• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • عمران خان کے بروٹس اور سیاسی غلطیاں۔۔ارشد غزالی

عمران خان کے بروٹس اور سیاسی غلطیاں۔۔ارشد غزالی

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان اس نظام میں ایلین ہیں کیونکہ نہ تو ان کے کوئی کاروباری مفادات ہیں نہ ہی انھیں اپنی اولاد کو سیاست میں لانا ہے نہ ہی دولت, طاقت اور شہرت کی بھوک کی وجہ سے وہ سیاست میں آئے، ایسے میں پورے نظام, اشرافیہ, مافیاز اور موروثی سیاستدانوں سمیت سب کا اتحاد اگر عمران خان کے خلاف ہے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔اپوزیشن تو ساڑھے تین سال میں حکومت کے خلاف کوئی تیر نہیں مار سکی مگر خان صاحب نے سیاست میں جو بے شمار غلط فیصلے کئے ان کے نتائج پوری قوم کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف اور وہ خود بھی بھگت رہے ہیں ،مگر خان صاحب کے بقول چونکہ مغرب سے لے کر مشرق تک ہر چیز اور ہر معاملے کو وہ ہر ایک سے بہتر جانتے ہیں اس لئے مقتدر حلقوں سے لے کر مخلص ساتھیوں تک کی کہی اور سمجھائی گئی تمام باتیں بھی خان صاحب کو سیاسی غلطیوں اور نقصانات سے نہیں بچا سکیں۔

حکومت میں آنے کے بعد خان صاحب کی سب سے اہم غلطی میڈیا کو نظر انداز کرنا, صحافیوں کے حکومتی دورے بند کرنا جو حکومت کے اچھے کاموں کی مفت پبلسٹی کرتے, حکومتی اشتہارات کے نرخ اور کُل اشتہارات بجٹ کم ترین کرنے کے ساتھ جائز میڈیا تنقید پر لفافہ صحافت کا لیبل لگانا نیز میڈیا پر سخت پابندیوں سمیت متعدد اقدامات نے جہاں ایک طرف مین سٹریم اور سوشل میڈیا دونوں کو خان صاحب کے مخالف کر دیا وہیں یہ میڈیا خان صاحب اور حکومت کی مخالفت میں اس حد تک بڑھ گیا کہ باقاعدہ ذہن سازی اور منفی پراپیگنڈے کی بھرمار نے مثبت حکومتی اقدامات کو بھی وسوسوں, افواہوں اور میڈیا کے پھیلائے غیر یقینی کے گردو غبار کی زمین میں ایسے دفن کردیا کہ وزراء, مشیر اور حکومتی ترجمان بھی انھیں درست طور پر اجاگر کرنے میں ناکام رہے جس کا نتیجہ عوام اور تحریک انصاف کے سپورٹرز کی مایوسی, بد دلی اور متنفر ہونے کی صورت میں نکلا۔

خان صاحب کی ایک اور بڑی غلطی اصلاحات لائے بِنا  اور نظام ٹھیک کئے بنا اپوزیشن اور کرپٹ اشرافیہ و مافیا کو دیوار سے لگانے کی کوشش کرنا تھی جس کی وجہ سے خان صاحب سمیت ساری کابینہ بجائے اپنی توجہ معیشت کی بحالی, قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات, نظام کی بہتری اور عوام کو ریلیف دینے میں لگاتی اپوزیشن, اشرافیہ, میڈیا اور مافیاز سے جنگ میں نڈھال ہوگئی جب کہ ناتجربہ کاری, نااہلی اور بد انتظامی نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی اور ساڑھے تین سال شکوہ جواب شکوہ, کھوکھلی دھمکیاں دینے, اپوزیشن کو للکارنے اور بے مقصد لڑائی میں گزر گئے جب کہ اس دوران نہ تو کوئی ایک بھی کرپشن کا ہائی پروفائل کیس منتقی انجام تک پہنچ سکا نہ کسی کو سزا ہو سکی اور نہ ہی خان صاحب اور وزراء کے دعوؤں کے مطابق اربوں کھربوں کی لوٹی ہوئی دولت واپس قومی خزانے میں جمع ہوسکی جو تحریک انصاف کے بنیادی وعدے تھے جس نے تحریک انصاف کے بیانئے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

خان صاحب نے تحریک انصاف کے تابوت میں آخری کیل تب ٹھونکی جب جہانگیر ترین خان صاحب کی پالیسی کی وجہ سے ناراض ہو کر الگ ہوئے کہ اگر مقدمات, کرپشن یا چینی سکینڈل اس کی وجہ ہیں تو اس کے بینفشری اب بھی خان صاحب کے دائیں بائیں موجود ہیں کئی وزراء پر مقدمات ہیں نیز کئی وزراء بینک لون معاف کروا کر بھی ساتھ ہیں اس سب کے باوجود کچھ ناعاقبت اندیشوں کے کہنے سننے میں آکر جہانگیر ترین جیسے شخص کو جو تحریک انصاف کی ریڑھ کی ہڈی, مقتدر حلقوں کے درمیان پل اور جوڑ توڑ کے ماہر تھے ناراض کردینے کا نقصان نہ صرف تحریک انصاف کے کمزور ہونے, ضمنی الیکشنز اور بلدیاتی الیکشنز میں شکست کی صورت نکلا بلکہ اگلے الیکشن میں بھی تحریک انصاف کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا خاص طور پر اگر جہانگیر ترین نے اپنی الگ پارٹی بنانے کا اعلان کردیا یا تحریک انصاف کے خلاف جانے کی صورت میں اپنے حمایت یافتہ ایم این اے اور ایم پی ایز لے کر کسی اور جماعت سے اتحاد کرلیا تو تحریک انصاف کی طاقت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔

یہ جانتے اور سمجھتے ہوئے بھی کہ ووٹ کو عزت دو اور سویلین بالا دستی کے کھوکھلے نعرے صرف عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے ہیں جب کہ حقیقت میں نہ تو ماضی اور نہ ہی حال میں کوئی پارٹی اسٹیبلشمینٹ کی مرضی اور منشاء کے بناء اقتدار میں آئی اور نہ آسکتی ہے اور نہ ہی حکومت قائم رکھ سکتی ہے پنجاب کی وزارت عظمی سے لے کر اہم تقرری کو ٹالنے اور ایبسلوٹلی ناٹ تک بے شمار معاملات میں خان صاحب نے طاقتور حلقوں کی رائے کے مخالف بے مقصد جذباتیت کو ترجیح دی، خاص طور پر امریکہ جیسی سپر پاور کو بجائے مذاکرات میں انگیج کر کے سیاسی یا ٹیکنیکل طریقے سے ہینڈل کر کے انکار کیا جاتا ،خان صاحب نے آزادی اور خود مختاری کے نام پر ریاست اور فیصلہ سازوں کو مصیبت میں ڈال دیا جب کہ معیشت تباہی کے دہانے پر تھی۔قرضوں کے بوجھ, مہنگائی, کرونا وباء اور دیگر مسائل ہونے کے باوجود خان صاحب نے دو ٹوک موقف اپنایا جس کا نتیجہ فیٹف کی گرے لسٹ میں رہنے سے لے کر آئی ایم ایف کی سخت شرائط تک اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کی صورت نکلا، جس نے خان صاحب, حکومت اور ریاست کو ایک ایسی بند گلی میں کھڑا کر دیا جس سے نکلنے کا فی الحال کوئی راستہ نہیں اور اس کا خمیازہ عوام سمیت سب کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

جن لوگوں کو خان صاحب ماضی میں ڈاکو اور قاتلوں کے لقب سے پکارتے رہے آج وہی حکومت کے اتحادی ہیں اور ان ہی کے دم سے یہ حکومت قائم ہے کہ ان سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں اور وہ صرف طاقتور حلقوں کی ایماء پر اس کشتی میں سوار ہیں جس میں خان صاحب لاتعداد سوراخ کر چکے ہیں۔ خان صاحب کے قریبی ساتھیوں کی نااہلی , اشرافیہ اور اپوزیشن کو ریلیف سمیت بہت کچھ ملک میں ایسا ہورہا ہے جو مقتدر حلقوں کی مرضی کے بناء ممکن نہیں اب بھی اگر خان صاحب نے دانائی, عقلمندی اور سیاست سے کام نہ لیا تو حکومت شاید خود اپنے بوجھ سے ہی زمین میں دھنستی چلی جائے اور خان صاحب کے پاس آخر میں “بروٹس یو ٹو” کہنے کو ایک طویل لسٹ ہو کہ جب ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہوگا تو انجام گلستاں جاننا مشکل کام نہیں۔

Facebook Comments

ارشد غزالی
Columinst @ArshadGOfficial

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply