• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • سندھ پولیس: ڈی آئی جی مقصود احمد کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے کا اعلان

سندھ پولیس: ڈی آئی جی مقصود احمد کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان کو ایک اور اعزاز اس وقت ملا جب سندھ پولیس میں ڈی آئی جی کی حیثیت سے فرائض منصبی سر انجام دینے والے ڈاکٹر مقصود احمد کو ان کامیاب و شاندار تحقیق پر برطانوی یونیورسٹی کی جانب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری دینے کا اعلان کیا گیا۔

ڈی آئی جی ڈاکٹر مقصود احمد کو برطانیہ کی یونیورسٹی آف نارتھ مبریا نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کرنے کا باضابطہ طور پر نوٹی فکیشن جاری کیا ہے۔ یونیورسٹی برطانیہ کے نیو کیسل میں واقع ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

برطانوی یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ڈاکٹر مقصود احمد نے پاکستان میں ٹیریر فنانسنگ میں اپنی ریسرچ مکمل کی ہے۔

سندھ پولیس کے ڈی آئی جی ڈاکٹر مقصود احمد کو باضابطہ طور پر مارچ 2022 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا جائے گا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر مقصود احمد اپنی متعدد شاندار کامیابیوں کے حوالے سے پہلے ہی شہرت کے حامل ہیں۔ انہوں نے سندھ پولیس میں اسپیشل سکیورٹی یونٹ کے نام سے عالمی معیار کے سکیورٹی یونٹ کو قائم کیا، سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے طریقہ کار وضع کیے، ملک میں ہونے والے پی ایس ایل کو فول پروف سکیورٹی کی فراہمی یقینی بنائی۔

ڈاکٹر مقصود احمد دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد میں ڈاکٹریٹ مکمل کرنے والے پہلے پاکستانی پولیس افسر ہیں۔ وہ اس وقت سندھ میں ڈی آئی جی پولیس کی حیثیت سے فرائض منصبی سر انجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر مقصود احمد کو صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ہے۔

پاکستان نیوی میں خدمات انجام دینے کے بعد ڈاکٹر مقصود احمد نے 2001 میں پولیس سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی۔

انہوں نے دوران ملازمت مختلف شعبوں میں خدمات سر انجام دیں۔ وہ پولیس سروس جوائن کرنے کے بعد پنجاب اور سندھ پولیس میں فرائض منصبی سر انجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر مقصود احمد نے کراچی کے عالمی شہرت یافتہ علمی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے بی بی اے (آنرز) اور لندن اسکول آف اکنامکس (LSE) سے کریمنل جسٹس پالیسی میں ماسٹرز کیا۔

انہیں 2019 میں ‘The Cyber ​​Threat Landscape for Law Enforcement Executives’ کے تربیتی پروگرام کے لیے نامزد کیا گیا تھا جس کا اہتمام FBI نیشنل اکیڈمی نے امریکہ میں کیا تھا۔

ڈاکٹر مقصود احمد نے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مختلف کارہائے نمایاں انجام دیتے ہوئے متعدد سنگ میل عبور کیے ہیں۔ انہوں نے چین، برطانیہ، امریکہ اور ڈنمارک میں منعقد ہونے والے مختلف تربیتی کورسز میں حصہ لیا ہے جب کہ کروشیا، نیدرلینڈ، بلغاریہ، نیوزی لینڈ، قبرص اور جرمنی میں انٹرنیشنل پولیس ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے پاکستان اور سندھ پولیس کی نمائندگی بھی کی ہے۔

ڈاکٹر مقصود احمد نے اپنی کامیابیوں کی بابت ملک کے مؤقر انگریزی اخبار دی نیوز کو بتایا کہ ایل ایس ای سے امتیازی نمبروں کے ساتھ ایم ایس سی کرنے کے بعد انہوں نے پی ایچ ڈی کرنے کا تہیہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ڈاکٹریٹ سے ملک اور محکمے دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر مقصود احمد نے اپنی ڈاکٹریٹ کی تکمیل کے لیے انتہائی حساس موضوع کا انتخاب کیا تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی تحقیق نہ صرف اسی ڈومین میں مزید تحقیق کی راہ ہموار کرے گی بلکہ قانون سازوں، پراسکیوٹرز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ماہرین تعلیم کو پاکستان میں پالیسی سازی کے حوالے سے مزید مدد فراہم کرے گی۔

ڈاکٹر مقصود احمد کی ڈاکٹریٹ کا بنیادی مقصد ان عوامل کو تلاش کرنا ہے جو پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی موجودہ پالیسی کو متاثر کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کی مالی معاونت پر قابو پانے کے لیے پاکستان کی جانب سے گزشتہ برسوں میں متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے یکے بعد دیگرے حکومتوں کی جانب سے مختلف ترامیم کی گئی ہیں اور نئے نظام بھی اپنائے گئے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

سندھ پولیس کے ڈی آئی جی ڈاکٹر مقصود احمد کا تحقیقی مقالہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے دائرہ کار میں ضروری شعبوں پر روشنی ڈالتا ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی مؤثر پالیسیوں کی تشکیل میں رکاوٹیں اور پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے موجودہ قوانین کے نفاذ میں درپیش مسائل شامل ہیں۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply