حاکمیت اور جمہوری ثقافت۔۔اسلم اعوان

سینٹ کے حالیہ اجلاس میں آئی ایم ایف کی شرائط کی تکمیل کی خاطر اسٹیٹ بنک کی خود مختیاری جیسے حساس بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے بالعموم اور پیپلزپارٹی کی پارلیمانی لیڈرشپ نے بالخصوص جس بے حجابانہ انداز میں سہولت کاری کا فریضہ انجام دیا،اسی نے ہمارے سیاسی نظام اور ریاستی ڈھانچہ کی بے ثباتی کی قعلی کھول دی۔اس بات سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ پچھلی پون صدی سے ہماری مملکت میں فیصلہ سازی کا پورا نظام اورحکمرانوں کی عزل و نصب کا اختیار نظر نہ آنے والی عالمی مقتدرہ کے ہاتھ میں رہا لیکن رموزحکمرانی کے ماہرین نے اس کلاسیکی بندوبست کو ایسی باکمال مہارت سے نبھایا کہ یہاں وقوع پذیر ہونے والے تمام واقعات وحوادث کی توجہی ہمیں فطری دیکھائی دیتی تھی،پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان سے لیکر حسین شہید سہروردی،ذولفقار علی بھٹواور نوازشریف سمیت اس سنہرے جال کو توڑنے کی جسارت کرنے والوں کے انجام کے محرکات کو ہم اپنی داخلی جدلیات میں تلاش کرتے رہے حالانکہ یہ سب کچھ ایک وسیع عالمی سکیم کے تحت تشکیل پانے والے اُس بندوبست کے مطابق ہوتا رہا جس میں عالمی مالیاتی نظام کے تحت قرضوں اور امداد کے ذریعے مملکتوں کو کنٹرول کرنے اورسیاسی تشدد کے ذریعے کمزور ممالک کے وسائل پہ قبضہ کرکے دنیا بھر میں ایسی استبدادی حکومتوں کو برداشت کیا گیا جو عالمی طاقتوں کی اطلاعت قبول کر لیتی تھیں۔تاہم افغانستان سے بین الاقوامی فورسیسز کے انخلاءسے کچھ عرصہ قبل پانامہ لیکس سکینڈل کے اجراءسے عالمی قوتوں نے اس مملکت کی حاکمیت اعلی پہ پڑے وہ تمام حجابات الٹ دیئے،جو ہماری خود فریبیوں کا معقول لباس تھے،اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ مغربی طاقتیں جنوبی ایشیا پہ اپنی گرفت مضبوط رکھنے کی خاطر اِس ملک کو لانچنگ پیڈ کے طور پہ استعمال کرتی رہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس خطہ پہ ریموٹ کنٹرول سے حکمرانی کرنے والی قوتیں اب تھک چکی ہیں،چنانچہ وہ اپنی مقبوضات سے دست کش ہونے سے پہلے یہاں کے ادارہ جاتی ڈھانچے اور اس تراشیدہ سیاسی بندوبست کو بے توقیردیکھنا چاہتی ہیں جو اس حال میں بھی کسی نہ کسی طور بائیس کروڑ نفوس پہ مشتمل اِس عظیم قوم کو سمبھالنے کی سکت رکھتا ہے تاہم اس وقت ہمارا اصل مسلہ آئینی طریقوں سے پرامن انتقال اقتدار کا حساس مرحلہ ہے بظاہر یہی لگتا ہے کہ موجودہ رجیم ٹرانزیشن آف پاور کے فیز کومینیج کرنے کی روادار نہیں اور یہی وہ سیاسی نازکتیں ہیں جنہوں نے قومی قیادت اور مقتدرہ کوحد سے زیادہ محتاط کر دیا۔
ہماری جدید سیاسی تاریخ میں پیپلزپارٹی ہی وہ پہلی عوامی جماعت تھی جس نے صدیوں کے منجمد معاشرے کو جمہوری آزادیوں اور سیاسی حقوق کی خاطرمزاحمت کا شعور دیکر ایسی دور رس تبدیلیوں کی راہ ہموار بنائی جس کی گداز لہریں آج بھی ہمارے اجتماعی وجود کو وقف اضطراب رکھتی ہیں،زیڈ اے بھٹو کی اٹھان سے قبل ہمارے سماج کی نفسیاتی فضا تسلیم و رضا کی اس قدیم ثقافت پہ مبنی تھی جس میں حکمرانی اور فیصلہ سازی کا اختیار اُن اعلی طبقات کا حق مانا جاتا جو عالمی مقتدرہ سے”ہم آہنگ“ہوا کرتے تھے،اسی ذہنی فضا میں ہمارا معاشرہ سیاسی عمل کو دجل و فریب کا کھیل اور سیاست سے وابستگی کو مکروہ دھندہ سمجھتا رہا تاہم یہ ذولفقارعلی بھٹو ہی تھے جنہوں نے عوام کے حق حکمرانی،جمہوری آزادیوں اور سماجی انصاف کے نعروں کو قبولیت عام کا درجہ دیکر مشرق کے جمودپرور معاشروں کی رائے عامہ کو منظم کرکے ایسی حیرت انگیز جدلیات کو مہمیز دی جس کے اثرات نے اجتماعی حیات کی ہر اکائی کو متاثر کیا۔1970 کے بعد ابھرنے والی تمام سیاسی و مذہبی تحریکیں ذولفقار علی بھٹو کے تخلیق کردی فلسفہ سیاست کی خوشہ چین نظر آتی،حتی کہ مسٹر بھٹو کے خلاف اٹھنے والی پی این اے کی تحریک نے بھی انہی حربوں کو استعمال کیا جسے بھٹوصاحب نے خود متعارف کرایا تھا،ذولفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد بے نظیر بھٹو نے بھی صحت مند جمہوری جدوجہد کے ذریعے انہی پُر شکوہ سیاسی اقدار اور ان درخشدہ روایات کو زندہ رکھا جنہوں نے مقدس آمریتوں کے چہروں سے نقاب الٹ ڈالیں تھیں،قطع نظر اس بات کہ مسٹر بھٹو اور بے نظیر نے سمجھوتوں کے ذریعے اس حتمی تصادم سے گریز کیا جس کی اس ملک کو اشد ضرورت تھی لیکن پھر بھی اُن کی گراں قدر مساعی نے اپنے عہد کی روح کی تطہیر میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی،یہ انہی کے زرخیز دماغ کی گونج ہے جو آج ہمیں میاں نوازشریف،مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز کے لب ولہجہ سے چھلکتی نظر آتی ہے لیکن افسوس کے بے نظیربھٹو کی موت کے بعد پیپلزپارٹی کو ملنے والے اقتدار کے دوران آصف علی زرداری اور اس کے رفقاءنے جس مفاہمتی فلفسہ سیاست کی بنیاد رکھی وہ عوام اور پیپلزپارٹی کے درمیان حائل ہو گیا،پیپلزپارٹی کی افزائش مزاحمتی ماحول میں ہوئی اسے سمجھوتوں اور مفاہمتوںسے مزین وہ پُرسکون فضا راس نہیں آئی جس کے تال میل نے ان کی مزاحمتی دھار کو کند کر دیا۔ملکی اور عالمی مقتدرہ کی رائٹ سائیڈ پہ کھڑا ہونے کے باعث پارٹی جمہوری ساکھ کے علاوہ اس وسیع عوامی حمایت کو بھی کھو بیٹھی جو کبھی پیپلزپارٹی کا طرہ امتیاز ہوا کرتی تھی۔آصف علی زرداری جانتے ہیں کہ اب وہ شفاف اور منصفانہ الیکشن کے ذریعے بلاول بھٹو زرداری کو مسند اقتدار تک نہیں پہنچا سکتے چنانچہ اس وقت وہ ملکی اور عالمی مقتدرہ کی آشیرواد سے انہی روایتی طریقوں سے حصول اقتدار کی متمنی ہیں جن سے شوکت عزیز اور چوہدری شجاعت نے استعفادہ کیا، وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ کوئی دوسری سیاسی قوت اس مزاحمتی وراثت کو لیکر آگے چلے جس کی شروعات کبھی ذولفقار علی بھٹو نے کی تھی اس لئے وہ جمہوری جدوجہد کی راہ پہ چلنے والی جماعتوں کو بھی انگیج کرکے اپنی ڈگر پہ لانا میں سرگرداں ہیں۔ذولفقار علی بھٹو کے بعد نوازشریف نے عوام کے حق حاکمیت کو پانے کی خاطر مزاحمت کی راہ اختیار کرکے بے پناہ مقبولیت حاصل کی لیکن وہ بھی ہمیشہ فیصلہ کن جنگ لڑنے سے گریزاں رہے،
وہ تین بار وزارت اعظمی تک پہنچنے کے باوجودکئی بار حکیمانہ پسپائی اختیار کرکے غیراعلانیہ سمجھوتوں کے ذریعے اپنے سیاسی مفادات کا دفاع کرتے رہے بلکہ انہوں نے ایوان اقتدار سے دھتکارے جانے کے بعد بھی جُزوی سمجھوتوں کے ذریعے دائیں بائیں سے ریلیف لینے میں حجاب محسوس نہ کی۔بدقسمتی سے اس وقت وہ اُسی عالمی مقتدرہ کے”مہمان“ہیں جس نے انہیں وزیراعظم ہاوس سے باہر کھینچنے میں اہم کردار ادا کیاچنانچہ مسلم لیگ اب وہیں لندن سے مینیج ہوتی ہے،آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی ترمیم ہو یا سینٹ میں اسٹیٹ بنک کی خود مختیاری کا بل منظور کرانے کا ایشو،تمام معاملات میں حتمی احکامات مے فیئر سے آتے ہیں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جب تک مقبول سیاستدان خود اور ہماری تقدیر کے مالک بااثر لوگوں کا سرمایا اور اولادیں دیار غیر میں مقیم ہوں گی اس وقت تک ہماری قومی سیاست عالمی مقتدرہ کے ہاتھوں یرغمال رہے گی۔ممکن ہے اب یہ سب کچھ بدل رہا ہو لیکن قومی سیاست کی حرکیات اور پارٹی پالیٹیکس سے جڑے حقائق بارے ہماری محدود معلومات سیاسی تنقیحات کی توضیح کے لئے ناکافی ہیں۔تاہم ووٹ کا حق دیگر تمام حقوق کا ضامن ہے اگر قومی قیادت یہاں منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنانے میں کامیاب ہو گئی تو ہمیں اپنی گم گشتہ آزادی واپس مل سکتی ہے،بلاشبہ ملکی قوانین اورسیاسی و اقتصادی پالیسیاں سیاسی عمل کو چلانے والے انتخابی قوانین سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں،اس لئے ہماری لیڈرشپ کے لئے قومی خود مختیاری کے تحفظ اور حقیقی آزادی کے حصول کے لئے منصفانہ انتخابات کا ہدف حاصل کرنا زیادہ اہم ہو گا۔افسوس کہ ہمارا انتخابی نظام کئی پہلووں سے مغربی جمہوریتوں سے مماثلت نہیں رکھتا لیکن عالمی ادارے ایسے ممالک کو غیر مشروط فنڈنگ نہیں کرتے جس کا جمہوری ڈیزائن ان کے مفادات کے تابع نہ ہو۔ہماری جمہوریت کے بہت سے مسائل بارے سیاستدانوں اور پالیسی سازوں کے مابین اختلافات پائے جاتے ہیں،ہم آپس میں جھگڑ سکتے ہیں کہ بہترین متبادل کون سا ہے لیکن ہم سب انتخابی نظام میں ایسی جامع اصلاحات پہ متفق ہیں،جو سیاسی نظام کی مکمل بحالی کے بغیر نسبتاً آسانی سے نافذ کی جا سکتی ہوں کیونکہ وسیع تر انتخابی اصلاحات کے طویل مدتی اور نتیجہ خیز اثرات ہو سکتے ہیں۔مغربی ماہرین کہتے ہیں اگرچہ جمہوریت کا اقتصادی ترقی پر براہ راست نہیں پڑتا لیکن اس کے نہایت اہم بالواسطہ اثرات ترقی میں معاون ہوتے ہیں۔تمام اہل شہریوں کے قانون کے سامنے مساوی ہونے اور قانون سازی کے عمل تک یکساں رسائی میں مساوات جھلکتی ہے۔لاریب،قانونی مساوات، سیاسی آزادی اور قانون کی حکمرانی کو اکثر اچھی طرح سے کام کرنے والی جمہوریت کی بنیادی خصوصیات کے طور پر پہچانا گیا،اس لئے جمہوریت کی اساس انسانی سرمایہ کے ذخیرہ،کم افراط زر، کم سیاسی عدم استحکام اور اعلیٰ اقتصادی آزادی پہ رکھی گئی۔جمہوری معاشرہ ایسے نظریات کو فروغ دیتے ہیں جن میں احترام آدمیت اور قیادت کے انتخاب کا حق شامل ہو،جمہوریت کی حمایت سے نہ صرف مذہبی آزادیوں اور سیاسی کارکنوں کے حقوق جیسی بنیادی اقدار کو فروغ ملا بلکہ معاشرے ایسا محفوظ، مستحکم اور خوشحال ماحول استوار کرنے میں بھی کامیابی ہوئے جس میں تحمل،برداشت،درگزر،خواتین کے حقوق اور تمام طبقات کے لئے ترقی کے یکساں مواقع ملتے ہیں،اس لئے جمہوریت ہمیشہ زیادہ شفاف اور جوابدہ حکومت کے قیام میں دلچسپی رکھتی ہے۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply