یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا۔۔ارشد غزالی

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا۔۔ارشد غزالی/ ادھورے اور نامکمل فیکٹس کی بنیاد پر تجزئیے دینے والے فکری بددیانت دانش وروں, زرد صحافت کے ترجمان صحافیوں اور پینتالیس فیصد دماغی گروتھ کے حامل طبقے کی چھوڑی ہوئی شدنیوں سے قطع نظر اعدار و شمار سے ثابت ہے مہنگائی عالمی سطح پر بڑھی ہے اور ترقی یافتہ ملکوں میں بھی برسوں پرانے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔ ان ممالک میں چونکہ فی کس آمدنی اور معیار زندگی بہت بہتر ہے نیز ان کی کرنسی مستحکم ہے اس لئے وہاں مہنگائی کے وہ اثرات نہیں جو ہمارے ملک میں نظر آرہے ہیں۔وطن عزیر میں مہنگائی کی وجہ عالمی سطح پر اشیاء خاص کر تیل کا مہنگا ہونا, عالمی سپلائی چین اور شپنگ و دیگر اخراجات میں کئی گنا اضافے کے ساتھ سب سے اہم ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں مستقل کمی ہے جس سے مہنگائی کا طوفان برپا ہو چکا ہے۔

اکنامکس کا ایک بنیادی اصول ڈیمانڈ اینڈ سپلائی یعنی طلب اور رسد ہے۔ جس چیز کی ڈیمانڈ مارکیٹ میں بڑھے یا سپلائی کم ہو جائے اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے یا جس چیز کی ڈیمانڈ کم ہو جائے اور سپلائی بڑھ جائے تو اس کی قیمت کم ہو جاتی ہے یہی اصول کرنسی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ڈالر کی ڈیمانڈ زیادہ ہونے کی وجہ اس کی ذخیرہ اندوزی, اسمگلنگ اور سب سے بڑھ کر تیل, گیس, زراعت, مشینری اور دیگر شعبوں میں امپورٹس کا بڑھنا نیز غیر ملکی قرضہ جات کی ادائیگی بھی ہے۔ ڈیمانڈ کے مقابلے میں ڈالر کی سپلائی کے تین بنیادی ذرائع ہیں جن میں ایکسپورٹس, بیرون ملک پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم یعنی ترسیلات زر اور غیر ممالک اور کمپنیوں کی پاکستان میں انویسٹمنٹ شامل ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

جب ڈالر کی ڈیمانڈ سپلائی سے بڑھتی ہے تو حکومت یا تو ڈیمانڈ کے بڑھنے کے باوجود ڈالر کو فری فلوٹ یعنی اوپن مارکیٹ پر چھوڑ دیتی ہے اور ایکسپورٹس, ترسیلات زر اور فارن انویسٹمنٹ وغیرہ بڑھاتی ہے جو کہ طویل المدتی اقدامات ہوتے ہیں اور دوسرا طریقہ مینج فلوٹ ہے جس میں زر مبادلہ یعنی ڈالر کے ذخائر کو مارکیٹ میں انجیکٹ کر کے ریٹ کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہی مینج فلوٹ کا طریقہ سابقہ حکومت کے دور میں اختیار کیا گیا جب ایکسپورٹس میں تاریخی کمی کر کے ڈالر کو ایک ہی ریٹ پر روک کر اور مہنگے قرضے لے کر قیمتی اربوں ڈالر مارکیٹ میں جھونکے گئے جس کا اعتراف سابقہ حکومتی وزراء بھی کر چکے ہیں۔

اس کا ایک نقصان یہ ہوا کہ اگرچہ مہنگائی کم رہی مگر اشیاءکی قیمتیں بھی رُکی رہیں ،اور ساتھ عوام کی قوت ِخرید بھی نہیں بڑھ سکی کیونکہ جب کمپنیاں تنخواہوں میں اضافہ کرتی ہیں تو اپنی پراڈکٹس اور سروسز کی قیمتیں بھی بڑھا دیتی ہیں، جس سے قوتِ خرید اور قیمتِ خرید میں توازن برقرار رہتا ہے۔ موجودہ حکومت آنے کے بعد جب امپورٹس پر پابندیاں لگیں اور ڈالر مارکیٹ ریٹ پر لایا گیا تو اشیاء کی قیمتیں جو رکی ہوئی تھیں بہت تیزی سے بڑھیں مگر قوت خرید کم ہونے کی وجہ سے قیمت خرید اور قوت خرید کا توازن بُری طرح بگڑ گیا اور اشیائے ضرورت عوام کی پہنچ سے دور ہونے لگیں۔

پچھلی حکومت میں زرمبادلہ کے ذخائر جو امپورٹ بڑھانے اور ڈالر کا ریٹ روکنے میں ضائع کئے جاتے رہے ان کے ساتھ ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بتدریج بڑھتے بڑھتے 20 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان میں ڈالر کی ڈیمانڈ اس کی سپلائی سے کئی ارب ڈالر زیادہ تھی یعنی پاکستانی روپے کی قدر میں بتدریج کمی واقع ہونی چاہیے  تھی اور ڈالر کا ریٹ بڑھنا چاہیے تھا مگر مہنگے غیر ملکی قرضے لے کر اربوں ڈالر مارکیٹ میں ڈال کر ڈالر کا ریٹ روکا گیا اور کرنسی جو ایڈجسٹمنٹ مانگ رہی تھی وہ نہیں کی گئی۔ اس کے بعد جب موجودہ حکومت نے ڈالر کو فری مارکیٹ پر چھوڑا تو ڈالر اپنے اصل ریٹ پر واپس آ گیا اور اس کے ریٹ میں تاریخی اضافہ ہوا جو پچھلی حکومت نے روکا ہوا تھا جس سے مہنگائی بے قابو ہوئی۔

اپوزیشن اور میڈیا کی پچھلی حکومت میں 5.5 فیصد معاشی نمو کے ڈھنڈورا پیٹے جانے اور جی ڈی پی اور افراط زر کے گراف دکھا کر شور مچانے کا اگر جائزہ لیں تو پچھلی حکومت کے ختم ہونے کے وقت جون 2018 میں ہماری امپورٹس 60.8 ارب ڈالر جب کہ ایکسپورٹس 23.2 ارب ڈالر تھیں یعنی امپورٹس اور ایکسپورٹس کا فرق 37.5 ارب ڈالر تھا جو ہمارہ تجارتی خسارہ تھا اس میں سے 19.6 ارب ڈالر ترسیلات زر منفی کردیں تو باقی تقریباً 18 ارب ڈالر بنتا ہے جو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا۔ اگرچہ تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رہا تھا مگر امپورٹس کو سستا  رکھنے کی خاطر ڈالر کا ریٹ مستقل روکا گیا جس سے نہ صرف ایکسپورٹس کم ہوتی چلی گئیں بلکہ افراط زر بھی مصنوعی طور پر نیچے رہا اور جو قیمتی ڈالر مہنگے قرضے لے کر اس ریٹ کو روکنے میں ضائع کئے گئے اس کے سود اور اصل زر کی ادائیگی بھی اگلی حکومت کے سر آئی ۔ اگرچہ ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ, تجارتی خسارہ اور قرضہ جات بڑھتے رہے مگر چونکہ یہ کھپت میں آتا ہے اسی وجہ سے جی ڈی پی گروتھ زیادہ نظر آتی رہی جب کہ ملک قرضہ جات پر ڈیفالٹ تک پہنچ گیا نیز برآمدات کی تباہی کے ساتھ معاشی پالیسیوں کا رحجان کھپت کی طرف تھا اس لئے شرح نمو بھی بڑھتی دکھائی دی، مگر اس کاریگری کا خمیازہ اگلی حکومت کو بھگتنا پڑا۔

Advertisements
julia rana solicitors

تاریخی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے, تجارتی خسارے, کم ترین زر مبادلہ کے ذخائر کے ساتھ ساتھ جب کھربوں روپے کا گردشی قرضہ اور مالی خسارہ بھی ہو, انڈسٹریل اور پیداواری یونٹ بند ہو چکے ہوں, زراعت تباہ حال ہو, سرکاری ادارے اربوں روپے نقصان میں ہوں, مہنگے ترین غیر ملکی قرضے لئے جا چکے ہوں, عوام کی قوت خرید نا بڑھائی گئی ہو, کرنسی ایڈجسٹمنٹ نہ  ہوئی ہو اور امپورٹ بیس اکانومی ڈیویلپ کردی گئی ہو، ایسی ناقص اور ملک دشمن پالیسیوں کے بعد جب اگلی حکومت آنے پر کرونا وبا سونے پر سہاگے کا کام کردے جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہونے سے لے کر شپنگ, ڈیوٹیز اور دیگر اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے تو لامحالہ اس کا اثر عوام پر آنا ہی تھا ایسے میں ذہن سازی اور جھوٹے پراپیگنڈے پر مامور صحافیوں اور دانش وروں کی طرف سے حقائق پوشیدہ رکھ کر اور جھٹلا کر عوام کو بیوقوف بنانے اور شور شرابہ کرنے کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے کہ سیاست دانوں, ذہن ساز صحافیوں اور فکری بد دیانت دانش وروں نے ملک کی تباہی و بربادی کے ساتھ ساتھ ایک ایسی نسل پروان چڑھا دی ہے جو راہزنوں کو رہبر سمجھتی ہے ایسے میں طوطی کی آواز نقار خانے میں کون سنے کہ
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر!

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ارشد غزالی
Columinst @ArshadGOfficial

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply