احساس کےکرشمے۔۔ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

احساس ناقابل بیان کفیت کا نام ہے۔جسے جتنا زیادہ بڑھا لیا جائے اتنا ہی کم ہے ۔اس کی نا کوئی سمت اور نا کوئی حد ہے۔اس کا بیج زمین کے کسی بھی کونے سے پھوٹ سکتا ہے۔وہ زندگی کو پھلدار اور خوشگوار بنا سکتا ہے بشرطیکہ انسان کے دل کی زمین زرخیز ہو پھر اسے پھلنے پھولنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔یہ بہت جلد تناور درخت بن جاتا ہے جس پر نا جانے کتنے لوگ آ کر بسیرا کر سکتے ہیں ؟
بہت سی روحیں آسودہ حال ہو سکتی ہیں۔ انہیں پھر سے نئی زندگی مل سکتی ہے ۔بلا شبہ احساس ایک ایسی چیز ہے جس کا شعلہ انسان کے خون میں موجود ہے ۔لیکن یہ اس وقت جل کر روشنی دیتا ہے جب محسوسات کی چنگاری پیدا ہوتی ہے ۔ بنا محسوس کئے ہوئے نا تو احساس کے نمکیات پیدا ہوتے ہیں اور نا انسانی قدروں کو فروغ ملتا ہے۔ عصر حاضر میں بڑھتی ہوئی بے حسی اور سنگدلی نے احساس کی کیفیت کو ختم کردیا ہے ۔وفاؤں کا موسم بدل گیا ہے ۔محبت ٹھنڈی پڑ گئی ہے ۔خود غرضی کا ناسور بڑھ گیا ہے ۔لڑائی جھگڑے عام ہوگئے ہیں ۔تہمتیں اور ناچاقیاں انسانیت کو سرعام شرمسار کر رہی ہیں۔سمجھ نہیں آتی کہ کن کن باتوں کا تجزیہ کریں ؟ ایسا لگتا ہے جیسے قیامت بالکل نزدیک ہے ۔دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات و واقعات ہمیں ان باتوں سے باخبر کر رہے ہیں کہ وقت بہت قریب ہے ۔انسان اپنا مقام کھو رہا ہے ۔وہ برائی کے ساتھ سمجھوتہ کر رہا ہے ۔وہ دولت کے حصول کے لیے تڑپ رہا ہے ۔وہ اپنی قدروں کو بیچ رہا ہے ۔جھوٹ کو سچ میں بدل رہا ہے ۔معمولی باتیں اسے قتل و غارت تک لے جاتی ہیں ۔نیکی اس کے وجود سے ختم ہو رہی ہے ۔ اس کے دماغ کو حسد کا کیڑا چاٹ رہا ہے ۔وہ اپنے آپ کو ایسے ماحول میں داخل کر رہا ہے جہاں دانتوں کا پیسنا ، رونا ، اور گندھک کی آگ ہے ۔جدھر بھی دیکھیں ناچاقیوں کی خزاں آئی ہوئی ہے ۔خاندانی اثاثے بکھر چکے ہیں ۔شاید دولت کی بہتات نے ہمیں اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ ہم دیکھتے ہوئے بھی دیکھ نہیں پاتے ۔ سچ اور جھوٹ میں امتیاز کرنے میں بزدل ہوگئے ہیں ۔شاید ہمارے دلوں سے احساس کی کونپلیں پھوٹنا بند ہو چکی ہیں ۔زبان کڑوی باتوں کا زہر اگل رہی ہے جس کے باعث دوسروں کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں ۔لب محبت کے کلمات بولنے کی بجائے خاموش ہو گئے ہیں ۔سوچ کا ترازو ٹیڑھا ہو گیا ہے ۔مثبت سوچ کی غذا نایاب ہوچکی ہے ۔گلے شکووں کا ہجوم بڑھتا جا رہا ہے ۔طبیعت میں شورش و تندی بڑھ رہی ہے ۔میل جول ختم ہو رہا ہے ۔ذاتی مفاد کی خاطر سچ کو دبایا جارہا ہے ۔مذکورہ حقائق لکھنے کے بعد مجھے اپنا ایک اختصاریہ یاد آگیا۔
” محبت کا بادل احساس کے قطروں کے بغیر نہیں برستا ”
معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے اور انسانی قدروں کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے اندر احساس پیدا ہو جو ہمیں باہمی قربت اور محبت میں باندھ کر ایک کر دے ۔تاکہ بھائی چارے کی فضا فروغ پا کر ایک دوسرے کو قریب کر دے ۔ایسی سوچ کو وہی سلام پیش کر سکتا ہے جس کے قلب و ذہن میں احساس موجود ہو اور جب احساس بارور ہوتا ہے تو وہ بہت سا پھل دیتا ہے ۔نیکی کی رغبت پیدا ہوتی ہے ۔احساس خاندان کی محبت سے لے کر قومی سطح تک آنکھ کھولتا ہے۔تو بہت سی قباحتیں اور گلے شکوے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں ۔بلاشبہ ساتھ ایک سائے کی مانند ہوتا ہے جو گرمی کی شدت یعنی قید و بند کی صوبتیں کم کر دیتا ہے ۔
احساس انسانی قدروں میں سے ایک ایسی قدر ہے جو اپنی فضیلت و کرامات میں محبوب سمجھی جاتی ہے ۔اس کا جتنا زیادہ بیج بوئیں گے یہ اسی قدر اگ کر پھل دے گا ۔بہت سے لوگوں کی ضرورت پوری ہو جائے گی ۔بہت سے لوگوں کا ساتھ دے کر انہیں زندگی کے تصور سے آگاہ کیا جا سکتا ہے ۔ان کی حوصلہ افزائی کرکے امید کا چراغ جلایا جا سکتا ہے ۔محبتوں کا دیس آباد کیا جا سکتا ہے ۔نئی نئی راہیں پیدا ہو سکتی ہیں ۔تنگ دستی اور تنگ نظری کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔معاشرے سے ناامیدی کے کانٹے چنے جا سکتے ہیں ۔تعلقات و روابط کو فروغ دیا جا سکتا ہے ۔ہم آہنگی کو فروغ دے کر بہت سی برائیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔ایسا تب ہی ہوسکتا ہے جب ہمارے اندر احساس کی کونپلیں پھوٹیں گئی۔ کیونکہ احساس کے بغیر کرشمات کی بارش نہیں برس سکتی اللہ دوسروں سے توقعات کی امید کی جاسکتی ہے ۔یقینا جب کسی چیز کو مقصد حیات میں شامل کر لیا جائے تو اس کے دور رس نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔بات صرف محسوسات ، اثر قبولیت ، اثرپذیری اور دوسرے کے دل میں گھر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔جب ایسی چیزوں کی داغ بیل پڑ جائے تو اس کے اثرات صدیوں تک زندہ رہتے ہیں اور پھر احساس تو ناقابل فنا کرشمہ ہے۔جس کے لیے نا تو موسموں کی ضرورت ہے اور نا وسائل کی ضرورت ۔بس محسوسات ہونا کافی ہیں جو دوسروں کو اپنائیت کا احساس دے کر اپنا بنا سکتے ہیں ۔محبت کی چادر بچھا سکتے ہیں ۔اطمینان اور تسلی دے سکتے ہیں ۔دوسروں کے لیے راستے ہموار کر سکتے ہیں ۔بہت سی قباحتوں سے بچ سکتے ہیں ۔بہت سی اختلافات ختم ہو سکتے ہیں ۔
اگر احساس کو غائبی سکہ کہا جائے تو غلط نا ہوگا ۔کیونکہ یہ ہر کسی کے ہاتھ نہیں آتا اور نا ہر کسی کے لیے ایسی توفیق کا دروازہ کھلتا ہے۔کیونکہ ایسا شرف ان ہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جن کے دلوں میں خدا کی محبت آباد ہوتی ہے۔وہ خدا کے خوف میں زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے دلوں میں احساس کی انگڑائیاں خود ہی پیدا ہو جاتی ہیں ۔بے شک یہ قانون قدرت ہے ہر انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے ۔یہ سلسلہ ایک آدمی سے لے کر دنیا کی قوموں تک عام ہے۔ کیونکہ قدرت نے ہر کسی کو سب کچھ نہیں دیا ۔ورنہ انسان خدا بن بیٹھے اور وہ دوسروں کو تڑپانے اور رلانے میں رنگ رلیاں مناتا رہے ۔
ہم سب کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے اگر اس کا سورج نیکوں اور بدوں پر چمک سکتا ہے۔تو ہمارے اندر بھی تبدیلی کے موسم آباد ہو سکتے ہیں ۔جب کہ وہ بغیر رنگ و نسل اور مذہب کے ہم سب سے سلوک کرتا ہے۔تو ہمارے اندر احساس کا مادہ کیوں نہیں پیدا ہو سکتا ؟ ہم کیوں مثبت سوچ کو فروغ نہیں دے سکتے ؟ آخر وہ ہمارے راستے میں کون سی رکاوٹیں حائل ہو چکی ہیں ۔جنہوں نے ہماری سوچ کو مفلوج اور دیمک زدہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔ہم اپنی زندگی کا از سر نو جائزہ لے کر بہتر بنا سکتے ہیں ۔اپنی خامیوں پر قابو پا سکتے ہیں ۔بہت سے ضرورت مندوں کی مدد کرسکتے ہیں ۔دوسروں کے دکھوں کو کم کر سکتے ہیں ۔انہیں مشکلات سے نکال سکتے ہیں ۔آئیں آج تھوڑا سا وقت نکال کر احساس کی ماہیت و کردار پر غور و خوض کریں تاکہ ہم معلوم کر سکیں کہ ہمارے اندر احساس کی فضیلت کتنے فیصد ہے ۔ہم اپنی خود احتسابی کر کے اپنی اپنی زندگی کا جائزہ لے سکتے ہیں ۔اسے بہتر بنا سکتے ہیں ۔اپنا سکتے ہیں ۔دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کر سکتے ہیں ۔زندگی کو خوبصورت اور احساس کے جذبوں سے لبریز کر سکتے ہیں۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

ڈاکٹر شاہد ایم شاہد
مصنف/ کتب : ١۔ بکھرے خواب اجلے موتی 2019 ( ادبی مضامین ) ٢۔ آؤ زندگی بچائیں 2020 ( پچیس عالمی طبی ایام کی مناسبت سے ) اخبار و رسائل سے وابستگی : روزنامہ آفتاب کوئٹہ / اسلام آباد ، ماہنامہ معالج کراچی ، ماہنامہ نیا تادیب لاہور ، ہم سب ویب سائٹ ، روزنامہ جنگ( سنڈے میگزین ) ادبی دلچسپی : کالم نویسی ، مضمون نگاری (طبی اور ادبی) اختصار یہ نویسی ، تبصرہ نگاری ،فن شخصیت نگاری ، تجربہ : 2008 تا حال زیر طبع کتب : ابر گوہر ، گوہر افشاں ، بوند سے بحر ، کینسر سے بچیں ، پھلوں کی افادیت

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply