یورپ دوراہے پہ۔۔اسلم اعوان

اس وقت یورپ اپنی کمزور ہوتی سماجی تنظیم اور دم توڑتی معیشت کی کوکھ سے نمودار ہونے والے مسائل کی وجہ سے جس قسم کے داخلی تضادات میں الجھتا دکھائی دیتا ہے،اس سے نجات کے لئے اسے نیٹو کے فوجی اتحاد سے نکلنے کی ضرورت پڑے گی لیکن امریکی مقتدرہ نیٹو کو مزید وسعت دیکر روس کے خلاف  جارحیت بنائے رکھنے کی خاطر نئے تنازعات کی آبیاری میں مفادات تلاش کرتی ہے،یوکرین کا تنازع  واشنگٹن کی اسی پالیسی کا شاخسانہ ہے جس نے پہلے سے مضمحل یورپ کو بڑی جنگ کے دہانے پہ لاکھڑا کیا۔

تاریخی دلچسپی کے لئے یہاں ا س بات کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد مصراور لیبیا سے لیکر عراق تک پھیلی مشرق وسطیٰ  کی اکثر قومی ریاستیں سوشلسٹ نظریات سے متاثرہونے کی وجہ سے سوویت یونین سے منسلک تھیں،اسی زمانہ میں روسی حکومت نے مصر میں دنیا کے سب سے بڑے اسوان ڈیم کی بنیاد رکھی، لیکن دریں اثناءامریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اسرائیل کے تحفظ کی خاطر بلاد عرب چھوڑنے کے عوض مشرقی یورپ کو روس کے سپردکرنے کی پیشکش کی جسے کیمونسٹ قیادت نے بخوشی قبول کرکے اپنے حامی عرب مملکتوں کو بے یار ومددگار چھوڑ دیا،جس کے بعد وہ رفتہ رفتہ اسرائیل نواز امریکی بلاک میں شمولیت پہ مجبور ہوتی گئیں، حتی کہ روس نے اسوان ڈیم پہ جاری کام ادھورا چھوڑ دیا،جسے بعد میں امریکہ نے پایا تکمیل تک پہنچا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

تاہم افغانستان میں روسی شکست کے بعد سویت یونین کمزور ہوا تو وسطی ایشیائی ریاستوں کی مانند امریکی ایما پر مشرقی یورپ کی کیمونسٹ ریاستیں بھی روس سے علیحدگی اختیار کرنے لگیں لیکن آج جب گردش ایام نے امریکہ جیسی واحد سپرپاورکو بیس سالہ افغان جنگ کی بدولت کمزور کیا تو روسی مقتدرہ ایک بار پھر مشرقی یورپ کی کھوئی میراث کو دوبارہ اپنے حلقہ اثر میں لانے کےلئے اٹھ کھڑی ہوئی۔یوکرین اور ہمسایہ ملک بیلاروس تقریباً 1,200سال قبل دریائے ڈینیپر کے کنارے پیدا ہوئے،روس قرون وسطیٰ کی سپر پاور رہا جس میں مشرقی یورپ کا بڑا حصہ شامل تھا لیکن 1991 میں روسیوں اور یوکرینیوں نے لسانی، تاریخی اور سب سے اہم سیاسی طور پر راستے جدا کر لئے،صدر پوٹن اب بھی دعویٰ کرتے ہیں روسی اور یوکرینی ”ہم نسل“ہیں،یوکرین اور بیلا روس طویل مدت تک”روسی تہذیب“کا جُز رہے تاہم یوکرینی اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتے۔

سوویت یونین سے علیحدگی کے بعد یوکرین 2005 اور 2014 میں دو انقلابات سے گزرا،دونوں بار روس سے وابستگی کو مسترد کرتے ہوئے یورپی یونین اور نیٹو میں شامل ہونے کی تگ و دو کرتا رہا۔پیوٹن جو خاص طور پر اپنی سرحدوں کے قریب نیٹو اڈوں کے امکان سے نالاں ہیں،وہ یوکرین کے امریکہ کی قیادت میں ٹرانس اٹلانٹک اتحاد میں شامل ہونے کو سرخ لکیر عبور کرنے سے تعبیر کرتے ہیں،تاہم یوکرین کے 2014 کے انقلاب کے بعد، جس میں مہینوں تک جاری رہنے والے مظاہروں نے بالآخر ماسکو کے حامی اُس یوکرائنی صدر وکٹر یانوکووچ کو اقتدار چھوڑنے پہ مجبور کر دیا،جس نے یورپی یونین میں شمولیت کا معاہدہ مسترد کر دیا تھا،پوٹن نے طاقت کے اِسی خلا کو کریمیا کے ساتھ الحاق کرنے کے لئے استعمال کیا اور جنوب مشرقی صوبوں ڈونیٹسک اور لوہانسک میں علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کرکے مغرب نواز اشرافیہ کوالجھا کے اس تنازع  کو یورپ کی گرم ترین جنگ میں بدل بیٹھا،جس میں اب تک 14,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ،جو نیٹو کی تحلیل کے حامی تھے،کا پہلا مواخذہ کیف کو فوجی امداد اور اسلحے کی برآمدات کی معطلی کے باعث ہوا،ان کے جانشین جوبائیڈن آنے والے ہفتوں میں یوکرین میں مہلک ہتھیار اور مشیر بھیجنے کے متمنی ہیں۔اگرچہ بقاءباہمی کے تقاضے اس وقت یورپ والوں کو نیٹو سے نکل کے روس اور چین کے ساتھ اقتصادی اور فوجی وابستگیوں کی تشکیل پہ مجبور کرتے ہیں لیکن امریکی قیادت میں قائم نیٹو اتحاد سے نکلنے کے خطرات انہیں ایسی پیشقدمی سے روک لیتے ہیں۔صدر پوٹن ماسکو کے زیر قیادت اس آزاد تجارتی بلاک میں یوکرین کی رکنیت کے شدت سے حامی ہیں، جس کا آغاز 2000 میں ہوا۔

یوریشین اکنامک کمیونٹی (EAEC) نے کئی سابق سوویت جمہوریاؤں کو متحد کیا،جسے امریکیوں نے یو ایس ایس آر کے دوبارہ جنم لینے کے پہلے قدم کے طور پر دیکھا۔43 ملین کی آبادی اور طاقتور زرعی اور صنعتی پیداوار کے ساتھ، یوکرین کو روس کے بعد(European Automobile Engineers Cooperation) EAEC کا سب سے ضروری عنصرسمجھا گیا لیکن کیف نے ای اے ای سی میں شامل ہونے سے انکار کرکے روسی قیادت کو مشتعل کر دیا۔

ماہرین معاشیات کہتے ہیں خود کفیل مارکیٹ بنانے کے لیے تقریباً 250 ملین کی آبادی درکار ہو گی،یونین کے لئے یوکرین اور ازبکستان کو شامل کرنا ناگزیر ہے اس لئے دونوں ریاستوں کے ارد گرد مستقل جغرافیائی سیاسی جنگیں شروع ہو گئی ہیں۔روس نے کہا کہ وہ اس بات پر اصرار کرے گا کہ مغربی حکومتیں 1999 کے معاہدے کا احترام کرتے ہوئے دوسروں کی قیمت پر اپنی سلامتی کو مضبوط نہ کریں اور اسی معاہدہ سے انحراف ہی یوکرین کے بحران کا سبب بنا۔اس سال الیکشن میں یوکرائنی صدر نے بھی کہا کہ روس کے ساتھ فوجی تنازع صرف یوکرین کو نہیں بلکہ پورے یورپ کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

کیف میں بورس جانسن سے ملاقات میں صدر زیلنسکی نے روس پر قابو پانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کوئی بھی یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ ماسکو کے ساتھ یوکرین کے تعطل میں آگے کیا ہونے والہ ہے۔بورس جانسن نے کہا وہ روس کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کر رہے بلکہ ہم بڑی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی اورایسی کارروائیوں کو دیکھ رہے ہیں جو مکمل فوجی مہم سے مطابقت رکھتی ہیں۔روسی قیادت امریکہ کی یوکرینی فوج کے ساتھ مشترکہ مشقوں اورہتھیاروں کی فراہمی کو یوکرین کے زیر قبضہ علاقوں کو طاقت کے ذریعے دوبارہ حاصل کرنے کی ترغیب کا محرک اور نیٹو کے بعض ارکان کی جانب سے یوکرین میں فوجی تربیتی مراکز قائم کرنے کو یوکرین کے نیٹو میں شمولیت کے بغیرمشرقی یورپ میں فوجی قدم جمانے کی کوشش سمجھتی ہے۔

چنانچہ جب یورپ کو کسی بڑی جنگ سے بچانے کی خاطر واشنگٹن نے ماسکو کو یوکرین کے خلاف نئے روسی حملوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ہتھیاروں کے کنٹرول اور اعتماد سازی کے اقدامات کی پیشکش کی توکریملن نے سرد جنگ کے مشرقی یورپ سے نیٹو افواج کی واپسی سمیت یہ ضمانت بھی مانگ لی کہ وہ کسی صورت کیف کی نیٹو میں شمولیت قبول نہ کریں۔سرحدات فوجیوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ کے پیش نظر یوکرین کے صدر زیلنسکی نے مغرب سے مطالبہ کیا کہ وہ گھبراہٹ سے گریز کریں لیکن روس کے ممکنہ زمینی حملے سے خوفزدہ نیٹو اتحادیوں نے یوکرین میں اضافی فوجی سازوسامان بھیج کرصورت حال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔

روس یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی مخالفت کے علاوہ روسی سرحدوں سے نیٹو فورسیسز کو نکالنے کا مطالبہ دہرا رہا ہے۔دسمبر میں صدر پوٹن نے کہا تھا کہ روس ایسی ضمانتوں کا خواہاں ہے کہ مشرق کی طرف نیٹو کی مزید پیش قدمی اور ہتھیاروں کے ایسے نظام کی تنصیب روک دی جائے جو روسی سرزمین کےلئے خطرہ بن سکتی ہیں۔پوٹن نے مغرب کو اس مسئلے پر ٹھوس بات چیت کی پیشکش کے ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ محض زبانی یقین دہانیاں نہیں بلکہ”قانونی ضمانتوں“ کا طلبگار ہے۔اگرچہ نہ تو ماسکو اور نہ ہی مغربی طاقتوں نے ان ردعمل کی تفصیلات منظر عام پر لائی لیکن یہ واضح ہے کہ روس کے بنیادی مطالبات یوکرین پر نیٹو کا رکن بننے پر پابندی اور یہ وعدہ لینا ہے کہ اتحاد مشرق یورپ میں مزید فوجی توسیع نہیں کرے گا۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے دسمبر میں یوکرین کے ساتھ 2008 کے اس وعدے کو منسوخ کرنے کے روسی مطالبات کو مسترد کر دیا جس کے تحت اسے نیٹو کا رکن بنانا مقصود تھا۔

اسٹولٹن برگ کا کہنا ہے کہ جب اس معاملے پر غور کا وقت آئے گا تو روس یوکرین کے الحاق کو ویٹو نہیں کر پائے گا۔تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیٹو کے پاس مشرقی یورپ میں فوجی قدم جمانے اور ماسکو سے تعلقات مزید خراب کرنے کی گنجائش نہیں اس لئے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی طرف سے نیٹو میں یوکرین کی رکنیت کی حمایت کے باوجود صدر جوبائیڈن اسی سوال کا واضح جواب دینے سے ہچکچاتے ہیں۔یہ معلوم نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑے گی یا نہیں لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ روس یوکرین پر تیزی سے فیصلہ کن فتح پانے کے باعث نیٹو کی توسیع اور اثر و رسوخ بارے مستقبل کی بات چیت میں سودے بازی کی طاقت کو بڑھا لے گا۔مغربی ممالک بظاہر یوکرین کی حمایت پہ مائل ہیں، امریکہ اور برطانیہ ہتھیار فراہم کریں گے تاہم جرمنی اگلے ماہ فیلڈ طبی سہولت بھیجنے کا ارادہ تو رکھتا ہے مگر فوجی سازوسامان کی منتقلی نہیں کرے گا۔ماسکو کو قابو کرنے کی خاطر اقتصادی پابندیوں بارے میں بھی سوچا جا رہا ہے،امریکہ اور یورپی اتحادیوں نے یوکرین میں فوج بھیجنے کی صورت میں روس کو بنکنگ ٹرانزیکشن کےSWIFT مالیاتی نظام سے کاٹنے کا عندیہ دیا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

اس اقدام سے روس بشمول دیگر مسائل کے تیل اور گیس کی پیداوار سے ہونے والا بین الاقوامی منافع،جو ملک کی کل آمدنی کا 40 فیصد سے زیادہ ہے،سے محروم ہو سکتا ہے تاہم روسی صدر نے یورپ کو گیس کی سپلائی روکنے کی دھمکی دیکر صورت حال کو مزید گھمبیر بنا دیا۔

  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply