اوصاف کی دھنک۔۔ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

انسانی فطرت کی خوبصورتی کا راز اس کے اوصاف کی عکاسی کرتا ہے۔یہ فطری تنوع اور سوچ کی مشترکہ کاوش کی بدولت معرض وجود میں آتے ہیں۔یہ زمین کی کسی سمت سے بھی نمودار ہو سکتے ہیں ۔ ان کی پہچان کا عمل دیرپا ہوتا ہے جس کے باعث انسان کا تاریخی ،ثقافتی، معاشرتی ، تہذیبی اور مذہبی رتبہ عالمگیر بن جاتا ہے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہوسکتا جب تک اس میں کرداری اوصاف کا جنم نا ہو۔عموما اس وقت تک انسانوں کے مابین مثبت سرگرمیوں کو فروغ نہیں ملتا ۔اور خاص بات جب تک انہیں ترجیحی اور ہنگامی بنیاد بنا کر تعلقات و روابط کو فروغ نا دیا جائے اس وقت تک امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی اور نا دور دور تک اس کے آثار دکھائی دیتے ہیں ۔
ان حقائق کا اگر کوئی چیز پردہ چاک کرتی ہے تو وہ ہماری تاریخ ہے جو اپنے شواہد کے ساتھ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کرتی ہے اور جو لوگ اس ورکشاپ کا حصہ بنتے ہیں ۔
وہ الجھے معاملات کو سدھار لیتے ہیں جن کی بدولت ان کے ناپاک عزائم کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔کیونکہ تربیت ہی انسان کی شخصیت کو پروقار اور جاذب نظر بنا تی ہے ۔جو لوگ مصمم ارادوں کے مالک ہوتے ہیں وہ میدان میں اتر کا کامیابی کی طرف قدم بڑھا لیتے ہیں ۔تاریخ معاشرتی احتساب کا لازوال پیمانہ ہے جسے نا تو زنگ لگتا ہے اور نا وہ ٹیڑھا ہوتا ہے ۔بلکہ وہ پورے ناپ تول کے ساتھ انصاف کا ترازو برقرار رکھتا ہے ۔
ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اوصاف کاری کے بغیر ہماری پہچان ادھوری اور کھوکھلی ہے ۔جو قومیں یا افراد مطالعاتی وسعت کے نوالے ہضم کر لیتے ہیں ان میں صحت بخش سرگرمیاں آغازی مہم کے ساتھ شروع ہو جاتی ہیں۔لیکن جو لوگ تاخیری سوچ کو اپنے اوپر حاوی کر لیتے ہیں۔وہ اپنے آپ کو ناکامی کی دلدل میں پھنسا لیتے ہیں۔یا ان کا سفر کوساں میل بڑھ جاتا ہے ۔نا وہ سفر کٹتا اور نا ہی منزل کی نشاندہی ہوتی ہے۔یوں انھیں تذبذب ، بد اخلاقی ، بدنظمی ، اور ایسے توہمات گھیر لیتے ہیں جن سے باہر نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ ایک فطری اصول ہے جو چیز ایک دفعہ گر جاتی ہے لوگ اسے پاؤں تلے روند دیتے ہیں ۔وہ کچلی اور تباہ و برباد ہو جاتی ہے ۔اس کی شکل و صورت سرے سے ہی بدل جاتی ہے۔ نا تو وہ قابل استعمال رہتی ہے اور نا اسے پہلے جیسی شناخت ملتی ہے ۔
البتہ اوصاف کاری رویوں میں تبدیلی لاکر زندگی کو ناصرف کامیاب بناتی ہے بلکہ اسے خوشحالی کا ضامن بھی بناتی ہے ۔اگر انسان اخلاقی ضابطوں کی پاسداری نہ کرے تو اسے سخت سے سخت حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔وہ تنہا رہ جاتا ہے ۔ذلت و رسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے ۔اس کی طبیعت میں شورش اور تندی بڑھ جاتی ہے۔وہ اپنے مقدر پر نوحہ کرتا ہے۔اپنی بے بسی پر روتا ہے ۔خودی سے سوال و جواب کرتا ہے ۔دوسروں پر الزام لگاتا ہے ۔کبھی خدا سے شکوہ کرتا ہے تو کبھی اپنی ذات سے ۔اس کی آنکھوں میں تاریکی کے ککرے اتر آتے ہیں ۔اسے اپنے اردگرد مایوسی نظر آتی ہے ۔طبیعت میں وہم و گمان بڑھ جاتا ہے۔
جیسے ہر چیز کے منفی محرکات ہوتے ہیں ایسے ہی ہر چیز کے مثبت پہلو بھی ہوتے ہیں جو اپنی خوبصورتی اور جاہ و جمال میں بے مثال ہوتے ہیں ۔نا تو وہ زنگ آلود ہوتے ہیں اور نہ انہیں زوال آتا ہے ۔اسی طرح اوصاف کاری کا عمل دھنک کا کردار ادا کرتا ہے جو انسان کی شخصیت میں ایسے دلکش رنگ بھر دیتا ہے جیسے وہ نورانی لبادے میں لپٹا ہوتا ہے ۔ ہر وصف کا اپنا مزاج اور کشش ہوتی ہے جو مقناطیسی قوت کا کردار ادا کرتا ہے ۔اس میں ایسی کشش ،طاقت اور پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں ۔ جہاں خدا خوفی، دیانت داری، انسانی ہمدردی ، درد دل ، جذبہ حب الوطنی ، محنت و عظمت ، تعلقات و روابط انسانی فطرت سے نہ ٹوٹنے والے وہ مالیکول ہیں ۔جن کی ہیت و حرکت ایمان افروز بن جاتی ہے ۔مذکورہ صفات و کرامات کا رنگ و روپ پھول اور کلیوں جیسا ہے جو قلب و ذہن کو آسودگی ، جذبات کو توانائی اور احساسات کو پنپنے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہ مصوری ترتیب فلک سے ایسے اترتی ہے جیسے کوئی ستارہ گردش کر کے اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے ۔جیسے آسمان دھنک سے چہک اٹھتا ہے ایسے ہی او صاف کاری خوشی کا احساس فراہم کرتی ہے ۔اور نتیجتا غم کے بادل اڑھ جاتے ہیں اور ساری مایوسی ختم ہو جاتی ہے ۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors

ڈاکٹر شاہد ایم شاہد
مصنف/ کتب : ١۔ بکھرے خواب اجلے موتی 2019 ( ادبی مضامین ) ٢۔ آؤ زندگی بچائیں 2020 ( پچیس عالمی طبی ایام کی مناسبت سے ) اخبار و رسائل سے وابستگی : روزنامہ آفتاب کوئٹہ / اسلام آباد ، ماہنامہ معالج کراچی ، ماہنامہ نیا تادیب لاہور ، ہم سب ویب سائٹ ، روزنامہ جنگ( سنڈے میگزین ) ادبی دلچسپی : کالم نویسی ، مضمون نگاری (طبی اور ادبی) اختصار یہ نویسی ، تبصرہ نگاری ،فن شخصیت نگاری ، تجربہ : 2008 تا حال زیر طبع کتب : ابر گوہر ، گوہر افشاں ، بوند سے بحر ، کینسر سے بچیں ، پھلوں کی افادیت

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply