آگے بڑھتا انقلاب اسلامی۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

انقلاب اسلامی ایران سے پہلے انقلاب مخالف لوگ اس بات کا پروپیگنڈا کیا کرتے تھے کہ یہ انقلاب نہیں آسکتا۔ جب اللہ کی مدد و نصرت سے یہ انقلاب آگیا تو اس بات کی پیشگوئیاں شروع کر دی گئیں کہ یہ انقلاب قائم نہیں رہ سکتا، جلد یہ انقلاب ختم ہو جائے گا۔ اگر غور کریں تو استعمار نے ہر طرح سے انقلاب کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ انقلابی قیادت کو مسلسل نشانے پر رکھا۔ ہزاروں کو شہید کر دیا گیا، پھر بھی انقلاب قائم ہے۔ ان کی خواہش حسرت ہی رہی ہے اور آج انقلاب پہلے سے زیادہ مضبوط اور پہلے سے زیادہ توانا ہے۔ مغرب کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اجتماعی شعور نے یہ بات کہیں بٹھا لی ہے کہ مذہب اور معاشرہ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس لیے مغرب کی حکومتیں ہر مذہبی حکومتی کے خلاف صف آراء دکھائی دیتی ہیں۔ اب تو معاملہ اس حد تک آگے بڑھ چکا ہے کہ انہوں نے مذہبی شعائر سے بھی خوف محسوس کرنا شروع کر دیا ہے اور مسلسل ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں مذہبی شعائر کو پابندیوں کا سامنا ہے، جیسے مینار بنانے پر پابندی عائد کر دی گئی، پردہ کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی اور بہت سے ملکوں میں ذبیحہ کو مورد سوال قرار دیا گیا ہے۔ جہاں مذہبی علامات پر پابندیاں عائد ہوں، وہاں مذہبی اور الہیٰ نظام پر قائم حکومت کے بارے میں کیا رائے ہوگی، یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔

کافی عرصے سے میں سوچ رہا ہوں کہ مغرب سیکولرازم کے نام پر آگے بڑھتا ہے اور لبرازم کی اقدار کا نعرہ مستانہ لگاتا ہے۔ یہ مذہبی طبقوں کو اپنی سوچ نافذ کرنے اور شخصی آزادیوں میں دخل اندازی کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں یہ بری طرح بے نقاب ہوا ہے۔ اگر ریاست کو برقعہ پہنانے کا حق لبرازم نہیں دیتا تو جناب کیا کسی نے مرضی سے حجاب کیا ہوا ہو، اسے اتارنے کا حق لبرازم دیتا ہے۔؟ انڈیا میں یہ بحث بڑی شدت سے جاری ہے اور بہت اچھا لفظ ڈریس کوڈ بار بار استعمال کیا جا رہا ہے کہ ریاست ڈریس کوڈ جاری کرسکتی ہے۔ جی بہت بہتر، اگر ریاست ڈریس کوڈ جاری کرکے مسلم عورت کو اس کی مرضی کے خلاف اس کا پردہ اتروانے کا حق رکھتی ہے تو کیا وہی ریاست یہ حق نہیں رکھتی کہ وہ خواتین کو حجاب کی طرف راغب کرکے ان کی عزت و عظمت میں اضافہ کر ے۔؟ اس کے جواب میں یقیناً انتہاء پسندی اور جانے کیا کیا نعرے سننے کو مل سکتے ہیں۔

ان لبرل اور سیکولر لوگوں کا ایک المیہ یہ ہے کہ ان کا عورت کے حقوق کو ناپنے کا پیمانہ اس کا لباس ہے، اگر عورت باحجاب ہو کر ہوائی جہاز بھی اڑا رہی ہے تو وہ محدود ہے اور اگر وہ معاشرے میں ننگی گھوم رہی ہے تو پھر آزاد ہے۔ اصل میں یورپ آزادی سے صرف بے پردہ ہونے کی اجازت دیتا ہے، پردہ کرنا انتہاء پسندی ٹھہرائی جاتی ہے۔ آج اسلامی جمہوریہ ایران کی عورت کے بارے میں بھی ان کی یہی غلط فہمی ہے۔ انقلاب سے پہلے اور انقلاب سے بعد کی ایرانی عورت کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ آج ایران کی باحجاب مسلمان عورت معاشرے کو چلانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ وہاں کی یونیورسٹیز ایرانی طالبات سے بھری پڑی ہیں اور ان کی تعداد لڑکوں سے زیادہ ہو چکی ہے۔ تحقیقی اداروں میں ایرانی بچیوں نے کمالات کر دیئے ہیں۔ کرونا نے علاقے کے دیگر ممالک کی نسبت ایران کو بہت زیادہ متاثر کیا، اس سے لڑنے والا ہراول دستہ خواتین کا تھا۔

کچھ ممالک میں عورت کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا مسئلہ بنا ہوا تھا اور ریاست اس سے روک رہی تھی جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران میں یہ سرے سے مسئلہ ہی نہیں اور خواتین بڑی تعداد میں سڑکوں پر گاڑیاں دوڑا رہی ہیں۔ میں نے اپنے دورہ ایران کے دوران یہ محسوس کیا تھا کہ انقلاب اسلامی ایران نے معاشرتی امن کی صورت میں ایرانی معاشرے میں بڑی تبدیلی پیدا کی ہے اور انقلاب سے پہلے چند امیر زادیوں کی مغرب زدہ تصاویر ہی ایران کا تعارف تھیں، مگر اب ہر جگہ ایرانی عورت اپنا لوہا منوا رہی ہے۔ میرے خیال میں انقلاب اسلامی نے عورت کو تحفظ کے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع دیئے، وطن کی بیٹیوں پر اعتماد کیا اور انہوں نے حیران کن کارنامے سرانجام دیئے۔ اب اسلامی انقلاب کی ایک اہم ترین دفاعی لائن یہی خواتین ہیں۔

کوئی بھی تبدیلی جو اپنے شہریوں کو معاشرتی سکون فراہم نہ کرسکے، وہ دیرپا نہیں ہوتی۔ انقلاب اسلامی کی قیادت کو اندرونی منافقین نے بہت نقصان پہنچایا اور افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ بیرونی دشمنوں نے براہ راست آٹھ سال تک مسلسل جنگ مسلط کیے رکھی اور آج انسانی تاریخ کی سخت ترین پابندیاں ایران پر عائد کی ہوئی ہیں، مگر ایران میں معاشرتی سکون ہے، بہترین امن و امان قائم ہے۔ صفائی کا عالی شان اور متحرک نظام ہے۔ مسلم لیگ نون کے صدر محمد شہباز شریف صاحب نے مشہد کا دورہ کیا تو وہاں صفائی کا نظام دیکھ کر حیران رہ گئے اور مشہد کی انتظامیہ سے اس پر پوری بریفنگ لی۔ صحت کا نظام بھی عالی شان ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

بی بی سی جیسے ادارے نے انقلاب کے بارے میں ایک رپورٹ دی تھی، جس میں اس بات کا اعتراف تھا کہ انقلاب اسلامی نے جن شعبوں میں کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں اور خطے کے دیگر ممالک سے اس فیلڈ میں بہت آگے نکل گئے ہیں، ان میں ایک میڈیکل کی فیلڈ ہے۔ اس میں عام ایرانی عوام کو جو سہولیات میسر ہیں، وہ دیگر ممالک کے لوگوں سے بہت بہتر ہیں۔ انقلاب کا لانا بہت بڑا کارنامہ ہے اور یہ رہبر کبیر امام خمینیؒ کی ولولہ انگیز قیادت کا ہی نتیجہ ہے۔ اس انقلاب کو قائم رکھنا اور آگے بڑھانا بھی بہت بڑا کارنامہ ہے، جو رہبر معظم سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی کی بصیرت سے ہی ممکن ہوسکا ہے۔ اصل بات خدا کے ساتھ ہونے کی ہے، جب انسان خدا کی مخلوق کی بھلائی کے جذبے سے آگے بڑھتا ہے تو بڑی بڑی قوتیں یہ کہنے پر مجبور ہو جاتی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک تھا، مگر خدا خمینی ؒ کے ساتھ تھا۔

Facebook Comments

ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply