• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • یوکرین جنگ عالمی نظام کا اختتامیہ؟۔۔اسلم اعوان

یوکرین جنگ عالمی نظام کا اختتامیہ؟۔۔اسلم اعوان

قطع نظر اس بات  سے کہ یوکرین پہ روسی حملہ کے نتائج کیا ہوں گے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کیف پر روسی فوج کی یلغار نے دوسری جنگ عظیم کے بعد تشکیل پانے والے اس عالمی نظام کی چولیں ہلا ڈالیں جس میں بڑی طاقتوں نے دنیا کے تمام وسائل پہ قبضہ کرکے بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کی بحالی کو جواز بنا کے چھوٹے ممالک کی اندرونی معامالات میں مداخلت کے علاوہ مالیاتی امداد اور قرضوں کے جال میں جکڑکے انہیں نئے سسٹم کا اسیر بنا لیا لیکن تازہ ترین روسی حملے نے عالمی منظر پہ چھائے جمود کو توڑ کے جس نئے عہد کی بنیاد رکھی اس میں یور پ و امریکہ اپنی بالادستی برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔

ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ عالمی طاقتیں خود اس فردسودہ بندوبست کی تحلیل چاہتی تھیں یا نئی صورت حال مکافات کے تحت وقوع پذیر ہوئی تاہم یوکرین کے تحفظ بارے امریکہ اور نیٹو ممالک کی بے بسی نئے اُفق کا پتہ دیتی ہے۔جمعرات کی صبح روس نے یوکرین میں فوجیں داخل کرکے دہائیوں بعد یورپی ممالک کو ایسے بڑے فوجی تنازعہ کی طرف دھکیل دیا جو عالمی سیاست کا تناظربدل دے گا،مغربی اشرافیہ اپنے تمام تر دانشورانہ شکوہ کے باوجود یوروپ کو مہلک جنگ کا میدان بننے سے بچا سکی نہ امریکہ اور اس کے اتحادی یوکرین کا دفاع کر سکے ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

صدر جوبائیڈن کو”یقین“ تھا روس آنے والے دنوں میں یوکرین پر حملہ ضرور کرے گا لیکن انہوں نے اس تعطل کو چلانے والے بڑے مسائل کے حل کی طرف عملی قدم اٹھانے سے گریزکے ذریعے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا۔بلاشبہ یوکرین پہ روسی جارحیت یورپ اور دنیا میں اپنا اثر و رسوخ دوبارہ بحال کرنے کے علاوہ پوٹن کوداخلی سیاسی میراث مضبوط بنانے کا موقع  دے گی،پوٹن کے لئے یہ کوئی چھوٹی چیز نہیں کہ وہ یوکرین پہ قبضہ کرکے اپنی عالمی طاقت کی حیثیت دوبارہ حاصل کر لے۔

صدر پوٹن نے مطالبہ کیا کہ نیٹو مشرق کی جانب توسیع روکنے کے علاوہ یوکرین کو نیٹو میں رکنیت دینے سے باز رہے بلکہ یورپی ممالک1997کے بعد نیٹو میں شامل ہونے والے ممالک سے فوجیں واپس بلائیں،جس سے یورپ کو دہائیوں پہ محمول پیشقدمی اور جغرافیائی سیاسی صف بندی سے پیچھے ہٹنا پڑتا اور یہ پسپائی روس کی نہ صرف یوکرین پہ دوبارہ تصرف بلکہ مشرقی یورپ میں روسی سکیورٹی ڈھانچے کوبحال کرنے کے موقع  فراہم کرتا،چنانچہ توقع کے مطابق امریکہ اور نیٹو نے روسی مطالبات مسترد کر دیئے حالانکہ امریکہ،نیٹو اور روس،تینوں جانتے ہیں کہ یوکرین مستقبل قریب میں نیٹو کا رکن نہیں بن سکتا۔

امریکی خارجہ پالیسی کے ممتاز مفکرین کہتے ہیں،سرد جنگ کے اختتام پر نیٹو کو روس کی سرحدوں کے قریب نہیں جانا چاہیے تھا لیکن نیٹو کی کھلے دروازے کی پالیسی کہتی تھی”خودمختار“ممالک اپنے لئے سکیورٹی اتحاد کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ان کا خیال تھا، پوٹن کے مطالبات کو تسلیم کرنا کریملن کو نیٹو کی فیصلہ سازی اور اس کے ذریعے براعظم کی سلامتی پر ویٹو کا اختیار دینے کے مترادف ہو گا۔

تاہم یوکرین پہ روسی حملہ کے بعد اب دنیا دیکھ اور انتظار کر رہی ہے کہ جنگ کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جنگ صرف یوکرین کے لئے نہیں بلکہ باقی یورپ اور پورے مغرب کے لئے تباہ کن نتائج کی حامل ہوگی۔عام خیال یہی ہے کہ موجودہ بحران کی جڑیں سوویت یونین ٹوٹنے سے پروان چڑھیں،نوے کی دہائی کے اوائل میں جب سوویت یونین بکھرا تو سابق سوویت جمہوریہ یوکرین کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کا تیسرا بڑا ذخیرہ تھا،امریکہ اور روس نے جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لئے یوکرین کے ساتھ مل کے کام کیا،سفارتی معاہدوں کی لمبی سیریز کے تحت کیف نے اپنے سینکڑوں جوہری وار ہیڈز روس کو سلامتی کی یقین دہانیوں کے بدلے واپس کر دیئے۔۔

تاہم یہ یقین دہانیاں 2014 میں اس وقت کافور ہو گئیں جب روس نے داخلی سیاسی شورش کو جواز بنا کے یوکرین پر پہلا حملہ کیا،روس نے جزیرہ نما کریمیا سے الحاق اور مشرقی ڈونباس کے علاقے میں روس نواز علیحدگی پسندوں کی قیادت میں ابھرنے والی بغاوتوں کی پشت پناہی بھی شروع کردی۔بظاہر روس کے پہلے حملہ کا محرک یوکرین میں بڑے پیمانے پر ہونے والے وہ مظاہرے بنے جن کے ذریعے روس نواز صدر وکٹر یانوکووچ کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تاہم صدر براک اوباما روس کے ساتھ کشیدگی بڑھانے سے گریزاں رہے،اگرچہ وہ یورپ میں سفارتی مساعی کو متحرک نہ کر سکے لیکن انہوں نے یوکرائنیوں کو ہتھیار بھی فراہم نہ کئے ۔

تاہم اصل مسلہ یہ تھا کہ یوکرین ہمیشہ سوویت یونین کے زوال کے ساتھ کھوئی ہوئی سلطنت کی کچھ جھلک دوبارہ حاصل کرنے کے لئے پوٹن کی توجہ کا محور رہا۔مغربی ماہرین کہتے ہیں کہ یوکرین مستقبل قریب میں نیٹو میں شامل ہونے والا نہیں تھا،صدر جوبائیڈن نے بھی فقط یہی کہا کہ نیٹو معاہدے کے آرٹیکل پانچ کے مطابق نیٹو کے کسی ملک پرجارحیت کو پورے اتحاد پر حملہ تصور کیا جائے گا،گویا،یوکرین کی نیٹو میں فرضی شمولیت کا احساس روس کو فوجی جارحیت اور نظریاتی طور پر امریکہ کے ساتھ تنازعہ تک لے آیا؟۔

لیکن امرواقعہ یہ ہے کہ برطانیہ، فرانس اور نیٹو کے دیگر 27 رکن ممالک کی طرح یوکرین بھی امریکہ سے ملٹری فنڈنگ حاصل کرنے والاچوتھا بڑا ملک ہے اوراب روس کی دھمکیوں کے جواب میں دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس تعاون مزید گہرا ہو گیا تھا۔پوٹن اور کریملن سمجھتے تھے کہ یوکرین اگرچہ نیٹو کا حصہ نہیں لیکن کیف بغیر کسی رسمی فیصلے کے نیٹو کا رکن بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ پوٹن کو یوکرین کا یورپی یونین اور نیٹو کی طرف جھکاو اپنی قومی سلامتی کے لئے خطرا نظر آیا،یوکرین اور جارجیا کے نیٹو میں شامل ہونے کے امکان نے اس وقت پیوٹن کوچکنا کر دیا،جب سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے 2008 میں اس خیال کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

یہی حقیقی غلطی تھی،جس نے یوکرین اور جارجیا میں ایسی توقعات پیدا کیں جوکبھی پوری نہ ہوئیں اور اسی نے مشرق کی جانب نیٹو کی توسیع کے معاملے کوپیچیدہ بنا دیا۔حقیقت تو یہی ہے کہ کوئی بھی ملک تمام 30 رکن ممالک کی متفقہ رضامندی کے بغیر اتحاد میں شامل نہیں ہو سکتا،اب بھی نیٹو کے کئی ممالک یوکرین کو رکنیت دینے کی اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ یہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی شرائط پر پورا نہیں اترتا،انہی تضادات نے یوکرین کو ناممکن پوزیشن میں ڈال دیا۔

یورپی سیاست کے ماہرین کہتے ہیں روس،یوکرین تنازعہ 2014 میں شروع ہونے والے بحران کا تسلسل ہے لیکن یوکرین، امریکہ، یورپ اور روس کے اندر حالیہ سیاسی پیش رفت اس بات کی وضاحت کرنے میں مدد دیتی ہے کہ پوٹن کیوں محسوس کرتا تھا کہ اب کارروائی کرنے کا وقت آ گیا،انہی پیش رفتوں میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کا انتخاب بھی شامل تھا،ایک مزاح نگار جس نے ٹی وی پر صدر کا کردار ادا کیا اور پھر حقیقی صدر بن گیا،جس نے انتخابی مہم کے دوران مشرقی یوکرین میں تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے بشمول مذاکرات کے پوٹن کے ساتھ براہ راست ڈیل کا وعدہ بھی کیا۔روس نے بھی ممکنہ طور پر اس سیاسی نوخیز کو کسی ایسے شخص کے طور پر دیکھا جو ان کے نقطہ نظرسے زیادہ مفید تھا۔

روس چاہتا ہے کہ زیلنسکی 2014/15 کے ان معاہدوں پر عمل درآمد کرے،جو روس کے حامی علاقوں کو یوکرین میں واپس لانے کے باوجود اپنے برابر رکھیں،جسے ماہرین،ماسکو کے لئے اثر و رسوخ اور کنٹرول کے لئے”ٹروجن ہارس“کے طور پہ دیکھتے تھے،چنانچہ کوئی بھی یوکرائنی صدر ان شرائط کو قبول نہیں کر سکتا تھا،اسی لئے زیلنسکی نے مسلسل روسی دباؤ  کے خلاف مدد کے لئے مغرب کا رخ کیا،نیٹو میں شمولیت بارے کھل کے بات کی،یوکرین میں رائے عامہ نے بھی یورپی یونین اور نیٹو جیسے مغربی اداروں میں شمولیت کی پر زور حمایت کی۔اس سے روس کو ایسا محسوس ہواجیسے اس نے یوکرین کو واپس لینے کے لئے اپنے تمام سیاسی اور سفارتی آلات کھو دیئے،چنانچہ ماسکو کی سکیورٹی اشرافیہ نے کچھ کرنے کی ٹھان لی اور اگر وہ تاخیر کرتے تو نیٹو اور یوکرین کے مابین فوجی تعاون زیادہ مضبوط اور پیچیدہ ہو جاتا۔

پوٹن نے 2021 کے موسم بہار میں یوکرین پر ایک بار پھرحملہ کرکے یورپ و امریکہ کا ردعمل جانچنے کی کوشش کی،سرحدوں پہ روسی فوج کی تشکیل نے نئی بائیڈن انتظامیہ کی توجہ حاصل کر لی،بعد میں دونوں رہنماؤں کے مابین سربراہی ملاقات بھی ہوئی لیکن کچھ دن بعد روس نے سرحد پرمزید فوجیں اتار دی۔

ماہرین کہتے ہیں،امریکہ کے بارے پوٹن کا نقطہ نظر بدل چکا ہے،ان کے نزدیک افراتفری کا شکار افغانستان سے انخلا اور امریکہ کا داخلی انتشار کمزوری کی نشانیاں ہیں۔پوٹن دنیا میں امریکہ کے کردار پر یور پ کو بھی منقسم دیکھ رہا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ کے وقت پیدا ہونے والے عدم اعتماد سے قطع نظر بائیڈن اب بھی ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کوباقی رکھنا چاہتے ہیں لیکن جوبائیڈن کی کچھ سفارتی غلطیوں نے یورپی شراکت داروں کو نالاں کر دیا ،خاص طور پر افغانستان سے انخلا اور جوہری آبدوز کا معاہدہ ،جو برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ کیا گیا،نے فرانس کو چوکس کر دیا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

یورپ کے اندرونی اختلافات بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں،پورا یورپ اوربرطانیہ اب بھی Brexit بریگزٹ کے نتائج سے نمٹنے میں الجھا ہوا ہے۔جرمنی میں انجیلا مرکل کے 16 سال بعد نئے چانسلر اولاف شولزکی مخلوط حکومت تاحال خارجہ پالیسی بنانے میں مشغول ہے۔جرمنی بھی دیگر یورپی ممالک کی طرح روسی قدرتی گیس درآمد کرتا ہے اور اس وقت توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔فرانس میں اپریل میں انتخابات ہیں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون مذاکرات میں اپنے لئے جگہ بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔یوروپ کی یہی تقسیم جسے واشنگٹن بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے،پوٹن کو حوصلہ دے گئی۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply