آلو کچالو۔۔انور اقبال

1756 میں فرانس اور برطانیہ کے درمیان بڑے پیمانے پر ایک جنگ چھڑ گئی جو سات برس تک جاری رہی اور سن 1763 میں اپنے اختتام کو پہنچی۔ یورپ کی جنگی تاریخ میں اس جنگ کو “سیون ایئرز وار” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس جنگ میں فرانس کا ایک فارماسسٹ پارمینٹیئر بھی شریک تھا جو دورانِ جنگ برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں پکڑا جاتا ہے۔ اس کو ریاست پروشیا کی ایک جیل میں قید کر دیا جاتا ہے۔ قید کے دوران بطور سزا برطانوی اس کو مسلسل آلو کھلاتے ہیں کیونکہ اُس زمانے میں برطانوی آلوؤں کو جانوروں کی غذا یا چارہ سمجھتے تھے اور انسانی صحت کے لیے اسے نقصان دہ سمجھتے تھے۔

1763 میں قید سے آزاد ہونے کے بعد پارمینٹیئر نے غذائی کیمسٹری میں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی اور پھر اس کی کوششوں کی بدولت پیرس کی فیکلٹی آف میڈیسن نے 1772 میں آلوؤں کو کھانے کے قابل قرار دے دیا لیکن مذہبی حلقوں کی جانب سے مزاحمت جاری رہی اور پارمینٹیئر کو انوالائیڈز ہسپتال میں اپنے ٹیسٹ گارڈن کو استعمال کرنے سے روک دیا گیا جہاں پر وہ فارماسسٹ تھا۔ کچھ برس بعد سن 1779 میں پارمینٹیئر کو فری اسکول آف بیکری میں پڑھانے کے لیے مقرر کیا گیا اور اُن کو ساتھ ساتھ یہ کام بھی سونپا گیا کہ کس طرح پیرس میں انسانی خوراک کی فراہمی کی لاگت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اسی سال پارمینٹیئر نے اپنا ایک تحقیقی مقالہ بھی شائع کیا جس میں اس نے بتایا تھا کہ آلو سے روٹی کیسے بنائی جا سکتی ہے، جس میں گندم کی روٹی کی تمام تر خصوصیات موجود ہیں۔ 1800 میں نپولین بونا پارٹ نے پارمینٹیئر کو پہلا آرمی فارماسسٹ مقرر کیا تھا۔ دنیا کی زندہ قومیں اپنے ہیروز کی بےانتہا قدر کرتی ہیں۔ آج بھی پیرس میں پارمینٹیئر کی قبر کے اطراف کو مختلف قسم کے آلوؤں سے سجایا گیا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
مضمون نگار:انور اقبال

آج کی دنیا میں فرانس اور آلو کا رشتہ اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ تقریباً دنیا کے ہر مُلک میں تلے ہوئے آلوؤں کے ٹکڑے “فرینچ فرائز” کے نام سے ہی جانے جاتے ہیں۔ آپ کو فرینچ فرائز نیویارک کے بھی ہر ریسٹورنٹ میں ملیں گے، شنگھائی کے ہر ہوٹل میں بھی دستیاب ہوں گے، دہلی اور کراچی کے فُٹ پاتھی ہوٹل پر بھی مل جائیں گے اور پیرس یا لندن کے کسی بھی عالیشان ہوٹل کے مینو کارڈ پر بھی نظر آجائیں گے۔ ہر جگہ یہ “فرینچ فرائز” ہی کہلاتے ہیں۔

آلو کا وطنِ مالوف جنوبی امریکہ کا وسطی علاقہ ہے جہاں آج پیرو کے نام سے ایک ریاست واقع ہے۔ 14 ویں صدی کے اواخر میں کولمبس امریکہ کی سرزمین پر قدم رکھ چکا تھا اور ہسپانوی اس عظیم براعظم کے مختلف حصوں پر قابض ہوتے جا رہے تھے۔ پندرہویں صدی کی پہلی دہائی میں وہ جنوبی امريکہ کے شمالی حصے میں واقع پانامہ تک قبضہ کر چکے تھے اور اب ان کی حریص نظریں جنوبی امریکہ کے وسطی علاقوں پر مرکوز تھیں۔ پانامہ کے علاقے پر قابض خودساختہ ہسپانوی گورنر نے ایک فوجی جتھہ تشکیل دیا، اور جنوبی امریکہ کے وسطی علاقے میں ہزاروں سال سے آباد انسانوں کے گروہ جو “انکا” قبائل کے نام سے جانے جاتے تھے کہ زرخیز اور مالدار علاقوں کی طرف قبضہ کرنے کی نیت سے روانہ ہوئے۔

انکا تہذیب و تمدن اور علم و فن میں اس وقت کی تمام امریکی اقوام میں بہت آگے تھی۔ انھوں نے اپنا ایک مخصوص نظام سیاست و معیشت وضع کیا تھا۔ جس کے مطابق بادشاہ ملک کا حکمران ہونے کے علاوہ رعایا کا دینی پیشوا بھی تھا۔ تمام ذرائع پیداوار حکومت کی تحویل میں تھے اور ریاست عوام کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کی پابند تھی۔ انہوں نے زراعت کو ترقی دی۔ سڑکیں، پل اور آبی ذخائر تعمیر کیے۔ کوزہ گری، دھات سازی اور پارچہ بافی میں انھیں کمال حاصل تھا۔ اس عظیم الشان انکا سلطنت کا صدر مقام کوزکو (اب جنوبی پیرو کا ایک شہر) تھا۔ اس سلطنت کے پہلے بادشاہ نے انکا کا لقب اختیار کیا۔ بعد ازاں سلطنت کے سارے باسی انکا کہلانے لگے۔ 1533ء میں ہسپانوی فوج نے اس کے آخری بادشاہ اتاہولپا کو دھوکے سے گرفتار کر لیا۔ 1569ء تک ساری انکا سلطنت ہسپانیوں کے زیر نگیں آگئی۔ پیزارو کے لڑاکا جتھوں نے انکا کے ایک وسیع علاقے پر قبضہ کر لیا اور ان کے بادشاہ Atahuallpa کو قتل دیا اور سارا خزانہ لوٹ کر اپنے قبضے میں لے لیا۔ ان مادی خزانوں کے علاوہ ہسپانوی بہت سے نئے حیوانات، سبزیوں، پھلوں اور نباتات سے بھی واقف ہوئے۔ اس میں سے سب سے اہم “آلو” تھا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ پیرو میں “انکا انڈین” وہ سب سے پہلے قبائل تھے جنہوں نے 8000 قبلِ مسیح سے 5000 قبلِ مسیح کے درمیان “آلو” کی کاشت شروع کر دی تھی۔ یورپ میں رہنے والے پرتگیزیوں کے لیے یہ ایک بالکل اجنبی اور نئی چیز تھی۔ ہسپانویوں نے “آلوؤں” کے مختلف ذائقوں کو چکھا اور بیحد پسند کیا اور پھر “آلوؤں” کو اپنے ساتھ یورپ لے گئے لیکن باضابطہ طور پر “آلو” کو یورپ پہنچنے میں مزید تیس سال کا عرصہ لگا۔ پہلی دفعہ تقریباً 1570 میں وہ بحری جہاز اسپین کے ساحلوں پر لنگرانداز ہوا جس پر نئی سرزمین سے حاصل کی ہوئی دولت اور خزانوں کے ساتھ بڑی مقدار میں “آلو” بھی موجود تھے۔ جب جہاز کے عملے نے یہ بتایا کہ جنوبی امریکہ کے مقامی لوگ ناصرف “آلوؤں” کو مختلف طریقوں سے پکا کر کھاتے ہیں بلکہ اپنے مویشیوں کے لیے “چارے” کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے باوجود پُرتگیزی اور دیگر یوروپی اقوام “آلوؤں” کو شک و شبہات کی نظر سے ہی دیکھتے رہے۔ انہوں نے اس کو مویشیوں کی غذا کے لیے تو قبول کر لیا لیکن اس کو انسانوں کے کھانے کی چیز تسلیم نہیں کیا۔ آج “آلو” دنیا بھر میں گندم، مکئی، چاول اور گنّے کے بعد پانچویں اہم ترین فصل ہے۔

حالانکہ سولہویں صدی کے آغاز میں ہی ہسپانوی باشندے آلوؤں کو جنوبی امریکہ سے یورپ میں لے آئے تھے اور سن 1640 تک اسے باقی یورپ میں بھی متعارف کرا دیا گیا تھا لیکن اسپین اور آئرلینڈ کے علاوہ آلوؤں کو عام طور پر صرف جانوروں کے کھانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ 1748 میں فرانس نے آلوؤں کی کاشت کو اس خام خیالی کی بنیاد پر غیرقانونی قرار دے دیا تھا کہ یہ دوسری بیماریوں کے علاوہ جذام کا باعث بھی بنتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

برصغیر میں بھی آلوؤں کو متعارف کرانے کا سہرا پرتگیزیوں کے سر ہی ہے۔ مغل دربار تک رسائی کے بعد سارے شمالی ہند جس میں موجودہ پاکستان کے علاقے بھی شامل ہیں کہ عوام الناس کے دسترخوانوں کی مستقل زینت بن گیا۔ اب برصغیر کے لوگ آلو کچالو اور آلو کے سموسے سے لے کر آلو گوشت تک نہ جانے کتنے پکوانوں میں آلو کو بطور غذا استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہمارے شہر کراچی میں سینما کلچر اپنے عروج پر تھا اور ہم اپنے والد کے ساتھ سینما میں فلم دیکھنے جاتے تھے تو انٹرویل میں ہمارے والد صاحب ہم کو کولڈ ڈرنکس کی بوتل کے ساتھ آلو کے چِپس کا پیکٹ ضرور دلاتے تھے۔ بس آج اور اُس وقت کے آلو کے چِپس کے پیکٹ میں اتنا فرق ضرور آیا ہے کہ ہمارے بچپن میں یہ پیکٹ پلاسٹک کے ٹرانسپیرنٹ سیلوفین کا ہوتا تھا اور آج چمکدار المونیم فائل کا ہوتا ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply