• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • تقلید کی بجائے مغربی زوال سے سبق سیکھیں۔۔اسلم اعوان

تقلید کی بجائے مغربی زوال سے سبق سیکھیں۔۔اسلم اعوان

آج یورپ کو ایشیائی لوگوں کی نقل مکانی کے علاوہ سیکولرازم اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرنے والے خوشنما قوانین کی وجہ سے اجتماعی قومی وجود کو لاحق خطرات سے نمٹنے کےلئے پرانی سماجی وثقافتی روایات اور عیسائیت پہ مبنی اُن امتیازی عصبیتوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت درپیش ہے،جوکبھی یورپی شناخت کی اساس بنیں۔تاہم ایسے میں ہماری عرب ریاستوں کی نوخیز نسلوں کو مذہبی رواداری اور غیر مسلموں کے ساتھ مخلوط معاشروں کی تشکیل جیسے انہی ملتبس اصولوں کا سبق پڑھایا جا رہا ہے،جن نے اہل یورپ کی امتیازی ثقافتی پہچان اورمضبوط مذہبی عصبیتوں کو کندکرکے انہیں بے شناخت ہجوم میں بدل دیا۔اس وقت اماراتی نصاب تعلیم میں امن اور رواداری کے بین الاقوامی معیارات پر مبنی ایسے مضامین شامل کئے جا رہے ہیں جو بظاہر دوسروں کے خلاف”نفرت“سے پاک ہیں لیکن حقیقتاً   وہ مسلمانوں کی امتیازی شناخت مٹانے کی اُسی سکیم کا چربہ ہیں جس نے یور پ میں خاندانی نظام،سماجی ڈھانچہ اورمذہبی عصبیتوںکوتحلیل کرکے انہیں قوت مدافعت سے محروم کردیا۔

بظاہر جو نصاب طلبہ کو دوسری ثقافتوں کی توقیرکے اصول سکھانے کے علاوہ تجسس اور مکالمہ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے وہ دراصل مضبوط یقین اور اپنی مربوط ثقافت کے ساتھ عربوں کی نئی نسل کی فطری وابستگی کو کمزور کرکے ذہنی وحدت کو مفقودکر دے گا۔یہ تعلیمی نصاب،دی انسٹی ٹیوٹ فار مانیٹرنگ پیس اینڈ کلچرل ٹولرنس ان سکول ایجوکیشن،(IMPACT)کے 128صفحات پر مشتمل مطالعہ سے اخذ کیا گیا۔رپوٹ میں اماراتی نظام تعلیم کے تانے بانے میں غیر تنقیدی اطاعت کے اُس اصول پہ بحث کی گئی جو ”حب الوطنی“اور”دفاع وطن کے عزم“ سے معمور رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔متحدہ عرب امارات میں اخوان المسلمون کے حامی عرب اساتذہ کی جگہ لینے والے مغربی باشندے مسٹر بوہل نے کلاس روم میں دیئے گئے لیکچر میں کہا،تعلیمی اداروں میں جو سیاسی رویے بنتے ہیں اُن میں سے بعض کو نفاذکا موقع  ملتا ہے،اگر بچے اخوانوں کی طرح سوچتے ہیں تو وہ لائن سے ہٹ کے حکومت کے لئے سیاسی خطرہ بن سکتے ہیں۔وہ تنقیدی سوچ کی حدود اور اتھارٹی کے رویوں پرسوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں،کیا یہ رپوٹ محض نصابی کتب کے بجائے تعلیمی نظام کی تشکیل میں سرایت کر سکتی ہے؟

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

کیا آنے والی نسلوں کی تربیت کے ضامن نظام تعلیم کی بجائے صرف نصابی کتب کا جائزہ کافی تھا؟اِسی سے وہ اُس بحث کا آغازکرتے ہیِں،کیا امن اور ثقافتی رواداری کے تصورات کو سیاسی رواداری اورتکثیریت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔نئی نصابی کتب امن و سلامتی کے لئے ایسا نقطہ نظر پیش کرتی ہیں جس میں متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد فلسطینی امنگوں کو حل کرنے والی جدوجہدکے محرک،اسلام،کی ہرصورت کی مخالفت شامل ہے۔رپورٹ میں کہا گیا”اگرچہ اب بھی فلسطینی کاز کی حمایت جاری ہے لیکن اب اسے علاقائی چیلنجوں کی وسیع رینج کے حل کی کلید کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا تاہم مسلمانوں کی اساسی عقیدہ سے وابستگی اور اپنے یقین سے متصادم نظریات سے نفرت ہی فی الوقت بڑا”خطرہ“ہیں۔

دنیا بھر پہ امریکہ کی تہذیبی بالادستی کا مشاہدہ کرنے والے محقق Roger Scrutonپہلی جنگ عظیم کے اختتام پر جرمن سکالر اوسوالڈاسپینگلر کی ان پیشگوئیوں پہ دوبارہ غورکر رہے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ ہر تاریخی سپرآرگنزم ثقافت کے ذریعے اپنی متعین روح کو ظاہر کرتا ہے،مغرب کا یہ فاو¿سٹین،جس میں سائنس،آرٹ،دنیا کی اصلاح کی خاطر باہرنکلنے اور فتح کرنے والا رویہ شامل ہے،نے روشن خیالی کے ذریعے خود کودور تک پھیلایا لیکن آخرکار وہ خود بحران کے کنارے آن پہنچا۔اسپینگلر کو پڑھنے والوں نے دیکھا،اس کا ثقافتی مایوسی کا برانڈ دوسری جنگ عظیم شروع ہوتے ہی رفتار پکڑکے جنگ کے بعد کی ادبی دنیا پر مسحور کن اثر ڈالنے کے قابل ہو گیا۔آر۔سکروٹن کہتے ہیں،اسپینگلر کی پیشگوئی یقینی طور پر درست ثابت ہوئی،زوال یورپی ثقافت کا مقدر ہے،اب جس ثقافت کے اردگرد قوانین اور بیوروکریٹک ڈھانچے کا مضبوط حصار قائم ہے،وہاں کبھی آرٹ اور مذہبی شکوہ جلواگر تھا۔وہ کہتے ہیں،مجھے ان دونوں باتوں میں کوئی شبہ نہیں کہ یورپ کوگہرے خطرات لاحق ہیں اور یورپی یونین ان خطرات کو سمجھنے میں ناکام ہوگی،اندر اور باہر سے اٹھنے والے خطرات باہم جڑے ہوئے ہیں،اندر سے ہمیں اپنی مسلم آبادی کی اسلام سے گہری وابستگی اور یورپی معاشرے کے بنیادی ڈھانچے کے انہدام جیسے خطرات درپیش ہیں،جس میں خاندان، شادی، عیسائی عقیدہ سے انحراف اور انہی اقدار سے بنے روابط سے بیزاری اور باہر سے ہم لاگت کو سنبھالے بغیر یورپی قانونی نظام کے فوائد کی تلاش میں نقل مکانی کرکے آنے والوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔

بلاشبہ مشرق وسطیٰ سے ہجرت کرکے آنے والے تمام لوگ داعش کے اسلامی فلسفہ کے مخالف ہیں نہ مڈل ایسٹ میں سیاسی انتشارپیدا کرنے والی تحریکیں بانجھ ہیں،جدید تاریخ کا یہی سبق ہے کہ انقلابی تحریکیں تب مستحکم ہوتی ہیں جب وہ اپنی افراتفری پڑوسیوں کو بھیج سکیں،یورپ کے پاس مسلح یلغار کے خلاف تو دفاع ہے لیکن بغیر ہتھیاروں کے حملہ کرنے والوں کے خلاف کوئی دفاعی نظام موجود نہیں۔ہمارے لئے اہم سوال یہی ہے کہ ان خطرات سے نمٹنے کے لئے روایتی مذہب اور اسی کی کوکھ میں پروان چڑھنے والی ثقافت کو پہنچنے والے نقصان کا تدراک کیسے کیا جائے؟حالت یہ ہے کہ ان سوالات پر بحث کرنا بھی دشوارہے۔یورپی یونین نے سرکاری دستاویزات سے عیسائی مذہب اور اس کی اخلاقی میراث کے تمام حوالوں کو مٹا دیا،یورپی عدالت برائے انسانی حقوق اورعدالت انصاف کے سامنے لائے جانے والے مقدمات،ہم جنس پرستوں کی شادی،آسان طلاق اور اسقاط حمل کی اجازت دینے والے فیصلے،پورے براعظم میں عوامی مقامات پر صلیب پر پابندی اورسکولوں میں عیسائی مذہب کی تعلیم کو کم کرنے کے قوانین کے طورپہ سامنے آئے۔انہی اقدامات سے مماثل یہاں امریکہ کے لبرل نے ریاستی مقننہ کے مذہب کی بنیاد پر فیصلوں کو کالعدم قرار دلانے کے لئے سپریم کورٹ کا استعمال کیا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اسی طرح سیکولرگروہ یورپی عدالتوں کو قومی ریاستوں پر اپنا نظریہ مسلط کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اس ڈی کرسچائنائزیشن کو یورپی پارلیمنٹ کی بنیادی حقوق کی اُس ایجنسی کے ذریعے آگے بڑھایا گیا،جس پہ قانون سازی کی تمام سطحوں پر انسانی حقوق کی وکالت کا الزام ہے،بنیادی حقوق کی یہ ایجنسی”صنفی مساوات“کی حامی اور روایتی خاندانی نظام اور مذہب پر مبنی اخلاقیات کی مخالف ہے،یہی گروہ اسقاط حمل کو انسانی حق کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے دباو¿ ڈالتا ہے۔ یورپ تیزی سے مسیحی ورثے کو کھو رہا ہے،اسے”انسانی حقوق“ کے مذہب کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔میں اسے مذہب اس لئے کہتا ہوںکہ یہ واضح طور پر اُس عالمی نظریہ کے خلاءکو پُر کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا جو مذہب کو چھین لینے کے بعد پیدا ہوا،یعنی انسانی حقوق کا تصور،اخلاقی آراءاور قانونی اصول ایسی پالیسیاں ہیں جنہیں مذہب کے بغیرمعاشرے میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لئے تیار کیا گیا لیکن یہ تصورات بجائے خود بے بنیاد ہیں۔اگر آپ پوچھتے ہیں کہ مذہب کا امر و نہی کیا ہے، تو آپ کو خدا کے نازل کردہ قوانین یا کلیسیا کے مجسٹریم سے واضح جواب ملتا ہے۔اگر آپ پوچھیں کہ انسانی حقوق اور فطری یا بنیادی آزادی کیا ہے؟ تو مختلف لوگوں سے متضاد جوابات ملتے ہیں، ایسا لگتا ہے، تنازعات کے حل پہ کوئی کسی سے متفق نہیں ۔انسانی حق کے طور پر”غیر امتیازی سلوک“ کی تمام یورپی دفعات مزید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہیں۔امر واقعہ یہی ہے کہ تمام مربوط معاشرے امتیازی روایات پر مبنی ہیں لیکن یہاں غیر امتیازی قوانین دوسروں کے لئے مقامی یورپی کمیونٹیز کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہیں مگر اپنے لوگوںکو مراعات دینے سے منع کرتے ہیں اور تارکین وطن کو ہر قسم کے امتیاز کی اجازت دیتے ہیں۔علی ہذالقیاس،حقیقت میں ہم اس پرانے مذہب کے خاتمے کا مشاہدہ کر رہے ہیں جس نے یورپ کی اخلاقی اور قانونی وراثت کو بنیاد فراہم کی،ہم اسکی جگہ ایسا مذہب لے بیٹھے جو فطری طور پر بے بنیاد ہے،کوئی نہیں جانتا اس مسلہ کو کیسے حل کیا جائے،آیا استحقاق یا آزادی ”انسانی حق“ہے؟ یورپی عدالتیں برائے انسانی حقوق ایسے مقدمات کی بھرمار سے مغلوب ہیں۔19ویں صدی کے دوران بہت سے یورپین کا خیال تھا کہ وہ اپنے آپ کو سوشلزم، نیشنلزم، کمیونزم اور مارکسزم کے نظریات سے منسلک کرکے عیسائی عقیدے کے زوال کی تلافی کر سکتے ہیں،یہ خیال غلط ثابت ہوا۔اب شہروں میں انجیلی بشارتی تحریکیں جو نوجوانوں کو پاکیزہ مسیحیت میں شامل کرنے میں سرگرداں ہیں،وہ سرکاری حقوق ثقافت کے خلاف نہیں بلکہ اس کے اندر جگہ بناتی ہیں،ایسی جگہ جہاں سیکولر آرڈر کی طرف سے دی گئی اجازتوں کا فائدہ اٹھا کے پرانے نظم و ضبط کو ذاتی عمل کے طور پر اپنایا جا سکے لیکن ایک چیز جو امریکیوں کے پاس ہے اسکی یورپ میں کمی تھی یعنی مشترکہ شناخت کا احساس اگرچہ شناخت کا یہ احساس محض سرحدوں پر محیط ہے اورخدا کی بجائے جغرافیہ اور انسانی طریقہ کار کے ذریعہ بیان کردہ قانون پر منحصر ہے۔یورپ کو دیکھئے جہاں سیاسی طبقہ نے اس خیال کو کھو دیا تو امریکیوں کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ خوش قسمت ہیں،انہیں ایک قوم کے طور پر اپنے آپ پر یقین رکھنا چاہیے۔اگر وہ اس جملے میں دو الفاظ ”خدا کے سایہ میں“کا اضافہ کر لیں تو وہ اس بنیادی چیز(مذہب) کی حفاظت کے راستے پر گامزن ہوں گے جسے ہم یورپیوں نے کھو دیا۔

  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply