یوکرین کی بقا اور امریکن پالیسی۔۔اسلم اعوان

آٹھ دونوں پہ محیط جنگ میں اتوار کے دن تک یوکرین میں روسی فورسیسز کو دارالحکومت کیف کو گھیرے میں لیکر فتح کرنے کی کوشش کے دوران شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا،ذرائع ابلاغ کے مطابق روس نے 150,000جوانوں پہ مشتمل فوج کا کم از کم نصف یوکرین میں جھونک دیا لیکن یوکرینی فورسیسز نے نہایت حکمت کے ساتھ مضبوط روسی فورسیسز کو انگیج کر لیا،جس سے جنگ کو طول ملنے کا امکان بڑھ گیا،چنانچہ جلد قابو پانے کی خواہش کے زیر اثر روس آنے والے دنوں میں اپنی مزید فوجیں بھی میدان میں اتار سکتا ہے۔ابھی تک بڑے پیمانے پہ جانوں کے زیاںکی خبر تو نہیں ملی تاہم یوکرینی گورنمنٹ روسی فوج کے سامنے انسانی ڈھال بنانے کی خاطر عوام کو میدان میں لانے کی حکمت عملی پہ کام کر رہی ہے،جو کسی بڑے انسانی المیہ کو جنم دینے کا وسیلہ بن سکتی ہے۔یوکرینی صدر نے ملک میں مارشل لاءنافذ کرکے ماسکو نواز لیڈرشپ سمیت روس کے حامی سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد کو جیلوں میں ڈال دیا،یہ پیش دستی یوکرین میں نئی داخلی تقسیم کا سبب بھی بنے گی۔یہ تو بالکل واضح ہے کہ جنگ میں روسی فوج کا پلڑا بھاری ہے لیکن یوکرین کی فوج کا متاثر کن پہلو یہ ہے کہ اس نے اپنی مزاحمتی قوت کوتاحال کمزور نہیں ہونے دیا،بلاشبہ روس کو یہاں ایسی مزاحمت ملی جس کی اسے توقع نہیں تھی۔مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی فوجیوں نے یوکرین کے جنوب میں کھیرسن کا کنٹرول سنبھال کر دیگر شہروں بشمول دارالحکومت کیف، شمال مشرقی خارکیف اور جنوب مشرق میں ماریوپول پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں،ادھر بیلاروس میںکیف اور ماسکو کے درمیان جاری بات چیت کے دوسرے دور میں فریقیں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری بنانے کے عارضی منصوبہ پر اتفاق کر لیا ہے،روسی حملوں کے باعث اب تک کم و بیش 10 لاکھ سے زائد لوگ یوکرین سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔توقع ہے کہ روس ڈونباس کو ضم کرنے کے علاوہ یوکرین میں روس نواز حکومت کی تشکیل کا ہدف حاصل کرکے جنگ بندی معاہدہ پہ راضی ہو جائے گا۔امریکی دانشوروں کا خیال ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن کی طرف سے روس کی ایٹمی فورس کو الرٹ کرنا یوکرین کے خلاف جنگ میں پیشقدمی نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والی مایوسی کا نتیجہ ہے لیکن ایک طاقتور شخص کی اس اشتعال انگیزی کے بعد یہ سوال اور زیادہ اہم ہو گیا کہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا واقعی پوٹن کے لئے آخری آپشن ہو گا؟لاریب،مغربی دانشور یہی سمجھتے ہیں کہ روسیوں کو اب تک یوکرین میں جس مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اسی نے انہیں اس فیصلے تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا کیونکہ توقع کے برعکس جنگ شاید پوتن کے ہاتھ سے نکل رہی ہے،اس لئے وہ دوبارہ پہل کرکے کھیل کو بدلنا چاہتے ہیں،یعنی پوتن چاہتے ہیں کہ ان کے مخالفین غیر متوازن اور خوفزدہ رہیں۔مغربی ماہرین سیاسیات کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ ناگزیر حربہ تھا جسے بہت جلد کھیلا گیا لیکن امریکہ، نیٹو اور یورپی یونین اس سے زیادہ پریشان دکھائی نہیں دیئے کیونکہ ابھی تک امریکہ، فرانسیسی یا برطانوی جوہری آپریشن میں کوئی تحریک پیدا نہیں ہوئی۔جوہری ہتھیاروں کے علاوہ روسی ڈیٹرنٹ میں روایتی وار ہیڈز،جدید کروز اور کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ہائپر سونک ہتھیاروں کے ساتھ بیلسٹک میزائلوں کا بڑا ذخیرہ بھی موجود ہے۔اگرچہ جوہری ہتھیاروںمیں سے متعدد فوری طور پر قابل استعمال نہیں ہوں گے تاہم محتاط اندازے کے مطابق روس کے پاس 2,400 سے زیادہ اسٹریٹجک جوہری ہتھیار ہیں، جن میں سے زیادہ تر بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں سے منسلک ہیں، 1,600 ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیارجن کی کثرت سمندر سے فراہم کی جائے گی لیکن بہت سے دوسرے ہوائی یا زمینی راستوں سے بھی لائے جا سکتے ہیں۔تاہم پوتن کی بیان بازی کے باوجود ابھی تک ایسا نہیں لگتا کہ اسٹریٹجک اور نان سٹریٹجک قوتوں کے رویہ میں کوئی تبدیلی آئی ہو،اگرچہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ کم ہے تاہم مغربی ماہرین اب بھی پوتن کی اردوں پر غور کر رہے ہیں کیونکہ کئی عوامل جوہری ڈیٹرنس کومناسب طریقے سے سمبھالنا ناممکن بنا سکتے ہیں لہذا اس کے لئے عقلی فیصلہ سازوں کی ضرورت پڑے گی،جیسا امریکہ نے 1962 میں کیوبا کے ساتھ میزائل بحران سے سیکھا تھا۔حکمت عملی کی سطح پر جوہری حملہ ممکن ہو سکتا ہے لیکن اس کے بعد ردعمل میں خطرناک اضافہ بھی ہو گا۔امریکی خارجہ پالیسی اور اس پہ اسرائیلی لابی کے اثرات پر نظر رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ نے خود نیٹو کو مشرق کی طرف پھیلانے اور یوکرین کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے پر زور دے کر جوہری ہتھیاروں سے لیس طاقتوں کے درمیان جنگ کے امکانات کو بڑھایا اور یوکرین کے تئیں ولادیمیر پوٹن کے جارحانہ موقف کو انگیخت دی۔درحقیقت 2014 میں روس کے کریمیا سے الحاق کے بعد معروف محقیق میئر شیمر نے لکھا تھا کہ اس بحران کی زیادہ تر ذمہ داری امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں پر عائد ہوتی ہے۔چنانچہ یوکرین پر حالیہ حملہ نے امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات کے بارے میں کئی دیرینہ تلخیوںکو تازہ کر دیا،ہرچند کہ پیوٹن کے بہت سے ناقدین استدلال کرتے ہیں کہ وہ سابق سوویت جمہوریہ میں مغربی مداخلت سے قطع نظر خود ایک جارحانہ خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہیں لیکن میئر شیمر روس کو اکسانے میں امریکہ کی غلطی پہ اصرار کرتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ جنگ کی تباہ کاریوں سے یوروپ کو بچایا جا سکتا ہے؟ کیا روس کا سامراجی طاقت کے طور پہ ابھرنا سمجھ میں آتا ہے؟، یوکرین کے لئے پوتن کے حتمی منصوبے کیا ہوں گے؟۔ماہرین کے مطابق اس معاملے میں تمام پریشانیاں اپریل 2008 میں بخارسٹ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس سے شروع ہوتی ہیں،جس کے اختتام پہ نیٹو نے اپنے جاری کردہ بیان میں یوکرین اور جارجیا کو نیٹو کا حصہ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جسے روسیوں نے ایک وجودی خطرے سے تعبیر کرکے اس وقت سرخ لکیر کھینچ دی تھی لیکن اس سب کے باوجود امریکہ نے یوکرین کو یوروپ سے منسلک کرکے اسے روس کی سرحد پر  مغربی دفاعی قلعہ کے طور پہ استعمال کرنے کی پالیسی جاری رکھی۔اگر یوکرین امریکہ نواز لبرل جمہوریت اور نیٹو اور یوروپی یونین کا رکن بنتا تو روس کے لئے یقیناً ناقابل قبول ہوتا لیکن اگر نیٹو اور یوروپی یونین کی توسیع پیش نظر نہ ہوتی اور یوکرین خود کو صرف لبرل جمہوریت کی حیثیت سے امریکہ اور مغرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی حد تک محدود رکھتا تو شاید وہ آج ایسی بے مقصد جنگ کا میدان کارزار نہ بنتا جس میں اسے استعمال کرنے والے یوروپی ممالک تنہا چھوڑ گئے۔عالمی سیاست کے ماہرین کہتے ہیں کہ اسے سمجھنا چاہیے تھا کہ یوکرین جیسا چھوٹا ملک جب روس جیسی عظیم طاقت کا ہمسایہ ہو تو اسے توجہ دینا چاہیئے تھی کہ روسی کیا سوچتے ہیں،بالکل ایسے جیسے مغربی نصف کرہ کی ریاستیں امریکہ کے حوالے سے اس بات کو اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ امریکہ مغربی نصف کرہ کے ممالک،جن میں سے زیادہ تر جمہوری ہیں،کو یہ فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنی مرضی کی خارجہ پالیسی تشکیل دیں،کوئی اسے اچھی یا بری بات سمجھے لیکن اسی کو سامراجیت کہتے ہیں۔درحقیقت امریکہ نے بھی سرد جنگ کے دوران مغربی نصف کرہ میں جمہوری طور پر منتخب کئی رہنماو¿ں کو اس لئے معزول کیا کہ وہ ان کی پالیسیوں سے ناخوش تھا،بڑی طاقتوں کا اپنے وابستگان سے رویہ ہمیشہ یہی رہا ہے۔جب ہم آزاد خارجہ پالیسی کا تصور کرتے ہیں تو کیا انسانوں کو ایک ایسی دنیا بسانے بارے کچھ سوچنا چاہیے جہاں امریکہ نہ ہی روس ان سے اس طرح کی پوچھ تاچھ کرسکیں،ہرگز نہیں۔امر واقعہ بھی یہی ہے کہ مغربی نصف کرہ میں اس وقت کوئی ایسا ساورن ملک نہیں بچا جسے امریکہ، فوجی دستے لانے کے لئے دور دراز کی بڑی طاقت کو مدعو کرنے کی اجازت دے۔جب کوئی، ایسی دنیا بنانے کی کوشش کرے گاجیسی وہ چاہتا ہے تو اسے ان تباہ کن پالیسیوں کا سامنا کرنا پڑے گا،جن کا اطلاق امریکہ نے یک قطبی لمحات کے دوران جنوبی ایشیا اور مڈل ایسٹ میں کیا،امریکہ لبرل جمہوریتیں بنانے کی آڑ لیکر پوری دنیا پر چڑھ دوڑا اور اسکی پوری مساعی کا اصل ہدف یقیناً مشرق وسطیٰ تھا جس میں اسرائیلی ریاست کی توسیع کو ممکن بنانا تھا، ہم نے دیکھا کہ اس نے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کس چابکدستی سے کام لیا۔مڈل الیسٹ میں جمہوریت آئی نہ سماجی آزادیاں بحال ہوئیں بلکہ عراق، سعودی عرب اور مصر کے لوگ رہی سہی سماجی اورسیاسی آزادیاں بھی گنوا بیٹھے۔مڈل ایسٹ پہ یلغار شروع کرتے وقت جارج ڈبلیو بش نے کہا تھا کہ اگر ہم عراق میں لبرل جمہوریت لانے میں کامیاب ہوئے تو اس کا اثر شام، ایران، اور آخر کار سعودی عرب اور مصر جیسے ممالک پہ بھی پڑے گا اور وہاں کی آمریتیں جمہوری لب و لہجہ اپنا لیں گی۔بظاہر بش کے جنگی نظریہ کے پیچھے یہی بنیادی فلسفہ کارفرما بتایا گیا لیکن نتائج اس کے برعکس نکلے۔حتی کہ صدربش کا نظریہ صرف عراق کو جمہوری بنانے میں ناکام نہیں ہوا بلکہ وہ پورے بلاد عرب کو کبھی نہ تھمنے والی سماجی اور سیاسی شورشوں میں مبتلا چھوڑگیا،چنانچہ اب روس کی فوجی پیشقدمی بھی یوروپ کو طویل عرصہ تک وقف اضطراب رکھ سکتی ہے۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply