو ہمارے عہد کے تقاضوں کے مطابق نئے ادارہ جاتی نظام کی بنیاد بنیں۔جن اصولوں کی وساطت سے ہم مساوات، تنوع، انصاف، آزادی اظہار، شرکت، شفافیت اور سرکاری ڈھانچہ پہ رائے عامہ کی مکمل نگرانی قائم کر سکیں۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply