عورت کا مرد کو پرپوز کرنا جائز ہے؟۔۔حافظ محمد زبیر

خاتون کا سوال ہے کہ کوئی عورت کسی مرد کو نکاح کے لیے پرپوز کر سکتی ہے؟ کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ جواب: اس میں حرج نہیں کہ کوئی خاتون کسی مرد کو نکاح کے لیے پرپوز کرے البتہ چند باتیں ملحوظ رکھ لی جائیں۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ ایک خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو نکاح لیے پیش کیا تو حضرت انس اور ان کی بیٹی رضی اللہ عنہما وہاں پر موجود تھے۔ اس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی نے کہا کہ یہ کس قدر بے حیا خاتون ہے۔ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ کم از کم تم سے بہتر ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو بیان کرنے سے پہلے اس پر” بَابُ عَرْضِ المَرْأَةِ نَفْسَهَا عَلَى الرَّجُلِ الصَّالِحِ” کے عنوان سے باب باندھا ہے یعنی کسی عورت کا کسی صالح مرد کو نکاح کی پیشکش کرنا۔ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے اس بات کا جواز نکالا ہے کہ عورت کسی مرد کو نکاح کی پیشکش کر سکتی ہے۔ اسی طرح شارح بخاری مفتی عبد الستار حماد صاحب نے بھی علامہ ابن حجر رحمہ اللہ کے اس قول کو بیان کرنے سے اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ جائز ہے۔ شیخ بن باز رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی خاتون کسی مرد سے یہ کہے کہ مجھے آپ سے اللہ کے لیے محبت ہے اور آپ اگر میرے گھر رشتہ بھجوا دیں تو حرج نہیں، تو یہ جائز ہے۔
پس پرپوز کرنے سے اگر یہ مراد ہے کہ خاتون کسی مرد کو یہ کہہ دے کہ آپ میرے گھر رشتہ بھجوا دیں، یا آپ میرے گھر رشتہ بھجوا سکتے ہیں، تو اس کا جواز ہے۔ بس مرد کو اس قدر میچور ہونا چاہیے کہ اگر اس کا رشتے کا ارادہ ہے تو رشتہ بھجوا دے گا اور اگر ارادہ نہیں ہے تو حکمت سے معذرت کر لے گا یا پھر کوئی اور رشتہ تجويز کر دے گا جیسا کہ اسی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو ایک اور رشتہ تجویز کر دیا تھا اور وہاں اس کا نکاح کروا دیا تھا۔ لیکن اگر اس پرپوزل کے نتیجے میں کوئی چٹ چیٹ شروع ہو جائے یا گپ شپ کا رستہ کھل جائے تو یہ حرام ہے۔ اسی لیے امام بخاری نے جو صالح مرد کا لفظ استعمال کیا ہے کہ عورت کے لیے صالح مرد کو پرپوز کرنا جائز ہے تو ہماری رائے میں یہاں صالح سے مراد وہ میچور مرد ہے جو اس پرپوزل پر ہاں کر دے یا پھر معذرت کر کے یا آگے کسی کو تجویز کر کے بات کو سائیڈ پر لگا دے اور اس کو درمیان میں لٹکائے نہ رکھے کہ حرام کے رستے کھلیں۔
اسی طرح لڑکی کا ولی بھی کسی لڑکے کو اپنی بیٹی سے نکاح کی پیشکش کر سکتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری ہی کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حفصہ کے نکاح کی پیشکش پہلے حضرت أبو بکر اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہم سے کی البتہ حضرت حفصہ کا نکاح پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا تھا۔ تو یہ ذہن میں رہے کہ لڑکی نکاح کی پیشکش کرے یا اس کا ولی کرے تو اس میں انکار بھی ہو سکتا ہے کہ جسے ریجیکشن کی فیلنگ کہتے ہیں۔ اس کے لیے اپنے آپ کو ذہنا تیار رکھنا چاہیے اور عرب کلچر میں اس کے لیے قبولیت تھی۔ دیکھیں، اس ریجیکشن کی فیلنگ کا بعض أوقات مرد کو بھی سامنا کرنا پڑتا ہے کہ خاتون کی طرف سے بھی انکار ہو جاتا ہے لہذا یہ روٹین کا حصہ ہے۔ البتہ اس سے بچنے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ بعض افراد کے لیے یہ ذہنی کوفت کا باعث ہو سکتا ہے۔
ریجیکشن کی فیلنگ یعنی رد کیے جانے کے خوف کو اس طرح سے دور کیا جا سکتا ہے کہ کفو یعنی برابری میں رشتہ بھیجا جائے۔ اور جہاں برابری ہوتی ہے، وہاں عموما ریجیکشن کم ہی ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے کہا ہے کہ مرد ہو یا عورت، دونوں کے دل میں کنجوسی ڈال دی گئی ہے یعنی مرد یہ چاہتا ہے کہ اسے ایسی عورت ملے جو حسب نسب، مال ودولت، حسن وجمال، تعلیم وپروفیشن اور اخلاق ودینداری میں اس سے بہتر ہو اور عورت بھی یہی سب کچھ چاہتی ہے۔ اب اگر ان چیزوں میں جانبین میں فرق زیادہ ہو تو عموما ریجیکشن ہو جاتی ہے اور اگر فرق کم ہو تو بات آگے چل پڑتی ہے۔ لہذا رشتہ بھیجنے یا پرپوز کرنے سے پہلے اس فرق کو کیلکولیٹ کر لیا جائے۔ اس کے برعکس بہت سے مرد یا عورتیں صرف اسی وجہ سے کہیں رشتہ بھیجنے سے رک جاتے ہیں کہ ریجیکشن کی فیلنگ سے انہیں خوف آتا ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ دونوں اسی خوف میں مبتلا ہوں لیکن نکاح کی رغبت رکھتے ہوں۔
بہر حال خلاصہ کلام یہی ہے کہ عورت یا اس کا ولی کسی مرد کو پرپوز کرے تو اس کا جواز ہے لیکن پرپوز نکاح کے لیے کرے اور مرد بھی نکاح ہی کی بات کو آگے بڑھائے یا پھر بات چیت ختم کر دے۔ اور اگر نکاح تو نہ ہو سکے اور چٹ چیٹ شروع ہو جائے تو یہ حرام کام ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے۔ ریجیکشن کی فیلنگ سے بچنے کے لیے کسی کو درمیان میں ڈالا جا سکتا ہے اور اس کے ذریعے پرپوز کیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ نکاح کو آسان بنانا چاہیے اور اس پر قدغنیں نہیں لگانی چاہییں کہ اس کے رستے کھولنے چاہییں اور خاص طور اس زمانے میں اس کی بہت ضرورت ہے۔ اس لیے بعض اہل علم نے جو یہ کہا ہے کہ عورت اگر دینداری کی غرض سے پرپوز کرے تو جائز ہے اور اگر دنیا کے لیے پرپوز کرے تو بے حیائی ہے تو ہمیں اس سے اتفاق نہیں ہے کیونکہ وہ نکاح کے لیے ہی پرپوز کر رہی ہے، کون سا بدکاری کے لیے کر رہی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

حافظ محمد زبیر
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی ہیں اور کامساٹس یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ آپ تقریبا دس کتب اور ڈیڑھ سو آرٹیکلز کے مصنف ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply