کس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

کس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں
حمزہ حنیف مساعد
اگر کوئی آپ سے یہ پوچھے کہ “پاکستانی”کسے کہتے ہیں تو آپ کا ردِ عمل کیا ہوگا؟ کیا آپ اِس سوال پر حیرت کا اظہار کریں گے ؟ آپ بہت سے عام لوگوں کی طرح یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ کونسا مشکل سوال ہے۔ ظاہر ہے جو پاکستان میں رہتا ہے اسے پاکستانی کہتے ہیں۔لیکن صرف پاکستان میں پیدا ہونے والے یا پاکستان میں رہنے والے سے کوئی پاکستانی نہیں بن سکتا ۔ وہ پاکستانی اُس وقت بنے گا جب وہ پاکستانی بن کر دکھائے گا اور جب اُس شخص میں پاکستانیت پیدا ہو جائے گی۔بالکل اُسی طرح جس طرح کلمہ طیبہ پڑھ کر ایک شخص بظاہر تو مسلمان ہو جاتا ہے لیکن اللہ کے نزدیک مومن وہ اسی وقت ہوگا جب وہ مسلمان ہونے کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ارکان اسلام اور تمام اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔
جس طرح مسلمانوں کی اکثریت کے دلوں میں اسلام کی محبت ماہِ رمضان کی آمد پر جاگتی ہے، ٹھیک اسی طرح اگست کے مہینے میں ہی پاکستانیوں میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ یوم آزادی بھی سال میں ایک بار آنے والے تہوار کی مانند ہی لگتی ہے۔ اگست کے شروع ہوتے ہی یومِ آزادی کے موقع پر سجائی جانے والی اشیاء جن میں مختلف سائز کے جھنڈے اور جھنڈیاں، انواع و اقسام کے بیجز Badges، کلائی بینڈز، ہئیر بینڈز، قومی پرچم والی شرٹس، ٹوپیاں، کُرتے، شلوار قمیص، وغیرہ وغیرہ کے سٹال لگے نظر آتے ہیں ۔اُن دنوں ایک سٹال پر میری ملاقات ہمارے بڑ ے قابل احترام محترم قومی پرچم صاحب سے ہوئی۔ میں نے ان کی خیریت دریافت کی اور گلہ کیا کہ موصوف کیا بات ہے؟ اب ذرا کم کم دکھائی دیتے ہیں، کہیں جناب کی طبیعت تو ناساز نہیں رہتی؟ میں نےگلہ کیا کیا، وہ موصوف تو گویا ادھار کھائے بیٹھے تھے، شکوئووں کا انبار لگا دیا۔
فرمانے لگے کسی بھی ملک کی شناخت میں اس کا قومی پرچم بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے قومی پرچم ہی اس کی شناخت ہوتی ہے اور جو چیز شناخت کا باعث ہو اس کو وہ کبھی بھی کھونا نہیں چاہتا بلکہ اس کی شناخت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتا ہے۔ لیکن آج کل خواہ سیاسی پارٹیاں ہوں یا مذہبی، ہر کسی نے اپنے اپنے جھنڈے بنا لیے ہیں۔ اگر مسلم لیگ (ن) کے جلسے میں جائو تو ہر طرف سبز رنگ کے پرچم آویزاں ملیں گے۔ تحریک انصاف کے جلسے میں چاروں طرف سبز اور سرخ رنگ کے جھنڈے لہراتے ہوئے نظر آئیں گے۔ پیپلز پارٹی کے جلسے میں سبز ، سیاہ اور سرخ رنگ کے جھنڈوں سے پنڈال سجا نظر آئےگا. اب فرداً فرداً کس کس جماعت کا ذکر کروں، غرض کہ جتنی سیاسی و مذہبی جماعتیں، اتنے ہی جھنڈے۔ لیکن سبز ہلالی پرچم کہیں نظر نہیں آتا۔ مجھے تو وہ اپنے پروگراموں میں بلانا تک گوارا نہیں کرتے۔ مجھے تو اب اس بات کا غم کھائے جا رہا ہے کہ آنے والی نسلیں اپنی شناخت تک کھو دیں گی۔ وہ یاد رکھیں گی تو صرف اپنی اپنی پارٹی کا جھنڈا۔ گذشتہ دہائیوں میں بچے، ایک ملی نغمہ گاتے تھے کہ” اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں، سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ہم ایک ہیں”۔ پر اب کیا گائیں کہ کس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ؟
میں نے ان کا غصہ کم کرنے کے لیے دلیل دی کہ اتنے جھنڈوں کے آ جانے سے آپ کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ ابھی بھی قومی پرچم صدر پاکستان ، وزیراعظم ہائوس، سینٹ کے چیئرمین ، نیشنل اسمبلی کے اسپیکر، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس آف شرعی کورٹس، چاروں صوبوں کے گورنرز اور وزرائے اعلیٰ، صوبوں کے وزراء، چیف الیکشن کمشنرز، ڈپٹی چیئرمین آف سینٹ ، ڈپٹی سپیکر آف قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز، چیف جسٹس آف ہائی کورٹس، ایمبیسڈرز، ہائی کمشنرز آف پاکستان، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز، کی سرکاری رہائش گا ہوں،گاڑیوں، دفتروں نیز سرکاری عمارتوں پر بھی ہمہ وقت نصب ہوتا ہے، اس کے علاوہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی ٹرانسپورٹ (جہا زوں،کاروں، کشتیوں) پر بھی صرف قومی پرچم لگایا جاتا ہے۔ اور تو اور جھنڈے والی گاڑیوں کے تو پروٹوکولز ہی بڑے شاہانہ ہوتے ہیں۔ جن راستوں سے جھنڈے والی گاڑی نے گزرنا ہو وہاں تو پہلے سائرن بجاتی ہوئی موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں جلوس کی صورت میں نکلتی ہیں، درمیان میں جھنڈے والی گاڑی اور اس کے پیچھے پھر گاڑیوں کی لمبی قطاریں۔قومی پرچم نے میری بات ختم ہوتے ہی کہا کہ میں صرف اعلیٰ حکومتی عہدیداروں، وزرائے اعلیٰ، وزراء، چیف جسٹس اور کمشنرز کا نہیں، بیس کروڑ پاکستانیوں کی بھی شناخت ہوں۔ پاکستانی چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ ہوں، کسی بھی صوبے سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں، سندھی، بلوچی، پنجابی یا پشتو کیوں نہ بولتے ہوں، ان کی شناخت تو پاکستان سے ہی ہے۔
دنیا بھر میں مسلمان جن مصائب اور آفات کا شکار ہیں ان کا سب سے بڑا سبب آپس کا تفرقہ اور خانہ جنگی ہے۔ اگر آج امتِ مسلمہ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ امت کے بجائے ایک منتشر ہجوم نظر آتی ہے،
دوستوں ہم خود اپنے ملک کا بٹوارا کر رہے ہیں ۔ جب بھی گھر کی چھت سے نگاہیں دوڑاتا ہوں تو پاس پڑوس میں لگے جھنڈے نظر آتے ہیں سوچتا ہوں کہ پہلے ہی کیا کم ہم نے فسادات کئے ہیں جو اب ہم اپنےقومی پرچم کا بھی بٹوارا کر رہیں ہیں ۔ پرچم کی اہمیت ہم اس بات سے ہی لگا لیں کہ جب پُرانے دور میں جنگیں لگتی تھی ان قوموں کے پاس اپنے اپنے پرچم ہوا کرتے تھے گر پرچم گرا ،یا اُس کو تھامنے والا گرا تو جنگ وہ قوم جیت جا تی تھی جو یہ کام پہلے سر انجام دے ۔کیوں کہ پرچم کسی غیر ہاتھ میں نہیں بلکہ اُس قوم کے سرپرست کے ہاتھ ہوتا تھا ۔آج کل تو ہمارا کوئی سرپرست ہی نہیں جو ہمارے قومی پرچم کو تھامے

حمزہ حنیف مساعد
حمزہ حنیف مساعد
مکالمے پر یقین رکهنے والا ایک عام سا انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *