کار فری ڈے۔۔اقتدار جاوید

اپنا لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر ہے۔کئی ہفتوں سے یہ دلی اور بیجنگ سے بھی آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر ہے۔ دس آلودہ ترین شہروں میں دوتہائی  تو برصغیر پاک و ہند میں ہی پائے  جاتے ہیں۔مگر اپنا نام سب سے اوپر ہے۔شہر سے کسی جانب سے بھی نکلیں سفید گرد نظر آتی ہے آسمان نظر نہیں آتا۔ چہار اطراف ایک دھول اور جھکڑ کا گولہ ہے۔اسی جھکڑ کے گولے میں ڈوبا ہوا شہر موجود ہوتا ہے۔کسی زمانے میں نیلا گنبد سے چیرنگ کراس تک پیدل جانا ایک نعمت شمار ہوتا تھا اور فرحت کا احساس پیدا کرتا تھا۔ اب وہاں پیدل چلنے میں ہول اٹھتا ہے۔مگر ہمت ہے اور اس ہمت کی داد دینی چاہیے کہ جسٹس قاضی فا ئز عیسٰی نرسنگھ داس گارڈن سے مال ومال پیدل عدالت عالیہ پہنچ گئے ۔

کہنا ان کا بھی یہی ہے کہ اس شاہراہ پر پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی  سہولت نہیں۔ان دنوں ماسک کا رواج عام ہے مگر اس شاہراہ پر وبا کے دنوں کے بغیر بھی ماسک کے بغیر چلنا موت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔چند سال پہلے سنا تھا کہ سابق حکمران اس شاہراہ پر بھی میٹرو چلانے کے خواہشمند تھے۔اگر یہاں میٹرو چلتی تو سارے قدیم درخت بھی غاٸب ہونے تھے۔اس شاہراہ سے ملنے والی ساری سڑک ٹنڈ منڈ اور روڈ بھوڈ نظر آنی تھی۔کئی  سڑکوں پر ایک معلق چھت ہے جو میلوں لمبی ہوتی گئی  ہے اور ٹریفک کا بہاؤ ہے کہ سڑکیں پھر بھی کم پڑ رہی ہیں۔ایک آدھ ہی سڑک اب شہر میں رہ  گئی  ہے جہاں کچھ سبزہ اور درخت نظر آتے ہیں۔
جسٹس فائز عیسٰی نے اور باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا
ہے کہ جائیدادوں کے اکثر تنازعات ریونیو افسران کے غلط اندراج یا بے پروائی کی وجہ سے ہوتے ہیں، دیگر ممالک میں ایسے تنازعات شاذ و نادر ہوتے ہیں، کیونکہ جائیداد کے ریکارڈ کا تقدس برقرار رکھا جاتا ہے، جائیداد کے اندراج کی ذمے داری ریاست کی ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اور کہا کہ مال روڈ کی بہت بری حالت ہے کار فری ڈے کا انتظام کرنا چاہیے۔ان کی ساری باتیں سونے کے پانی سے لکھنے کے لائق ہیں مگر ہم صرف کار فری ڈے پر بات کرنا چاہتے ہیں۔
لاہور دنیا کا سترہواں بڑا شہر ہے اور کراچی دنیا کا تیسرا بڑا شہر ۔یہ بات ذرا تصدیق کرنے والی ہے۔ہمارا خیال ہے کہ کراچی سب سے بڑا شہر ہے اور اپنا شہر ٹاپ ٹن میں شامل ہے۔کہا جاتا ہے کہ کراچی عروس البلاد کی آبادی دو کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔ اس لحاظ سے وہ بیجنگ سے بھی بڑا ہے بیجنگ کی آبادی دو کروڑ سے کم سمجھی جائے  تو یہ دونوں شہر اس سے بڑے ہیں۔دونوں شہر اپنی ہیت کذائی  میں اپنی مثال ہیں جہاں آئے  دن ایک نہ ایک نئی رہائشی کالونی بن رہی ہے۔رہائشی کالونیاں کہنے کو تو کسی اجازت نامے کے بعد ہی شروع کی جاتی ہیں مگر بے ہنگم پھیلا ؤاس اجازت نامے کی وقعت کم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ شہر کے چاروں جانب پھیلاؤ کے بعد یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ شہر کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم ہوتا ہے۔شہر کا آغاز تو جی پی او سے ہی ہوتا ہے یہ عین وہ جگہ ہے جہاں جسٹس پیدل چل کر اور چھتری ہاتھ میں لیے انصاف گاہ تک آئے  ہیں۔

مال روڈ شہر کا دل ہے شہر کی تمام سڑکیں جسم کی رگوں اور وریدوں کی طرح اس میں گرتی ہیں۔مال روڈ کے پرانی مارکیٹوں کے ایک رہاٸشی نے بتایا کہ کسی زمانے میں گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر چھڑی ہاتھ میں لیے اور اچکن زیب تن کیے بلاناغہ شام کو گورنر ہاؤس سے نکلتے اور خراماں خراماں اسی جگہ سے واپس مڑ جاتے جہاں جسٹس پیدل پہنچے ۔ راستے میں لوگوں سے سلام دعا ہوتی کسی سے حال چال پوچھتے۔ یوں ان کی شام کی سیر ہو جاتی شہر کے لوگ اپنے حاکم کو اپنے درمیان پا کر خود کو محفوظ سمجھتے۔یہ سلسلہ سردار نشتر کی گورنری ختم ہونے کے ساتھ ختم ہوا۔مال روڈ چھ سات کلومیٹر کا ٹکڑا ہے اور اس پر درجنوں تاریخی مقامات اور عمارتیں ہیں۔ان کی اور شہریوں کی حفاظت کی از حد ضروری ہے۔

جہاں آلودگی ہوتی ہے یا جو شہر آلودہ ہوتے ہیں اور وہاں ایر کوالٹی انڈیکٹر 50 سے زیادہ ہو تو وہاں کئی  قسم کے امراض جنم لیتے ہیں۔آلودگی ماحوال کے لیے انتہائی  خطرناک ہے اور شہریوں کے لیے کئی  مہلک بیماروں کا باعث بنتی ہے۔اس میں دمہ، دل کی تکالیف کینسر پھیپھڑوں کے امراض عموی طور پر زیادہ پھیلتے ہیں۔ Pollutant
یعنی کیمیائی  اجزأ اور کوڑا کرکٹ سے بھرے شہروں میں لاکھوں لوگ ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں۔بچوں میں سانس کی تکالیف میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔آلودگی ساری رگوں میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے جو بالاخر دل کی بیماریوں کا موجب بنتی ہیں۔سلفر ڈائی  آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی ایکسائیڈ ایندھن سے اور کارخانوں کی وجہ سے بنتی ہے۔کاربن مونو آکسائیڈ ایک بے رنگ اور بے بو گیس ہے جو کاروں کے دھوٸیں سے جنم لیتی ہے جو انتہاٸی ملک ہے۔ پچھلے دنوں میں مری سانحے میں جو تٸیس افراد لقمہ اجل بنے تھے وہ اسی گیس کے اخراج کی وجہ تھی۔اٸر پولشن کی وجہ سے زندگی کا دورانیہ بھی کم ہوتا ہے اور مزاج میں مایوسی اور ناخوشی جنم لیتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ٹریفک کے اشاروں پر گاڑیوں کی دھکم پیل میں لوگ ایک دوسرے کو گھورتے آگے نکلنے کی کوشش کرتے مسلسل بڑبڑاتے ہیں اور خود کو کوستے دکھائی  دیتے ہیں۔

دنیا میں پچاس سال پہلے یعنی 1970 سے اس خطرے سے آگاہ کیا جا رہا تھا مگر یہاں اب بھی چین کی بانسری بجائی  جا رہی ہے۔ جیسے آلودگی حکومت کی ترجیح میں شامل ہی نہیں ہے۔ پچھلے کئی  مہینوں سے روزانہ کی بنیاد پر شہر آلودہ ترین انہی وجوہات کی بنا پر قرار دیا جاتا ہے کہ آلودگی کو کنٹرول کرنے اور اسے کم کرنے کی سبیل نہیں کی جا رہی۔ہمارے ملک کی اکونومی دیکھیں اور لوگوں کے پاس گاڑیوں کی تعداد دیکھیں ان کا آپس میں کوئی  توازن ہی نہیں ہے۔اس وقت پاکستان میں ٹوٹل رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد سوئٹرزرلینڈ،ڈنمارک سے زیادہ اور گریک سے تھوڑی کم ہے۔سوٹزرلینڈ کی فی کس آمدنی 82000 ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔اپنے ملک کی فی کس آمدنی کا ذکر کیا کرنا۔ البتہ فی کس قرضہ ایک لاکھ اناسی ہزار ہو چکا ہے۔پچاس فیصد اضافہ موجودہ حکومت کے دور میں ہوا ہے۔ نخرے ہمارے اس ملک سے کہیں زیادہ ہیں۔یہاں حاکم گاڑیوں کے ایک کاروان صد ہزار کے ساتھ نکلتا ہے۔وہاں حاکم سائیکل کو بھی اپنی شان کے خلاف نہیں سمجھتا۔اس وقت لاہور میں دس لاکھ سے زیادہ گاڑیاں پٹرول اور ایک لاکھ سے زیادہ گاڑیاں ڈیزل پر ہیں تو پھر آلودگی کیسے کنٹرول ہو گی؟۔ مغربی ممالک میں دس سال پرانی گاڑیوں کو سڑک پر آنے کی اجازت نہیں ہے۔ کرہ ارض پر کاروں بسوں جہازوں ٹرکوں کا دھواں ہی اس کی بڑی وجہ ہے۔

مال روڈ پر درجنوں ایسی عمارات ہیں جو قومی ورثے میں شامل ہیں۔مختلف ادوار میں اس شاہراہ کو بچانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اس روڈ پر عمارات جس حالت میں ہیں ان کو محفوظ رکھا جائے۔ اس پراجیکٹ کو ”دلکش لاہور“ کہا جاتا تھا ایسے اقدامات کے ساتھ ساتھ جسٹس فائز کے کہنے کے مطابق پیدل چلنے والوں کے لیے مزید سہولیات کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔جیسے ٹریفک کا دباؤ بڑھ رہا ہے روزانہ کی بنیاد پر کاروں کا اضافہ ہو رہا ہے اسی دباو کے پیش نظر روزانہ بنیاد پر ایر کوالٹی کنٹرول پر بھی نظر رکھی جائے ۔
شہر کی آلودگی کے پیش نظر شہر میں کار فری ڈے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ کوئی  ایسی حکمت عملی بروئے  کار لانے کی ضرورت ہے جس میں بڑھتی آلودگی کو کنٹرول کیا جائے ۔ہر پندرھواڑے میں ایک دن پورے شہر میں اور مال روڈ کے ساڑھے چھے کلومیٹر ٹکڑے کو ہفتے اور اتوار دو دن کے لیے مکمل کار فری زون قرار دیے جانا چاہیے۔

Advertisements
julia rana solicitors

بہتر تو ہو گا کہ ایسا سلسلہ ترتیب دیا جائے  کہ ایسا شیڈول پورے ملک تک پھیلایا جائے۔نہ صرف یہ صحت عامہ کے لیے مفید ہو گا بلکہ معیشت ِ عامہ کے لیے نیک شگون ہو گا۔
سرکاری اور سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے البتہ رعاٸت کی گنجائش ضرور نکالی جا سکتی ہے۔یہ کوٸی انوکھا اور ناممکن واقعہ نہیں کئی  ممالک میں باقاعدہ کار فری ڈے منایا جاتا ہے۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply