موجودہ پیپلز پارٹی زرداری مافیا ہے ۔۔ گل بخشالوی

تجزیہ نگار کچھ بھی لکھیں لیکن جہاں تک میرے خیال کی پرواز ہے، عمران خان کی حکمرانی سے پہلے قومی سیاسی صورت حال کچھ اور تھی باری کی حکمرانی تھی اس لئے بلاول کہہ رہا ہے کہ اب مرکز میں پیپلز پارٹی کی باری ہے لیکن وہ بھول رہے ہیں کہ وہ میاں صاحب ا ب عدالتی مفرور ہیں جن کے ساتھ باری کا کھیل کھلا کرتے تھے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا دور تھاادارے نوازے جاتے تھے اس لئے تحریکو ں میں تقسیم تھے۔ لیکن آج کی حکمرانی میں قومی ادار ے کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں پاکستان کے ساتھ ہیں اس لئے عمران خان نہ صرف پاکستان اور پاکستان کی عوام بلکہ دنیائے اسلام کے لئے سوچ رہا ہے اور یہ ہی افواج ِ پاکستان کی سوچ ہے
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے خواب شرمندہءتعبیر نہیں ہوں گے وہ اپنے سیاسی مستقبل کے لئے عوام کو بے وقف بنائے ہوئے ہیں ۔ لیکن پاکستان سے محبت کرنے والے اپوزیشن کے عزائم سے بخوبی واقف ہیں ،بلاول زرداری حکومت پر جمہوری حملے کے لئے کراچی سے اسلام آبادتک عام شہریوں کو خوار کرنے کے لئے روانہ ہو چکے ہیں ۔ اتوار 27فروری کو شروع ہونے والا یہ لانگ مارچ 10 دن بعد منگل 8 مارچ 2022 ءکو راولپنڈی اسلام آ باد میں داخل ہو گا۔ اسلام آ باد کی طرف پہلے بھی کئی لانگ مارچ ہوئے دھرنے بھی دیئے گئے لیکن وہ بلاول زرداری کی ماں تھی جن کا نظریہ تھا ” طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں “،وہ عوام کے ساتھ جی رہی تھیں اور عوام کے ساتھ ہی جام شہادت نوش کیا، بلاول زرداری کا نظریہ طاقت کا سر چشمہ مریم نواز ہیں جن کے حضور سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک جایا کرتے ہیں،آج پیپلز پارٹی کی قیادت آصف علی زرداری کر رہے ہیں جن پر پیپلز پارٹی کی قیادت اور جیا لوں کے قتل کا الزام ہے آج بلاول زرداری اورآصف علی زرداری بھٹو خا ندان اور جیالوں کے قاتل کے سہولت کاروں کے حضور جھک کر سلامیاں دے رہے ہیں
وہ بے نظیر بھٹو شہید تھیں جس نے 16نومبر 1992ءکو اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ 1990ءکے عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔ اس تحریک نتیجے میں صدر غلام اسحاق خان نے میاں نواز شریف کی حکومت برطرف کر دی تھی۔ 26مئی 1993 ءکو محترمہ بے نظیر بھٹو نے دوبارہ اسلام آ باد کی طرف لانگ مارچ کیا اور وفاقی دارالحکومت کو مفلوج کرکے رکھ دیا تھا۔ اس احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کے آ رمی چیف جنرل وحید کاکڑ نے صدر غلام اسحٰق خان اور وزیر اعظم نواز شریف دونوں کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا۔
1989ء میں میاں نواز شریف نے ا ٓئی جے ا ٓئی کے تحت محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف اسلام آ باد میں دھرنا دیا تھا۔ اسی طرح 1993 ءسے 1996 ءتک محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف میاں نواز شریف اور پھر 1997ءسے 1999ءتک محترمہ بے نظیر بھٹو نے میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف تحریک چلائی۔ بالا ٓخر 14 مئی 2006 ءکو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے لندن میں میثاقِ جمہوریت پر دستخط کئے اور جمہوری حکومتوں کے خلاف غیر سیاسی قوتوں کی سازشوں کا حصہ نہ بننے کا عزم کیا۔ لیکن آج پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن وہ میثاقِ جمہور یت بھو ل چکی ہیں اور دونوں جماعتیں پارلیمانی جمہوری نظام کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔ جانے بلاول زرداری اس حقیقت کو کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ بھٹو خاندان کی سیا ست بھٹو خاندان کے ساتھ دفن ہو چکی ہے موجودہ پیپلز پارٹی زرداری مافیا ہے ، ، پاکستان کی عوام جانتے ہیں کہ ظالمانہ پارلیمانی جمہوری نظام کے خلاف 2014 ء میں ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کے لاہور سے اسلام آ باد مارچ اور پھر تحریک انصاف کے ساتھ اسلام آ باد میں دھرنے نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا لیکن کچھ طاقتوں کی اندرون ِ خانہ حمایت کی وجہ سے بچ گئی تھی لیکن 2016 ءمیں تحریک انصاف کے دوبارہ دھرنے نے وزیر اعظم نواز شریف کوایوان وزیر اعظم سے اڈیالہ جیل پہنچا دیا تھا!تحریک انصاف کے خلاف اپوزیشن کا ایک دوسرے پر اعتماد نہیں، وہ کیا عدم اعتماد لائیں گے دراصل یہ لوگ اپنے سیاسی مستقبل بچانے کے لئے تنکوں کا سہارا لے رہے ہیں لیکن ان کے یاتھ کچھ نہیں آئے گا

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply