جین تھراپی، تھیلیسیمیا کے خلاف ایک امید

خون بنانے کی صلاحیت کے فقدان یعنی تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کے علاج کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ امریکا میں ماہرین نے جین تھراپی کے ذریعے اس بیماری میں مبتلا بچوں کے جسم میں قدرتی طریقے سے خون بنانے کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا۔

اس طریقہ علاج میں خود مریض کے اسٹیم سیل لئے گئے اور انہیں تجربہ گاہ لے جایا گیا۔ اس کے بعد ایک تبدیل شدہ وائرس کے ذریعے تھیلیسیمیا کی وجہ بننے والے خراب جین کی بجائے اس کی درست کاپیاں شامل کی گئیں۔ اس کے بعد تمام مریضوں کو ایک طرح کی کیموتھراپی سے گزارا گیا اور انہیں چار سے پانچ ہفتے اس مرحلے سے گزرنا پڑا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اس کے ایک ماہ بعد ہی مریضوں کے جسم میں خون بنانے کی صلاحیت بحال ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے 13 ماہ سے لے کر چار سال تک کئی مریضوں کا بار بار معائنہ کیا اور خون کے اندر تھیلیسیمیا کے خطرات دیکھتے رہے۔ ان میں سے چار مریضوں پر تھراپی کے سب سے شدید اثرات دیکھے گئے ۔ جبکہ کچھ افراد نے خون کے سرخ اور سفید خلیات میں کمی سمیت، منہ میں چھالوں، بخار اور دیگر کیفیات کی شکایت کی۔

شکاگو میں واقع این اینڈ رابرٹ ایچ لوری چلڈرن ہسپتال کی ماہر ڈاکٹر جینیفر شنائڈرمان بھی بین الاقوامی تحقیقی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق دس برس تک یہ تحقیق کی گئی ہے جس میں انتقالِ خون والے تھیلیسیمیا مریضوں کا جین تھراپی سے علاج کیا گیا ہے۔

یہ اہم اور بین الاقوامی تحقیق کئی برس تک جارہی رہی جس کے نتائج نیوانگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔ فیزتھری کلینکل ٹرائل کے بعد 90 فیصد مریضوں میں جین تھراپی کے کئی برس بعد اب بھی تازہ خون کی ضرورت نہیں رہی اور وہ مکمل طور پر تندرست ہیں۔

تمام مریضوں کی عمر 4 سے 34 برس تھی اور ان سب کو جین تھراپی سے گزارا گیا تھا ان میں سے 12 برس سے کم عمر کے 90 فیصد مریضوں کو تاحال ماہانہ بنیاد پر انتقالِ خون کی ضرورت نہیں پڑی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

تھیلیسیمیا کے مریضوں کے خون میں ہیموگلوبن بننے کی رفتار سست ہوجاتی ہے۔ مرض کی شدت میں مریض کو ہر ماہ خون کے سرخ خلیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن بار بار خون لگانے سے فولاد کی زیادتی، انفیکشن اور دیگر تکلیف دہ کیفیات پیدا ہوسکتی ہے۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply